کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
حدیث نمبر: 33959
٣٣٩٥٩ - حدثنا وكيع عن بدر بن عثمان عن عكرمة قال: لما أوحي إلى النبي ﷺ قالت قريش: بتر محمد (١) فنزلت: ﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [الكوثر: ٣]، الذي رماك به هو الأبتر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ پر وحی کی گئی تو قریش نے کہا کہ محمد ہم سے کاٹ دیے گئے ، چناچہ آیت {إنَّ شَانِئَک ہُوَ الأَبْتَرُ } نازل ہوئی ، کہ جس نے آپ کو یہ بات کہی وھی مقطوع النسل ہے۔
حدیث نمبر: 33960
٣٣٩٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن أبي يعلى عن ربيع بن (خثيم) (١) قال: لا نفضل على نبينا محمد ﷺ أحدًا، (ولا نفضل) (٢) على إبراهيم خليل اللَّه (أحدًا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یعلی رضی اللہ عنہ حضرت ربیع بن خثیم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا کہ ہم اپنے نبی محمد ﷺ پر کسی کو فضیلت نہیں دیتے، اور نہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پر کسی کو فضیلت دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 33961
٣٣٩٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي (سعيد) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تخيروا بين الأنبياء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء کو ایک دوسرے سے افضل قرار نہ دو ۔
حدیث نمبر: 33962
٣٣٩٦٢ - حدثنا وكيع عن سلمة بن نبيط عن الضحاك قال: جاء جبريل إلى النبي ﷺ (فأقرأه) (١) آخر البقرة حتي إذا حفظها قال: اقرأها علي، فقرأها النبي ﷺ فجعل جبريل يقول: ذلك لك، (ذلك لك) (٢) ﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾ (٣) [البقرة: ٢٨٦].
مولانا محمد اویس سرور
ضحاک فرماتے ہیں کہ جبرائیل نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو سورة بقرہ کی آخری آیات پڑھائیں، یہاں تک کہ جب آپ کو یاد ہوگئیں تو فرمایا کہ مجھے پڑھ کر سنائیے، چناچہ نبی ﷺ پڑھتے رہے اور جبرئیل کہتے رہے ” یہ آپ کے لیے ہے یہ آپ کے لئے ہے، کہ ہمارا مؤاخذہ نہ فرمائیے اگر ہمیں بھول ہوجائے یا غلطی ہوجائے۔ “
حدیث نمبر: 33963
٣٣٩٦٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن خيثمة قال: قيل للنبي ﷺ: إن شئت أعطيناك مفاتح الأوض وخزائنها، لا ينقصك ذلك عندنا شيئا في الآخرة، وإن شئت جمعتها لك في الآخرة، قال: "لا، بل اجمعها لي في الآخرة"، فنزلت ﴿تَبَارَكَ الَّذِي إِنْ شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَيَجْعَلْ لَكَ قُصُورًا﴾ (١) [الفرقان: ١٠].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو زمین کی کنجیاں اور اس کے خزانے عطا کردیں اور آخرت میں اس سے ہمارے ہاں کوئی کمی نہ ہوگی، اور اگر آپ چاہیں تو اپنے لیے آخرت میں جمع کرلیں، آپ نے فرمایا بلکہ میں اس کو اپنے لیے آخرت میں جمع کروں گا، چناچہ آیت نازل ہوئی { تَبَارَکَ الَّذِی إنْ شَائَ جَعَلَ لَک خَیْرًا مِنْ ذَلِکَ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الأَنْہَارُ وَیَجْعَلْ لَک قُصُورًا }۔
حدیث نمبر: 33964
