حدیث نمبر: 34068
٣٤٠٦٨ - حدثنا وكيع بن الجراح عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس ﴿لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ [مريم: ٧]، قال: لم يسم أحد قبله يحيى (١).
مولانا محمد اویس سرور
عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں فرمایا { لَمْ نَجْعَلْ لَہُ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا } کی تفسیر یہ ہے کہ آپ سے پہلے کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھا۔
حدیث نمبر: 34069
٣٤٠٦٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: مثله.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد سے بھی اس جیسی روایت منقول ہے۔
حدیث نمبر: 34070
٣٤٠٧٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن سليمان العبدي عن رجل منهم يقال له مهدي عن عكرمة ﴿وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا﴾ قال: [(اللب) (١).
مولانا محمد اویس سرور
مہدی عکرمہ سے { وَآتَیْنَاہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا } کا معنی نقل کرتے ہیں کہ اس سے مراد عقل ہے۔
حدیث نمبر: 34071
٣٤٠٧١ - حدثنا كيع عن سفيان عن رجل عن مجاهد ﴿وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا﴾ [مريم: ١٢]، قال] (١): القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد { وَآتَیْنَاہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا } کا معنی نقل کرتے ہیں کہ اس سے مراد قرآن ہے۔
حدیث نمبر: 34072
٣٤٠٧٢ - حدثنا ابن عيينة عن منصور ابن صفية عن أمه قال: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب، فقالوا: (هذه) (١) أسماء، (قال) (٢): فأتاها فذكرها ووعظها وقال لها: إن (الجيفة) (٣) (ليست) (٤) بشيء، وإنما الأرواح عند اللَّه فاصبري واحتسبي، (فقالت) (٥): وما يمنعني من الصبر، وقد أهدي رأس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل (٦).
مولانا محمد اویس سرور
منصور بن صفیہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں داخل ہوئے جب کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو سولی پر لٹکایا ہوا تھا، لوگ کہنے لگے کہ یہ حضرت اسماء تشریف فرما ہیں، آپ ان کے پاس گئے ، ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ جسم کوئی چیز نہیں بلکہ اللہ کے پاس تو روحیں پہنچتی ہیں، اس لیے تم صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو، انہوں نے فرمایا کہ مجھے صبر سے کیا چیز روکے گی جبکہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر بنی اسرائیل کی زانیہ کو دیا گیا تھا ؟
حدیث نمبر: 34073
٣٤٠٧٣ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن أبيه قال: ما قتل يحيى بن زكريا إلا في امرأة بغي قالت لصاحبها: لا أرضى عنك حتى تأتيني برأسه، قال: فذبحه ⦗٥٣٤⦘ فأتاها برأسه في (طشت) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو ایک زانیہ عورت کی خاطر قتل کیا گیا تھا جس نے اپنے ساتھی سے کہا تھا کہ میں تجھ سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گی جب تک تو میرے پاس ان کا سر نہ لائے، کہتے ہیں کہ اس نے ان کو ذبح کیا اور ایک طشت میں اس کے پاس ان کا سر لے آیا۔
حدیث نمبر: 34074
٣٤٠٧٤ - حدثنا جرير عن الأعمش عن مجاهد في قوله: ﴿لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ قال: مثله (في) (١) الفضل.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد سے { لَمْ نَجْعَلْ لَہُ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا } کی تفسیر میں منقول ہے کہ اس سے مراد ان جیسی فضیلت ہے۔
حدیث نمبر: 34075
٣٤٠٧٥ - حدثنا أبو خالد عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن عبد اللَّه بن عمرو قال: ما من أحد إلا وقد أخطأ أو هم بخطيئة، ليس يحيى بن زكريا ثم قرأ: ﴿وَسَيِّدًا وَحَصُورًا﴾، ثم رفع من الأرض شيئًا ثم قال: ما كان معه إلا مثل هذا (١).
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن مسیب حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ہر شخص نے یا تو غلطی کی یا غلطی کا ارادہ کیا سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے، پھر آپ نے پڑھا { وَسَیِّدًا وَحَصُورًا } پھر زمین سے ایک چیز اٹھائی اور فرمایا کہ ان کے پاس اس سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 34076
٣٤٠٧٦ - حدثنا وكيع عن شريك عن سالم عن سعيد: ﴿(وَسَيِّدًا) (١) وَحَصُورًا﴾ [آل عمران: ٣٩]، قال: الحليم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید سے { وَسَیِّدًا وَحَصُورًا } کا معنی منقول ہے، ” بردبار “۔
حدیث نمبر: 34077
٣٤٠٧٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن يوسف بن مهران عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال: "ما من أحد إلا وقد أخطأ (أو) (١) هم بخطيئة إلا يحيى بن زكريا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ہر شخص نے یا توغلطی کی یا غلطی کا ارادہ کیا، سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے۔
حدیث نمبر: 34078
٣٤٠٧٨ - حدثنا شبابة عن شعبة عن الحكم عن مجاهد ﴿لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ قال: (شبيهًا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد سے { لَمْ نَجْعَلْ لَہُ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا } کے تحت منقول ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان جیسا کوئی نہیں بنایا گیا۔