کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
حدیث نمبر: 33919
٣٣٩١٩ - حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر عن قتادة أن يهوديًا حلب للنبي ﷺ ناقة فقال: "اللهم جمله"، فاسود شعره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی ﷺ کے لیے اونٹنی کو دوہا، تو آپ نے فرمایا اے اللہ ! اس کو خوبصورت فرما، چناچہ اس کے بال سیاہ ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33919
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قتادة تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٩٤٦٢)، وأبو داود في المراسيل (٤٩٢)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٢١٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33919، ترقيم محمد عوامة 32416)
حدیث نمبر: 33920
٣٣٩٢٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: حدثني (حسين) (٢) بن واقد قال: حدثني (أبو نهيك) (٣) قال: سمعت عمرو بن أخطب أبا زيد الأنصاري يقول: استسقى رسول اللَّه ﷺ فجئته بقدح فكانت فيه شعرة (فنزعها) (٤) قال: "اللهم ⦗٤٦٧⦘ جمله"، فلقد رأيته وهو ابن أربع وتسعين وما في رأسه طاقة بيضاء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن نھیک فرماتے ہیں کہ میں نے عمرو بن اخطب ابو زید انصاری کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا ، تو میں آپ کے پاس ایک پیالہ لایا، اس میں ایک بال تھا میں نے اس کو نکال دیا تو آپ نے فرمایا اے اللہ ! اس کو خوبصورت فرما، کہتے ہیں کہ میں نے ان کو چورانوے سال کی عمر میں دیکھا کہ اس وقت بھی ان کے سر میں سفید بال نہیں تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33920
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو نهيك صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٨٨١) و (٢٠٧٣٣)، وابن حبان (٧١٧٢)، والحاكم ٤/ ١٣٩، والطبراني ١٧/ (٤٧)، وابن قانع ٢/ ٢٠٦، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٣٨٤)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٢١١، وابن سعد ٧/ ٢٨، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ١٩٠، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٨١)، والدولابي في الكنى (١٩٦)، والخطيب في الموضح ٦/ ٢٦٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33920، ترقيم محمد عوامة 32417)
حدیث نمبر: 33921
٣٣٩٢١ - حدثنا معلى بن منصور عن يحيى بن حمزة عن (١) إسحاق بن أبي فروة عن يوسف بن سليمان عن (جدته) (٢) عن عمرو بن الحمق أنه سقى النبي ﷺ (٣) لبنًا فقال: "اللهم أمتعه بشبابه"، فلقد أتت عليه ثمانون سنة لا يرى شعرة بيضاء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر و بن الحمق فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دودھ پلایا، آپ نے فرمایا کہ اے اللہ ! اس کو اس جوانی سے فائدہ پہنچا ، چناچہ ان کی عمر اسّی سال ہوگئی اور ان کے سر میں ایک سفید بال بھی نہ تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33921
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا، إسحاق بن أبي فروة متروك، أخرج ابن عساكر ٤٥/ ٤٩٧، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٢٣١، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٢١٧)، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٤٧٥)، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٩/ ٤٠٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33921، ترقيم محمد عوامة 32418)
حدیث نمبر: 33922
٣٣٩٢٢ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن يحيى بن (جعدة) (١) عن رجل حدثه عن أم مالك الأنصارية، قال: جاءت أم مالك (الأنصارية) (٢) بعكة سمن إلى رسول اللَّه ﷺ، فأمر رسول اللَّه ﷺ بلالًا فعصرها، ثم (دفعها) (٣) ⦗٤٦٨⦘ (إليها) (٤)، فرجعت فإذا هي مملوءة، فأتت النبي ﷺ (٥) فقالت: أنزل في شيء يا رسول اللَّه؟ قال: "وما ذاك يا أم مالك"، قالت: رددت عليَّ هديتي، قال: فدعا بلالًا فسأله عن ذلك، فقال: والذي بعثك بالحق لقد عصرتها حتى استحييت، فقال رسول اللَّه ﷺ: "هنيئًا لك -يا أم مالك- هذه بركة عجل اللَّه (لك) (٦) ثوابها"، ثم علمها أن (تقول) (٧) في دبر كل صلاة: سبحان اللَّه عشرا والحمد للَّه عشرا واللَّه أكبر عشرا (٨).
