کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو عطا فرمائیں اور ان کو ان کے ذریعے فضیلت بخشی
حدیث نمبر: 33976
٣٣٩٧٦ - (١) حدثنا وكيع بن الجراح عن شعبة عن المغيرة بن النعمان عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس قال: قام فينا رسول اللَّه ﷺ فقال: "أول الخلائق يلقى بثوب إبراهيم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تمام مخلوقات میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33976
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٢٦)، ومسلم (٢٨٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33976، ترقيم محمد عوامة 32473)
حدیث نمبر: 33977
٣٣٩٧٧ - حدثنا أبو بكر بن عياش قال: ثنا أبو حصين عن سعيد بن جبير ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى﴾ [النجم: ٣٧]، قال: بلغ ما أمر به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اللہ کے فرمان { وَإِبْرَاہِیمَ الَّذِی وَفَّی } کا معنی بیان فرماتے ہیں کہ ان کو جس چیز کا حکم دیا گیا تھا اس کو پہنچا دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33977
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33977، ترقيم محمد عوامة 32474)
حدیث نمبر: 33978
٣٣٩٧٨ - حدثنا أبو بكر بن عياش قال: ثنا عاصم عن (زر) (١) عن عبد اللَّه قال: الأواه الدعاء يريد ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ﴾ [التوبة: ١١٤] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ الأَوَّاہُ کا معنی ہے بہت دعا کرنے والا، مرا د آیت {إنَّ إبْرَاہِیمَ لاَوَّاہٌ} ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33978
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم بن أبي النجود ضعيف في روايته عن زر، أخرجه ابن جرير ١١/ ٤٧، وابن عساكر ٦/ ٢٣٣، والبيهقي في شعب الإيمان (٥٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33978، ترقيم محمد عوامة 32475)
حدیث نمبر: 33979
٣٣٩٧٩ - حدثنا علي بن مسهر عن المختار بن فلفل عن أنس قال: جاء رجل إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: يا خير البرية، فقال: "ذاك إبراهيم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا اے مخلوق میں سب سے بہترین شخص ! آپ نے فرمایا کہ وہ تو ابراہیم ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33979
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٦٩)، وأحمد (١٢٨٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33979، ترقيم محمد عوامة 32476)
حدیث نمبر: 33980
٣٣٩٨٠ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن سعيد بن جبير قال: يحشر الناس عراة حفاة فأول من يلقى بثوب إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ لوگوں کو برہنہ اٹھایا جائے گا، اور سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33980
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33980، ترقيم محمد عوامة 32477)
حدیث نمبر: 33981
٣٣٩٨١ - حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس قال: لما فرغ إبراهيم ﵇ (١) من بناء البيت العتيق قيل له: أذن (في الناس بالحج) (٢)، قال: رب وما يبلغ صوتي، قال: أذن وعلي البلاع، قال: فقال إبراهيم ﵇ (٣): يا أيها الناس، كتب عليكم الحج إلى البيت العتيق، قال: فسمعه ما بين السماء إلى الأرض، ألا ترى أن الناس (يجيئون) (٤) من أقاصي الأرض يلبون (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو آپ سے کہا گیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردو، انہوں نے کہا کہ اے میرے رب ! میری آواز کیسے پہنچے گی، اللہ نے فرمایا تم اعلان کردو، پہنچانا میری ذمہ داری ہے، چناچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اے لوگو ! تم پر بیت اللہ کا حج فرض کیا گیا ہے، چناچہ اس آواز کو آسمان اور زمین کے درمیان ہر چیز نے سنا، کیا تم دیکھتے نہیں کہ لوگ اس کی طرف زمین کے دور دراز حصوں سے لبیک کی صدا لگاتے ہوئے آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33981
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ قابوس فيه لين، أخرجه الحاكم ٢/ ٤٢١، وابن جرير ١٧/ ١٤٤، والبيهقي ٥/ ١٧٦، وأحمد بن منيع كما في المطالب العالية (١١٢٧)، وابن عساكر ٦/ ٢٠٥، والضياء ١٠/ (١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33981، ترقيم محمد عوامة 32478)
حدیث نمبر: 33982
٣٣٩٨٢ - حدثنا محمد بن (أبي) (١) عبيدة بن معن قال: حدثني أبي عن الأعمش عن أبي صالح قال: انطلق إبراهيم النبي ﷺ (٢) يمتار فلم يقدر على الطعام، فمر بسهلة حمراء، فأخذ منها، ثم رجع إلى أهله فقالوا: ما هذا؟ قال: حنطة حمراء، قال: ففتحوها فوجدوها حنطة حمراء، قال: فكان إذا زرع منها شيئًا خرج سنبله من أصلها إلى فرعها حبًا متراكبًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام خوراک کی تلاش میں نکلے لیکن کھانا لانے پر قادر نہ ہوئے ، چناچہ آپ سرخ ریتلی زمین پر سے گزرے تو اس سے کچھ ریت لے لی، اور اپنے گھر واپس گئے، انہوں نے کہا یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ سرخ گندم ہے، انہوں نے اس کو کھولا تو اس میں سرخ گندم تھی، چناچہ وہ جب بھی کچھ بوتے اس کی بالیوں سے کئی دانے نکلتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33982
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33982، ترقيم محمد عوامة 32479)
