کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں
حدیث نمبر: 34014
٣٤٠١٤ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا عوف عن الحسن قال: لما سخرت الريح لسليمان بن داود ﵇ (١) (كان) (٢) يغدو من بيت المقدس فيقيل (بقريرا) (٣) ثم يروح فيبيت في (كابل) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخّر کیا گیا تو وہ صبح بیت المقدس سے نکلتے اور دوپہر کو فزیرا میں قیلولہ فرماتے تھے، اور پھر شام کو چلتے تو کابل میں رات گزارتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34014
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34014، ترقيم محمد عوامة 32511)
حدیث نمبر: 34015
٣٤٠١٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ضرار بن مرة عن سعيد بن جبير قال: كان سليمان يوضع له ستمائة ألف كرسي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے چھ لاکھ کرسیاں لگائی جاتی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34015
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34015، ترقيم محمد عوامة 32512)
حدیث نمبر: 34016
٣٤٠١٦ - حدثنا أبو معاوية قال: ثنا الأعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كان (سليمان بن) (١) داود ﵇ (٢) يوضع له ستمائة ألف كرسي، ثم (يجيء) (٣) أشراف الإنس حتى يجلسوا مما يلي الأيمن، ثم ⦗٥٠٨⦘ (يجيء) (٤) أشراف الجن حتى يجلسوا مما يلي الأيسر، ثم يدعو الطير فتظلهم، ثم يدعو الريح فتحملهم، فيسير في الغداة الواحدة مسيرة شهر، فبينما هو ذات يوم يسير في فلاة من الأرض فاحتاج إلى الماء، فدعا الهدهد فجاء فنقر الأرض فأصاب موضع الماء، ثم تجيء الشياطين ذلك الماء فتسلخه كما يسلخ الإهاب فيستخرجوا الماء منه. قال: فقال له نافع بن الأزرق: قف (يا وقاف) (٥) أرأيت قولك: الهدهد يجيء فينقر الأرض فيصيب موضع الماء، كيف يبصر هذا ولا يبصر الفخ يجيء إليه حتى يقع في عنقه، فقال له ابن عباس: ويحك إن القدر حال دون البصر (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے لیے چھ لاکھ کرسیاں لگائی جاتی تھیں، پھر انسانوں میں سے شرفاء آتے اور دائیں جانب بیٹھ جاتے، اور پھر جنوں کے شرفاء آتے اور بائیں جانب بیٹھ جاتے، پھر آپ پرندوں کو بلاتے اور وہ ان پر سایہ کرتے، پھر ہوا کو بلاتے اور وہ ان کو اٹھاتی ، اور آپ ایک صبح میں ایک مہینے کی مسافت قطع کرتے، ایک دن آپ اسی طرح ایک میدان میں جارہے تھے کہ آپ کو پانی کی ضرورت ہوئی، آپ نے ہد ہد کو بلایا، وہ آیا اور اس نے زمین میں چونچ ماری اور پانی کی جگہ بتلائی، پھر اس جگہ شیاطین آئے اور انہوں نے اس جگہ کو اس طرح کھودا جس طرح بکری کی کھال اتاری جاتی ہے اور انہوں نے اس جگہ سے پانی نکالا۔ کہتے ہیں کہ اس پر نافع بن ازرق نے کہا اے ٹھہرنے والے ٹھہر جائیے، آپ کہتے ہیں کہ ہدہد نے آ کر زمین میں پانی کی جگہ چونچ ماری، اس کو یہ کیسے نظر آتا ہے جبکہ اس کو جال بھی نظر نہیں آتا جو آ کر اس کی گردن میں پڑجاتا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تمہارا ناس ہو، تقدیر آنکھوں کے سامنے حائل ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34016
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ المنهال ثقة، أخرجه الحاكم ٢/ ٥٨٩، والضياء ١٠/ ٤٠٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34016، ترقيم محمد عوامة 32513)
حدیث نمبر: 34017
٣٤٠١٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن عبد اللَّه بن شداد قال: كان كرسي سليمان يوضع على الريح وكراسي من أراد من الجن والإنس، فاحتاج إلى الماء فلم يعلموا بمكانه، وتفقد الطير عند ذلك فلم يجد الهدهد فتوعده، وكان عذابه نتفَه وتشميسه، قال: فلما جاء استقبله الطير فقالوا: (قد توعدك) (١) سليمان، فقال الهدهد: (٢) استثنى، قالوا: نعم، ألا أن (يجيء) (٣) بعذر، وكان عذره أن جاء بخبر صاحبة سبأ قال: فكتب إليهم (٤) سليمان: ﴿(٥) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (٣٠) أَلَّا تَعْلُوا ⦗٥٠٩⦘ عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ﴾، قال: فأقبلت بلقيس، فلما كانت على قدر فرسخ قال سليمان: ﴿أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ﴾ قال عفريت من الجن: ﴿أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ﴾ قال: فقال: (سليمان) (٦) أريد أعجل من ذلك، (قال) (٧) الذي عنده علم من الكتاب: ﴿أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ﴾ [النمل: ٣٠ - ٣١، ٣٨، ٣٩، ٤٠].