کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائی ہیں
حدیث نمبر: 34036
٣٤٠٣٦ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: ثنا شبل بن عباد عن ابن أبي سليمان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: (قالت) (٢) مريم: كنت إذا خلوت أنا وعيسى حدثني وحدثته، وإذا شغلني عنه إنسان سبح في بطني وأنا أسمع.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت مریم نے فرمایا کہ جب میں خلوت میں ہوتی تو عیسیٰ مجھ سے باتیں کرتے اور میں ان سے باتیں کرتی، اور جب کوئی آدمی سامنے آتا تو وہ میرے پیٹ میں تسبیح کرتے اور میں سنا کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 34037
٣٤٠٣٧ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: ثنا شبل عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس قال: ما تكلم (عيسى) (١) ﵇ (٢) إلا بالآيات التي تكلم (بها) (٣) حتى بلغ مبلغ الصبيان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد ایک دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے بچپن میں ان آیات کے علاوہ کوئی بات نہیں کی جو اللہ نے ارشاد فرمائی تھی۔
حدیث نمبر: 34038
٣٤٠٣٨ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن هلال بن يساف قال: لم يتكلم في المهد إلا ثلاثة: عيسى ﵇ (١)، وصاحب يوسف، وصاحب جريج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہلال بن یساف فرماتے ہیں کہ گود میں تین بچوں کے علاوہ کسی نے بات نہیں کی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام کی گواہی دینے والا بچہ، اور جریج کے لئے گواہی دینے والا بچہ۔
حدیث نمبر: 34039
٣٤٠٣٩ - حدثنا (١) معاوية قال: ثنا عمار بن (رزيق) (٢) عن منصور عن مجاهد عن ابن عباس ﴿وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ﴾ [الزخرف: ٦١]، قال: خروج عيسى ابن ⦗٥١٧⦘ مريم ﵇ (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد حضرت ابن عبا س سے { وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَۃِ } کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں فرمایا کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔
حدیث نمبر: 34040
٣٤٠٤٠ - حدثنا وكيع (قال: ثنا) (١) سفيان عن ثابت بن هرمز عن شيخ عن أبي هريرة ﴿لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ﴾ [التوبة: ٣٣]، قال: خروج عيسى ﵇ (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ثابت بن ہرمز ایک شیخ کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ { لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ } سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔
حدیث نمبر: 34041
٣٤٠٤١ - حدثنا (أبو) (١) معاوية قال: ثنا الأعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لما أراد اللَّه أن يرفع عيسى ﵇ (٢) إلى السماء خرج (إلى) (٣) أصحابه وهم اثنا عشر رجلًا، من (عين) (٤) (في) (٥) البيت ورأسه يقطر ماء، فقال لهم: (أما) (٦) (إن) (٧) منكم من (سيكفر بي) (٨) (اثنتي عشرة) (٩) ⦗٥١٨⦘ مرة بعد (أن آمن بي) (١٠)، ثم قال: أيكم سيلقى عليه شبهي فيقتل مكاني ويكون معي في درجتي، فقام شاب من (أحدثهم) (١١) (١٢) فقال: أنا، فقال عيسى: اجلس، ثم أعاد عليهم فقام الشاب فقال: أنا، فقال (عيسى: اجلس ثم أعاد عليهم فقام الشاب فقال) (١٣): أنا، فقال: نعم، أنت ذاك، قال: فألقي عليه شبه عيسى، قال: ورفع عيسى ﵇ (١٤) من (ووزنة) (١٥) كانت في البيت إلى السماء، قال: وجاء الطلب من اليهود فأخذوا (الشبيه) (١٦) فقتلوه ثم صلبوه، وكفر به بعضهم (اثنتي عشرة) (١٧) مرة بعد أن (آمن) (١٨) به، فتفرقوا ثلاث فرق، (قالت) (١٩) فرقة: كان فينا اللَّه ما شاء، ثم صعد إلى السماء، وهؤلاء اليعقوبية، وقالت فرقة: كان فينا ابن اللَّه (ما شاء) (٢٠) (٢١) ثم رفعه اللَّه إليه، وهؤلاء (النسطورية) (٢٢)، وقالت فرقة: كان فينا عبد اللَّه ورسوله ما شاء اللَّه، ثم وفعه اللَّه إليه وهؤلاء المسلمون، فتظاهرت ⦗٥١٩⦘ الكافرتان على المسلمة فقاتلوها فقتلوها، فلم يزل الإسلام طامسًا حتى بعث اللَّه محمدا ﷺ فأنزل اللَّه عليه: ﴿فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ - (٢٣) يعني الطائفة التي آمنت في (زمن) (٢٤) عيسى، ﴿وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ﴾ -يعني الطائفة التي (ظهرت) (٢٥) في (زمن) (٢٦) عيسى، ﴿فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ في (زمان) (٢٧) عيسى ﴿عَلَى عَدُوِّهِمْ﴾ بإظهار محمد ﷺ دينهم على دين الكفار ﴿(فَأَصْبَحُوا) (٢٨) ظَاهِرِينَ﴾ (٢٩) [الصف: ١٤].
