کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
حدیث نمبر: 33879
٣٣٨٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن أنس قال: ما شممت ريحًا قط، مسكًا ولا عنبرًا أطيب من ريح رسول اللَّه ﷺ، ولا مسست خزًا ولا حريرًا ألين من كف رسول اللَّه ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مشک یا عنبر اور کوئی بھی خوشبو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ اچھی نہیں سونگھی، اور میں نے خالص عنبر یا خالص ریشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہیں پایا۔
حدیث نمبر: 33880
٣٣٨٨٠ - حدثنا ابن نمير عن الأجلح عن (ذيال) (١) بن حرملة عن جابر بن عبد اللَّه قال: أقبلنا مع رسول اللَّه ﷺ من سفر حتى إذا (دفعنا) (٢) إلى حائط من حيطان بني النجار إذا فيه جمل قطم -يعني هائجًا-، لا يدخل (أحد الحائط) (٣) إلا شد عليه، قال: فجاء النبي ﷺ حتى أتى الحائط فدعا البعير، فجاء واضعا مشفره (في الأرض) (٤) حتى برك بين يديه فقال النبي ﷺ: "هاتوا خطامًا"، فخطمه ودفعه إلى أصحابه، ثم التفت إلى الناس فقال: "إنه ليس شيء بين السماء والأرض ⦗٤٤٦⦘ إلا ويعلم أني رسول اللَّه غير عاصي الجن والإنس" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر سے واپس آئے، یہاں تک کہ جب بنو نجار کے باغ تک پہنچے تو اس میں ایک وحشی اونٹ تھا، جو بھی اس باغ میں داخل ہوتا اس پر حملہ کردیتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور اونٹ کو بلایا، وہ زمین میں اپنا جبڑا گھسیٹتا ہوا آیا اور اس نے آپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نکیل لاؤ، آپ نے اس کو نکیل ڈالی اور اس کے مالکوں کے حوالے کردیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ آسمان و زمین کے درمیان کوئی بھی ایسا نہیں جو یہ نہ جانتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، سوائے نافرمان انسانوں اور جنوں کے۔
حدیث نمبر: 33881
٣٣٨٨١ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ (١): "إني (أبرأ) (٢) إلى كل خليل من (خلته) (٣) غير أن اللَّه قد اتخذ صاحبكم خليلًا"، قال وكيع: من خله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ہر دوست کی دوستی سے بری ہوں، مگر اللہ نے تمہارے ساتھی کو دوست بنایا ہے، وکیع کی روایت میں ” من خلّٖہ “ ہے۔
حدیث نمبر: 33882
٣٣٨٨٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه (بن السائب) (١) عن زاذان عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن للَّه ملائكة سياحين في الأرض (يبلغونني) (٢) من أمتي السلام" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بعض فرشتے زمین میں چکر لگانے والے ہیں جو میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 33883
٣٣٨٨٣ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) عن إسرائيل عن منصور (عن إبراهيم) (٢) عن علقمة عن عبد اللَّه قال: بينما نحن مع رسول اللَّه ﷺ وليس معنا ماء، فقال رسول ⦗٤٤٧⦘ اللَّه ﷺ لنا: "اطلبوا من معه فضل ماء"، فأتي بماء فصبه في إناء، (ثم) (٣) وضع كفه فيه فجعل الماء يخرج من بين أصابعه، ثم قال: "حي على الطهور المبارك والبركة من اللَّه"، قال: فشربنا منه، قال عبد اللَّه: وكنا نسمع تسبيح الطعام ونحن نأكل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس پانی نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی کے پاس بچا کھچا پانی ہو لاؤ، آپ کے پاس پانی لایا گیا، آپ نے اس کو ایک برتن میں ڈالا پھر اپنا ہاتھ اس میں ڈالا، تو آپ کی انگلیوں سے پانی نکلنے لگا، پھر آپ نے فرمایا کہ مبارک پاک پانی اور اللہ کی طرف سے برکت پر آؤ، کہتے ہیں کہ ہم نے اس میں سے پیا، حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم کھاتے ہوئے کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 33884