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی ہوا پر رکھی جاتی اور اس کے ساتھ جن جنات اور انسانوں کو آپ چاہتے ان کی کرسیاں رکھی جاتیں، آپ کو پانی کی ضرورت ہوئی لیکن لوگوں کو اس کا علم نہ تھا، چناچہ آپ نے اس وقت پرندوں کو تلاش کیا تو ہد ہد کو نہ پایا، آپ نے اس کو دھمکی دی ، اور ا س کی سزا یہ تھی کہ اس کے پر اکھیڑ کر اس کو دھوپ میں رکھا جائے، جب وہ آیا تو پرندوں نے اس سے ملاقات کی اور کہا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے تمہارے لیے سزا کا اعلان کیا ہے، ہدہد نے کہا کیا انہوں نے کوئی استثناء کیا ہے ؟ وہ کہنے لگے جی ہاں ! یہ کہ آپ کوئی عذر بیان کریں، اور اس کا عذر یہ تھا کہ وہ ملکۂ سبا کا قصہ دیکھ کر آیا تھا، چناچہ سلیمان علیہ السلام نے ان کو لکھا {إِنَّہُ مِن سُلَیْمَانَ وَإِنَّہُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، أَلاَّ تَعْلُوا عَلَیَّ وَأْتُونِی مُسْلِمِینَ } کہتے ہیں کہ بلقیس چلی ، جب وہ ایک فرسخ کی مسافت پر تھی تو سلیمان علیہ السلام نے فرمایا { أَیُّکُمْ یَأْتِینِی بِعَرْشِہَا قَبْلَ أَن یَأْتُونِی مُسْلِمِینَ ، قَالَ عِفْریتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِکَ وَإِنِّی عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ أَمِینٌ} حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا میں اس سے زیادہ جلدی چاہتا ہوں، { قَالَ الَّذِی عِندَہُ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن یَرْتَدَّ إِلَیْکَ طَرْفُکَ }، کہتے ہیں کہ مجھے منصور نے مجاہد کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ زمین کے نیچے ایک سرنگ میں داخل ہوئے اور اس کو لے آئے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اس کو تبدیل کردو۔ { قِیلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً وَکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا } چناچہ دیکھا وہ بہت بال والی عورت تھیں، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کو کیا چیز ختم کرے گی ؟ لوگوں نے کہا چونا چناچہ اس وقت چونے کا استعمال ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34017
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34017، ترقيم محمد عوامة 32514)
حدیث نمبر: 34018
٣٤٠١٨ - قال: فأخبرني منصور عن مجاهد أنه دخل في نفق تحت الأرض (فجاءه) (١) به، قال سليمان: غيروه، فلما جاءت قيل (٢): (أهكذا) (٣) عرشك؟ قال: فجعلت تعرف وتنكر، وعجبت من سرعته، وقالت: كأنه (هو) (٤)، قيل لها: ادخلي الصرح، فلما رأته حسبته لجة، وكشفت عن ساقيها فإذا امرأة شَعْرَاء، قال: فقال سليمان: ما يذهب هذا؟ قالوا: النورة، قال: فجعلت النورة يومئذ.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34018
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34018، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 34019
٣٤٠١٩ - حدثنا وكيع عن العلاء بن عبد الكريم قال سمعت مجاهدا يقول لما قال: ﴿أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ﴾ هذا، قال: أنا أريد أعجل من هذا؟ قال الذي عنده علم من الكتاب: ﴿أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ﴾، قال: فخرج العرش في نفق من الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد فرماتے ہیں کہ جب جن نے کہا { أَنَا آتِیک بِہِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِک } تو انہوں نے کہا کہ میں ا س سے زیادہ جلدی چاہتا ہوں، چناچہ { قَالَ الَّذِی عِنْدَہُ عِلْمٌ مِنَ الْکِتَابِ أَنَا آتِیک بِہِ قَبْلَ أَنْ یَرْتَدَّ إلَیْک طَرْفُک } کہتے ہیں کہ اس کا تخت زمین کی سرنگ سے نکل آیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34019
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34019، ترقيم محمد عوامة 32515)
حدیث نمبر: 34020
٣٤٠٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء عن (مجاهد) (١) عن ابن عباس: ﴿قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ﴾، قال: مجلس الرجل الذي يجلس فيه حتى يخرج من عنده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان { قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِک } کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی کی وہ مجلس جس میں وہ بیٹھے یہاں تک کہ حاضرین اٹھ جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34020