٣٣٩٦٤ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن عاصم عن (زر) (١) بن حبيش عن عبد اللَّه بن مسعود أن قال: كنت غلامًا يافعًا أرعى (غنما) (٢) لعقبة بن أبي (معيط (٣)، فجاء النبي ﷺ وأبو بكر وقد فرا من المشركين فقالا: "يا غلام، هل عندك من لبن تسقينا"، قلت: إني (مؤتمن) (٤) ولست ساقيكما، فقال النبي ﷺ: ⦗٤٨٣⦘ "هل عندك من جذعة لم ينز عليها الفحل؟ "، قلت: نعم، فأتيتهما بها (فاعتقلها) (٥) النبي ﷺ ومسح الضرع ودعا (٦)، ثم أتاه أبو بكر بصخرة منقعرة (أو منقرة) (٧)، فاحتلب فيها فشرب وشرب أبو بكر ثم شربت، ثم قال للضرع: "أقلص" فقلص، قال: فأتيته بعد ذلك فقلت: علمني من هذا القول، (قال) (٨): "إنك غلام معلم" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نوجوان لڑکا تھا اور عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چراتا تھا، نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر آئے جبکہ وہ دونوں مشرکین سے فرار ہوئے تھے، اور فرمایا اے لڑکے ! کیا تمہارے پاس ہمیں پلانے کے لیے کچھ دودھ ہے ؟ میں نے کہا کہ میں امین ہوں، اور آپ کو پلا نہیں سکتا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کوئی چھ ماہ کی بکری ہے جس پر کوئی نر نہ کو دا ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں ! میں ان کے پاس لایا، نبی ﷺ نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور تھنوں کو ہاتھ لگایا اور دعا فرمائی، پھر حضرت ابوبکر آپ کے پاس ایک کھدا ہوا پتھر لائے ، آپ نے اس میں دودھ دوہا، آپ نے دودھ پیا اور حضرت ابوبکر نے بھی پیا، پھر میں نے پیا، پھر آپ نے تھن سے فرمایا سکڑ جا، چناچہ وہ سکڑ گیا، اس کے بعد میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ان باتوں میں سے مجھے بھی سکھا دیجئے ، فرمایا کہ تم تعلیم یافتہ لڑکے ہو۔
حدیث نمبر: 33965
٣٣٩٦٥ - حدثنا (يعلى) (١) بن عبيد قال ثنا أبو (سنان) (٢) عن عبد اللَّه بن مالك عن مكحول قال: كان لعمر على رجل من اليهود حق (فأتاه) (٣) يطلبه فلقيه، فقال له عمر: لا والذي اصطفى محمدا ﷺ (٤) على (البشر لا) (٥) أفارقك وأنا أطلبك بشيء، فقال اليهودي: ما اصطفى اللَّه محمدا على البشر، فلطمه عمر، فقال: بيني وبينك أبو القاسم، فقال: إن عمر قال: لا والذي اصطفى محمدا ﷺ (٦) على ⦗٤٨٤⦘ البشر، (فقلت) (٧) له: ما اصطفى اللَّه محمدًا على البشر، فلطمني، فقال: "أما أنت يا عمر فأرضه من لطمته، بلى يا يهودي (آدم صفي اللَّه، وإبراهيم خليل اللَّه، وموسى نجي اللَّه، وعيسى روح اللَّه، وأنا حبيب اللَّه، بلى يا يهودي) (٨) (تسمى) (٩) اللَّه باسمين سمى بهما أمتي هو السلام، وسمى أمتي المسلمين، وهو المؤمن وسمى أمتي المؤمنين، بلى يا يهودي (طلبتم) (١٠) يومًا (و) (١١) (ذخر) (١٢) لنا، اليوم لنا (وغدًا) (١٣) لكم، وبعد (غد) (١٤) للنصارى، بلى، يا يهودي أنتم الأولون ونحن الآخرون السابقون يوم القيامة، بلى إن الجنة محرمة على الأنبياء حتى أدخلها، وهي محرمة على الأمم حتى (تدخلها) (١٥) أمتي" (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کا ایک یہودی پر حق تھا، آپ اس سے مطالبہ کرنے آئے اور اس سے ملے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو چنا ہے میں تجھ سے اس وقت تک جدا نہ ہوں گا جب تک تھوڑی سی چیز باقی نہ رہ جائے، یہودی نے کہا اللہ نے محمد ﷺ کو انسانوں پر نہیں چنا، حضرت عمر نے اس کو طمانچہ مارا، اور فرمایا کہ میرے اور تمہارے درمیان ابوالقاسم ﷺ فیصلہ کریں گے، اس نے کہا عمر نے مجھ سے کہا تھا کہ ” اس ذات کی قسم جس نے محمد کو انسانوں پر فضیلت بخشی ہے، ” میں نے کہا کہ اللہ نے محمد کو انسانوں پر فضیلت نہیں بخشی، اس پر انہوں نے مجھے طمانچہ مارا ، آپ نے فرمایا اے عمر ! تم اس کو تھپڑ مارنے کی وجہ سے اس کو راضی کرو، اور اے یہودی ! ہاں آدم صفی اللہ، ابراہیم خلیل اللہ ، موسیٰ نجی اللہ، عیسیٰ روح اللہ، اور میں حبیب اللہ ہوں ، اے یہودی ! ہاں اللہ نے اپنے دو نام اختیار فرمائے اور میری امت کو بھی عطا کیے، وہ ” السلام “ ہے، اور اس نے میری امت کا نام مسلمین رکھا ہے اور وہ ” مومن “ ہے اور اس نے میری امت کا نام ” مؤمنین “ رکھا ہے، ہاں ! اے یہودی تم نے اس دن کو تلاش کیا جو ہمارے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا ، آج کا دن ہمارا، کل کا تمہارا اور پرسوں کا نصاریٰ کا ہے، ہاں اے یہودی ! تم پہلے ہو اور ہم آخری ہیں اور جنت میں قیامت کے دن سب سے پہلے پہنچنے والے ہیں، ہاں بیشک جنت انبیاء پر حرام ہے یہاں تک کہ میں اس میں داخل ہو جاؤں ، اور وہ تمام امتوں پر حرام ہے یہاں تک کہ میری امت اس میں داخل ہوجائے۔