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن جعدہ ایک آدمی کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام مالک انصاریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی کی ایک مشک لائیں، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو اس کے نچوڑنے کا حکم دیا اور پھر ان کو مشک واپس کردی، وہ لوٹیں تو دیکھا کہ وہ مشک بھری ہوئی ہے، چناچہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہا یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا اے ام مالک ! کیا ہوا ؟ کہنے لگیں کہ آپ نے میرا ہدیہ واپس کردیا، آپ نے حضرت بلال کو بلایا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں نے اس کو اتنا نچوڑا کہ مجھے شرم آنے لگی، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے امّ مالک ! تمہیں مبارک ہو یہ برکت ہے جس کا ثواب اللہ نے تمہیں جلد عطا کیا ہے، پھر آپ نے ان کو ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہنے کی تعلیم فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33922
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33922، ترقيم محمد عوامة 32419)
حدیث نمبر: 33923
٣٣٩٢٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) (الفائشي) (٢) عن (ابنة) (٣) لخباب (قالت) (٤): خرج أبي في (غزاة) (٥) في عهد رسول اللَّه ﷺ (٦) فكان رسول اللَّه ﷺ يتعاهدنا فيحلب عنزا لنا، فكان يحلبها ⦗٤٦٩⦘ في (جفنة) (٧) لنا فتمتلئ، فلما قدم خباب (كان يحلبها) (٨) فعاد حلابها (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
عبد الرحمن بن یزید فائشی حضرت خباب کی بیٹی سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک لڑائی میں نکلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری خبر گیری کرتے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہتے، اور آپ اس کو ایک بڑے پیالے میں دوہتے اور وہ بھر جاتا، جب خباب آئے اور وہ اس کا دودھ دوہتے تو اس کا دودھ کا پرانا برتن استعمال ہونے لگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33923
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33923، ترقيم محمد عوامة 32420)
حدیث نمبر: 33924
٣٣٩٢٤ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة قال: كان النبي ﷺ إذا قرأ: ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ﴾ [الأحزاب: ٧]، يقول: بدئ بي في (الخير) (١) وكنت آخرهم في البعث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب { وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّینَ مِیثَاقَہُمْ وَمِنْک وَمِنْ نُوحٍ } پڑھتے تو فرماتے کہ خیر کی ابتداء مجھ سے کی گئی اور بعثت میں میں ان سب سے آخری ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33924
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قتادة تابعي، أخرجه ابن سعد ١/ ١٤٩، وابن جرير في التفسير ٢١/ ١٢٥، وورد بإسناد معلول من حديث قتادة عن الحسن عن أبي هريرة، أخرجه أبو نعيم في الدلائل (٣)، والطبراني في مسند الشاميين (٢٦٦٢)، والبغوي في التفسير ٣/ ٥٠٨، والثعلبي ٨/ ١٠، وابن عدي ٣/ ٣٧٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33924، ترقيم محمد عوامة 32421)
حدیث نمبر: 33925
٣٣٩٢٥ - حدثنا محمد بن أبي عبيدة بن معن عن أبيه عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس بن مالك قال: خرج إلينا رسول اللَّه ﷺ ذات يوم وهو غضبان ونحن نرى أن معه جبريل، قال: فما رأيت يوما (كان) (١) أكثر باكيا متقنعا منه، (فقال) (٢): "سلوني، فواللَّه لا تسألوني عن شيء إلا أنبأتكم به"، قال: فقام إليه رجل فقال: يا رسول اللَّه أفي الجنة أنا أم في النار؟ قال: "لا، بل في النار"، قال: ⦗٤٧٠⦘ فقام إليه آخر فقال: يا رسول اللَّه من أبي؟ قال: "أبوك حذافة"، قال: فقام إليه آخر فقالا: (يا رسول اللَّه) (٣): أعلينا الحج في كل عام؟ قال: "لو قلتها لوجبت ولو وجبت ما قمتم بها، ولو لم تقوموا بها (لعذبتم) (٤) "، قال: فقام عمر بن الخطاب فقال: رضينا باللَّه ربا وبالإسلام دينا وبمحمد ﷺ (٥) رسولًا، يا رسول اللَّه كنا حديثي عهد بجاهلية، فلا تبد سوآتنا ولا تفضحنا لسرائرنا واعف عنا عفا اللَّه عنك، قال: فسري عنه ثم التفت نحو الحائط فقال: "لم أر كاليوم في الخير والشر رأيت الجنة والنار دون هذا الحائط" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں ہمارے پاس آئے، اور ہم سمجھتے تھے کہ آپ کے ساتھ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ رونے والا کوئی دن نہیں پایا، آپ نے فرمایا کہ مجھ سے سوال کرو، بخدا تم مجھ سے جس چیز کا بھی سوال کرو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا، کہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں جنت میں ہوں یا دوزخ میں ، آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ دوزخ میں ، دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرا والد کون ہے ؟ فرمایا کہ تمہارا والد حذافہ ہے، ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم پر ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر میں یہ کہہ دوں تو واجب ہوجائے گا۔ اگر واجب ہوا تو تم اس کو ادا نہیں کرسکو گے، اور اگر تم اس کو ادا نہ کرو گے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا۔ کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور عرض کیا ” رَضِینَا بِاللہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَسُولا “ یا رسول اللہ ! ہمارا جاہلیت کا زمانہ قریب ہے، آپ ہماری برائیاں ظاہر نہ فرمائیں، اور ہمیں ہمارے پوشیدہ کاموں کی وجہ سے رسوا نہ فرمائیے، اور ہمیں معاف فرمائیے ، اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا ہے، کہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ کی یہ حالت ختم ہوگئی، پھر آپ دیوار کی طرف متوجہ ہوئے ، اور فرمایا کہ میں نے آج کی طرح خیر و شر میں کوئی چیز نہیں دیکھی، میں نے جنت اور دوزخ کو اس دیوار کے پاس پایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33925
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، وأخرجه البخاري (٩٣)، ومسلم (٢٣٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33925، ترقيم محمد عوامة 32422)
حدیث نمبر: 33926
٣٣٩٢٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه قال: أبطأ جبريل على النبي ﷺ (١) فجزع جزعًا شديدًا، فقالت له خديجة: إني أرى ربك قد قلاك (مما نرى) (٢) من (جزعك) (٣) قال: فنزلت: ﴿وَالضُّحَى (١) وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى (٢) مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى﴾ (٤) [الضحى: ١ - ٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل نے نبی ﷺ کے پاس آنے میں تاخیر کی تو آپ بہت گھبرائے ، حضرت خدیجہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس نے آپ کی گھبراہٹ کو دیکھا ہے، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں { وَالضُّحَی وَاللَّیْلِ إذَا سَجَی مَا وَدَّعَک رَبُّک ، وَمَا قَلَی }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33926
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي، أخرجه ابن جرير ٣٠/ ٢٣٢، وابن بشكوال في غوامض الأسماء ١/ ٣٢٠، وورد من حديث عروة عن خديجة، أخرجه الحاكم ٢/ ٦٦٧ (٤٢١٤)، وابن إسحاق (١٦٧)، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٦٠، والدولابي في الذرية الطاهرة (٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33926، ترقيم محمد عوامة 32423)
حدیث نمبر: 33927
٣٣٩٢٧ - حدثنا عمرو بن طلحة عن أسباط بن نصر الهمداني عن سماك عن جابر بن سمرة قال: صليت مع رسول اللَّه ﷺ صلاة الأولى ثم خرج إلى أهله، ⦗٤٧١⦘ وخرجت معه، فاستقبله ولدان، فجعل يمسح (خد) (١) أحدهم واحدا واحدا، قال: وأما أنا فمسح خدي فوجدت ليده بردا وريحا كأنما أخرجها من جؤنة عطار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ الأولٰی پڑھی، پھر آپ اپنے گھر کی طرف چلے اور میں بھی چلا، چناچہ آپ کے پاس بچے آئے تو آپ ایک ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرنے لگے، کہتے ہیں آپ نے میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گو یا کہ ابھی عطر فروش کے تھیلے سے نکالا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33927
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (٢٣٢٩)، والطبراني (١٩٤٤)، والمزي ٢١/ ٥٩٤، والخطيب ٤/ ٢٠٤، وابن معين في التاريخ ٣/ ٩١، والذهبي في تاريخ الإسلام ١٦/ ٣٠٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33927، ترقيم محمد عوامة 32424)
حدیث نمبر: 33928
٣٣٩٢٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي بشر قال: سألت سعيد بن جبير عن الكوثر فقال: هو الخير الكثير الذي أعطاه اللَّه إياه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بشر فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے کوثر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا وہ خیر کثیر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33928
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33928، ترقيم محمد عوامة 32425)
حدیث نمبر: 33929
٣٣٩٢٩ - [حدثنا غندر عن شعبة عن عمارة عن عكرمة قال: هو النبوة والخير الذي أعطاه اللَّه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
عمارہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عکرمہ فرماتے یں کہ اس سے مراد نبوت اور خیر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33929
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33929، ترقيم محمد عوامة 32426)
حدیث نمبر: 33930
٣٣٩٣٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن (فليت) (١) العامري عن جسرة عن أبي ذر قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ وهو يصلي ذات ليلة وهو يردد آية [حتى أصبح (يركع بها ويسجد بها) (٢) ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ﴾ [المائدة: ١١٨]، قال: قلت: يا رسول اللَّه ما زلت تردد هذه الآية] (٣) حتى (أصبحت) (٤)، قال: "إني سألت ربي الشفاعة لأمتي، وهي نائلة (لمن) (٥) (لا) (٦) يشرك باللَّه شيئًا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات نماز میں بار بار رکوع اور سجدے میں یہ آیت دہراتے ہوئے سنا {إنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُک } میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صبح تک اس آیت کو دہراتے رہے ؟ فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے شفاعت کا سوال کیا ہے، اور وہ ہر اس آدمی کو حاصل ہونے والی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33930