حدیث نمبر: 33983
٣٣٩٨٣ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان عن (سلمان) (١) قال: لما (أري) (٢) إبراهيم ملكوت السماوات والأرض رأى عبدا على فاحشة فدعا عليه ⦗٤٩٢⦘ فهلك، ثم رأى آخر فدعا عليه فهلك، فقال اللَّه: أنزلوا عبدي لا يهلك عبادي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کا ملک دکھایا گیا تو انہوں نے ایک بندے کو فحش کام کرتے ہوئے دیکھا، چناچہ آپ نے اس کو بد دعا دی تو وہ ہلاک ہوگیا، پھر دوسرے کو دیکھا اور اس کو بد دعا دی تو وہ بھی ہلاک ہوگیا، چناچہ اللہ نے فرمایا کہ میرے بندے کو اتارو، کہیں یہ میرے بندوں کو ہلاک نہ کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33983
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح إلى سليمان، أخرجه ابن جرير ٧/ ٢٤٦، وسعيد بن منصور ٢/ (٨٨٤)، وابن عساكر ٦/ ٢٢٧، والدينوري في المجالسة (٢٩٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33983، ترقيم محمد عوامة 32480)
حدیث نمبر: 33984
٣٣٩٨٤ - حدثنا معاذ بن معاذ عن التيمي عن أبي عثمان (عن سلمان) (١) قال: أُرسل على إبراهيم ﵇ أسدان مجوعان، فلحساه وسجدا له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر دو بھوکے شیر چھوڑے گئے ، چناچہ وہ آپ کو چاٹنے لگے اور آپ کو سجدہ کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33984
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح إلى سليمان، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٠٦، وابن عساكر ٦/ ١٨١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33984، ترقيم محمد عوامة 32481)
حدیث نمبر: 33985
٣٣٩٨٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مليل عن علي في قوله: ﴿يَانَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ﴾ [الأنبياء: ٦٩]، قال: لولا أنه قال: ﴿وَسَلَامًا﴾ لقتله بردها (١).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن ملیل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اللہ کے فرمان { یَا نَارُ کُونِی بَرْدًا وَسَلاَمًا عَلَی إبْرَاہِیمَ } کے تحت نقل کرتے ہیں ، فرمایا کہ اگر اللہ { وَسَلاَمًا } نہ فرماتے تو وہ اتنی ٹھنڈی ہوجاتی کہ اس سے ان کی جان چلی جاتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33985
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن مليّل وثقه ابن حبان وروى عنه جماعة، أخرجه أحمد في العلل ٣/ ٢٢١، وفي الزهد ص ٧٩، وابن جرير ١٧/ ٤٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33985، ترقيم محمد عوامة 32482)
حدیث نمبر: 33986
٣٣٩٨٦ - حدثنا خالد بن مخلد عن محمد بن ثابت قال: حدثني موسى مولى أبي بكرة قال: حدثني سعيد بن جبير قال: لما (رأى) (١) إبراهيم ﵇ (٢) (في المنام) (٣) ذبح إسحاق سار به مسيرة شهر في غداة واحدة حتى أتى المنحر بمنى، فلما صرف اللَّه عنه الذبح قام بكبش فذبحه، ثم رجع به مسيرة شهر في روحة واحدة طويت له الأودية والجبال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حضرت اسحاق علیہ السلام کا ذبح ہونا دکھلایا گیا تو وہ ان کو ایک دن میں ایک مہینے دور کی مسافت پر لے گئے یہاں تک کہ منی میں نحر کرنے کی جگہ آگئے، جب اللہ نے ذبح کو ان سے دور فرما دیا تو انہوں نے مینڈھے کو ذبح کردیا، پھر ایک شام میں ایک مہینے کی مسافت سے واپس آگئے، ان کے لئے وادیوں اور پہاڑوں کو لپیٹ دیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33986
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33986، ترقيم محمد عوامة 32483)
حدیث نمبر: 33987
٣٣٩٨٧ - حدثنا معتمر عن أبيه عن قتادة عن أبي سليمان عن كعب قال: ما ⦗٤٩٣⦘ أحرقت النار من إبراهيم إلا (وثاقه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ آگ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رسّی کے علاوہ کسی چیز کو نہیں جلایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33987
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33987، ترقيم محمد عوامة 32484)
حدیث نمبر: 33988
٣٣٩٨٨ - حدثنا معاوية بن هشام قال: أخبرنا سفيان عن زيد بن أسلم عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير عن أبيه قال: قال موسى: يا رب: ذكرت إبراهيم وإسحاق ويعقوب ثم أعطيتهم ذاك، قال: إن إبراهيم لم يعدل (بي) (١) شيء إلا اختارني، وإن إسحاق جاد لي بنفسه فهو لما سواها أجود، وإن يعقوب لم (أبتله) (٢) ببلاء إلا زاد بي حسن ظن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے فرمایا اے میرے رب ! آپ نے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب ۔ کا ذکر فرمایا ہے، آپ نے ان کو یہ فضیلت کیسے عطا فرمائی ہے ؟ اللہ نے فرمایا کہ ابراہیم کو جس چیز کے ذریعے بھی مجھ سے پھیرنے کی کوشش کی گئی انہوں نے مجھے اختیار کیا، اور اسحاق نے اپنے نفس کو میرے لئے قربان کیا، تو وہ دوسری چیزوں کو زیادہ قربان کرنے والے ہیں، اور یعقوب کو میں نے جس طرح بھی آزمایا میرے ساتھ ان کا حسن ظن پہلے سے بڑھ گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33988
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33988، ترقيم محمد عوامة 32485)
حدیث نمبر: 33989