٣٣٨٨٤ - حدثنا عبيدة بن حميد عن الأسو بن قيس عن نبيح بن عبد اللَّه (العنزي) (١) عن جابر بن عبد اللَّه قال: سافرنا مع رسول اللَّه ﷺ فحضرت الصلاة، فجاء رجل (بفضلة) (٢) في إداوة فصبه في قدح، قال: فتوضأ رسول اللَّه ﷺ (٣)، ثم إن القوم أتوا بقية الطهور وقالوا: تمسحوا تمسحوا، قال: فسمعهم رسول اللَّه ﷺ فقال: "على رسلكم"، قال: فضرب رسول اللَّه ﷺ يده في (القدح) (٤) في جوف الماء ثم قال: "اسبغوا الطهور"، قال: فقال جابر بن عبد اللَّه: والذي أذهب بصره (٥)، لقد رأيت الماء يخرج من بين أصابع رسول اللَّه ﷺ، فما (رفع) (٦) يده حتى توضؤوا أجمعون، (قال) (٧) الأسود: (أحسبه) (٨) قال: كنا مائتين أو زيادة (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو نماز کا وقت ہوگیا، ایک آدمی ایک برتن میں بچا ہوا پانی لایا، اس نے اس کو ایک پیالے میں ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا پھر لوگ اپنا وضو کا بچا ہوا پانی لانے لگے اور کہنے لگے کہ مسح کرلو مسح کرلو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سن لیا، فرمایا کہ ٹھہر جاؤ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پانی میں رکھا اور فرمایا کہ کامل وضو کرو، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس نے میری بصارت لے لی، میں نے پانی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے نکلتے ہوئے دیکھا، آپ نے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا یہاں تک کہ سب نے وضو کرلیا، اسود راوی فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ ہم دو سو یا اس سے زیادہ تھے۔
حدیث نمبر: 33885
٣٣٨٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد الطويل عن أنس بن مالك قال: حضرت الصلاة فقام من كان قريبا من المسجد فتوضأ، وبقي ناس فأتي رسول اللَّه ﷺ بمخضب من حجارة فيه ماء، فوضع كفه في المخضب فصغر المخضب (١) أن يبسط كفه فيه، فضم أصابعه فتوضأ القوم جميعًا، قلنا: كم كانوا؟ قال: ثمانين (رجلًا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کا وقت ہوا اور جو لوگ مسجد کے قریب تھے کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور کچھ لوگ باقی رہ گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک برتن لایا گیا جس میں پانی تھا ، آپ نے اپنا ہاتھ ا س میں رکھ دیا وہ اتنا چھوٹا تھا کہ آپ ہاتھ کو پھیلا نہ سکے، آپ نے انگلیاں ملا لیں اور سب لوگوں نے وضو کرلیا، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا کہ وہ کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے کہا کہ اسّی آدمی۔
حدیث نمبر: 33886
٣٣٨٨٦ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن البراء قال: نزلنا يوم الحديبية فوجدنا (ماءها) (١) قد شربه أوائل الناس فجلس النبي ﷺ على البئر ثم دعا بدلو منها فأخذ منه (بغية) (٢) ثم مجه فيها ودعا اللَّه، فكثر ماؤها حتى تروى الناس منها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ کے دن پڑاؤ کیا تو ہم نے دیکھا کہ اس کا پانی پہلے آنے والے لوگوں نے پی لیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنویں پر بیٹھ گئے اور ایک ڈول منگایا، اور اس میں سے اپنے منہ مبارک میں پانی لیا اور اس میں ڈال دیا اور اللہ سے دعا کی ، چناچہ اس کا پانی زیادہ ہوگیا، یہاں تک کہ لوگ اس سے سیراب ہوگئے۔
حدیث نمبر: 33887
٣٣٨٨٧ - حدثنا مروان عن عوف عن أبي رجاء قال: ثنا عمران بن الحصين قال: كنا مع رسول اللَّه ﷺ في سفر فشكا الناس إليه العطش، فدعا فلانًا ودعا عليًا، (فقال) (١): "اذهبا (فابغياني) (٢) الماء"، فانطلقا فتلقيا امرأة معها مزادتان أو سطحيتان، قال: فجاءا بها إلى النبي ﷺ (٣) فدعا النبي ﷺ (٤) بإناء فأفرغ فيه من ⦗٤٤٩⦘ أفواه المزادتين أو السطحيتين ثم أوكأ أفواههما، وأطلق العَزَالى، ونودي في الناس: أن اسقوا واستقوا، قال: فسقى من سقى (واستقى من استقى) (٥)، قال: وهي قائمة تنظر إلى ما يصنع بمائها، قال: فواللَّه لقد أقلع عنها حين أقلع وإنه ليخيل إلينا أنها أشد (ملاءا) (٦) منها (حيث) (٧) ابتدأ فيها فقال رسول اللَّه ﷺ: "واللَّه ما رزأناك من ماءك شيئًا، ولكن اللَّه سقانا" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ لوگوں کو پیاس کی شکایت ہوئی ، آپ نے فلاں کو اور علی رضی اللہ عنہ کو بلایا ، اور فرمایا کہ جاؤ اور ہمارے لئے پانی تلاش کرو، چناچہ وہ چلے اور انہیں ایک عورت ملی جس کے پاس دو مٹکے یا مشکیزے تھے، وہ اس عورت کو نبی ﷺ کے پاس لائے ، نبی ﷺ نے ایک برتن منگایا اور اس میں مشکیزوں یا مٹکوں کے منہ سے پانی ڈالا پھر ان کے منہ بند کردیے اور رسّی چھوڑی، اور لوگوں میں اعلان کردیا گیا کہ پانی لے لو اور بھر لو، چناچہ جس نے پینا تھا پی لیا اور جس نے بھرنا تھا بھر لیا، اور وہ کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی کا کیا کیا جار ہا ہے، کہتے ہیں واللہ ! اس کو اس طرح چھوڑا گیا کہ ہمیں گمان ہو رہا تھا کہ وہ پہلے سے زیادہ بھرا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ ! ہم نے تمہارے پانی سے کچھ کم نہیں کیا بلکہ ہمیں اللہ نے پلایا ہے۔
حدیث نمبر: 33888
٣٣٨٨٨ - حدثنا محمد بن بشر (قال: ثنا مسعر) (١) قال: ثنا عمرو بن مرة (قال: حدثنا) (٢) عبد اللَّه بن سلمة قال: قال عبد اللَّه: كل شيء أوتي (نبيكم) (٣) إلا مفاتيح الخمس ﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا (وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ) (٤)﴾ الآية (كلها) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی کو ہر چیز دی گئی سوائے پانچ چیزوں کی کنجیوں کے، { اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ}۔ ترجمہ : بیشک قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے۔ یہی بارش برساتا ہے۔ وہی جانی ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے۔ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 33889
٣٣٨٨٩ - حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن النبي ﷺ قال: "أنا سيد ولدم دم، وأنا أول من تنشق عنه الأرض، (وأنا) (١) أول شافع وأول مشفع" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور مجھ سے زمین سب سے پہلے ہٹے گی، اور میں پہلا سفارش کرنے والا ہوں اور پہلا شخص ہوں جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 33890
٣٣٨٩٠ - حدثنا (علي) (١) بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن منبري هذا لعلى ترعة من ترع الجنة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ منبر امید ہے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگا۔
حدیث نمبر: 33891
٣٣٨٩١ - حدثنا أبو أسامة قال: سمعت هشامًا قال: ثنا الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أنا سابق العرب" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں عرب میں سب سے سبقت کرنے والا ہوں۔
حدیث نمبر: 33892
٣٣٨٩٢ - حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن أبي عمار عن واثلة بن الأسقع قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه اصطفى من ولد إبراهيم ⦗٤٥١⦘ (إسماعيل) (١)، واصطفى من بني إسماعيل بني كنانة، واصطفى من بني كنانة قريشًا، واصطفى من قريش بني هاشم، واصطفاني من بني هاشم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت واثلہ بن اسقع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے اسماعیل علیہ السلام کو اور قریش سے بنی ہاشم کو اور مجھے بنو ہاشم سے چن لیا ہے۔
حدیث نمبر: 33893