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن جبیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو وہ اپنے حواریوں کے پاس تشریف لائے، جو اس وقت بارہ تھے، اور آپ کے سر سے اس وقت پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ نے فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگ مجھ پر ایمان لانے کے بعد میرے ساتھ بارہ مرتبہ کفر کریں گے، پھر آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کون اس کے لئے تیار ہے کہ اس پر میری شبییہ ڈالی جائے اور وہ میری جگہ قتل ہوجائے، اور وہ میرے ساتھ میرے درجے میں ہوگا، چناچہ ایک نوجوان کھڑا ہوا، اور کہنے لگا میں تیار ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا بیٹھ جاؤ، پھر دوبارہ آپ نے سوال کیا تو وہ جوان پھر کھڑا ہوا، آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ، آپ نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو وہ جوان کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں تیار ہوں، آپ نے فرمایا ٹھیک ہے تم ہی ہو ، چناچہ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈال دی گئی۔ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گھر کے ایک روشن دان سے آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے، اور یہودیوں کی فوج آئی اور اس نے آپ کے ہم شکل کو گرفتار کر کے قتل کردیا، پھر اس کو سولی چڑھا دیا، اور ان میں سے ایک نے آپ کے ساتھ بارہ مرتبہ کفر کیا، اس کے بعد ان کی تین جماعتیں ہوگئیں، چناچہ ایک جماعت کہنے لگی کہ اللہ تعالیٰ ایک عرصے تک ہمارے درمیان رہے پھر آسمان کی طرف چلے گئے، یہ یعقوبیہ ہیں، اور ایک جماعت کہنے لگی کہ اللہ کے بیٹے ہمارے درمیان تھے پھر اللہ نے ان کو اٹھا لیا، یہ نسطوریہ ہیں، اور ایک جماعت نے کہا کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ایک عرصہ ہمارے ساتھ رہے، پھر اللہ نے ان کو اٹھا لیا، یہ مسلمان ہیں، چناچہ کافر جماعتیں مسلمانوں پر غالب آگئیں ، اور انہوں نے ان سے قتال کر کے ان کو قتل کردیا، اور اسلام مٹا رہا یہاں تک کہ اللہ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اورا للہ نے آیت نازل فرمائی { فَآمَنَتْ طَائِفَۃٌ مِنْ بَنِی إسْرَائِیلَ } یعنی وہ جماعت ایمان لائی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھی، اور ایک جماعت نے کفر کیا، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھی، ‘ ‘ چناچہ ہم نے ایمان لانے والی جماعت کی مدد کی ” یعنی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایمان لائے تھے۔ ” ان کے دشمنوں پر محمد ﷺ کے دین کو کفار کے دین پر غالب کر کے “ اور وہ غالب ہوگئے۔ “
حدیث نمبر: 34042
٣٤٠٤٢ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: كان عيسى ابن مريم ﵇ (١) لا يرفع عشاء لغداء ولا غداء لعشاء وكان يقول: إن مع كل (يوم) (٢) رزقه، كان يلبس الشعر ويأكل الشجر وينام حيث أمسى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام شام کے کھانے کو صبح کے لیے اور صبح کے کھانے کو شام کے لیے نہیں بچاتے تھے، اور آپ فرماتے تھے کہ ہر دن کے ساتھ اس کا رزق ہے، اور آپ بالوں کا بنا ہوا لباس پہنتے، اور درختوں کے پتے کھالیتے، اور جہاں شام ہوتی سو جاتے۔
حدیث نمبر: 34043
٣٤٠٤٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال: مرت امرأة بعيسى ابن مريم ﵇ (١) فقالت: طوبى لبطن حملك ولثدي أرضعك، (قال) (٢) عيسى ﵇ (٣): طوبى لمن قرأ القرآن واتبع ما فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس سے گزری ، اور اس نے کہا کہ خوشخبری ہو اس پیٹ کے لیے جس نے آپ کو اٹھایا، اور اس چھاتی کے لیے جس نے آپ کو دودھ پلایا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ خوشخبری ہو اس شخص کے لئے جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا۔
