کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان فضیلتوں کا ذکر جو سیدنا لوط علیہ السلام کے بارے میں آئی ہیں
حدیث نمبر: 33997
٣٣٩٩٧ - (١) حدثنا جرير عن ليث عن مجاهد ﴿فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ قال: لوط ﵇ (٢) وابنتاه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اللہ کے فرمان { فَمَا وَجَدْنَا فِیہَا غَیْرَ بَیْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد لوط علیہ السلام اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33997
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33997، ترقيم محمد عوامة 32494)
حدیث نمبر: 33998
٣٣٩٩٨ - حدثنا أبو أسامة (قال: حدثنا) (١) سليمان بن (المغيرة) (٢) عن حميد بن هلالى قال: قال جندب: قال حذيفة: لما أرسلت الرسل إلى قوم لوط ليهلكوهم قيل لهم: لا تهلكوهم حتى يشهد عليهم لوط ثلاث مرار، قال: وكان طريقهم على إبراهيم ﵇ قال: فأتوا إبراهيم، قال: فلما بشروه بما بشروه قال: ﴿فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَى يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ﴾ [هود: ٧٤]، قال: وكان مجادلته إياهم أنه قال: أرأيتم إن كان فيها خمسون من المسلمين أتهلكوهم؟ قالوا: لا، قال: أفرأيتم إن كان فيها أربعون؟ قال: قالوا: لا، حتى انتهى إلى عشرة أو خمسة -حميد شك في ذلك- قال: (قالوا) (٣): فأتوا لوطا وهو يعمل في أرض له، قال: فحسبهم بشرًا، قال: فأقبل بهم خفيا (حين) (٤) أمسى إليه أهله، قال: فمشوا معه فالتفت إليهم، قال: وما تدرون ما يصنع هؤلاء؟ قالوا: وما يصنعون؟ فقال: ما من الناس أحد هو أشر منهم؟ قال: فلبسوا (أداتهم) (٥) على ما ⦗٤٩٦⦘ قال ومشوا معه، قال: ثم قال مثل هذا، فأعاد عليهم مثل هذا ثلاث مرار، قال: فانتهى بهم إلى أهله، قال: فانطلقت امرأته العجوز عجوز السوء إلى قومه فقالت: لقد تضيف لوط الليلة رجالا ما رأيت رجالا قط أحسن منهم وجوها ولا أطيب ريحًا منهم، قال: فأقبلوا يهرعون إليه (حتى دافعوه) (٦) الباب حتى كادوا يغلبونه عليه، قال فأهوى ملك منهم بجناحه، (قال) (٧): فصفقه دونهم، قال: وعلا لوط الباب و (علوه) (٨) معه، قال: فجعل يخاطبهم ﴿هَؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ﴾، قال: فقالوا: ﴿قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ﴾ قال: فقال: ﴿لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ قال: قالوا: ﴿يَالُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ﴾ قال: فذاك حين علم أنهم رسل اللَّه، ثم قرأ إلى قوله: ﴿أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ﴾ [هود: ٧٨ - ٨١]، قال: وقال ملك، فأهوى يحناحه هكذا -يعني شبه الضرب، (فما) (٩) غشيه أحد منهم تلك الليلة إلا عمي، قال: فباتوا بشر ليلة عميانا ينتظرون العذاب، قال: وسار بأهله (١٠)، قال: استأذن جبريل في هلكتهم فأذن (له) (١١) فاحتمل الأرض التي كانوا عليها، قال: (فألوى) (١٢) بها حتى سمع أهل سماء الدنيا (ضغاء) (١٣) كلابهم، قال: ثم قلبها بهم، ⦗٤٩٧⦘ قال: فسمعت امرأته -يعني لوط ﵇ (١٤) الوجبة وهي معه (فالتفتت) (١٥) فأصابها العذاب، قال: وتتبعت (سفارهم) (١٦) بالحجارة (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
