کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ فضائل جو موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نقل کیے گئے ہیں
حدیث نمبر: 33999
٣٣٩٩٩ - حدثنا أبو خالد عن أشعث عن عكرمة عن ابن عباس قال: خرج موسى ﵇ ينادي لبيك، (قال) (١): وجبال الروحاء تجيبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پکارتے تھے ” لبیک “ اور روحاء کے پہاڑ ان کا جواب دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 34000
٣٤٠٠٠ - حدثنا أحمد بن إسحاق قال: ثنا وهيب عن عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي سعيد أن رجلًا من الأنصار سمع رجلًا من اليهود وهو في السوق وهو يقول: والذي اصطفى موسى ﵇ (١) على البشر، فضرب وجهه، (٢) أي خبيث أعلى أبي القاسم، فانطلق اليهودي إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: يا أبا القاسم ⦗٤٩٨⦘ ضرب وجهي فلان، فأرسل إليه فدعاه فقال: لم ضربت وجهه؟ فقال: إني مررت به في السوق فسمعته يقول: والذي اصطفى موسى على البشر، فأخذتني غضبة فضربت وجهه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا تخيروا بين الأنبياء، فإن الناس يصعقون يوم القيامة فأرفع رأسي فإذا أنا بموسى آخذ بقائمة من قوائم العرش، فلا أدري أصعق (فيمن) (٣) صعق فأفاق قبلي أو حوسب بصعقته الأولى -أو قال- كلفته صعقته الأولى" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے ایک یہودی کو بازار میں یہ کہتے سنا کہ ” اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو انسانوں پر فضیلت دی، اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا، اور کہا اے خبیث ! کیا ابو القاسم ﷺ پر بھی ؟ چناچہ وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور کہا کہ اے ابو القاسم ! فلاں شخص نے میرے چہرے پر مارا ہے، آپ نے ایک آدمی بھیج کر اس کو بلوایا اور فرمایا کہ تم نے اس کے چہرے پر کیوں مارا ؟ اس نے کہا کہ میں اس کے پاس سے بازار میں گزر رہا تھا کہ میں نے اس کو کہتے ہوئے سنا کہ ” اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو انسانوں پر فضیلت دی “ چناچہ مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے چہرے پر مار دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دو کیونکہ لوگوں کو قیامت کے دن ایک جھٹکا دیا جائے گا، چناچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو موسیٰ علیہ السلام عرش کے پائے پکڑے ہوں گے، مجھے علم نہیں کہ ان کو لوگوں کے ساتھ جھٹکا دیا جائے گا اور پھر ان کو مجھ سے پہلے افاقہ ہوجائے گا یا پہلا جھٹکا ان کو کافی ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 34001
٣٤٠٠١ - حدثنا يعلى بن عبيد قال ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن عامر عن عبد اللَّه بن الحارث عن كعب قال: إن اللَّه قسم كلامه ورؤيته بين موسى ومحمد ﷺ (١) فكلمه موسى مرتين ورآه محمد مرتين.