حدیث نمبر: 33966
٣٣٩٦٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن ابن عباس ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى﴾ [النجم: ١٣]، قال: رأى ربه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما { وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرَی } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 33967
٣٣٩٦٧ - حدثنا محمد بن بشر قال ثنا عبد العزيز بن عمر قال: حدثني رجل من (١) سلامان بن سعد عن أمه أن خالها حبيب بن (فويك) (٢) حدثها أن أباه خرج (به) (٣) إلى رسول اللَّه ﷺ وعيناه (مبيضتان) (٤) لا يبصر بهما شيئا، فسأله: "ما أصابه؟ " قال: كنت (أمرن) (٥) (خيلًا) (٦) لي فوقعت رجلي على بيض حية فأصيب بصري، فنفث رسول اللَّه ﷺ في عينيه فأبصر، قال: فرأيته يدخل الخيط في الإبرة وإنه لابن ثمانين سنة وإن (عينيه) (٧) لمبيضتان (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حبیب بن فویک فرماتے ہیں کہ ان کے والد ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے جب کہ ان کی آنکھیں سفید تھیں اور وہ ان سے کوئی چیز نہیں دیکھ سکتے تھے ، آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں اپنے گھوڑے کو سدھا رہا تھا تو میرا پاؤں ایک سانپ کے انڈے پر پڑگیا، جس سے میری آنکھ متاثر ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں پھونکا تو وہ دیکھنے لگے، کہتے ہیں کہ میں نے ان کو دیکھا کہ اسّی سال کی عمر میں سوئی میں دھاگہ ڈال رہے تھے اور ان کی آنکھیں سفید تھیں۔
حدیث نمبر: 33968
٣٣٩٦٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن (عمر) (١) مولى (غفرة) (٢) قال: (ثنا) (٣) إبراهيم بن محمد من ولد علي قال: كان علي إذا نعت رسول اللَّه ﷺ قال: لم يكن بالطويل (الممغط) (٤) ولا بالقصير المتردد، كان ربعة من الرجال، كان جعد ⦗٤٨٦⦘ الشعر، ولم يكن بالجعد القطط ولا بالسبط، كان جعدًا رَجِلا، ولم يكن بالمطهم ولا المكلثم، كان (في الوجه) (٥) تدوير أبيض مشربًا حمرة، أدعج العينين، أهدب الأشفار، (جليل) (٦) (المشاش) (٧) (والكتد) (٨)، أجرد ذا (مسربة) (٩) شثن الكفين والقدمين، إذا مشى تقلع كأنما يمشي في صبب (١٠)، إذا التفت التفت معًا، بين كتفيه خاتم النبوة وهو خاتم النبيين، أجود الناس كفا (وأجرؤ) (١١) الناس صدرا، وأصدق الناس لهجة، وأوفى الناس (بذمة) (١٢)، وألينهم عريكة وأكرمهم عشرة، من رآه بديهة هابه، ومن خالطه معرفة أحبه، يقول ناعته: لم أر (مثله قبله) (١٣) ولا بعده (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن محمد جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان فرماتے تو فرماتے کہ آپ نہ لمبے تھے اور نہ بہت چھوٹے قد والے، آپ متوسط قد کے مالک تھے، اور آپ ہلکے گھنگریالے بالوں والے تھے اور بہت گھنگریالے بالوں والے تھے نہ بالکل سیدھے بالوں والے تھے، بلکہ آپ ہلکے خمدار بالوں والے تھے، آپ بہت گوشت والے تھے نہ گول چہرے والے، بلکہ آپ کے چہرے میں ہلکی گولائی تھی، آپ گوری رنگت والے تھے جس میں سرخی ملی ہوئی تھی، آپ کی آنکھ کی سیاہی شدید سیاہ تھی اور پلکیں لمبی تھیں۔ کندھوں کا بالائی اور درمیانی حصّہ مضبوط تھا، بغیر بالوں کے تھے اور آپ کے سینے پر ناف تک بالوں کی لڑی تھی، موٹی ہتھیلی اور قدموں والے تھے جب چلتے تو مضبوطی سے چلتے گویا ڈھلوان کی طرف جا رہے ہوں، جب کسی طرف مڑتے تو پورے مڑتے ، آپ کے کندھوں کے درمیان نبوت کی مہر تھی، اور آپ خاتم النبیین تھے، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ جری تھے، اور سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والے تھے، اور سب سے زیادہ عمدہ معاشرت والے تھے، جو آپ کو اچانک دیکھتا تو ہیبت زدہ ہوجاتا، اور جو مل جل کر معرفت کے ساتھ رہتا آپ سے محبت کرنے لگتا، آپ کی صفت بیان کرنے والا کہتا ہے کہ میں نے آپ جیسا آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد۔
حدیث نمبر: 33969
٣٣٩٦٩ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن سماك عن جابر بن سمرة قال: كانت في ساقي رسول اللَّه ﷺ حموشة، وكان (لا) (١) يضحك إلا تبسمًا، ⦗٤٨٧⦘ وكنت إذا نظرت (إليه) (٢) قلت: أكحل العينين وليس بأكحل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں قدرے پتلی تھیں، آپ ہنستے تو صرف مسکراتے، اور جب آپ ان کی طرف دیکھیں گے تو کہیں گے کہ آپ نے سرمہ لگایا ہوا ہے حالانکہ آپ نے سرمہ نہیں لگایا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 33970
٣٣٩٧٠ - حدثنا شريك بن عبد اللَّه عن عبد الملك بن عمير عن نافع بن جبير عن علي أنه وصف النبي ﷺ (١) (قال) (٢): كان عظيم الهامة، أبيض مشربا حمرة، عظيم اللحية، ضخم (الكراديس) (٣)، شثن الكفين والقدمين، طويل (المسربة) (٤) كثير شعر الرأس رجله، يتكفأ في مشيته كأنما (ينحدر) (٥) في صبب، لا طويل (ولا قصير) (٦)، لم أر (مثله قبله) (٧) ولا بعده (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن جبیر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کی صفت بیان کی اور فرمایا کہ آپ بڑے سر والے، سرخی مائل گورے، بڑی داڑھی والے، موٹی ہڈیوں والے، موٹی ہتھیلیوں اور قدموں والے، سینے سے ناف تک لمبی بالوں کی لکیر والے، اور گھنے اور ہلکے خمدار بالوں والے تھے، اپنی چال میں مضبوطی اختیار کرتے گویا کہ ڈھلوان میں اتر رہے ہوں، کہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے قد والے تھے، میں نے آپ جیسا آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد۔
حدیث نمبر: 33971
٣٣٩٧١ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن إسرائيل عن سماك أنه سمع جابر بن سمرة يقول: كان رسول اللَّه ﷺ قد (شمط) (١) مقدم رأسه ولحيته، فكان إذا ادهن ⦗٤٨٨⦘ ثم مشطه لم (يبن) (٢)، وكان كثير شعر اللحية، فقال رجل: وجهه مثل السيف، فقال: لا، بل كان مثل الشمس والقمر مستديرًا، ورأيت الخاتم بين كتفيه مثل بيضة الحمامة (تشبه) (٣) جسده (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی کے اگلے حصّے کے بال سفید ہوگئے تھے، جب آپ تیل لگاتے اور پھر کنگھی کرتے تو وہ نظر نہ آتے اور آپ کی داڑھی کے بال بہت زیادہ تھے، ایک آدمی کہنے لگا کہ آپ کا چہرہ تلوار کی طرح تھا ؟ فرمایا نہیں ، بلکہ سورج اور چاند کی طرح گول تھا، اور میں نے آپ کے کندھوں کے درمیان کبوتری کے انڈے کے برابر نبوت کی مہر دیکھی، جو آپ کے جسم کے مشابہ تھی۔
حدیث نمبر: 33972
