کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: تبع الیمانی کے بارے میں
حدیث نمبر: 34090
٣٤٠٩٠ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن أبي مجلز قال: جاء عبد اللَّه بن عباس إلى ابن سلام فقال: إني أريد أن أسألك عن ثلاث، قال: تسألني وأنت تقرأ القرآن، قال: نعم، قال: فسل، قال: أخبرني عن تبع ما كان؟ وعن (عزير) (١) ما كان؟ وعن سليمان لم (تفقد) (٢) الهدهد؟ فقال: أما تبع فكان رجلا من العرب فظهر على الناس (وسبى) (٣) فتية من (الأحبار) (٤) (فاستدخلهم) (٥) (وكان) (٦) يحدثهم ويحدثونه فقال قومه: إن تبعا قد ترك دينكم (وتابع) (٧) الفتية، فقال تبع للفتية: قد تسمعون ما قال هؤلاء، قالوا: بيننا وبينهم النار التي تحرق الكاذب وينجو منها الصادق، قالوا: نعم، (فقال) (٨) تبع للفتية: ادخلوها، قال: فتقلدوا مصاحفهم فدخلوها فانفرجت لهم حتى قطعوها ثم قال لقومه: (ادخلوها) (٩)، فلما دخلوها سفعت النار وجوههم فنكصوا، فقال: لتدخلنّها، قال فدخلوها فا. نفرجت لهم، حتى إذا توسطوها (أحاطت) (١٠) بهم فأحرقتهم، قال: فأسلم تبع وكان رجلًا صالحًا. ⦗٥٣٩⦘ وأما عزير فإن بيت المقدس لما خرب ودرس العلم (ومزقت) (١١) (التوراة) (١٢) كان يتوحش في الجبال، فكان يرد عينا يشرب منها، قال: فوردها يوما فإذا امرأة قد تمثلت له، فلما رآها نكص، فلما أجهده العطش أتاها فإذا هي تبكي، قال: ما يبكيك؟ قالت: أبكي على ابني، قال: كان ابنك يرزق؟ قالت: لا، قال: كان يخلق؟ قالت: لا، قال: فلا تبكين عليه، قالت: فمن أنت؟ أتريد قومك؟ ادخل (هذه) (١٣) العين فإنك ستجدهم، قال: فدخلها، قال: فكان كلما دخلها زِيْد في علمه حتى انتهى إلى قومه وقد رد اللَّه إليه علمه، فأحيى لهم (التوراة) (١٤) وأحيى لهم العلم، قال: فهذا عزير. وأما سليمان فإنه نزل منزلًا في (سفر) (١٥) فلم يدر ما بعد الماء منه، فسأل من يعلم علمه فقالوا: الهدهد فهناك تفقده (١٦) (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عبد اللہ بن سلام کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ سے تین باتیں پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ آپ مجھ سے سوال کر رہے ہیں حالانکہ آپ خود قرآن پڑھتے ہیں، انہوں نے فرمایا جی ہاں ! حضرت نے فرمایا پوچھیے، فرمایا کہ ایک تُبَّع کے بارے میں کہ کون تھے ؟ اور عزیر کے بارے میں کہ کون تھے ؟ اور سلیمان علیہ السلام کے بارے میں کو انہوں نے ہد ہد کو کیوں تلاش کیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ تُبَّع عرب کے ایک آدمی تھے، لوگوں پر غالب آگئے اور بہت سے عیسائی علماء کو پکڑ لیا اور ان سے بات چیت کرتے، ان کی قوم کہنے لگی کہ تبّع نے تمہارا دین چھوڑ دیا اور غلاموں کی اتباع کرلی، چناچہ تُبَّع نے ان غلاموں سے کہا کہ تم سن رہے ہو کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ ہمارے اور آپ کے درمیان آگ فیصلہ کرے گی اور وہ جھوٹے کو جلا دے گی اور سچا نجات پا جائے گا، وہ کہنے لگے ٹھیک ہے، چناچہ تبّع نے ان غلاموں سے کہا کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ، چناچہ وہ اس میں داخل ہوئے تو آگ نے ان کے چہروں کو جھلسا دیا ، اورو ہ واپس پلٹ گئے، وہ کہنے لگا کہ تمہیں داخل ہونا پڑے گا، چناچہ وہ اس میں داخل ہوئے ، جب اس کے درمیان پہنچ گئے تو آگ نے ان کو گھیر کر جلا دیا، اس پر تُبَّع اسلام لے آئے اور وہ نیک آدمی تھے۔ اور عزیر تو ان کا قصہ یہ ہے کہ جب بیت المقدس ویران ہوگیا اور علم مٹ گیا اور توراۃ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا، تو وہ پہاڑوں میں اکیلے رہتے تھے، اور ایک چشمے پر جا کر اس سے پانی پیا کرتے تھے، ایک دن اس پر آئے تو ایک عورت ان کو دکھائی دی، جب آپ نے اس کو دیکھا تو واپس پلٹ گئے ، جب آپ کو پیاس نے تکلیف میں ڈالا تو آپ دوبارہ آئے ، دیکھا کہ عورت رو رہی ہے، آپ نے فرمایا کہ تم کس پر رو رہی ہو ؟ کہنے لگی میں اپنے بیٹے پر رو رہی ہوں ، آپ نے فرمایا کیا وہ تمہیں رزق دیتا تھا ؟ کہنے لگی نہیں، آپ نے فرمایا کیا اس نے کچھ پیدا کیا تھا ؟ کہنے لگی نہیں، آپ نے فریایا کہ پھر تم اس پر مت رو، وہ کہنے لگی آپ کون ہیں ؟ کیا آپ اپنی قوم کے پاس جانا چاہتے ہیں ؟ اس چشمے میں داخل ہوجائیے آپ ان کے پاس پہنچ جائیں گے، چناچہ آپ اس میں داخل ہوگئے، آپ جتنا داخل ہوتے جاتے آپ کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا، یہاں تک کہ آپ اپنی قوم کے پاس پہنچ گئے ، اور اللہ نے آپ کا علم آپ پر لوٹا دیا پھر آپ نے توراۃ کا احیاء کیا، اور علم کو زندہ کیا، اس کے بعد عبداللہ بن سلام نے فرمایا یہ حضرت عزیر کا قصہ ہے۔ رہے حضرت سلیمان علیہ السلام ، تو وہ ایک جگہ سفر میں ٹھہرے اور ان کو پانی کی دوری کا علم نہ تھا، آپ نے پوچھا کہ اس کا کس کو علم ہے ؟ لوگوں نے بتادیا کہ ہد ہد کو، اس وقت آپ نے اس کو تلاش کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34090
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34090، ترقيم محمد عوامة 32585)