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ جسرة صدوقة، أخرجه أحمد (٢١٣٢٨)، والنسائي ٢/ ١٧٧، وابن ماجه (١٣٥٠)، والحاكم ١/ ٢٤١، والبزار (٤٠٦١)، والخطيب في الموضح ١/ ٤٥٤، والبغوي (٩١٥)، والطحاوي ١/ ٣٤٧، والبيهقي ٣/ ١٤، والمزي ٢٣/ ٥٤٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33930، ترقيم محمد عوامة 32427)
حدیث نمبر: 33931
٣٣٩٣١ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن سعيد بن جبير قال: لما أنزل اللَّه (١): ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [المسد: ١]، جاءت إمرأة أبي لهب إلى النبي ﷺ (٢) ومعه أبو بكر فقال أبو بكر: يا نبي اللَّه، إنها (ستؤذيك) (٣) فقال: "إنه سيحال بيني وبينها"، قال: فلم تره، فقالت لأبي بكر: هجانا صاحبك، فقال: واللَّه ما ينطق (بالشعر) (٤) ولا يقوله، فقالت: إنك لمصدق، قال: فاندفعت راجعة، فقال أبو بكر: يا رسول اللَّه، ما رأتك؟ قال: فقال: "لم يزل ملك بيني وبينها يسترني، حتى ذهبت" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے { تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَہَبٍ } نازل فرمائی تو ابو لہب کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی جبکہ آپ کے ساتھ ابوبکر تھے ، حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! یہ آپ کو تکلیف دے گی، آپ نے فرمایا کہ میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا، چناچہ آپ اس کو نظر نہ آئے، اس نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ آپ کے ساتھی نے ہمیں غصے میں مبتلا کردیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ بخدا وہ نہ تو شعر بنا سکتے ہیں نہ شعر کہتے ہیں، اس نے کہا کہ آپ صحیح کہتے ہیں، اس کے بعد وہ چلی گئی، حضرت ا بو بکر نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا ؟ آپ نے فرمایا کہ ایک فرشتہ میرے اور اس کے درمیان رہا اور مجھے چھپاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ چلی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33931
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ سعيد بن جبير، ورواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، وقد ورد من حديث سعيد بن جبير عن ابن عباس، أخرجه ابن حبان (٦٥١١)، والضياء ١٠/ (٢٩٢)، وأبو يعلى (٢٥)، والبزار (١٥)، والحميدي كما في المطالب العالية (٣٧٨٩)، وابن بشكوال في الأسماء المبهمة ١/ ١٩٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33931، ترقيم محمد عوامة 32428)
حدیث نمبر: 33932
٣٣٩٣٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن أبي صالح) (١) عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما مثلي ومثل النبيين كمثل رجل بنى دارا فأتمها إلا لبنة واحدة فجئت أنا فأتممت تلك اللبنة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور انبیاء کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس نے گھر بنایا ہو اور اس کو مکمل کردیا ہو اور ایک اینٹ چھوڑ دی ہو ، میں آیا اور میں نے اس اینٹ کی جگہ کو پر کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33932
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢٨٦)، وأحمد (١١٠٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33932، ترقيم محمد عوامة 32429)
حدیث نمبر: 33933
٣٣٩٣٣ - حدثنا عفان قال: ثنا (سليم) (١) بن حيان قال: ثنا سعيد بن ميناء عن جابر بن عبد اللَّه عن النبي ﷺ قال: "مثلي ومثل الأنبياء كمثل رجل بنى دارًا فأتمها ⦗٤٧٣⦘ وأكملها إلا موضع لبنة، فجعل الناس يدخلونها ويتعجبون منها ويقولون لولا موضع اللبنة"، قال رسول اللَّه ﷺ (٢): "فأنا موضع اللبنة جئت فختمت الأنبياء" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری اور انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے گھر بنایا ہو اور اس کو مکمل کردیا ہو سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے، چناچہ لوگ اس میں داخل ہوں اور اس پر تعجب کریں اور کہیں کہ اگر یہ اینٹ کی جگہ خالی نہ ہوتی تو اچھا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اس اینٹ کی جگہ ہوں، میں آیا اور میں نے انبیاء کو ختم کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33933
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٣٤)، ومسلم (٢٢٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33933، ترقيم محمد عوامة 32430)
حدیث نمبر: 33934