٣٣٨٩٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس قال: جاء جبريل إلى النبي ﷺ وهو جالس حزين قد ضربه بعض أهل مكة، قال: فقال: مالك؟ قال: "فعل بي هولاء وهولاء"، قال: أتحب أن أريك آية، قال: "نعم"، فنظر إلى شجرة من وراء الوادي فقال: ادع تلك الشجرة، فدعاها فجاءت تمشي حتى قامت بين يديه ثم قال لها: "ارجعي"، فرجعت حتى عادت إلى مكانها فقال النبي ﷺ (١): "حسبي، حسبي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابو سفیان روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرئیل نبی ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ غمگین بیٹھے تھے، آپ کو بعض اہل مکہ نے مارا تھا، انہوں نے کہا آپ کو کیا ہوا ؟ آپ نے فرمایا کہ ان ان لوگوں نے میرے ساتھ برا سلوک کیا ہے، انہوں نے عرض کیا کیا آپ یہ بات پسند کرتے ہیں کہ میں آپ کو نشانی دکھاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں۔ پس انہوں نے وادی کے پیچھے دیکھا اور کہا کہ اس درخت کو بلائیں، آپ نے اس کو بلایا تو وہ چلتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا، پھر کہا کہ واپس چلے جاؤ تو وہ واپس چلا گیا اور اپنی جگہ لوٹ گیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 33894
٣٣٨٩٤ - حدثنا قراد (أبو) (١) نوح قال: ثنا يونس بن أبي إسحاق عن أبي (بكر) (٢) (بن) (٣) أبي موسى عن أبيه قال: خرج أبو طالب إلى الشام وخرج معه رسول اللَّه ﷺ وأشياخ من قريش، فلما أشرفوا على الراهب هبطوا فحلوا رحالهم، فخرج إليهم الراهب، وكانوا قبل ذلك يمرون (٤) فلا يخرج إليهم ولا يلتفت ⦗٤٥٢⦘ (إليهم) (٥)، (فهم) (٦) يحلون رحالهم فجعل يتخللهم حتى جاء فأخذ بيد رسول اللَّه ﷺ فقال: هذا سيد العالمين، هذا رسول رب العالمين، هذا (يبعثه) (٧) اللَّه رحمة للعالمين، فقال (له) (٨) أشياخ من قريش: ما علمك؟ فقال: إنكم حين أشرفتم من العقبة لم يبق شجر ولا حجر إلا خر ساجدا ولا (يسجدون) (٩) إلا لنبي (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
ابوبکر بن ابی موسیٰ راوی ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ابو طالب شام کی طرف نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے اور قریش کے کچھ بزرگ بھی، جب وہ راہب کے قریب پہنچے، تو اپنے کجاوے کھولے ، راہب ان کے پاس گیا اور اس سے پہلے وہ اس کے پاس سے گزرتے تو نہ وہ نکل کر ان کے پاس آتا نہ ان کی طرف متوجہ ہوتا، چناچہ وہ اپنے کجاوے کھول رہے تھے اور وہ ان کے درمیان سے ہوتا ہوا آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا کہ یہ جہانوں کا سردار ہے، یہ رب العالمین کا رسول ہے، اس کو اللہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجیں گے، قریش کے بزرگوں نے اس سے کہا کہ آپ کو کیسے علم ہے ؟ اس نے کہا کہ تم گھاٹی سے جب چڑھے ہو تو کوئی پتھر اور درخت ایسا نہیں تھا جو سجدے میں نہ گرگیا ہو، اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی کو سجدہ نہیں کرتیں۔
حدیث نمبر: 33895
٣٣٨٩٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عمار عن أبي سلمة (عن أم سلمة) (١) عن النبي ﷺ قال: "إن قوائم منبري (رواتب) (٢) في الجنة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 33896
٣٣٨٩٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا عبد الرحمن بن إسحاق عن أبي بردة عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أوتيت جوامع الكلم وفواتحه ⦗٤٥٣⦘ (و) (١) خواتمه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جامع کلمات اور ابتداء کرنے والے اور انتہاء کرنے والے کلمات عطا کیے گئے۔
حدیث نمبر: 33897
٣٣٨٩٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (شمر) (١) قال صلى رسول اللَّه ﷺ ذات يوم فجاءت الذئاب فعوت خلفه، فلما انصرف رسول اللَّه ﷺ قال: هذه الذئاب أتت (تخبركم) (٢) أن تقسموا لها من أموالكم ما يصلحها أو تخلوها فتغير عليكم قالوا: دعها (فلتغر) (٣) علينا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
شمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھی تو بھیڑیے آپ کے پیچھے آ کر بھونکنے لگے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا کہ یہ بھیڑیے تمہارے پاس یہ بتانے آئیں ہیں کہ تم اپنے مالوں میں سے ان کے لئے کچھ تیار کر کے دے دیا کرو، ورنہ تم اس بات کے لئے تیار رہو کہ یہ تم پر حملہ آور ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 33898
