حدیث نمبر: 34052
٣٤٠٥٢ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه قال: إن كان داود ﵇ (١) ليخطب الناس -وفي يده القفة من (الخوص) (٢) -، فإذا فرغ ناولها بعض من إلى جنبه يبيعها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام لوگوں کو خطبہ دیتے تھے جبکہ ان کے ہاتھ میں پتوں کی بنی ہوئی ٹوکری ہوتی تھی، جب آپ فارغ ہوتے تو کسی قریب بیٹھنے والے کو دے دیتے تاکہ اس کو بیچ لے۔
حدیث نمبر: 34053
٣٤٠٥٣ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: لما أصاب داود (الخطيئة) (١)، وإنما كانت خطيئته أنه لا أبصرها أمر بها فعزلها فلم يقربها، فأتاه الخصمان (فتسورا) (٢) في المحراب، فلما (أبصرهما) (٣) قام إليهما فقال: اخرجا عني، ما جاء بكما إليّ؟ (٤) فقالا: إنما (نكلمك) (٥) بكلام يسير، إن هذا أخي له تسع وتسعون نعجة، ولي نعجة واحدة وهو يريد أن يأخذها مني، (قال) (٦): فقال داود ﵇ (٧): واللَّه (إنه) (٨) (أحق أن) (٩) (يكسر) (١٠) منه من لدن (هذه إلى هذه) (١١) -يعنى من أنفه إلى صدره، فقال الرجل: هذا داود قد فعله، فعرف داود ﵇ إنما يعنى بذلك، وعرف ذنبه فخر ساجدا أربعين يومًا وأربعين ليلة، وكانت خطيئته مكتوبة في يده، ينظر إليها لكيلا يغفل، حتى (نبت) (١٢) البقل حوله من دموعه ما غطى رأسه، (فنادى) (١٣) بعد أربعين يوما: (قرح) (١٤) الجبين وجمدت ⦗٥٢٥⦘ العين، وداود ﵇ لم يرجع إليه في خطيئته شيء فنودي: أجائع فتطعم، أم عريان فتكسى، أم مظلوم فتنصر، قال: فنحب نحبة هاج ما يليه من البقل حين لم يذكر ذنبه فعند ذلك غفر له، فإذا كان يوم القيامة قال له ربه: كن أمامي (فيقول: أي رب ذنبي ذنبي، فيقول: كن من خلفي) (١٥)، (فيقول: أي رب ذنبي ذنبي) (١٦)، فيقول له: خذ بقدمي فيأخذ بقدمه.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام سے غلطی ہوئی ، اور ان کی غلطی یہ تھی کہ جب انہوں نے اس عورت کو دیکھا تو اس کو دور کردیا، اور اس کے قریب نہیں گئے چناچہ دو جھگڑنے والے آپ کے پاس آئے اور انہوں نے دیوار کو پھاندا، جب آپ نے ان کو دیکھا تو کھڑے ہو کر ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ میرے پاس سے چلے جاؤ، تم یہاں کس غرض سے آئے ہو ؟ وہ کہنے لگے کہ ہم آپ سے تھوڑی سی بات کرنا چاہتے ہیں، میرے اس بھائی کی ننانوے مینڈھیاں ہیں اور میری ایک مینڈھی ہے اور یہ مجھ سے وہ ایک بھی لینا چاہتا ہے، حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ واللہ ! یہ اس کا مستحق ہے کہ اس کا یہاں سے یہاں تک کا جسم توڑ دیا جائے، یعنی ناک سے سینے تک، وہ آدمی کہنے لگا کہ داؤد نے یہ کام کردیا۔ چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام کو معلوم ہوگیا کہ وہ اس سے کیا مراد لے رہا ہے، اور ان کو اپنے گناہ کا علم ہوگیا، چناچہ وہ چالیس دن رات سجدے میں رہے اور ان کا گناہ ان کے ہاتھ میں لکھا رہتا تاکہ کسی وقت بھول نہ جائیں، یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں کی وجہ سے ان کے گرد خود رو سبزیاں اگ گئیں، چناچہ انہوں نے چالیس دن کے بعد پکارا کہ پیشانی زخمی ہوگئی، اور آنکھ خشک ہوگئی اور داؤد کی غلطی کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہوا، چناچہ پکارا گیا کیا کوئی بھوکا ہے کہ اس کو کھانا کھلایا جائے ؟ یا کوئی برہنہ ہے کہ اس کو پہنایا جائے ؟ یا کوئی مظلوم ہے کہ اس کی مدد کی جائے ؟ چناچہ آپ اتنا روئے کہ جس سے آپ کے قریب کی گھاس زرد ہوگئی، اس وقت اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا ، جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے سامنے آؤ، وہ عرض کریں گے کہ میرا گناہ ! اللہ فرمائیں گے کہ میرے پیچھے آؤ وہ کہیں گے کہ اے رب ! میرا گناہ، اللہ ان سے فرمائیں گے کہ میرے قدم پکڑ لو، چناچہ وہ اللہ کے قدموں کو پکڑ لیں گے۔
حدیث نمبر: 34054
٣٤٠٥٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا (١) جعفر بن سليمان عن ثابت البناني قال: بلغنا أن داود نبي اللَّه جزأ الصلاة على بيوته على نسائه وولده، فلم (تكن تأتي) (٢) ساعة من الليل والنهار إلا وإنسان قائم من آل داود يصلي، فعمتهم هذه الآية: ﴿اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ﴾ [سبأ: ١٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام نے اپنے گھر کی عورتوں اور اپنی اولاد پر نماز کو تقسیم فرما دیا تھا، چناچہ رات دن کی کوئی گھڑی ایسی نہ تھی کہ آل داؤد میں سے کوئی نہ کوئی شخص نماز نہ پڑھ رہا ہوتا، چناچہ ا ن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی { اعْمَلُوا آلَ دَاوُد شُکْرًا وَقَلِیلٌ مِنْ عِبَادِی الشَّکُورُ }۔
حدیث نمبر: 34055
٣٤٠٥٥ - حدثنا عفان قال حدثنا معاوية بن عبد الكريم قال: حدثنا الحسن: أن داود النبي ﵇ (١) قال: إلهي لو (٢) أن لكل شعرة مني (لسانين) (٣) يسبحانك الليل والنهار ما قضينا نعمة من (نعمك) (٤) علي.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میرے ہر بال کو دو زبانیں بھی عطا کردی جائیں اور وہ دن رات آپ کی تسبیح بیان کرتی رہیں تب بھی میں آپ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت کا حق بھی ادا نہیں کرسکتا۔
حدیث نمبر: 34056
٣٤٠٥٦ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (علي) (١) (بن) (٢) الأقمر عن أبي الأحوص قال: دخل الخصمان على داود ﵇ (٣) وكل واحد منهما آخذ برأس صاحبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الأحوص فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس دو جھگڑا کرنے والے آئے، اور ہر ایک نے دوسرے کا سر پکڑ رکھا تھا۔
حدیث نمبر: 34057
٣٤٠٥٧ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبي (هاشم) (١) عن سعيد بن جبير قال: إنما كانت فتنة داود النظر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی آزمائش ان کی نظر کا پڑنا تھی۔
حدیث نمبر: 34058
٣٤٠٥٨ - [حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة (١) عن عطاء بن السائب عن أبي (عبد اللَّه) (٢) الجدلي قال: ما رفع داود ﵇ (٣) رأسه إلى السماء حتى مات] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
عطاء بن سائب حضرت عبد اللہ بجلی سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے موت تک آسمان کی طرف چہرہ نہیں اٹھایا۔
حدیث نمبر: 34059