مولانا محمد اویس سرور
عبداللہ بن حارث روایت کرتے ہیں کہ حضرت کعب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور دیدار کو موسیٰ علیہ السلام اور محمد ﷺ کے درمیان تقسیم فرما دیا ہے، چناچہ دو مرتبہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے ہم کلامی کی اور دو مرتبہ محمد ﷺ نے اللہ تعالیٰ کودیکھا۔
حدیث نمبر: 34002
٣٤٠٠٢ - حدثنا ابن علية عن الجريري (١) عن أبي (السليل) (٢) عن قيس بن عباد وكان من أكثر الناس أو من أحدث الناس عن بني إسرائيل قال: فحدثنا أن الشرذمة الذين سماهم فرعون (من بني إسرائيل كانوا ستمائة ألف، وكان مقدمة فرعون) (٣) سبعمائة ألف كل رجل منهم على حصان، على رأسه بيضة وبيده حربة (وهو) (٤) خلفهم في الدهم، فلما انتهى موسى ﵇ (٥) ببني إسرائيل إلى ⦗٤٩٩⦘ البحر، قالت (بنو) (٦) إسرائيل: (أين) (٧) ما وعدتنا؟ هذا البحر بين أيدينا، وهذا فرعون وجنوده قد دهمنا (أو) (٨) من خلفنا، فقال موسى ﵇ (٩) للبحر: انفلق (أبا) (١٠) خالد، فقال: لا أنفلق لك يا موسى، أنا أقدم منك خلقا أو أشد، قال: فنودي أن أضرب بعصاك البحر، (فضرب) (١١) فانفلق، قال الجريري: وكانوا (اثني) (١٢) عشر (١٣) سبطًا، وكان لكل سبط منهم طريق، فلما انتهى أول جنود فرعون إلى البحر هابت الخيل (١٤)، ومثل (لحصان) (١٥) منها فرس (وديق) (١٦)، فوجد ويحها (فانسل) (١٧) فتبعه (الخيل) (١٨)، فلما (تتام) (١٩) آخر جنود فرعون في البحر خرج آخر بني إسرائيل من البحر (فانصفق) (٢٠) عليهم، فقالت بنو إسرائيل: ما مات فرعون ⦗٥٠٠⦘ وما كان ليموت أبدًا، قال: فلم يَعْدُ أن سمع اللَّه تكذيبهم (نبيه) (٢١)، فرمى به على الساحل كأنه (ثور) (٢٢) أحمر يراه بنو إسرائيل.
مولانا محمد اویس سرور
ابو السّلیل حضرت قیس بن عبا د سے روایت کرتے ہیں جو بنی اسرائیل کے بارے میں سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے، کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں بیان کیا کہ وہ جماعت جن کے نام فرعون نے لکھے ہوئے تھے چھ لاکھ لوگ تھے اور فرعون کا مقدمۃ الجیش سات لاکھ افراد پر مشتمل تھا، اور ہر شخص گھوڑے پر سوار ہوتا اور اس کے سر پر خود ہوتا، اور اس کے ہاتھ میں نیزہ ہوتا ، اور وہ ان لوگوں کے پیچھے پیچھے ہوتا، جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمندر تک لے گئے تو بنی اسرائیل کہنے لگے کہاں ہے جس کا تم نے ہم سے وعدہ کیا ہے، سمندر ہمارے سامنے ہے اور فرعون اور اس کا لشکر ہم پر چڑھا آ رہا ہے، یا کہا کہ ہمارے پیچھے ، موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے سمندر ! پھٹ جا، اس نے کہا اے موسیٰ میں آپ کے لیے نہیں پھٹتا، میں پیدائش میں آپ سے مقدم ہوں، یا کہا مضبوط ہوں، چناچہ آواز دی گئی کہ سمندر پر اپنا عصار مارو، آپ نے عصا مارا تو وہ پھٹ گیا۔ جُریری کہتے ہیں کہ وہ بارہ قبیلے تھے اور ہر قبیلے کا ایک راستہ جدا تھا، جب فرعون کے لشکر کا پہلا حصّہ سمندر تک پہنچا تو گھوڑے مشعلوں سے ڈر گئے، اور ہر گھوڑے کے سامنے ایک مادہ گھوڑی کی شکل آگئی چناچہ گھوڑے تیزی سے ان کے پیچھے دوڑنے لگے، جب لشکر کا آخری حصّہ سمندر میں پہنچ گیا تو بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل گئے، چناچہ سمندر ان پر مل گیا، بنی اسرائیل کہنے لگے کہ فرعون نہیں مرا، اور وہ تو کبھی نہیں مرے گا، چناچہ ابھی اللہ نے ان کی تکذیب ان کے نبی تک بھی نہ پہنچائی تھی کہ سمندر نے اس کو ساحل پر ڈال دیا گویا کہ وہ سرخ رنگ کا بیل تھا، اس کو بنی اسرائیل دیکھنے لگے۔
حدیث نمبر: 34003