٣٣٩٧٢ - حدثنا هوذة قال: (حدثنا) (١) عوف عن يزيد الفارسي قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ في النوم زمن ابن عباس على البصرة، قال: فقلت لابن عباس: إني رأيت رسول اللَّه ﷺ في النوم، قال: فهل تستطيع (٢) تنعت هذا الرجل الذي (رأيت؟) (٣) قلت: نعم، أنعت لك رجلا بين الرجلين جسمه ولحمه أسمر (إلى) (٤) البياض، حسن المضحك أكحل العينين جميل دوائر الوجه، قد ملأت لحيته من لدن هذه إلى هذه، وأشار بيده إلى (صدغيه) (٥) -حتى كادت تملأ نحره، قال: عوف ولا أدري ما كان مع هذا من النعت فقال ابن عباس: لو رأيته في اليقظة ما استطعت أن تنعته فوق هذا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید فارسی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بصرہ پر حکومت کے زمانے میں خواب میں دیکھا، چناچہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم حضور کی صفت بیان کرسکتے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں ! آپ کی جسامت درمیانی، آپ گندمی رنگ کے بہترین مسکراہٹ والے، سرمگیں آنکھوں والے، خوبصورت چہرے والے ہیں، آپ کی داڑھی نے آپ کے چہرے کو یہاں سے یہاں تک بھرا ہوا ہے، اور انہوں نے کنپٹیوں کی طرف اشارہ کیا ، یہاں تک کہ قریب ہے کہ آپ کے سینے کو بھر دے، عوف کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ صفات مجھے یاد نہیں رہیں، چناچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر تم بیداری میں حضور کو دیکھتے تو اس سے زیادہ بہتر صفت بیان نہ کرسکتے۔
حدیث نمبر: 33973
٣٣٩٧٣ - حدثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن المنكدر سمع جابرًا يقول: ما ⦗٤٨٩⦘ سئل رسول اللَّه ﷺ شيئا قط فقال: لا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کیا گیا کہ جس کے جواب میں آپ نے ” نہیں “ کہا ہو۔
حدیث نمبر: 33974
٣٣٩٧٤ - حدثنا يعلى بن عبيد عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعرض الكتاب على جبريل في كل رمضان فإذا أصبح رسول اللَّه ﷺ من الليلة التي يعرض فيها ما يعرض، أصبح وهو أجود من الريح المرسلة لا يُسأل شيئًا إلا أعطاه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل کے ساتھ ہر رمضان میں قرآن کا دور کرتے تھے، جب اس رات کی صبح ہوتی جس میں آپ نے دور کیا ہوتا تو آپ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے، اور آپ سے جس چیز کا بھی سوال کیا جاتا وہی عطا فرما دیتے۔
حدیث نمبر: 33975
٣٣٩٧٥ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن أنس أن أبا بكر كان رديف النبي ﷺ من مكة إلى المدينة، وكان أبو بكر يختلف إلى الشام، قال: وكان يعرف، وكان النبي ﷺ لا يعرف فكانوا يقولون: يا أبا بكر من هذا الغلام بين يديك، قال: هذا هاد يهدي السبيل، قال: فلما دنوا من المدينة (نزلوا) (١) الحرة (وبعثوا) (٢) إلى الأنصار فجاؤوا قال: فشهدته يوم دخل المدينة، فما رأيت يوما كان أحسن ولا أضوأ من يوم دخل علينا فيه، وشهدته يوم مات، فما رأيت يوما كان أقبح ولا أظلم من يوم مات فيه، -صلوات اللَّه ورحمته ورضوانه عليه (إلى يوم الدين) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نبی ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ تک ردیف تھے، اور حضرت ابوبکر شام میں آتے جاتے تھے، اور معروف تھے، اور نبی ﷺ اس قدر معروف نہ تھے، چناچہ لوگ کہتے اے ا بو بکر ! تمہارے ساتھ یہ لڑکا کون ہے ؟ آپ فرماتے کہ یہ رہنما ہے جو مجھے راستہ بتلا رہا ہے ، جب وہ مدینہ کے قریب ہوئے تو حرّہ کے مقام پر ٹھہرے اور انہوں نے انصار کے پاس پیغام بھیجا تو وہ آگئے ، کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو اس دن دیکھا جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے، میں نے کوئی دن اس دن سے اچھا اور روشن نہیں پایا جس دن آپ ہمارے پاس آئے تھے، اور میں نے آپ کو اس دن دیکھا جس دن آپ فوت ہوئے، تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ برا اور تاریک نہیں پایا جس دن آپ فوت ہوئے، آپ پر اللہ کی رحمت اور رضا ہو۔