٣٤٠٥٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال حدثنا علي بن زيد عن الحسن عن الأحنف بن قيس عن النبي ﷺ أن داود ﵇ (١) قال: أي رب، إن بني إسرائيل يسألونك بإبراهيم وإسحاق ويعقوب فاجعلني يا رب لهم رابعًا، فأوحى اللَّه إليه (أن) (٢): يا داود إن إبراهيم ألقي في النار في سبي فصبر، وتلك بلية لم ⦗٥٢٧⦘ (تنلك) (٣) و [إن إسحاق بذل (مهجة) (٤) نفسه (في سبيي) (٥) فصبر (٦) (فتلك) (٧) بلية لم تنلك و] (٨) إن يعقوب أخذت حبيبه حتى ابيضت عيناه فصبر وتلك بلية (لم تنلك) (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت احنف بن قیس نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ اے رب ! بنی اسرائیل آپ سے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب ۔ کے واسطے سے دعائیں کرتے ہیں، اے اللہ ! مجھے ان میں سے چوتھا بنادیجئے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ ” ابراہیم کو میری وجہ سے آگ میں ڈالا گیا اور انہوں نے صبر کیا اور تمہیں ایسی آزمائش نہیں آئی، اور اسحاق نے میرے لیے اپنی جان قربان کی، اور صبر کیا، اور یہ آزمائش بھی تم پر نہیں آئی، اور میں نے یعقوب کے محبوب کو لے لیا یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں، انہوں نے بھی صبر کیا، اور یہ آزمائش بھی تم پر نہیں آئی۔
حدیث نمبر: 34060
٣٤٠٦٠ - قال علي بن زيد: وحدثني خليفة عن ابن عباس أن داود حدث نفسه إن ابتُليَّ أن يعتصم، فقيل له: إنك ستبتلى وتعلم اليوم الذي تبتلى فيه فخذ حذرك، فقيل له: هذا اليوم الذي تبتلى فيه، فأخذ الزبور فوضعه في حجره، وأغلق باب المحراب، وأقعد منصفًا على الباب، وقال: لا تأذن لأحد علي اليوم، فبينما هو يقرأ الزبور إذ جاء طائر مذهب كأحسن ما يكون الطير، فيه من كل لون فجعل يدرج بين يديه فدنا منه، فأمكن أن يأخذه فتناوله بيده ليأخذه (فاستوفزه) (١) من خلفه، فأطبق الزبور وقام إليه ليأخذه، فطار فوقع على كوة المحراب، فدنا منه أيضا ليأخذه فوقع على (خص) (٢) فأشرف عليه لينظر أين وقع، فإذا هو بالمرأة ⦗٥٢٨⦘ عند (بركتها) (٣) تغتسل من المحيض، فلما رأت ظله حركت رأسها فغطت جسدها بشعرها، فقال داود للمنصف: اذهب فقل لفلانة تجيء، فأتاها فقال (لها) (٤): إن نبي اللَّه يدعوك، فقالت: ما لي ولنبي اللَّه؟ إن كانت له حاجة فليأتني أما أنا فلا آتيه، فأتاه المنصف فأخبره بقولها، فأتاها وأغلقت الباب دونه، فقالت: مالك يا داود؟ أما تعلم أنه من فعل هذا رجمتموها، ووعظته فرجع، وكان زوجها غازيًا في سبيل اللَّه فكتب داود ﵇ (٥) إلى أمير (المغزى) (٦): انظر أوريا فاجعله في حملة التابوت، (وكان حملة التابوت إما أن يفتح عليهم وإما أن يقتلوا، فقدمه في حملة التابوت) (٧) فقتل، فلما انقضت عدتها خطبها فاشترطت عليه: إن ولدت كلامًا أن يجعله الخليفة من بعده، وأشهدت عليه خمسين من بني إسرائيل وكتبت عليه بذلك كتابًا، فما شعر بفتنته أنه فتن حتى ولدت سليمان وشب، فتسور (الملكان) (٨) عليه المحراب، فكان من شأنهما ما قص اللَّه (٩) وخر داود ساجدا فغفر اللَّه له (وتاب) (١٠)، وتاب اللَّه عليه، فطلقها (وجفا) (١١) سليمان وأبعده. ⦗٥٢٩⦘ فبينما هو (معه) (١٢) في مسيرله وهو في ناحية القوم إذ أتى على غلمان (له) (١٣) يلعبون، فجعلوا يقولون: يا لادين يا لادين، فوقف داود فقال: ما شأن هذا يسمى لادين؟ فقال سليمان وهو في ناحية القوم: أما أنه لو سألني عن (هذه) (١٤) لأخبرته (بأمره) (١٥)، فقيل لداود: إن سليمان قال: كذا وكذا، فدعاه (فقال) (١٦): ما شأن هذا الغلام سمي لادين؟ فقال: سأعلم لك علم ذلك، فسأل سليمان عن أبيه: كيف كان أمره؟ فقيل (له) (١٧): إن أباه كان في سفر له مع أصحاب له، وكان كثير المال فأرادوا قتله، فأوصاهم فقال: إني تركت امرأتي حبلى، فإن ولدت غلامًا فقولوا لها: تسميه لادين، فبعث سليمان إلى أصحابه، فجاؤا فخلا بأحدهم فلم يزل حتى أقر، وخلا بالآخرين فلم يزل بهم حتى أقروا كلهم، فرفعهم إلى داود فقتلهم، فعطف عليه بعض العطف. وكانت امرأة عابدة من بني إسرائيل وكانت تبتلت، وكانت لها جاريتان (جميلتان) (١٨) وقد (تبتلت) (١٩) المرأة لا تريد الرجال، فقالت إحدى الجاريتين للأخرى: قد طال علينا هذا البلاء، أما هذه فلا تريد الرجال، (ولا نزال) (٢٠) بشر ما ⦗٥٣٠⦘ كنا لها، فلو أنا فضحناها فرجمت، فصرنا إلى الوجال، فأخذتا ماء البيض فأتتاها وهي ساجدة فكشفتا عنها ثوبها، ونضحتا في دبرها ماء البيض وصرختا: إنها قد بغت، وكان من زنا (فيهم) (٢١) حده الرجم، فرفعت إلى داود ﵇ (٢٢) وماء البيض في ثيابها فأراد رجمها، فقال سليمان: أما أنه لو سألني (لأنبأته) (٢٣)، فقيل لداود: إن سليمان قال: كذا وكذا، فدعاه فقال: ما شأن هذه؟ ما أمرها؟ فقال: ائتوني بنار فإنه إن كان ماء الرجال تفرق، وإن كان ماء البيض اجتمع، فأتي بنار فوضعها عليه فاجتمع فدرأ عنها (الرجم) (٢٤)، وعطف عليه بعض العطف وأحبه. ثم كان بعد ذلك أصحاب الحرث وأصحاب (الشاء) (٢٥)، فقضى داود ﵇ (٢٦) لأصحاب الحرث بالغنم، فخرجوا وخرجت الوعاء معهم الكلاب، فقال سليمان: كيف قضى بينكم؟ فأخبروه، فقال: لو وليت أمرهم لقضيت بينهم بغير هذا القضاء، فقيل لداود: إن سليمان يقول: كذا وكذا، فدعاه فقال: كيف تقضي؟ فقال: ادفع الغنم إلى أصحاب الحرث هذا العام، (فيكون) (٢٧) لهم أولادها (وسلاها) (٢٨) وألبانها ومنافعها (لهم العام) (٢٩)، ويبذر هؤلاء مثل حرثهم، فإذا بلغ ⦗٥٣١⦘ الحرث الذي كان عليه أخذ هؤلاء الحرث ودفع هؤلاء (إلى هؤلاء) (٣٠) الغنم، قال: فعطف عليه (٣١).
مولانا محمد اویس سرور
خلیفہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے دل میں یہ بات آئی کہ اگر وہ آزمائش میں ڈالے جائیں گے تو محفوظ رہیں گے، ان سے کہا گیا کہ تم عنقریب آزمائش میں ڈالے جاؤ گے، اور تمہیں اس دن کا علم ہوجائے گا جس میں تمہیں آزمائش میں ڈالا جائے گا، اس لیے احتیاط رکھو، چناچہ ان سے کہا گیا کہ آج تمہیں آزمایا جائے گا، چناچہ آپ نے زبور پکڑی اور اپنی بغل میں لی اور محراب کا دروازہ بند کردیا اور دروازے پر خادم کو بٹھایا اور فرمایا کہ آج کسی کو مت آنے دینا۔ (٢) چناچہ آپ زبور پڑھ رہے تھے کہ ایک خوبصورت پرندہ آیا جس میں مختلف رنگ تھے، اور وہ آپ کے پاس آنے لگا، اور قریب ہوگیا، اور آپ کو اسے اٹھانے کی قدرت ہوگئی، آپ نے اس کو ہاتھ میں لینے کا ارادہ کیا تو وہ کود کر آپ کے پیچھے چلا گیا، چناچہ آپ نے زبور بند کی اور اس کو پکڑنے کے لیے اٹھے ، لیکن وہ اڑ کر محراب کے روشن دان پر بیٹھ گیا، آپ اس کے قریب ہوئے تو وہ ایک گھونسلے میں داخل ہوگیا، آپ نے اس کو جھانکا تاکہ اس کو دیکھیں کہ کہاں گیا ہے اچانک آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنے حوض کے پاس حیض کا غسل کر رہی تھی، جب اس نے آپ کا سایہ دیکھا تو اپنے سر کو حرکت دی اور اپنے جسم کو اپنے بالوں سے چھپالیا حضرت داؤد علیہ السلام نے خادم سے کہا کہ جاؤ اور فلاں عورت سے کہو کہ میرے پاس آئے ، اس نے جا کر اس عورت سے کہا کہ اللہ کے نبی تمہیں بلا رہے ہیں، وہ کہنے لگی کہ اللہ کے نبی سے مجھ کو کیا کام ؟ اگر انہیں کوئی ضرورت ہے تو میرے پاس آجائیں ، میں تو ان کے پاس نہیں جاتی، خادم آپ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی بات بتائی، آپ اس کے پاس گئے تو اس نے دروازہ بند کرلیا اور کہنے لگی داؤد علیہ السلام تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیا تم نہیں جانتے کہ جو ایسا کرتا ہے تم اس کو سنگسار کرتے ہو ؟ اور اس نے آپ کو نصیحت کی تو آپ واپس لوٹ گئے۔ (٣) اور اس عورت کا شوہر اللہ کے راستے میں مجاہد تھا، چناچہ حضرت داؤد علیہ السلام نے جہاد کے امیر کو حکم دیا کہ اوریا کو ” حملۃ التابوت “ میں شامل کردو، اور ” حملۃ التابوت “ وہ فوج تھی جن کو یا فتح حاصل ہوتی یا و ہ قتل ہوجاتے تھے، چناچہ اس نے اس کو ” حملۃ التابوت “ میں شامل کر کے آگے بھیج دیا، اور وہ قتل ہوگیا، جب اس عورت کی عدت ختم ہوئی تو آپ نے اس کو پیغام دیا، اس نے شرط لگائی کہ اگر اس کا لڑکا ہوا تو اس کو اپنے بعد خلیفہ بنائیں گے، اور اس پر بنی اسرائیل کے پچاس لوگوں کو گواہ بنایا، اور اس پر ایک تحریر لکھی، چناچہ آپ کو اپنی آزمائش کا احساس ہی نہ ہوا، یہاں تک کہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو جنا اور وہ جوان ہوگئے، پھر دو فرشتے ان کے پاس محراب پھلانگ کر آئے اور ان کا قصہ اللہ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے، اور داؤد علیہ السلام سجدے میں گرگئے ، چناچہ اللہ نے ان کی مغفرت فرما دی اور ان کی توبہ قبول فرما لی۔ (٤) چناچہ انہوں نے اس کو طلاق دے دی اور سلیمان علیہ السلام کو دور کردیا، چناچہ اس دوران ایک مرتبہ آپ ایک میدان سے گزر رہے تھے کہ اپنے لڑکوں کے پاس پہنچے جو کہہ رہے تھے، اے لادین ! اے لادین ! حضرت داؤد علیہ السلام ٹھہر گئے اور پوچھا کہ اس کا نام ” لادین “ کیوں رکھا گیا ہے ؟ سلیمان علیہ السلام جو ایک کونے میں تھے کہنے لگے کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں ان کو بتادوں گا، داؤد علیہ السلام سے کہا گیا کہ سلیمان اس طرح کہہ رہے ہیں، آپ نے ان کو بلایا اور کہا کہ اس لڑکے کا نام ” لادین “ کیوں رکھا گیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں، حضرت سلیمان نے اس سے اس کے والد کے قصّے کے بارے میں پوچھا، تو ان کو بتایا گیا کہ اس کے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک سفر پر گئے تھے، اور وہ بہت مالدار تھے، لوگوں نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے ان کو وصیت کی کہ میں نے اپنی بیوی کو حاملہ چھوڑا ہے، اگر وہ لڑکا جنے گا تو اس سے کہنا کہ اس کا نام ” لادین “ رکھے، چناچہ حضرت سلیمان نے اس کے ساتھیوں کو بلایا، وہ آئے تو انہوں نے ان میں سے ایک کے ساتھ خلوت کی، اور اس سے بات کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے اقرار کرلیا، اور دوسروں کے ساتھ خلوت کی تو ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ سب نے اقرار کرلیا، چناچہ انہوں نے ان کو حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیج دیا اور انہوں نے ان کو قتل کردیا، چناچہ آپ اس کے بعد ان پر کچھ مہربان ہوگئے۔ (٥) اور بنی اسرائیل میں ایک عابدہ عورت تھی اور وہ رہبانیت اختیار کیے ہوئے تھی ، اس کی دو خوبصورت باندیاں تھیں، اور وہ عورت مردوں سے کوئی تعلق نہ رکھتی تھی، چناچہ ان میں سے ایک باندی نے دوسری سے کہا کہ ہم پر یہ مصیبت لمبی ہوگئی ہے، یہ تو مردوں کو چاہتی نہیں، اور ہم جب تک اس کے پاس رہیں گی بری حالت میں رہیں گی، کیا اچھا ہو اگر ہم اس کو رسوا کردیں اور اس کو سنگسار کردیا جائے اور ہم مردوں کے پاس پہنچ جائیں، چناچہ انہوں نے انڈے کا پانی لیا اور اس کے پاس آئیں
حدیث نمبر: 34061
٣٤٠٦١ - قال حماد: وسمعت ثابتا يقول: هو أوريا.
حدیث نمبر: 34062
٣٤٠٦٢ - حدثنا أبو أسامة عن الفزاري عن الأعمش عن المنهال عن عبد اللَّه ابن الحارث عن ابن عباس قال: أوحى اللَّه إلى داود ﵇ (١) أن قل للظلمة: لا يذكروني، فإنه حق علي أن أذكر من ذكرني، وإن ذكري إياهم أن ألعنهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن حارث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو وحی کی کہ ظالموں سے کہو کہ میرا ذکر نہ کیا کریں، کیونکہ ذکر کرنے والے کا مجھ پر حق یہ ہے کہ میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور ظالموں کے لئے میرا ذکر یہ ہے کہ میں ان پر لعنت کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 34063
٣٤٠٦٣ - حدثنا عبيد اللَّه قال: (أخبرنا) (١) شريك عن السدي عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: مات داود ﵇ (٢) يوم (السبت) (٣) فجاءة، (وكان يسبت) (٤) (فعكفت) (٥) الطير عليه (تظله) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام اچانک ہفتے کے دن فوت ہوگئے ، اور آپ ہفتے کو عبادت کیا کرتے تھے ، چناچہ پرندوں نے آپ پر سایہ کیا۔
حدیث نمبر: 34064
٣٤٠٦٤ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: حدثنا يحيى بن المهلب أبو (كدينة) (١) عن عطاء عن سعيد بن جبير عن ابن عباس ﴿يَاجِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ﴾ قال: سبحي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن جبیر بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ { یَا جِبَالُ أَوِّبِی مَعَہُ } کا مطلب ہے اے پہاڑو ! تسبیح کرو۔
حدیث نمبر: 34065
٣٤٠٦٥ - حدثنا محمد بن بشر ووكيع عن مسعر عن أبي حصين عن أبي عبد الرحمن ﴿يَاجِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ﴾ [سبأ: ١٠]، قال: سبحي.
مولانا محمد اویس سرور
ابو حصین حضرت ابو عبد الرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ { یَا جِبَالُ أَوِّبِی مَعَہُ } کا مطلب ہے اے پہاڑو ! تسبیح کرو۔
حدیث نمبر: 34066
٣٤٠٦٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن مجاهد قال: بكى من خطيئته حتى هاج ما حوله من دموعه.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد فرماتے ہیں کہ آپ اپنی غلطی پر اتنا روئے کہ آنسوؤں سے آپ کے ارد گرد کی گھاس زرد ہوگئی۔
حدیث نمبر: 34067
٣٤٠٦٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة ﴿أَوِّبِي﴾، قال: سبحي.
مولانا محمد اویس سرور
ابو میسرہ فرماتے ہیں کہ { أَوِّبِی } کا معنی ہے تسبیح کرو۔