٣٤٠٠٣ - حدثنا شبابة عن يونس بن أبي إسحاق عن أبي إسحاق عن عمرو ابن ميمون عن عبد اللَّه بن مسعود أن موسى ﵇ (١) حين أسرى ببني إسرائيل بلغ فرعون، فأمر بشاة فذبحت، ثم قال: لا واللَّه (لا يُفرغ) (٢) من سلخها حتى يجتمع إليَّ ستمائة ألف من القبط، قال: فانطلق موسى ﵇ (٣) حتى انتهى إلى البحر فقال له: (افرق) (٤)، فقال البحر: لقد (استكثرت) (٥) يا موسى، وهل (فرقت) (٦) لأحد من ولد آدم (فافرق) (٧) لك؟ قال: ومع موسى ﵇ (٨) رجل على حصان (له) (٩)، قال له ذاك الرجل (١٠): أين أمرت يا نبي اللَّه؟ قال: ما أمرت إلا بهذا الوجه، قال: فأقحم فرسه فسبح به، فخرج فقال: أين أمرت (١١) يا نبي اللَّه؟ قال ما أمرت إلا بهذا الوجه، قال: واللَّه ما كذبتَ ولا كذبتُ، ⦗٥٠١⦘ (قال) (١٢): ثم اقتحم الثانية فسبح به ثم خرج، فقال: أين ما أمرت (به) (١٣) يا نبي اللَّه؟ قال: ما أمرت إلا بهذا الوجه، قال: واللَّه ما كَذبتَ ولا كذِبتَ، قال: فأوحى اللَّه إلى (موسى ﵇ (١٤) أن اضرب بعصاك، فضرب موسى بعصاه فانفلق، فكان كل فرق كالطود العظيم كالجبل العظيم، فكان فيه (اثنا عشر) (١٥) طريقا لاثني عشر سبطًا، لكل سبط طريق يتراؤن، فلما خرج أصحاب موسى ﵇ (١٦) وتتام أصحاب فرعون التقى البحر عليهم فأغرقهم (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن میمون حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو رات کے وقت لے کر چلے تو فرعون کا لشکر پہنچ گیا، آپ نے ایک بکری کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ قبطی میرے پاس جمع ہوجائیں، چناچہ موسیٰ علیہ السلام ان کو لے کر چلے یہاں تک کہ سمندر تک پہنچ گئے تو اس سے فرمایا پھٹ جا، سمندر نے کہا اے موسیٰ ! تم تکبر کرتے پھرتے ہو ، کیا میں اولادِ آدم میں کسی کے لیے پھٹا ہوں کہ تمہارے لیے پھٹ جاؤں ؟ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک آدمی گھوڑے پر سوار تھا، اس نے کہا اے اللہ کے نبی ! آپ کو کس طرف آنے کا حکم ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس طرف ہی آنے کا حکم ہوا ہے، چناچہ اس نے اپنے گھوڑے کو سمندر میں ڈالا اور اس پر تیرنے لگا پھر نکلا اور کہا اے اللہ کے نبی ! آپ کو کہاں جانے کا حکم ہوا ہے ؟ ّ آپ نے فرمایا کہ مجھے تو اس طرف ہی آنے کا حکم ہوا ہے، اس نے کہا بخدا نہ آپ نے جھوٹ بولا اور نہ آپ کی تکذیب کی گئی، اس کے بعد اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، آپ نے اس پر لاٹھی ماری تو وہ پھٹ گیا اور ہر راستہ بڑے ٹیلے کی طرح ہوگیا ، چناچہ اس میں بارہ قبیلوں کے لئے بارہ راستے بن گئے، اور ہر قبیلے کا راستہ جدا تھا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، جب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی نکل گئے اور فرعون کے ساتھی سب کے سب سمندر میں پہنچ گئے تو سمندر ان پر مل گیا اور وہ سب ڈوب گئے۔
حدیث نمبر: 34004
٣٤٠٠٤ - حدثنا ابن فضيل عن سليمان التيمي [عن أبي نضرة عن جابر: ﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ﴾ [الزمر: ٦٨]، قال: موسى ممن استثنى اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر نے اللہ کے فرمان { فَصَعِقَ مَن فِی السَّمَاوَاتِ وَمَن فِی الأَرْضِ إِلاَّ مَن شَاء اللَّہُ } کے تحت فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ نے مستثنیٰ فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 34005