٣٣٨٩٨ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن أنس قال: سئل: هل كان رسول اللَّه ﷺ يرفع يديه؟ قال: نعم، شكا الناس (١) ذات جمعة فقالوا: يا رسول اللَّه قحط المطر، وأجدبت الأرض، وهلك المال، قال: فرفع يديه حتى رأيت (٢) إبطيه، وما في السماء قزعة سحاب، فما صلينا حتى أن الشاب القوي القريب المنزل ليهمه الرجوع إلى منزله، (قال) (٣): فدامت (٤) جمعة، قال: فقالوا: يا رسول اللَّه، ⦗٤٥٤⦘ تهدمت الدور واحتبست الركبان، قال: فتبسم رسول اللَّه ﷺ (٥) من سرعة ملالة ابن آدم فقال: "اللهم حوالينا (٦) لا علينا"، قال: فأصحت السماء (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس سے سوال پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! ایک جمعہ لوگوں نے شکایت کی اور کہا یا رسول اللہ ! بارش کا قحط ہوگیا ہے اور زمین خشک ہوگئی اور مال ہلاک ہوگیا ہے، آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغل دیکھے، اور اس وقت آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نہیں تھا، ہم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی تھی کہ جوان مضبوط جسم کے آدمی کو بھی گھر پہنچنے کی فکر لگی ہوئی تھی، کہتے ہیں کہ ایک جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، پھر لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! گھر گرگئے اور سوار محبوس ہوگئے، راوی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم کے اتنی جلدی اکتا جانے پر مسکرائے، اور فرمایا اے اللہ ! ہمارے ارد گرد برسائیے اور ہم پر نہ برسائیے، کہتے ہیں کہ اس پر آسمان صاف ہوگیا۔
حدیث نمبر: 33899
٣٣٨٩٩ - حدثنا أبو معاوية (١) عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن (مغيث) (٢) ابن سمي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أنزلت علي توراة محدثة، فيها نور الحكمة وينابيع العلم، لتفتح بها أعينا عميًا، وقلوبا غلفًا وآذانا صمًا، وهي أحدث الكتب بالرحمن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
مغیث بن سمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر نئی توراۃ نازل ہوئی ہے جس میں حکمت کا نور اور علم کے سرچشمے ہیں، تاکہ اس سے اللہ اندھی آنکھوں اور بند دلوں اور بہرے کانوں کو کھول دیں، اور وہ رحمن کی سب سے آخری کتاب ہے۔
حدیث نمبر: 33900
٣٣٩٠٠ - حدثنا أبو معاوية قال: ثنا إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي فروة عن سعيد ابن أبي سعيد عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "سألت الشفاعة لأمتي فقال: لك سبعون ألفًا يدخلون الجنة بغير حساب، قلت: زدني، قال: لك مع كل ألف سبعون ألفًا، قلت: زدني، قال: فإن لك هكذا وهكذا (وهكذا) (١) "، فقال أبو بكر: حسبنا، فقال عمر: يا أبا بكر، دع رسول اللَّه ﷺ، فقال أبو بكر: يا عمر، إنما نحن حفنة من حفنات اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنی امت کے لئے شفاعت کا سوال کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تمہارے لیے ستر ہزار ہیں، جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے، میں نے کہا اے میرے رب ! اور اضافہ فرمائیے ! فرمایا کہ تمہارے لئے ہر ستر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں ، میں نے کہا اور اضافہ فرمائیے ، فرمایا کہ تمہارے لیے اتنے اور اتنے اور اتنے ہیں، ابوبکر نے عرض کیا کہ ہمیں کافی ہے، حضرت عمر نے فرمایا کہ اے ابوبکر ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیجئے، حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اے عمر ! ہم تو اللہ کی ایک ہی لپ ہیں۔
حدیث نمبر: 33901
