حدیث نمبر: 34079
٣٤٠٧٩ - حدثنا وكيع عن إسرائيل (عن جابر) (١) عن مجاهد عن عبد اللَّه بن عمرو قال: ذو القرنين نبي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ذوالقرنین نبی تھے۔
حدیث نمبر: 34080
٣٤٠٨٠ - حدثنا وكيع عن العلاء بن عبد الكريم عن مجاهد قال: كان ملك الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد ایک اور سند سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ وہ پوری زمین کے بادشاہ تھے۔
حدیث نمبر: 34081
٣٤٠٨١ - حدثنا وكيع عن بسام، عن أبي الطفيل عن علي قال: كان رجلًا صالحًا، ناصح اللَّه فنصحه، فضرب على قرنه الأيمن فمات فأحياه اللَّه، ثم ضرب على قرنه الأيسر فمات فأحياه اللَّه وفيكم مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابو طفیل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ آپ نیک آدمی تھے ، آپ نے اللہ سے خیر خواہی کا اظہار کیا تو اللہ نے آپ کی دستگیری فرمائی، چناچہ ان کے سر کی دائیں جانب مارا گیا اور وہ فوت ہوگئے تو اللہ نے ان کو زندگی دے دی، پھر ان کے سر کی بائیں جانب مارا گیا اور وہ فوت ہوئے تو اللہ نے پھر ان کو زندگی دے دی، اور تم میں ان جیسے موجود ہیں۔
حدیث نمبر: 34082
٣٤٠٨٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي الطفيل قال: سئل علي عن ذي القرنين فقال: لم يكن نبيًا ولا ملكًا، ولكنه كان (عبدا) (١) ناصح اللَّه فنصحه، فدعا قومه إلى اللَّه فضرب على قرنه الأيمن ⦗٥٣٦⦘ (فمات) (٢) فأحياه اللَّه، ثم دعا قومه إلى اللَّه فضرب على قرنه (٣) فمات فأحياه اللَّه فسمي ذا القرنين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابو طفیل ایک دوسری سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ نبی تھے نہ بادشاہ ، بلکہ وہ ایک نیک بندے تھے جنہوں نے اللہ سے خیرخواہی کی تو اللہ نے ان کے ساتھ خیر خواہی کی، چناچہ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی، اور آپ کے سر کے دائیں جانب مارا گیا اور وہ مرگئے تو اللہ نے ان کو پھر زندہ کردیا، اور پھر انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا ، اور دوبارہ ان کے سر کی بائیں جانب مارا گیا تو وہ دوبارہ مرگئے ، چناچہ اللہ نے ان کو دوبارہ زندہ کردیا، اس لیے ان کا نام ” ذوالقرنین “ مشہور ہوگیا۔
حدیث نمبر: 34083
٣٤٠٨٣ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن سفيان عن سماك عن حبيب بن (حِماز) (١) قال: قيل لعلي: كيف بلغ ذو القرنين المشرق والمغرب؟ قال: سخر له السحاب وبسط له النور ومد له الأسباب، ثم قال: أزيدك، قال: حسبي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حبیب بن حماز کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ذوالقرنین مشرق اور مغرب تک کیسے پہنچے ؟ آپ نے فرمایا کہ آپ کے لئے بادل کو مسخر کردیا گیا، اور آپ کے لیے نور کو بچھا دیا گیا اور اسباب وسیع کردیے گئے ، پھر آپ نے فرمایا کہ اور بتاؤں ؟ اس نے کہا بس کافی ہے۔
حدیث نمبر: 34084
٣٤٠٨٤ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن مجاهد قال: لم يملك الأرض كلها إلا أربعة: مسلمان وكافران، فأما المسلمان فسليمان بن داود وذو القرنين، وأما الكافران فبخت نصر والذي حاج إبراهيم في ربه.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد فرماتے ہیں کہ پوری سر زمین کے بادشاہ صرف چار ہوئے ہیں، دو مسلمان اور دو کافر، مسلمان تو حضرت سلیمان بن داؤد اور ذوالقرنین ہیں، اور کافر ایک تو بخت نصر اور دوسرا وہ ہے جس نے ابراہیم علیہ السلام سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