٣٤٠٠٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن، (١) أبي إسحاق عن عمارة بن عبد عن علي قال: (انطلق) (٢) موسى وهارون ﵉ (٣) وانطلق (شبر وشبير) (٤) فانتهوا إلى جبل فيه سرير فنام عليه هارون فقبض روحه، فرجع موسى ⦗٥٠٢⦘ إلى قومه فقالوا: أنت قتلته حسدتنا على خلقه أو على لينه، أو كلمة نحوها -الشك من سفيان- قال: كيف أقتله ومعي (ابناه) (٥) قال: (فاختاروا (من شئتم) (٦) قال: فاختاروا) (٧) من كل سبط عشرة، قال: وذلك قوله: ﴿وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا﴾ فانتهوا إليه، فقالوا: من قتلك يا هارون؟ قال: ما قتلني أحد، ولكن توفاني اللَّه، قالوا: يا موسى! ما (نعصي) (٨)؟ قال: فأخذتهم الرجفة، فجعل يتردد يمينا وشمالا ويقول: ﴿لَوْ شِئْتَ (أَهْلَكْتَهُمْ) (٩) مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ﴾ [الأعراف: ١٥٥]، قال: فدعا اللَّهَ فأحياهم وجعلهم أنبياء كلهم (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موسیٰ اور ہارون i اور شبر اور شبیر چلے اور ایک پہاڑ تک پہنچے جس میں ایک بستر تھا چناچہ ہارون علیہ السلام اس پر سو گئے، اور ان کی روح قبض ہوگئی، چناچہ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس واپس آئے، تو ان کی قوم کہنے لگی کہ ان کو آپ نے قتل کیا ہے، اور ان کے اخلاق کی وجہ سے آپ کو ہم پر حسد ہوا ہے، یا کہا کہ ان کی نرمی پر، یا اس جیسا کوئی کلمہ کہا، شک سفیان راوی کی طرف سے ہے، آپ نے فرمایا کہ میں ان کو کیسے قتل کرسکتا ہوں جب کہ میرے ساتھ ان کے بیٹے ہیں پھر آپ نے فرمایا کہ جن کو چاہو چن لو، چناچہ انہوں نے ہر قبیلے سے دس افراد چنے، یہی معنی ہے اللہ کے فرمان { وَاخْتَارَ مُوسَی قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلاً } کا ، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو ان سے پوچھا اے ہارون ! آپ کو کس نے قتل کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ مجھے اللہ نے وفات دی ، وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! آج کے بعد ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے، چناچہ ایک زلزلہ آیا اور وہ ہلاک ہوگئے، اور دائیں بائیں پریشان پھرنے لگے اور عرض کی { لَوْ شِئْت أہْلَکْتَہُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِیَّایَ أَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَائُ مِنَّا إنْ ہِیَ إلاَّ فِتْنَتُک } اس کے بعد انہوں نے دعا کی تو اللہ نے ان کو زندہ کردیا اور ان سب کو انبیاء بنادیا۔
حدیث نمبر: 34006
٣٤٠٠٦ - حدثنا عبيد اللَّه قال: ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون الأودي عن عمر بن الخطاب أن موسى ﵇ (١) لما ورد ماء مدين وجد عليه أمة من الناس يسقون، فلما فرغوا أعادوا الصخرة على البئر ولا يطيق رفعها إلا عشرة رجال، فإذا هو بامرأتين تذودان، قال: ما خطبكما؟ (فحدثتاه) (٢)، فأتى الحجر فرفعه، ثم لم يستق إلا ذنوبًا واحدًا حتى رويت الغنم، ⦗٥٠٣⦘ ورجعت المرأتان إلى أبيهما فحدثتاه، وتولى موسى ﵇ (٣) إلى الظل فقال: ﴿رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ﴾، قال: ﴿فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ﴾ واضعة ثوبها على وجهها، ﴿قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا﴾ قال لها: امشي خلفي وصفي لي الطريق، فإني أكره أن تصيب الريح ثوبك (٤) فيصف لي جسدك، فلما انتهى إلى أبيها قص عليه، قالت إحداهما: ﴿يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾ [القصص: ٢٤، ٢٥، ٢٦]، قال: يا بنية ما علمك بأمانته وقوته؟ قالت: أما قوته فرفعه الحجر ولا يطيقه إلا عشرة، وأما أمانته فقال لي: امشي خلفي وصفي لي الطريق فإني أخاف أن تصيب الريح ثوبك (فيصف) (٥) جسدك، فقال عمر: فأقبلت إليه ليست بسلفع من النساء لا خراجة ولا ولاجة، (واضعة) (٦) ثوبها على وجهها (٧).