جندب روایت کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب قوم لوط علیہ السلام کو ہلاک کرنے کے لئے دو فرشتے بھیجے گئے تو ان سے کہا گیا کہ ان کو اس وقت تک ہلاک نہ کرنا جب تک لوط علیہ السلام ان پر تین مرتبہ گواہی نہ دے دیں، کہتے ہیں کہ ان کا راستہ ابراہیم علیہ السلام سے ہو کر گزرتا تھا، چناچہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور ان کو خوشخبری سنائی، اللہ فرماتے ہیں { فَلَمَّا ذَہَبَ عَنْ إبْرَاہِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْہُ الْبُشْرَی یُجَادِلُنَا فِی قَوْمِ لُوطٍ } کہتے ہیں کہ ان کا ان سے جھگڑا اس طرح ہوا کہ انہوں نے فرمایا کہ اگر اس بستی میں پچاس مسلمان ہوں تو کیا تم ان کو ہلاک کر ڈالو گے ؟ انہوں نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا تو پھر اگر اس میں چالیس مسلمان ہوں تو کیا تم ان کو ہلاک کر ڈالو گے ؟ انہوں نے کہا نہیں، یہاں تک کہ آپ دس یا پانچ تک پہنچ گئے، حمید راوی کو اس میں شک ہے۔ چناچہ وہ اس کے بعد لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے جبکہ وہ اپنی زمین پر کام کر رہے تھے، انہوں نے ان کو انسان سمجھا، چناچہ وہ ان کو خفیہ طور پر اپنے گھر لے چلے۔ (٢) اس کے بعد وہ ان کے ساتھ چلے، تو آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں ؟ وہ کہنے لگے کیا کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ لوگوں میں ان سے بدترین کوئی نہیں، چناچہ انہوں نے اس پر کوئی بات نہ کی، اور ان کے ساتھ چلنے لگے، پھر انہوں نے دوبارہ ایسے ہی کہا، تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا، تین مرتبہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد وہ ان کو گھر لے کر پہنچ گئے، چناچہ ان کی بڑھیا بیوی ان کی قوم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ لوط کے پاس آ ج رات ایسے آدمی مہمان ہوئے ہیں جن سے زیادہ خوبصورت اور خوشبودار لوگ نہیں دیکھے۔ (٣) چناچہ وہ دوڑتے ہوئے ان کے پاس آئے یہاں تک کہ دروازہ دھکیلنے لگے قریب تھا کہ اس کو گرا دیتے، چناچہ ایک فرشتے نے اپنا پر ان کو مارا اور ان کو ہٹا دیا، اور لوط علیہ السلام دروازے پر چڑھ گئے اور وہ بھی چڑھ گئے، اور آپ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا ” یہ میری بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے زیادہ پکیزہ ہیں۔ مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی سمجھ دار آدمی نہیں ہے۔ “ وہ کہنے لگے ” تم جانتے ہو کہ ہمارا تمہاری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں اور جو ہمارا ارادہ ہے وہ بھی تمہیں پتہ ہے۔ “ آپ نے فرمایا : ” کاش مجھے کوئی قوت حاصل ہوتی اور کاش میں بھی کسی مضبوط مددگار سے مدد لے سکتا۔ “ وہ کہنے لگے ” اے لوط ! ہمارے تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ ہم تک نہیں پہنچ سکتے۔ “ اس وقت ان کو علم ہوا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ پھر آپ نے (أَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیبٍ ) تک تلاوت فرمائی۔ (٤) کہتے ہیں کہ ایک فرشتے نے اپنے پر کو اس طرح حرکت دی جس طرح مارتے ہیں چناچہ جہاں تک وہ پر پہنچے سب لوگ اندھے ہوگئے ، چناچہ انہوں نے اندھے ہونے کی حالت میں بدترین رات گزاری اور وہ عذاب کا انتظار کر رہے تھے، اور لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لے کر چلے اور جبرائیل نے ان کو ہلاک کرنے کی اجازت مانگی اور ان کو اجازت دے دی گئی، انہوں نے اس زمین کو اٹھایا جس پر وہ تھے اور اس کو بلند کردیا یہاں تک کہ آسمان دنیا کے فرشتوں نے ان کے کتوں کی آوازیں سنیں، پھر انہوں نے اس کو پلٹ دیا، آپ کی بیوی نے جو آپ کے ساتھ تھی آواز سنی اور اس نے مڑ کر دیکھا تو اس کو بھی عذاب نے آلیا، اور ان کے سفیروں پر بھی پتھر برسے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33998
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرج بعضه ابن أبي حاتم في التفسير (١١٠٣٧) و (١١٠٥١)، وابن قتيبة في غريب الحديث ٢/ ٢٦٠، وابن جرير ١٢/ ٨١، وفي التاريخ ١/ ١٧٨، وعبد الرزاق في التفسير ٢/ ٣٠٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33998، ترقيم محمد عوامة 32495)