٣٣٩٣٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (حصين) (١) عن حبيب بن أبي ثابت قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ (٢) فقال: يا رسول اللَّه، جئت من عند حي ما (يتروح) (٣) لهم راع، ولا يخطر لهم فحل، فادع اللَّه لنا، فقال: "اللهم اسق (بلادك وبهائمك) (٤) وانشر رحمتك"، قال: ثم دعا فقال: "اللهم اسقنا غيثًا مغيثًا مريئًا مريعًا طيبًا غدقًا عاجلًا غير رائث، نافعًا غير ضار"، قال": فما نزل حتى ما جاء أحد من وجه من الوجوه إلا قال: مطرنا وأحيينا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں ایسے قبیلے سے آیا ہوں جن کا چرواہا آرام نہیں پاتا اور ان کے نر جانور اپنی دم نہیں ہلاتے، آپ ہمارے لیے دعا کریں، آپ نے فرمایا اے اللہ ! اپنے شہروں اور جانوروں کو پانی سے سیراب کیجیے اور اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے، پھر آپ نے دعا کی ” اے اللہ ! ہمیں خوب برسنے والی ، سبزے والی، پاکیزگی والی اور موٹے قطروں والی جلدی آنے والی، نفع پہنچانے والی نہ کہ نقصان پہنچانے والی بارش عطا فرما۔ “ چناچہ اتنی بارش برسی کہ جس طرف سے بھی کوئی آدمی آتا وہ کہتا کہ ہمارے علاقے میں بارش ہوئی اور زمین زندہ ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33934
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حبيب تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٤٩٠٧)، وقد ورد من طريق حبيب عن ابن عباس أخرجه أبو داود (١٢٧٠)، والضياء (٥١٠)، وأبو عوانة (٢٥١٦)، والطبراني (١٢٦٧٧)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ٤٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33934، ترقيم محمد عوامة 32431)
حدیث نمبر: 33935
٣٣٩٣٥ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا سفيان عن أيوب بن موسى يرفعه إلى النبي ﷺ (١): "إني بعثت خاتما وفاتحا، (واختصر) (٢) لي الحديث اختصارا، فلا ⦗٤٧٤⦘ (يهلكنكم) (٣) (المشركون) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایوب بن موسیٰ نبی ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ مجھے ختم کرنے والا اور شروع کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، اور میرے لیے بات کو مختصر کردیا گیا ہے، اس لئے تمہیں مشرکین ہلاک نہ کردیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33935
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أيوب من تابعي التابعين، وورد نحوه من طريق أيوب عن أبي قلابة عن عمر أخرجه عبد الرزاق (١٠١٦٣) و (٢٠٠٦٢)، وأبو داود في المراسيل (٤٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33935، ترقيم محمد عوامة 32432)
حدیث نمبر: 33936
٣٣٩٣٦ - حدثنا معاوية بن هشام عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما بعثت لأتمم (صلاح) (١) الأخلاق" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33936
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ زيد بن أسلم تابعي، وورد بنحوه مرفوعًا من حديث أبي هريرة عند أحمد (٨٩٥٢)، والحاكم ٢/ ٦١٣، والبخاري في الأدب المفرد (٢٧٣)، كما ورد من حديث جابر عند الطبراني (٦٨٩١)، والبيهقي في الشعب (٧٩٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33936، ترقيم محمد عوامة 32433)
حدیث نمبر: 33937
٣٣٩٣٧ - حدثنا معاوية بن عمرو قال ثنا زائدة بن قدامة عن منصور عن مسلم (١) قال: قال أصحاب رسول اللَّه ﷺ أو من شاء اللَّه منهم: يا رسول اللَّه، ما (نولنا) (٢) أن نفارقك في الدنيا، فإنك لو مت رفعت فوقنا، فلم نرك فأنزل اللَّه: ﴿وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا﴾ (٣) [النساء: ٦٩].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے یا ان میں سے بعض نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارا آپ سے دنیا میں جدا ہونے کے بعد کیا ہوگا، کہ اگر آپ فوت ہوئے تو آپ بلند درجات پر پہنچ جائیں گے اور ہم آپ کو دیکھ نہ سکیں گے، چناچہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی { وَمَنْ یُطِعَ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33937
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أبو الضحى مسلم من تابعي التابعين، وأخرجه ابن أبي حاتم (٥٥٧٧)، وابن جرير ٥/ ١٦٣، والواحدي في أسباب النزول ص ١٩٦، من حديث مسلم عن مسروق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33937، ترقيم محمد عوامة 32434)
حدیث نمبر: 33938
٣٣٩٣٨ - حدثنا معاوية بن عمرو قال: ثنا زائدة، عن بيان، عن حكيم بن جابر قال لما أنزلت هذه الآية: ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ﴾ [البقرة: ٢٨٥]، ⦗٤٧٥⦘ قال جبريل للنبي ﷺ (١) إن اللَّه قد أحسن الثناء عليك وعلى أمتك سل تعطه، قال: فقرأ النبي ﷺ (٢) هذه الآية حتى ختمها: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ إلى آخر الآية (٣) [البقرة: ٢٨٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی { آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إلَیْہِ مِنْ رَّبِّہِ } تو جبرئیل نے نبی ﷺ سے فرمایا کہ بیشک اللہ نے آپ کی اور آپ کی امت کی بہترین تعریف فرمائی ہے، آپ مانگئے آپ کو عطا کیا جائے گا، چناچہ نبی ﷺ نے یہ آیت آخر تک پڑھی، { لاَ یُکَلِّفُ اللَّہُ نَفْسًا إلاَّ وُسْعَہَا } … الخ
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33938
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حكيم بن جابر ليس من الصحابة، أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (٣٠٧٠)، وابن جرير ٥/ ١٦٣، وسعيد بن منصور ٢/ (٤٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33938، ترقيم محمد عوامة 32435)
حدیث نمبر: 33939