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن میمون أودی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام مدین کے پانی پر پہنچے، تو اس پر بعض لوگوں کو پانی بھرتے ہوئے دیکھا، جب وہ فارغ ہوئے تو انہوں نے دوبارہ کنویں پر چٹان رکھ دی، اور اس کو دس سے کم آدمی نہیں اٹھا سکتے تھے، آپ نے وہاں دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریاں ہٹا رہی تھیں، آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کیا حالت ہے ؟ انہوں نے آپ کو بتائی، تو آپ پتھر کے پاس آئے اور اس کو اٹھایا پھر ایک ہی ڈول کھینچا تھا کہ بکریاں سیراب ہوگئیں، اور وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس چلی گئیں، اور ان سے قصّہ بیان کیا، اور موسیٰ علیہ السلام سائے میں تشریف لے گئے اور فرمایا { رَبِّ إنِّی لِمَا أَنْزَلْتَ إلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ} کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک عورت حیاء کے ساتھ اپنے چہرے پر کپڑا رکھے ہوئے آپ کے پاس آئی، اور کہنے لگی کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ تمہیں ہماری بکریوں کو پانی پلانے کی اجرت دیں، آپ نے فرمایا کہ میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاتی رہو، کیونکہ مجھے یہ بات بری لگتی ہے کہ ہوا آپ کے کپڑوں پر لگے تو آپ کا جسم مجھے نظر آئے ، جب وہ اپنے والد کے پاس پہنچی تو اس نے قصہ بیان کیا اور کہا ابا جان اس کو اجرت پر رکھ لیں، بیشک بہترین مزدور وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو، انہوں نے فرمایا اے بیٹی ! تمہیں اس کی امانت اور طاقت کا کیسے علم ہوا ؟ اس نے کہا قوت کا علم اس طرح ہوا کہ انہوں نے پتھر کو اکیلے اٹھایا جبکہ اس کو دس آدمی اٹھاتے ہیں، اور اس کی امانت کا علم اس طرح ہوا کہ اس نے مجھے کہا کہ میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاؤ۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ تمہارے کپڑوں پر ہوا لگے اور مجھے تمہارا جسم نظر آئے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ وہ ان کے پاس آئی اس طرح کہ جری عورتوں کی طرح نہیں تھی اور نہ بہت گھر سے نکلنے اور داخل ہونے والی تھی اور اپنے چہرے پر کپڑا رکھے ہوئے تھی۔
حدیث نمبر: 34007
٣٤٠٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير و (عن) (١) عبد اللَّه بن الحارث عن ابن عباس قال لما أتى موسى قومه فأمرهم بالزكاة فجمعهم قارون، فقال: هذا قد جاءكم بالصوم والصلاة وبأشياء تطيقونها، تحتملون أن تعطوه أموالكم؟ قالوا: ما نحتمل أن نعطيه أموالنا، فما ترى؟ قال: ⦗٥٠٤⦘ أرى أن نرسل إلى بغي بني إسرائيل فنأمرها أن ترميه على رؤوس (الأحبار) (٢) والناس بأنه أرادها على نفسها، ففعلوا، فرمت موسى ﵇ (٣) على رؤوس الناس فدعا اللَّه عليهم، فأوحى اللَّه (تعالى) (٤) إلى الأرض أن أطيعيه، فقال لها: موسى ﵇ (٥) خذيهم، فأخذتهم إلى (أعقابهم فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، فقال: خذيهم فأخذتهم إلى ركبهم) (٦) قال: فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى قال: خذيهم فأخذتهم إلى حجزهم، فجعلوا يقولون: (يا موسى يا موسى) (٧) (فقال) (٨): خذيهم، فأخذتهم إلى أعناقهم فجعلوا يقولون: يا موسى يا موسى، قال: فأخذتهم فغيبتهم، فأوحى اللَّه (تعالى) (٩) إلى موسى ﵇ (١٠): يا موسى! سألك عبادي وتضرعوا إليك فأبيت أن تجيبهم، أما وعزتي لو (إياي دعوا) (١١) لأجبتهم (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن حارث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو زکوٰۃ کا حکم فرمایا تو قارون نے ان کو جمع کیا اور کہا کہ یہ تمہارے پاس ایسے حکم لائے یعنی نماز، روزہ وغیرہ کا جس کی تم طاقت رکھتے ہو، تو کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو کہ ان کو اپنے اموال دو ؟ وہ کہنے لگے ہمیں اس کی طاقت نہیں ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم بنو اسرائیل کی زانیہ کو پیغام بھیجیں اور اس کو حکم دیں کہ لوگوں کے سامنے ان پر تہمت لگائے کہ انہوں نے اس کی عزت پر حملہ کیا ہے، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور اس عورت نے موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے سامنے تہمت لگائی آپ نے ان کے خلاف بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف وحی فرمائی کہ ان کی اطاعت کرو، چناچہ موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ ان کو پکڑ لے، اس نے ان کو گھٹنوں تک پکڑ لیا ، چناچہ وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! آپ نے پھر فرمایا کہ ان کو پکڑ لے ، چناچہ اس نے ان کو گھٹنوں تک پکڑلیا، وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! آپ نے پھر فرمایا کہ ان کو پکڑ لے ، چناچہ اس نے ان کو کمر تک پکڑ لیا، پھر وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! آپ نے فرمایا ان کو پکڑ لے، چناچہ اس نے ان کو گردن تک پکڑ لیا، وہ کہنے لگے اے موسیٰ ! اے موسیٰ ! پھر زمین نے ان کو غائب کردیا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اے موسیٰ ! تم سے میرے بندوں نے سوال کیا اور تمہارے سامنے گریہ زاری کی، لیکن تم نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا، میری عزت کی قسم ! اگر وہ مجھے پکارتے تو میں ان کی دعا قبول کرلیتا۔
حدیث نمبر: 34008
٣٤٠٠٨ - حدثنا حسين بن علي عن موسى بن قيس عن سلمة بن كهيل ﴿وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِنِّي﴾ [طه: ٣٩]، قال: حببتك إلى عبادي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن کہیل اللہ کے فرمان { وَأَلْقَیْت عَلَیْک مَحَبَّۃً مِنِّی } کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں ، یعنی ” میں نے آپ کو اپنے بندوں کا محبوب بنادیا۔
حدیث نمبر: 34009
٣٤٠٠٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس ﴿وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا﴾ [مريم: ٥٢]، حتى سمع صريف القلم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { وَقَرَّبْنَاہُ نَجِیًّا } کے تحت منقول ہے کہ اتنا قریب ہوگئے کہ انہوں نے قلموں کے چلنے کی آواز سنی۔
حدیث نمبر: 34010
٣٤٠١٠ - حدثنا وكيع عن أبي معشر عن محمد بن كعب قال: سئل رسول اللَّه ﷺ أي الأجلين قضى موسى ﵇؟ قال: "أوفاهما وأتمهما" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دو ، مدتوں میں سے کس مدت کو پورا کیا ؟ فرمایا کہ ان میں سے بڑی اور کامل مدت کو۔
حدیث نمبر: 34011
٣٤٠١١ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: سئل أي الأجلين قضى موسى؟ قال: (أتمهما) (١)] (٢) وآخرهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عبا س سے روایت ہے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دو ، مدتوں میں سے کس مدت کو پورا کیا ؟ فرمایا کہ ان میں سے بڑی اور کامل مدت کو۔
حدیث نمبر: 34012
٣٤٠١٢ - حدثنا أبو معاوية قال: ثنا الأعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قوله: ﴿لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا﴾ قال: قال له قومه: إنه آدر، قال: فخرج ذات يوم يغتسل فوضع ثيابه على صخرة فخرجت الصخرة تشتد بثيابه وخرج يتبعها عريانا حتى انتهت به إلى مجالس ⦗٥٠٦⦘ بني إسرائيل، قال: فرأوه ليس بآدر (قال) (١): (فذاك) (٢) قوله: ﴿فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا﴾ (٣) [الأحزاب: ٦٩].