٣٣٩٠١ - حدثنا أحمد بن (عبد اللَّه) (١) قال: ثنا زهير قال: ثنا أبو خالد يزيد الأسدي قال: حدثني عون بن أبي جحيفة السوائي عن عبد الرحمن بن علقمة (عن) (٢) عبد الرحمن بن أبي عقيل (قال) (٣): انطلقنا في وفد فأتينا رسول اللَّه ﷺ فقال قائل منا: يا رسول اللَّه، ألا سألت ربك ملكا كملك سليمان؟ فضحك، وقال: "لعل لصاحبكم عند اللَّه أفضل من ملك سليمان، إن اللَّه لم يبعث نبيا إلا أعطاه دعوة، فمنهم من اتخذ بها (دنيا) (٤)، (فأعطيها) (٥) ومنهم من دعا (بها) (٦) على قومه (إذ) (٧) عصوه فأهلكوا، وإن اللَّه أعطاني دعوة فاختبأتها عند ربي شفاعة لأمتي يوم القيامة" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
عبد الرحمن بن ابی عقیل فرماتے ہیں کہ ہم ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اپنے رب سے سلیمان علیہ السلام کی سلطنت جیسی سلطنت کا سوال نہیں کیا ؟ آپ ہنسے اور فرمایا شاید تمہارا ساتھی اللہ کے ہاں سلیمان علیہ السلام کی سلطنت سے افضل ہو، بیشک اللہ نے جس نبی کو مبعوث فرمایا اس کو ایک دعا عطا فرمائی، بعض نے دنیا کو اختیار کیا تو اللہ نے ان کو عطا فرما دی، اور بعض نے اپنی قوم کی نافرنی کے وقت اس کو اپنی قوم کی بد دعا میں استعمال کیا، چناچہ وہ ہلاک کردیے گئے، اور اللہ نے مجھے دعا عطا فرمائی تو میں نے اس کو اپنے رب کے ہاں اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کرلیا۔
حدیث نمبر: 33902
٣٣٩٠٢ - حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن هلال ابن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار عن رفاعة الجهني قال: حدرنا مع رسول اللَّه ﷺ فقال: "لقد وعدني ربي أن (يدخل الجنة من أمتي) (١) ⦗٤٥٦⦘ سبعين ألفًا بغير حساب ولا عذاب" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رفاعہ جہنی سے روایت ہے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹے تو آپ نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل فرمائیں گے۔
حدیث نمبر: 33903
٣٣٩٠٣ - حدثنا هشيم قال: أخبرني عبد الملك قال: سمعت أبا جعفر يحدث قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أعطيت الشفاعة، وهي نائلة من لم يشرك باللَّه شيئا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے، اور وہ میری امت میں سے ہر اس شخص کو پہنچنے والی ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو۔
حدیث نمبر: 33904
٣٣٩٠٤ - حدثنا محمد بن بشر قال ثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: ثنا عبد اللَّه بن عيسى عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: أخبرني أُبيُ بن كعب أن النبي ﷺ قال له: "يا أُبيُ إن ربي أرسل إلي أن أقرأ القرآن على حرف، (فرددت) (١) إليه أن هوّن على أمتي، فرد الي أن اقرأ القرآن على سبعة أحرف، ولك بكل ردة رددتكها مسألة تسألنيها، قال: قلت: اللهم اغفر لأمتي، اللهم اغفر لأمتي، وأخرت الثالثة إلى يوم يرغب الي فيه الخلق حتى إبراهيم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی ّ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابی ّ ! میرے رب نے مجھ پر وحی فرمائی کہ قرآن کو ایک حرف پر پڑھو، میں نے عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرمائیے، اللہ نے فرمایا کہ قرآن کو سات حروف پر پڑھو اور ہر مرتبہ کے بدلے تمہارے لیے ایک دعا ہے جس کا آپ مجھ سے سوال کریں، آپ نے فرمایا اے اللہ ! میری امت کی مغفرت فرما، اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما، اور میں نے تیسری دعا اس دن کے لئے مؤخر کردی ہے جس میں مخلوق میری طرف رغبت کرے گی یہاں تک کہ ابراہیم علیہ السلام بھی۔
حدیث نمبر: 33905
٣٣٩٠٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن صلة عن حذيفة قال: يجمع الناس في صعيد واحد، ينفذهم البصر ويسمعهم الداعي، فينادي (منادٍ) (١): يا محمد على رؤوس الأولين والآخرين، فيقول ﷺ: "لبيك وسعديك (و) (٢) الخير في ⦗٤٥٧⦘ يديك، المهدي من (هديت) (٣)، تباركت وتعاليت، ومنك وإليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، سبحانك رب البيت، تباركت ربنا وتعاليت"، قال حذيفة: فذلك المقام المحمود (٤).