٣٣٩٣٩ - حدثنا أبو أسامة (١) قال: ثنا سليمان (العلاف) (٢) عن (حسين) (٣) بن علي في قوله: ﴿وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ﴾ قال: هو محمد ﷺ (٤) شاهد من اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہاللہ کے فرمان { وَیَتْلُوہُ شَاہِدٌ مِّنْہُ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد محمد ﷺ ہیں جو اللہ کی طرف سے گواہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33939
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33939، ترقيم محمد عوامة 32436)
حدیث نمبر: 33940
٣٣٩٤٠ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: لما خرج النبي ﷺ وأبو بكر إلى المدينة تبعهما سراقة بن مالك، فلما رآهما قال: هذان فر قريش، لو رددت على قريش فرها، قال: فطف فرسه عليهما، قال: (فساخت) (١) الفرس، قال: فادع اللَّه أن يخرجها ولا أقربكما، قال: فخرجت (فعاد) (٢) حتى فعل ذلك مرتين أو ثلاثًا قال: ثم قال: هل لك (إلى) (٣) الزاد والحملان، قالا: "لا نريد، ولا حاجة لنا في ذلك أغن عنا نفسك"، قال: كفيتكما (٤)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر مدینہ کی طرف نکلے تو سراقہ بن مالک نے ان کا تعاقب کیا، جب اس نے ان دونوں کو دیکھا تو کہا کہ یہ قریش کے مفرور ہیں، میں قریش کو ان کے مفرورین پہنچاتا ہوں، چناچہ اس نے اپنے گھوڑے کو ان پر کو دوایا تو اس کے گھوڑے کے پاؤں دھنس گئے، وہ کہنے لگا کہ اللہ سے دعا کیجیے کہ ان کو نکال دے، میں آپ کے قریب نہیں آؤں گا، چناچہ وہ نکل گئے ، پھر اس نے ایسا ہی کیا، اور دو یا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، کہنے لگا ھلاک و برباد ہو، پھر کہنے لگا کیا آپ کو توشہ اور سواری کی ضرورت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم نہیں چاہتے ، اور ہمیں اس کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنے آپ سے کافی ہوجائیں، اس نے کہا کہ میں تمہیں کافی ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33940
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمير بن إسحاق ليس من الصحابة، وأخرجه ابن سعد ١/ ٢٣٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33940، ترقيم محمد عوامة 32437)
حدیث نمبر: 33941
٣٣٩٤١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: سأل موسى ربه مسألة: ﴿وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا﴾، حتى بلغ: ﴿مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ﴾ [الأعرف: ١٥٥، ١٥٧]، (فأعطيها) (١) محمد ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن جبیر روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ نے اپنے آپ سے سوال کیا { وَاخْتَارَ مُوسَی قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلاً … مَکْتُوبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیلِ } وہ سوال محمد ﷺ کے لیے قبول کرلیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33941
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط ورى ابن فضيل عنه بعد الاختلاط، أخرجه الحاكم ٢/ ٣٥٢ (٣٢٥٣)، وابن أبي حاتم في التفسير (٩٠٥٥)، والضياء (٣٢٢)، والبزار (٢٢١٣/ كشف)، وبنحوه ابن جرير ٩/ ٧٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33941، ترقيم محمد عوامة 32438)
حدیث نمبر: 33942
٣٣٩٤٢ - حدثنا عيسى بن يونس عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن مكحول قال: كان في ترس النبي ﷺ كبش مصور فشق ذلك عليه فأصبح وقد ذهب اللَّه به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی ڈھال میں ایک مینڈھے کی تصویر بنی ہوئی تھی، آپ پر وہ شاق ہوئی ، چناچہ صبح کو وہ ختم ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33942
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مكحول تابعي، أخرجه ابن سعد ١/ ٤٨٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33942، ترقيم محمد عوامة 32439)
حدیث نمبر: 33943
٣٣٩٤٣ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا سفيان عن عمار عن سالم بن أبي الجعد قال: ذكرت الأنبياء عند النبي ﷺ (١) فلما ذكر هو قال: "ذاك خليل اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی الجعد فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے انبیاء کا ذکر کیا گیا، جب آپ کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا یہ اللہ کا دوست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33943
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سالم بن أبي الجعد تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33943، ترقيم محمد عوامة 32440)
حدیث نمبر: 33944
٣٣٩٤٤ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا سفيان عن مختار بن فلفل عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أنا أكثر الأنبياء تبعا يوم القيامة، وأنا أول من يقرع باب الجنة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن سب سے زیادہ متبعین والا ہوں گا، اور میں ہی سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33944
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٦)، وابن حبان (٦٤٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33944، ترقيم محمد عوامة 32441)
حدیث نمبر: 33945