حدیث نمبر: 34044
٣٤٠٤٤ - حدثنا أبو خالد عن محمد بن عجلان عن محمد بن يعقوب قال: قال عيسى ابن مريم: لا تكثروا الكلام بغير ذكر اللَّه فتقسوا قلوبكم، فإن القلب القاسي بعيد من اللَّه، ولكن لا تعلمون، (ولا) (١) تنظروا في ذنوب العباد كأنكم أرباب، وانظروا في ذنوبكم، فإنما الناس رجلان: مبتلى ومعافى، فارحموا أهل البلاء واحمدوا اللَّه على العافية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یعقوب فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ کوئی بات نہ کرو کیونکہ اس سے تمہارے دل سخت ہوجائیں گے اور سخت دل اللہ سے دور ہیں لیکن تم نہیں جانتے بندوں کے گناہوں کو اس طرح مت دیکھو گویا کہ تم ان کے رب ہو بلکہ اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھو کہ تم بندے ہو کیونکہ لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو آزمائش میں مبتلا ہیں دوسرے وہ جو عافیت میں ہیں لہٰذا تم آزمائش میں مبتلا لوگوں پر رحم کرو اور عافیت پر اللہ کی تعریف کرو۔
حدیث نمبر: 34045
٣٤٠٤٥ - حدثنا شريك عن عاصم عن أبي صالح رفعه إلى عيسى قال: قال لأصحابه: اتخذوا المساجد مساكن، واتخذوا البيوت منازل، وانجوا من الدنيا بسلام، وكلوا من بقل البرية، وزاد فيه الأعمش (١): واشربوا من (ماء) (٢) القراح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح مرفوعاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ مسجدوں کو ٹھکانہ بناؤ اور گھروں کو راستے کی منزل سمجھو اور دنیا سے سلامتی کے ساتھ نجات پا جاؤ اور دیہات کی سبزیاں کھایا کرو، اعمش اس میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ سادہ پانی پیو۔
حدیث نمبر: 34046
٣٤٠٤٦ - حدثنا عباد بن العوام عن العلاء بن (مسيب) (١) عن رجل حدثه قال: قال الحواريون لعيسى ابن مريم ﵇ (٢): ما (تأكل؟) (٣) قال: خبز الشعير، قالوا: وما تلبس؟ قال: الصوف، قالوا: وما تفترش؟ قال: الأرض، قالوا: كل هذا شديد؟ قال: لن تنالوا ملكوت السماوات والأرض حتى تصيبوا هذا على لذة، أو قال: (على) (٤) شهوة.
مولانا محمد اویس سرور
علاء بن مسیب ایک آدمی کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے عرض کی کہ آپ کیا کھاتے ہیں انہوں نے فرمایا جو کی روٹی ، وہ کہنے لگے آپ کیا پہنتے ہیں آپ نے فرمایا اون، کہنے لگے کہ آپ کا بستر کیا ہے آپ نے فرمایا ، زمین، کہنے لگے یہ سب تو بہت مشکل ہے آپ نے فرمایا کہ تم آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک یہ چیزیں لذت کے باوجود یا فرمایا کہ شہوت کے باوجود استعمال نہ کرو۔
حدیث نمبر: 34047
٣٤٠٤٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا (مسعر) (١) عن أبي حصين قال: سمعته يذكر عن سعيد بن جبير في قوله: ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ﴾، قال: فذكروا عيسى وعزيرا أنهما كانا يُعبدان، فنزلت هذه الآية من بعدها: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ قال: عيسى ابن مريم ﵇ (٢) [فصلت: ٩٨، ١٠١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین حضرت سعید بن جُبیر سے ” اللہ کے فرمان {إنَّکُمْ ، وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ أَنْتُمْ لَہَا وَارِدُونَ } کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں فرمایا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت عزیر کا ذکر کیا کہ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی چناچہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی، (إنَّ الَّذِینَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنَی أُولَئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُونَ ) فرمایا کہ اس سے مراد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