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (١٦٣٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34020، ترقيم محمد عوامة 32516)
حدیث نمبر: 34021
٣٤٠٢١ - حدثنا وكيع عن ثابت (بن) (١) عمارة عن عبد اللَّه بن (معبد) (٢) (الزماني) (٣) قال لم تنزل: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ في شيء من القرآن إلا في سورة النمل: ﴿إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن معبد زِمّانی فرماتے ہیں کہ { بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم } سور ۃ النمل کے علاوہ قرآن پاک میں کسی جگہ نازل نہیں ہوئی، ارشاد فرمایا {إِنَّہُ مِنْ سُلَیْمَانَ وَإِنَّہُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34021
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34021، ترقيم محمد عوامة 32517)
حدیث نمبر: 34022
٣٤٠٢٢ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل بن أبي خالد عن سعيد بن جبير: ﴿قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ﴾، قال رفع طرفه فلم يرجع إليه (طرفه) (١) حتى نظر إلى العرش بين يديه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ { قَبْلَ أَنْ یَرْتَدَّ إلَیْک طَرْفُک } کی تفسیر یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نظر اوپر اٹھائی ، ابھی نیچے ان کی نظر نہیں پہنچی تھی کہ انہوں نے تخت کو اپنے سامنے دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34022
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34022، ترقيم محمد عوامة 32518)
حدیث نمبر: 34023
٣٤٠٢٣ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن أبي صالح ﴿وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ﴾ [النمل: ٣٥]، قال: كانت هديتها لبنة من ذهب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ { وَإِنِّی مُرْسِلَۃٌ إلَیْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ } کی تفسیر یہ ہے کہ انہوں نے سونے کی اینٹیں ہدیہ کی تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34023
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34023، ترقيم محمد عوامة 32519)
حدیث نمبر: 34024
٣٤٠٢٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: (١) اسمها بلقيس بنت ذي (شرة) (٢)، وكانت هلباء شعراء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ان کا نام بلقیس بنت ذی شرہ تھا اور وہ بہت زیادہ بالوں والی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34024
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34024، ترقيم محمد عوامة 32520)
حدیث نمبر: 34025
٣٤٠٢٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن مجاهد أن (صاحبة) (١) سبأ كانت (جنية) (٢) شعراء.
مولانا محمد اویس سرور
حکم حضرت مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ قوم سبا کی ملکہ جنیہ اور بہت زیادہ بالوں والی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34025
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34025، ترقيم محمد عوامة 32521)
حدیث نمبر: 34026
٣٤٠٢٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس ﴿وَإِنِّي (مُرْسِلَ) (١) إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ﴾، قال: أرسلت بذهب أو لبنة من ذهب، فلما قدموا إذا حيطان المدينة من ذهب، فذلك قوله: ﴿أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا آتَاكُمْ﴾ [النمل: ٣٦] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { وَإِنِّی مُرْسِلَۃٌ إلَیْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ } کے تحت روایت کرتے ہیں فرمایا کہ انہوں نے سونایا سونے کی اینٹیں بھیجیں، جب وہ لے کر پہنچے تو دیکھا کہ شہر کی دیواریں سونے کی ہیں، یہ معنی ہے اللہ کے فرمان { أَتُمِدُّونَنِی بِمَالٍ فَمَا أَتَانِی اللَّہُ خَیْرٌ مِمَّا آتَاکُمْ } الخ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34026
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم (١٦٣٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34026، ترقيم محمد عوامة 32522)