٣٣٩٤٥ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (١) إنما أنا رحمة مهداة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو ! میں تحفہ کی ہوئی رحمت ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33945
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو صالح تابعي، أخرجه الدارمي (١٥)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٤٠٤) ودلائل النبوة ١/ ١٥٧، وابن سعد ١/ ١٩٢، وورد من حديث أبي صالح عن أبي هريرة، أخرجه الحاكم ١/ ٣٥، والترمذي في العلل (٦٨٥)، والبزار (٢٣٦٩/ كشف)، والطبراني في الأوسط (٢٩٨١)، والصغير (٢٦٤)، وابن عدي ٤/ ٢٣٥، وابن عساكر ٥/ ٤٠١، والآجري في الشريعة (١٠٠٠)، وورد متصلًا في نسخة وكيع عن الأعمش (٢٩)، ولعل الصواب الإرسال كما في علل الدارقطني ١٠/ ١٠٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33945، ترقيم محمد عوامة 32442)
حدیث نمبر: 33946
٣٣٩٤٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن طفيل بن أبي عن أبيه قال: قال رجل: يا رسول اللَّه أرأيت إن جعلت صلاتي كلها صلاة عليك؟ قال: "إذا يكفيك اللَّه ما أهمك من أمر دنياك وآخرتك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی ّ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر میں اپنے تمام ذکر میں آپ پر درود بھیجتا رہوں تو کیسا ہے ؟ فرمایا کہ تب اللہ تمہاری دنیا وآخرت کے تمام اھم کاموں کے لئے کافی ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33946
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ابن عقيل، أخرجه أحمد (٢١٢٤٢)، والحاكم ٢/ ٥١٣، وابن أبي عاصم في الزهد (٢٦٣)، والترمذي (٢٤٥٧)، وعبد بن حميد (١٧٠)، ووكيع في الزهد (٤٤)، وإسماعيل القاضي (١٤)، وابن نصر في قيام الليل (٨٣)، والبيهقي في الشعب (١٠٥٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33946، ترقيم محمد عوامة 32443)
حدیث نمبر: 33947
٣٣٩٤٧ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن كعب عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "صلوا علي فإن صلاة علي زكاة لكم، (واسألوا) (١) اللَّه لي الوسيلة"، قالوا: وما الوسيلة يا رسول اللَّه؟ قال: "أعلى درجة في الجنة لا ينالها إلا رجل واحد أرجو أن أكون أنا هو" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر درود بھیجو کیونکہ مجھ پر درود بھیجنا تمہاری پاکیزگی ہے، اور میرے لیے اللہ سے وسیلے کا سوال کرو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وسیلہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ جنت میں اعلیٰ درجہ ہے جس کو ایک ہی آدمی پاسکتا ہے ، مجھے امید ہے کہ وہ آدمی میں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33947
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33947، ترقيم محمد عوامة 32444)
حدیث نمبر: 33948
٣٣٩٤٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن الشعبي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من صلى علي صلاة (واحدة) (١) صلى اللَّه عليه (عشر) (٢) صلوات (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33948
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ الشعبي تابعي، وعطا اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33948، ترقيم محمد عوامة 32445)
حدیث نمبر: 33949
٣٣٩٤٩ - [حدثنا محمد بن فضيل عن يونس بن عمرو عن (بريد) (١) بن أبي مريم عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من صلى علي صلاة واحدة صلى اللَّه عليه عشر صلوات وحط عنه عشر سيئات"] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجیں گے، اور اس کے دس گناہ معاف فرمائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33949
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يونس بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١١٩٩٨)، والنسائي ٣/ ٥٠، وابن حبان (٩٠٤)، والحاكم ١/ ٥٥٠، والبغوي (١٣٦٥)، والضياء في المختارة (١٥٦٦)، والبخاري في الأدب المفرد (٦٤٣)، والبيهقي في الشعب (١٥٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33949، ترقيم محمد عوامة 32446)
حدیث نمبر: 33950
٣٣٩٥٠ - حدثنا خالد بن مخلد قال: ثنا موسى بن يعقوب الزمعي قال: أخبرني عبد اللَّه بن كيسان قال: أخبرني عبد اللَّه بن شداد بن الهاد عن أبيه عن (ابن) (١) مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أولى الناس بي يوم القيامة (أكثرهم) (٢) علي صلاة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33950
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33950، ترقيم محمد عوامة 32447)
حدیث نمبر: 33951
٣٣٩٥١ - حدثنا يونس بن محمد عن حماد (بن سلمة) (١) عن ثابت عن سليمان مولى الحسن بن علي عن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ جاء ذات يوم والسرور في وجهه، فقالوا: يا رسول اللَّه إنا لنرى السرور في وجهك، فقال: "إنه أتاني الملك فقال: يا محمد، أما يرضيك أنه لا يصلي عليك من أمتك أحد إلا صليت عليه عشرًا، ولا (يسلم) (٢) عليك أحد من أمتك إلا سملت عليه عشرًا، قال: (٣) بلى" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے جبکہ آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ میرے پاس ایک فرشتہ آیا ، اور اس نے کہا اے محمد ! کیا آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے جو بھی ایک مرتبہ آپ پر درود بھیجے میں اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجوں، اور جو آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجوں، آپ نے فرمایا ، کیوں نہیں !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33951