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان { لاَ تَکُونُوا کَالَّذِینَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا } کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ آپ کی قوم نے آپ سے کہا کہ آپ کو ” اُدرہ “ بیماری ہے، چناچہ ایک دن آپ غسل کے لئے نکلے تو آپ نے اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے چناچہ وہ پتھر ان کے کپڑوں کو لے کر بھاگنے لگا، اور آپ برہنہ اس کا پیچھا کرنے لگے، یہاں تک کہ وہ پتھر آپ کو بنی اسرائیل کی مجلس میں لے گیا، چناچہ انہوں نے دیکھا کہ ان کو ” اُدرہ “ بیماری نہیں ، کہتے ہیں کہ یہی اللہ کے فرمان { فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا } کا معنی ہے۔
حدیث نمبر: 34013
٣٤٠١٣ - حدثنا أبو أسامة قال ثنا عوف عن الحسن وخلاس بن عمرو ومحمد عن أبي هريرة في قوله: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا﴾ قال: كان من أذاهم إياه أن نفرا من بني إسرائيل قالوا: ما يستتر منا مولسى هذا (الستر) (١) إلا من عيب يجلده: إما برص، وإما آفة، وإما أدرة، وإن اللَّه أراد أن يبرئه مما قالوا، قال: وإن موسى ﵇ (٢) خلا ذات يوم وحده، فوضع ثوبه على حجر ثم دخل يغتسل، فلما فرغ أقبل (على) (٣) ثوبه ليأخذه عدا الحجر بثوبه، فأخذ موسى ﵇ (٤) عصاه في أثره، فجعل يقول: ثوبي يا حجر، ثوبي يا حجر، حتى انتهى إلى ملإٍ من بني إسرائيل فرأوه عريانًا، (فإذا) (٥) كأحسن الرجال خلقًا، فبوأه اللَّه مما يقولون، قال: وقام الحجر فأخذ ثوبه فلبسه، (وطفق) (٦) موسى يضرب الحجر بعصاه، فواللَّه إن بالحجر الآن ⦗٥٠٧⦘ من أثر ضرب موسى (٧) -ذكر ثلاث أو أربع أو خمس (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ کے فرمان { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَکُونُوا کَاَلَّذِینَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَہُ اللَّہُ مِمَا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِیہًا } کی تفسیر میں روایت ہے فرمایا کہ انہوں نے آپ کو اذیت ا س طرح تھی کہ بنو اسرائیل کی ایک جماعت نے ان سے کہا کہ موسیٰ ہم سے اس لیے چھپتے ہیں کہ ان کی جلد میں کوئی عیب ہے یا برص ہے یا کوئی اور بیماری یا أُدرہ بیماری ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی اس بات سے بری کرنے کا ارادہ فرمایا تو ایک دن موسیٰ علیہ السلام خلوت میں گئے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھے پھر داخل ہو کر غسل کرنے لگے، جب فارغ ہوئے تو اپنے کپڑوں کی طرف آئے تاکہ کپڑے لے لیں، چناچہ پتھر دوڑنے لگا، موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی پکڑی اور اس کے پیچھے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگے اے پتھر ! میرے کپڑے، اے پتھر ! میرے کپڑے ، یہاں تک کہ جب وہ بنو اسرائیل کی مجلس میں پہنچا اور انہوں نے آپ کو برہنہ دیکھا تو آپ بہترین جسامت والے تھے، اس طرح اللہ نے آپ کو ان کی باتوں سے بری فرما دیا، اور پتھر ٹھہر گیا اور آپ نے اپنے کپڑے لے کر پہنے اور موسیٰ علیہ السلام اپنی لاٹھی سے پتھر کو مارنے لگے، بخدا پتھر پر اب بھی موسیٰ علیہ السلام کی ضرب کے نشانات ہیں، تین ہیں یا چار یا پانچ۔