حدیث نمبر: 34085
٣٤٠٨٥ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: ألقي يوسف في الجب وهو ابن (سبع) (١) عشرة سنة، وكان في العبودية وفي السجن وفي الملك ثمانين سنة، ثم جمع (شمله) (٢) فعاش بعد ذلك ثلاثًا وعشرين سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام سترہ بر س کی عمر میں کنویں میں ڈالے گئے، اور آپ نے غلامی اور قید اور بادشاہت میں اسّی سال کا عرصہ گزارا ، پھر آپ کا خاندان مجتمع ہوا تو اس کے بعد آپ اسّی سال زندہ رہے۔
حدیث نمبر: 34086
٣٤٠٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد عن ربيعة (الجرشي) (١) قال: (قسم) (٢) الحسن نصفين فأعطي يوسف وأمه نصف حسن الخلق، وسائر الخلق نصفًا.
مولانا محمد اویس سرور
ربیعہ جرشی سے روایت ہے کہ حسن کے دو حصّے کئے گئے، چناچہ حضرت یوسف اور ان کی والدہ کو آدھا حسن عطا کیا گیا، اور باقی تمام مخلوق کو آدھا عطا کیا گیا۔
حدیث نمبر: 34087
٣٤٠٨٧ - حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه بن عمر عن سعيد بن أبي سعيد (١) عن أبي هريرة قال: سئل رسول اللَّه ﷺ من أكرم الناس؟ قال: "أتقاهم للَّه"، (قالوا) (٢): ليس عن هذا نسألك؟ قال: "فأكرم الناس (يوسف نبي اللَّه) (٣)، ابن نبي اللَّه، ابن نبي اللَّه، ابن خليل اللَّه صلوات اللَّه عليهم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ کریم کون ہے ؟ فرمایا جو سب سے زیادہ متقی ہو، اس نے کہا کہ ہم آپ سے یہ نہیں پوچھ رہے تو آپ نے فرمایا کہ پھر سب سے کریم اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام ہیں جو اللہ کے نبی کے بیٹے اور ان کے والد اللہ کے نبی کے بیٹے اور ان کے والد اللہ کے خلیل کے بیٹے ہیں۔ علیھم السلام۔
حدیث نمبر: 34088
٣٤٠٨٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس عن النبي ﷺ قال: "أعطي يوسف (١) شطر الحسن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ یوسف علیہ السلام کو آدھا حسن عطا کیا گیا۔
حدیث نمبر: 34089
٣٤٠٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: أعطي يوسف ﵇ (١) وأمه ثلث حسن الخَلْق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام اور ان کی والدہ کو مخلوق کے حسن کے ایک تہائی حصّہ عطا کیا گیا۔