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33951، ترقيم محمد عوامة 32448)
حدیث نمبر: 33952
٣٣٩٥٢ - حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عبيدة قال: حدثني قيس بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه عن جده (١) عبد الرحمن ابن عوف أن النبي ﷺ قال: "سجدت شكرا فيما أبلاني من أمتي، من صلى علي من أمتي صلاة كتبت له عشر حسنات (وحط) (٢) عنه عشر سيئات (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے شکر کا سجدہ کیا اس نعمت پر جو اللہ نے مجھے میری امت کی جانب سے عطا فرمائی، کہ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا، اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس گناہ معاف کیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33952
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33952، ترقيم محمد عوامة 32449)
حدیث نمبر: 33953
٣٣٩٥٣ - [حدثنا (هشيم عن) (١) العوام قال: حدثني رجل من بني أسد عن عبد اللَّه بن عمر أنه قال: من صلى على النبي ﷺ (٢) (كتبت) (٣) له عشر حسنات وحط عنه عشر سيئات (ورفع له عشر درجات) (٤)] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے نبی ﷺ پر درود بھیجا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس گناہ معاف کیے جائیں گے ، اور اس کے دس درجات بلند کیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33953
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33953، ترقيم محمد عوامة 32450)
حدیث نمبر: 33954
٣٣٩٥٤ - حدثنا (١) وكيع عن شعبة عن عاصم بن (عبيد اللَّه) (٢) عن عبد اللَّه بن عامر بن ربيعة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من صلى عليَّ لم تزل الملائكة تصلي عليه ما دام يصلي علي، فليقل العبد من ذلك أو يكثر" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مجھ پر درود بھیجا ملائکہ اس کے لئے اس وقت تک دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے، لہٰذا بندہ چاہے تو کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33954
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عصام بن عبيد اللَّه، أخرجه أحمد (١٥٦٨٠)، وابن ماجه (٩٠٧)، وابن المبارك في الزهد (١٠٢٦)، والطيالسي (١١٤٢)، وعبد بن حميد (٣١٧)، وأبو يعلى (٧١٩٦)، وابن عدي ٥/ ١٨٦٨، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٨٠، والبيهقي في الشعب (١٥٥٧)، والبغوي (٦٨٨)، وعبد الرزاق (٣١١٥)، والقاضي إسماعيل (٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33954، ترقيم محمد عوامة 32451)
حدیث نمبر: 33955
٣٣٩٥٥ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن يزيد الرقاشي قال: إن ملكًا موكل بمن صلى على النبي ﷺ أن يبلغ عنه إلى النبي ﷺ أن فلانًا من أمتك صلى عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حصین روایت کرے ہیں کہ یزید رقاشی نے فرمایا کہ ایک فرشتہ اس آدمی پر مقرر ہوتا ہے جو نبی ﷺ پر درود بھیجتا ہے، کہ اس کا درود نبی ﷺ تک پہنچائے کہ آپ کے فلاں امتی نے آپ پر درود بھیجا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33955
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33955، ترقيم محمد عوامة 32452)
حدیث نمبر: 33956
٣٣٩٥٦ - حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من ذكرت عنده فنسي الصلاة علي (خطئ) (١) طريق ⦗٤٨١⦘ الجنة يوم القيامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور وہ مجھ پر درود بھیجنا بھول گیا وہ قیامت کے دن جنت کے راستے سے بھٹک جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33956
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر محمد بن علي تابعي، أخرجه ابن أبي عاصم في الصلاة على النبي (٨٣)، والقاضي إسماعيل (٤١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33956، ترقيم محمد عوامة 32453)
حدیث نمبر: 33957
٣٣٩٥٧ - حدثنا وكيع عن (بدر) (١) بن عثمان قال: سمعت عكرمة قال: الكوثر ما أعطيه رسول اللَّه ﷺ من الخير والنبوة والإسلام.
مولانا محمد اویس سرور
بدر بن عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ کوثر و ہ بھلائی، نبوت اور اسلام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33957
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33957، ترقيم محمد عوامة 32454)
حدیث نمبر: 33958
٣٣٩٥٨ - حدثنا وكيع عن فطر عن عطاء قال: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [الكوثر: ١]، قال: حوض في الجنة أعطيه رسول اللَّه ﷺ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا، اللہ کے فرمان {إنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کوثر جنت میں ایک حوض ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33958
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33958، ترقيم محمد عوامة 32455)