مولانا محمد اویس سرور
صلہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جائے گا، ان کی نظر تیز ہوگی، اور ان کو پکارنے والے کی پکار سنائی دے گی، چناچہ ایک پکارنے والا پکارے گا اولین و آخرین کے سامنے، کہ اے محمد ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے لبیک وسعدیک ، تمام بھلائیاں آپ کے ہاتھ میں ہیں، ہدایت یافتہ وہ ہے جس کو آپ ہدایت عطا فرمائیں، آپ برکت اور بلندی والے ہیں، اور آپ ہی کی طرف سے ملتا ہے اور آپ ہی کی طرف پہنچتا ہے، آپ سے پناہ اور نجات کی جگہ نہیں مگر آپ کی طرف، آپ پاک ہیں، بیت اللہ کے مالک ہیں، اے ہمارے رب آپ بابرکت اور بلند ہیں، حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہی مقام محمود ہے۔
حدیث نمبر: 33906
٣٣٩٠٦ - حدثنا وكيع عن داود (الأودي) (١) عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي ﷺ في قوله (٢): ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء: ٧٩]، قال: الشفاعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اللہ کے فرمان { عَسَی أَنْ یَبْعَثَک رَبُّک مَقَامًا مَحْمُودًا } کی تفسیر نقل کرتے ہیں کہ اس سے مراد شفاعت ہے۔
حدیث نمبر: 33907
٣٣٩٠٧ - حدثنا الحسن بن موسى قال: ثنا حماد بن سلمة عن فرقد السبخي عن سعيد بن جبير عن ابن عباس [أن امرأة جاءت بابن لها إلى النبي ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه إن ابني هذا به جنون يأخذه عند غدائنا وعشائنا فيخبث، قال: فمسح رسول اللَّه ﷺ صدره ودعا، فثعَّ ثعة خرج من جوفه مثل الجرو الأسود (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت اپنے بیٹے کو نبی ﷺ کے پاس لائی، اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے اس بیٹے کو جنون ہے، اور اس کو دو پہر اور شام کے وقت پر طاری ہوتا ہے، اور یہ بری حرکات کرتا ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی ، اس نے قے کی تو اس کے پیٹ سے سیاہ بڑے چوہے کی شکل کا ایک جاندار نکلا۔
حدیث نمبر: 33908
٣٣٩٠٨ - حدثنا يونس بن محمد وعفان قالا: حدثنا حماد بن سلمة عن عمار ابن أبي عمار حمن ابن عباس] (١) أن رسول اللَّه ﷺ كان يخطب إلى جذع، فلما اتخذ المنبر تحول إليه فحن الجذع حتي أخذه فاحتضنه فسكن، فقال: "لو (لم) (٢) (أحتصنه) (٣) لَحنّ إلى يوم القيامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک شہتیر سے ٹیک لگا کو خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ نے منبر بنوا لیا تو اس کی طرف منتقل ہوگئے، چناچہ وہ شہتیر رونے لگا یہاں تک کہ آپ نے اس کو پکڑ کر گلے لگا لیا تو اس کو سکون ہوگیا، تو آپ نے فرمایا کہ اگر میں اس کو گلے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔
حدیث نمبر: 33909
٣٣٩٠٩ - حدثنا ابن عيينة عن أبي حازم قال: أتوا سهل بن سعد (فقالوا) (١): من أي (شيء) (٢) منبر رسول اللَّه ﷺ؟ قال: ما بقي أحد من الناس أعلم به مني، قال: هو من أثل الغابة، وعمله فلان مولى فلانة لرسول اللَّه ﷺ، وكان رسول اللَّه ﷺ يستند إلى جذع في المسجد يصلي إليه إذا خطب، فلما اتخذ المنبر فقعد عليه حَنَّ الجذع، قال: فأتاه رسول اللَّه ﷺ فوطده، -وليس في حديث أبي حازم (فوطده) (٣) - حتى سكن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابو حازم فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت سہل بن سعد کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس چیز کا تھا ؟ فرمانے لگے کہ مجھ سے زیادہ اس کو جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا، فرمایا کہ وہ جنگل کے جھاؤ کے درخت کا تھا، اور اس کو فلاں عورت کے آزاد کردہ غلام فلاں شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک شہتیر سے ٹیک لگاتے اور جب خطبہ دیتے تو اس کے بعد اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے، جب منبر تیار ہوا اور آپ اس پر بیٹھ گئے تو وہ شہتیر رونے لگا، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کو زمین میں ٹھہرایا یہاں تک کہ اس کو سکون ہوگیا، اور ابو حازم کی روایت میں ” فوطدہ “ کے الفاظ نہیں ہیں۔ “
حدیث نمبر: 33910
