کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان فضیلتوں کا ذکر جو یونس بن متّی علیہ السلام کو حاصل ہوئیں
حدیث نمبر: 34027
٣٤٠٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم قال: سمعت حميد ابن عبد الرحمن يحدث عن أبي هريرة عن النبي ﷺ أنه قال: "قال -يعني اللَّه ﷿ (٢) - لا ينبغي لعبد لي أن (يقول) (٣): أنا خير من يونس بن متى" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میرے کسی بندے کے لئے جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متّی سے بہتر ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34027
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤١٦)، ومسلم (٢٣٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34027، ترقيم محمد عوامة 32523)
حدیث نمبر: 34028
٣٤٠٢٨ - [حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو (بن) (١) مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن علي قال: قال -يعني اللَّه ﷿ (٢): ليس لعبد لي أن يقول: أنا خير من يونس بن متى] (٣) (سبح) (٤) اللَّه في الظلمات (٥).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن سلمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میرے کسی بندے کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متّی سے بہتر ہوں ، انہوں نے اندھیروں میں اللہ کی پاکی بیا ن کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34028
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق على الصحيح؛ أخرجه الطحاوي ٤/ ٣١٦، وورد مرفوعًا، أخرجه تمام (١٦٢٢)، وورد موقوفًا، أخرجه البغوي في مسند ابن الجعد (٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34028، ترقيم محمد عوامة 32524)
حدیث نمبر: 34029
٣٤٠٢٩ - حدثنا الفضل عن سفيان عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس لأحد أن يقول أنا خير من يونس بن متى" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متّی سے بہتر ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34029
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤٠٦)، وأحمد (٣٧٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34029، ترقيم محمد عوامة 32525)
حدیث نمبر: 34030
٣٤٠٣٠ - حدثنا عفان قال: ثنا شعبة عن قتادة عن أبي العالية قال: حدثني ابن عم نبيكم ﷺ (١) ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس لعبد أن يقول: أنا خير من يونس بن متي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ مجھے تمہارے نبی ﷺ کے چچا زاد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متّی سے بہتر ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34030
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤١٣)، ومسلم (٢٣٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34030، ترقيم محمد عوامة 32526)
حدیث نمبر: 34031
٣٤٠٣١ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: ثنا عبد اللَّه بن مسعود في بيت المال عن يونس قال: إن يونس كان (قد) (١) وعد قومه العذاب، وأخبرهم أنه يأتيهم إلى ثلاثة أيام، ففرقوا بين كل والدة ⦗٥١٣⦘ وولدها، ثم خرجوا فجأروا إلى اللَّه (واستغفروا) (٢)، فكف اللَّه عنهم العذاب، (وغدا) (٣) يونس ينتظر العذاب، فلم ير شيئًا، وكان من (كذب) (٤) ولم تكن له بينة (قتل) (٥) فانطلق (مغاضبًا) (٦) حتى أتى قومًا في سفينة فحملوه وعرفوه، فلما دخل السفينة (ركدت) (٧)، والسفن تسير يمينًا وشمالًا، (فقال) (٨): ما لسفينتكم؟ قالوا: ما ندري، قال يونس: إن فيها عبدا أبق من ربه، وإنها لا تسير حتى تلقوه، فقالوا: أما أنت -يا نبي اللَّه- (فواللَّه) (٩) لا نلقيك، فقال لهم يونس: (فأقرعوا) (١٠) فمن قرع فليقع، فقرعهم يونس فأبوا أن يدعوه، فقالوا: من قرع ثلاث مرات فليقع، فقرعهم يونس ثلاث مرات فوقع، وقد كان وكل به الحوت، فلما وقع ابتلعه فأهوى به إلى قرار الأرض، فسمع يونس ﵇ (١١) تسبيح الحصى ﴿فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أنت سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: ٨٧]، ظلمات ثلاث: ظلمة بطن الحوت، وظلمة البحر، وظلمة الليل، قال: فنبذ ﴿فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ﴾ [الصافات: ١٤٥]، قال: كهيئة الفرخ الممعوط، ليس عليه ⦗٥١٤⦘ ريش، وأنبت اللَّه عليه شجرة يقطين، كان يستظل بها ويصيب منها، (فيبست) (١٢) فبكى عليها حين يبست، فأوحى اللَّه إليه: تبكي على شجرة يبست ولا تبكي على مائة ألف أو يزيدون (١٣) أن (تهلكهم) (١٤)، فخرج فإذا هو بغلام يرعى غنمًا فقال: ممن أنت يا غلام؟ فقال: من قوم يونس، قال: فإذا رجعت إليهم فأخبرهم أنك قد لقيت يونس، قال: فقال له الغلام: إن تكن يونس فقد تعلم (أن) (١٥) من كذب ولم تكن له بينة أن يقتل، فمن يشهد لي؟ فقال له يونس: (تشهد) (١٦) لك هذه الشجرة، وهذه البقعة، فقال الغلام: مرهمًا، فقال لهما يونس: (إن) (١٧) جاءكما هذا الغلام فاشهدا له، (قالتا) (١٨): نعم، فرجع الغلام إلى قومه، وكان له إخوة وكان في (منعة) (١٩)، فأتى الملك فقال: إني لقيت يونس وهو يقرأ عليكم السلام، فأمر به الملك أن يقتل، فقالوا له: إن له بينة، فأرسل معه فانتهوا إلى الشجرة والبقعة، فقال لهما الغلام: أنشدكما باللَّه هل أشهدكما يونس، (قالتا) (٢٠): نعم، فرجع القوم مذعورين يقولون: يشهد له (الشجرة) (٢١) والأرض، فأتوا الملك ⦗٥١٥⦘ فحدثوه بما (رأوه) (٢٢)، (فقال) (٢٣) عبد اللَّه: فتناوله الملك فأخذ بيد الغلام فأجلسه في مجلسه وقال: أنت أحق بهذا المكان مني، قال عبد اللَّه: فأقام لهم ذلك الغلام أمرهم أربعين سنة (٢٤).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیت المال میں بیان فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کے آنے کا وعدہ کیا اور ان کو بتایا کہ ان پر تین دن کے اندر عذاب آئے گا ، چناچہ انہوں نے ہر ماں کو اس کے بچے سے جدا کیا پھر نکلے اور اللہ سے گریہ زاری اور استغفار کرنے لگے، چناچہ اللہ نے ان سے عذاب کو روک لیا، اور حضرت یونس علیہ السلام اگلے دن عذاب کا انتظار کرنے لگے لیکن ان کو کچھ نظر نہ آیا، اور اس زمانے میں جو شخص جھوٹ بولتا اس کو قتل کردیا جاتا، چناچہ وہ غصّے میں نکلے، یہاں تک کہ ایک کشتی میں آئے اور انہوں نے ان کو پہچان کر سوار کرلیا، جب آپ کشتی پر سوار ہوئے تو کشتی رک گئی، کشتیاں دائیں اور بائیں چلا کرتی تھیں، وہ کہنے لگے کہ کشتی کو کیا ہوگیا، دوسرے جواب میں کہنے لگے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں، حضرت یونس علیہ السلام نے فرمایا کہ اس میں ایک بندہ ہے جوا پنے مالک سے بھاگ کر آیا ہے ، اور کشتی اس وقت تک نہیں چلے گی جب تک تم اس کو پانی میں نہیں ڈال دو گے، انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ! بخدا آپ کو تو ہم نہیں ڈال سکتے۔ (٢) چناچہ یونس علیہ السلام نے فرمایا کہ قرعہ ڈال لو، جس کے نام قرعہ آئے اس کو گرا دیا جائے، چناچہ یونس علیہ السلام کے نام قرعہ نکلا، لیکن انہوں نے آپ کو گرانے سے انکار کردیا، پھر وہ کہنے لگے کہ جس کے نام تین مرتبہ قرعہ نکل آئے اس کو گرا دو ، چناچہ تین مرتبہ یونس علیہ السلام کے نام قرعہ نکلا، آپ پر ایک مچھلی مقرر کی گئی تھی، جب آپ گرے تو اس نے آپ کو نگل لیا اور ان کو لے کر زمین کی تہہ تک چلی گئی چناچہ یونس علیہ السلام نے کنکریوں کی تسبیح سنی { فَنَادَی فِی الظُّلُمَاتِ أَنْ لاَ إلَہَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَک إنِّی کُنْت مِنْ ألظَّالِمِینَ } انہوں نے تین تاریکیوں میں تسبیح کی، مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا، سمندر کی تاریکی اور رات کا اندھیرا، اللہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم نے ان کو میدان میں ڈال دیا جبکہ وہ بیمار تھے، اور اس پرندے کی طرح ہوگئے تھے جس کے پر نہیں ہوتے، اور اللہ نے ان پر ایک کدو کا پودا اگایا، جس سے آپ سایہ لیتے اور کھاتے، چناچہ وہ خشک ہوگیا تو آپ رونے لگے، چناچہ اللہ نے وحی فرمائی کہ آپ پودے کے خشک ہونے پر تو روتے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں پر نہیں روتے جن کو ہلاک کرنے کا آپ نے ارادہ کیا تھا۔ (٣) چناچہ آپ نکلے اور ایک لڑکے پاس پہنچے جو بکریاں چرا رہا تھا اور اس سے فرمایا اے لڑکے ! تمہارا کس قوم سے تعلق ہے ! اس نے کہا قوم یونس سے ، آپ نے فرمایا : جب تم ان کے پاس جاؤ تو بتانا کہ تمہاری حضرت یونس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ہے لڑکے نے کہا کہ اگر آپ یونس ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ جو شخص جھوٹ بولتا ہے اور اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو اس کو قتل کردیا جاتا ہے، تو میرے لئے کون گواہی دے گا ؟ حضرت یونس نے اس سے فرمایا کہ تمہارے لیے یہ درخت گواہی دے گا اور یہ جگہ، لڑکے نے کہا کہ ان کو حکم دے دیجئے، چناچہ حضرت یونس علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ جب یہ لڑکا تمہارے پاس آئے تو اس کے لئے گواہی دے دینا، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، چناچہ وہ لڑکا اپنی قوم کے پاس واپس چلا گیا اور اس کے بھائی بھی تھے، اور وہ اثرو رسوخ کا مالک تھا چناچہ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہا کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے ملا ہوں اور وہ آپ کو سلام کہتے ہیں ، بادشاہ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا کہ اس کے پاس گواہی ہے ، چناچہ بادشاہ نے اس کے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیا وہ درخت اور جگہ کے پاس پہنچے اور لڑکے نے ان سے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا حضرت یونس علیہ السلام نے تمہیں گواہ بنایا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! چناچہ لوگ خوفزدہ ہو کر واپس لوٹے اور کہنے لگے یہ درخت اور زمین بھی اس لڑکے کے لئے گواہی دیتے ہیں، اور بادشاہ کے پاس پہنچے اور جو کچھ دیکھا تھا اس کے سامنے بیان کردیا۔ (٤) حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ بادشاہ نے اس لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنی جگہ بٹھایا اور کہا کہ تم اس جگہ کے مجھ سے زیادہ حق دار ہو، حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ لڑکا چالیس سال تک ان کا حاکم رہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34031
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التفسير ١١/ ١٧٢، وابن أبي الدنيا كما تفسير القرطبي ١١/ ٣٣٣، وابن أبي حاتم في التفسير (١٠٥٩٧)، وابن النحاس في إعراب القرآن ٣/ ٤٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34031، ترقيم محمد عوامة 32527)
حدیث نمبر: 34032
٣٤٠٣٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن السدي عن أبي مالك قال: مكث يونس في بطن الحوت أربعين يومًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک فرماتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام چالیس سال تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34032
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34032، ترقيم محمد عوامة 32528)
حدیث نمبر: 34033
٣٤٠٣٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن سالم ﴿فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ﴾ قال: حوت في حوت وظلمة البحر.
مولانا محمد اویس سرور
منصور حضرت سالم سے { فَنَادَی فِی الظُّلُمَاتِ } کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں فرمایا کہ اس سے مراد مچھلی کے پیٹ کی تاریکی اور سمندر کی تاریکی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34033
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34033، ترقيم محمد عوامة 32529)
حدیث نمبر: 34034
٣٤٠٣٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل (عن) (١) عبد الملك عن سعيد بن جبير قال: سمعته يقول: ﴿فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ﴾ قال: ظلمة الليل وظلمة البحر وظلمة الحوت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ { فَنَادَی فِی الظُّلُمَاتِ } سے مراد رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا، اور مچھلی کا اندھیرا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34034
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34034، ترقيم محمد عوامة 32530)
حدیث نمبر: 34035
٣٤٠٣٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه ابن الحارث قال: لما التقمه الحوت (فنبذ به) (١) إلى الأرض فسمعها تسبح، (فهيجته) (٢) على التسبيح.
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن مرّہ حضرت عبد اللہ بن حارث سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ جب مچھلی نے آپ کا لقمہ بنایا اور آپ کو زمین پر ڈال دیا اور آپ نے اس کو تسبیح پڑھتے ہوئے سنا تو اس سے آپ کو تسبیح پڑھنے کی ترغیب ہوئی ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34035
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34035، ترقيم محمد عوامة 32531)