حدیث نمبر: 34048
٣٤٠٤٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ميسرة الأشجعي عن عكرمة عن ابن عباس قال: سألت كعبًا عن رفع إدريس مكانا عليًا فقال: أما رفع إدريس مكانًا عليًا فكان عبدًا تقيًا، يرفع له من العمل الصالح ما يرفع لأهل الأرض في أهل زمانه، قال: فعجب الملك الذي كان يصعد عليه عمله، فاستأذن ربه إليه، قال: رب ائذن لي إلى عبدك هذا فأزوره، فأذن له فنزل (قال) (١): يا إدريس، أبشر فإنه يرفع لك من العمل الصالح مالا يرفع لأهل الأرض، قال: وما علمك؟ قال: إني ملك، قال: وإن كنت ملكًا، قال: (فإني) (٢) على الباب الذي يصعد عليه عملك، ⦗٥٢٢⦘ قال: أفلا تشفع لي إلى ملك الموت فيؤخر من أجلي (لأزداد) (٣) شكرًا وعبادة، قال (له) (٤) الملك: لا يؤخر اللَّه نفسا إذا جاء أجلها، قال: قد علمت، ولكنه أطيب لنفسي، فحمله الملك على جناحه فصعد به إلى السماء فقال: يا ملك الموت هذا عبد تقي نبي، يرفع (له) (٥) من العمل الصالح مالا يرفع لأهل الأرض، وإنه أعجبني ذلك، فاستأذنت إليه ربي، فلما بشرته بذلك سألني لأشفع له إليك (لتؤخر) (٦) من أجله فيزداد شكرا وعبادة للَّه، قال: ومن هذا؟ قال: (هذا) (٧) إدريس، فنظر في كتاب معه حتى مر باسمه فقال: واللَّه ما بقي من أجل إدريس شيء، فمحاه فمات مكانه (٨).
مولانا محمد اویس سرور
عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے حضرت کعب سے سوال کیا حضرت ادریس علیہ السلام کیسے اٹھائے گئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے بلند جگہ پر پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پرہیز گار بندے تھے ان کے اتنے نیک اعمال آسمان پر پہنچتے تھے جتنے اس زمانے کے تمام لوگوں کے اعمال تھے چناچہ اس فرشتے کو تعجب ہوا جس کے پاس اعمال پہنچتے تھے اس نے اللہ تعالیٰ سے اجازت مانگی کہ اے اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے اس بندے کی زیارت کروں اللہ نے ان کو اجازت دے دی فرشتہ آیا اور ان کو کہا کہ اے ادریس آپ کو بشارت ہو کہ آپ کے اتنے نیک اعمال آسمان پر پہنچتے ہیں کہ جو تمام اہل زمین کے اعمال سے بڑھ کر ہوتے ہیں آپ نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا ؟ اس نے کہا میں فرشتہ ہوں ، آپ نے فرمایا کہ اگر تم فرشتے ہو تب بھی آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ اس نے کہا کہ میں اس دروازے پر مقرر ہوں جس سے آپ کے اعمال جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تم ملک الموت سے میری سفارش کرسکتے ہو کہ وہ میری موت مؤخر کر دے تاکہ میں زیادہ شکر اور عبادت کرسکوں فرشتے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کی موت کو مؤخر نہیں کرتے جب موت کا وقت آجاتا ہے آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کا علم ہے لیکن یہ میرے لئے زیادہ خوشی کا باعث ہے چناچہ فرشتے نے آپ کو اپنے پر پر اٹھایا اور آسمان پر لے گیا اور کہا اے ملک الموت یہ پرہیز گار بندے اور نبی ہیں اور ا ن کے اتنے نیک اعمال آسمان پر جاتے ہیں جو تمام اہل زمین کے نہیں جاتے اور مجھے یہ بات بہت اچھی لگی اور میں اللہ سے اجازت لے کر اس کے پاس گیا جب میں نے ان کو اس کی بشارت دی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ میں ان کے لئے سفارش کروں تاکہ ان کی موت کا وقت مؤخر ہوجائے اور یہ اللہ کا شکر اور عبادت کرسکیں، انہوں نے کہا یہ کون ہیں ؟ فرشتے نے کہا ادریس علیہ السلام چناچہ ملک الموت نے اپنے رجسٹر میں دیکھا جب ان کے نام پر پہنچا تو کہنے لگے خدا کی قسم ادریس علیہ السلام کی موت میں کوئی وقت باقی نہیں اور ان کے نام کو مٹا دیا چناچہ وہ وہیں فوت ہوگئے۔
حدیث نمبر: 34049
٣٤٠٤٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد ﴿وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا﴾ [مريم: ٥٧]، (فقال) (١): في السماء الرابعة.
مولانا محمد اویس سرور
منصور حضرت مجاہد سے { وَرَفَعَنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا } کے تحت روایت کرتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو چوتھے آسمان پر پہنچا دیا۔
حدیث نمبر: 34050
٣٤٠٥٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي هارون عن أبي سعيد قال: في السماء الرابعة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے فرمایا کہ اللہ نے آپ کو چوتھے آسمان پر پہنچایا۔