٣٣٩٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة عن مجاهد ﴿وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ﴾ [الحج: ٢٧]، قال: (١) أمر إبراهيم أن يؤذن بالحج (فقام فقال) (٢): يا أيها الناس أجيبوا ربكم، (فأجابوه) (٣): لبيك اللهم لبيك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد { وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ } کے تحت فرماتے ہیں ل کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو حج کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تو وہ کھڑے ہوئے اور کہا اے لوگو ! اپنے رب کے حکم پر لبیک کہو، چناچہ انہوں نے جواب دیا لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33989
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33989، ترقيم محمد عوامة 32486)
حدیث نمبر: 33990
٣٣٩٩٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد ﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ﴾ [البقرة: ١٢٤]، قال: ابتلي بالآيات التي بعدها.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد ایک دوسری سند سے { وَإِذَ ابْتَلَی إبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّہُنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں : یعنی جب ان کو ان آیات کے ذریعے مبتلا کیا گیا جو اس آیت کے بعد ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33990
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33990، ترقيم محمد عوامة 32487)
حدیث نمبر: 33991
٣٣٩٩١ - حدثنا وكيع عن يونس عن الشعبي ﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ﴾ قال: منهن الختان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی نے { وَإِذَ ابْتَلَی إبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ } کے تحت فرمایا کہ ان کلمات میں ایک ختنہ بھی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33991
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33991، ترقيم محمد عوامة 32488)
حدیث نمبر: 33992
٣٣٩٩٢ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن عكرمة عن ابن عباس ﴿وَإِذِ ابْتَلَى ⦗٤٩٤⦘ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ﴾ [البقرة: ١٢٤]، قال: لم (يبتل) (١) أحد بهذا الدين فأقامه إلا إبراهيم ﵇ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے { وَإِذَ ابْتَلَی إبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ } کے تحت نقل کرتے ہیں، فرمایا کہ کوئی شخص ایسا نہیں جس کو اس دین میں آزمائش میں ڈالا گیا ہو اور وہ اس آزمائش میں پورا اترا ہو سوائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33992
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية داود عن عكرمة ضعيفة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33992، ترقيم محمد عوامة 32489)
حدیث نمبر: 33993
٣٣٩٩٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن فراس عن الشعبي عن عبد اللَّه ابن عمرو قال: أول كلمة قالها: إبراهيم حين ألقي في النار ﴿حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ (١) [آل عمران: ١٧٣].
مولانا محمد اویس سرور
شعبی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سب سے پہلا کلمہ جو ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں گرنے کے بعد کہا وہ حَسْبُنَا اللَّہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33993
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق في التفسير ١/ ١٤٠، وابن جرير ٤/ ١٨٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33993، ترقيم محمد عوامة 32490)
حدیث نمبر: 33994
٣٣٩٩٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن يحيى بن سعيد عن سعيد أن إبراهيم أول الناس أضاف الضيف (١)، وأول الناس اختتن، وأول الناس قلم أظفاره، وجز شاربه واستحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید سے روایت ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مہمان کی مہمان نوازی کی، اور سب سے پہلے ختنہ کیا، اور سب سے پہلے ناخن تراشے، اور مونچھیں کتروائیں اور زیر ناف بال صاف کیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33994
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33994، ترقيم محمد عوامة 32491)
حدیث نمبر: 33995
٣٣٩٩٥ - حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن سعيد أن إبراهيم ﵇ أول من رأى الشيب فقال: يا رب ما هذا؟ قال: الوقار قال: يا رب زدني وقارًا.
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن سعید حضرت سعید سے ہی روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے سفید بالوں کو دیکھا، عرض کیا اے میرے رب ! یہ کیا ہے ؟ اللہ نے فرمایا یہ وقار ہے آپ نے عرض کیا اے میرے رب ! میرے وقار میں اضافہ فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33995
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33995، ترقيم محمد عوامة 32492)
حدیث نمبر: 33996
٣٣٩٩٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن ربيعة بن عثمان التيمي عن سعد بن إبراهيم عن أبيه أنه قال: أول من خطب على المنابر إبراهيم خليل اللَّه ﵇ (١).
مولانا محمد اویس سرور
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ سب سے پہلے منبر پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خطبہ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33996
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33996، ترقيم محمد عوامة 32493)