٣٣٩١٠ - حدثنا وكيع عن عبد الواحد عن أبيه عن جابر قال: كان رسول اللَّه ﷺ يخطب إلى جذع نخلة، فقالت له امرأة من الأنصار: يا رسول اللَّه، إن لي غلامًا نجارًا، أفلا آمره يصنع لك منبرًا؟ قال: "بلى"، فاتخذ منبرًا فلما كان يوم الجمعة ⦗٤٥٩⦘ خطب على المنبر، قال: فأنَّ الجذع الذي كان يقوم عليه (كما يئن) (١) الصبي، فقال النبي ﷺ (٢): "إن هذا بكى لما فقد من الذكر" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، چناچہ ایک انصاری عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا ایک بڑھئی غلام ہے کیا میں اس کو حکم نہ دوں کہ آپ کے لئے منبر بنائے ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، چناچہ اس نے منبر بنایا ، جب جمعے کا دن ہوا تو آپ نے منبر پر خطبہ دیا، چناچہ وہ شہتیر رونے لگا جس سے آپ ٹیک لگاتے تھے جیسے بچہ روتا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس کو اس لئے رونا آگیا کہ اس کے پاس سے ذکر ختم ہوگیا۔
حدیث نمبر: 33911
٣٣٩١١ - حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن أبي الوداك عن أبي سعيد قال: كان رسول اللَّه ﷺ يخطب إلى جذع، فأتاه رجل رومي فقال: أصنع لك منبرا تخطب عليه، فصنع له منبره هذا الذي ترون، فلما قام عليه (فخطب) (١) حَنَّ الجذع حنين الناقة على ولدها، فنزل إليه رسول اللَّه ﷺ فضمه إليه فسكت، فأمر به أن (يدفن ويحفر له) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شہتیر سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، چناچہ ایک رومی شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا کیا میں آپ کے لیے ایک منبر بناؤں جس پر کھڑے ہو کر آپ خطبہ دیں ؟ چناچہ اس نے آپ کے لئے یہ منبر بنایا جو آپ دیکھ رہے ہو، جب آپ اس پر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا تو وہ اس طرح رونے لگا جس طرح اونٹنی اپنے بچے پر روتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اس کے پاس آئے اور اس کو اپنے سینے سے لگایا تو وہ خاموش ہوگیا، پھر آپ نے اس کو ایک جگہ کھود کر دفن کرنے کا حکم فرمایا۔
حدیث نمبر: 33912
٣٣٩١٢ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس عن النبي ﷺ (١) مثل حديث ابن عباس الماضي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس نبی ﷺ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی گذشتہ روایت کی طرح روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 33913
٣٣٩١٣ - حدثنا سويد بن عمرو الكلبي ومالك (بن) (١) إسماعيل عن أبي عوانة عن قتادة عن أبي المليح عن عوف بن مالك الأشجعي قال: عرس بنا رسول اللَّه ﷺ ذات ليلة، فافترش كل واحد منا ذراع راحلته، فانتبهت بعض الليل فإذا ناقة ⦗٤٦٠⦘ رسول اللَّه ﷺ (٢) ليس قدامها أحد، فانطلقت أطلب رسول اللَّه ﷺ فإذا معاذ بن جبل وعبد اللَّه بن قيس قائمان، قال: قلت: أين رسول اللَّه ﷺ؟ قالا: لا ندري غير أنا سمعنا صوتًا في أعلى الوادي (فإذا) (٣) مثل هزيز الرحى، فلم نلبث (إلا) (٤) يسيرا حتى أتى رسول اللَّه ﷺ فقال: "إنه أتاني الليلة آت من ربي فخيرني (بين) (٥) أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة، وأني اخترت الشفاعة"، قال: (فقلنا) (٦): يا رسول اللَّه ننشدك اللَّه والصحبة لما جعلتنا من أهل شفاعتك، قال: "فأنتم من أهل شفاعتي"، قال: فأقبلنا معانيق إلى الناس، قال: فإذا هم قد فزعوا وفقدوا نبيهم ﷺ فقال: "إنه أتاني الليلة آت من ربي فخيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة، وإني اخترت الشفاعة"، فقالوا: يا رسول اللَّه ننشدك اللَّه والصحبة لما جعلتنا من أهل شفاعتك، فلما (أضبوا) (٧) عليه قال: "فإني أشهد من حضر أن شفاعتي لمن مات (من أمتي) (٨) لا يشرك باللَّه شيئًا" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف بن مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ٹھہرے ، چناچہ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی سواری کے اگلے پاؤں پر سرہانہ لگا لیا، میں رات کے کسی حصّے میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سامنے کوئی نہیں، چناچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلا تو معاذ بن جبل اور عبد اللہ بن قیس کھڑے تھے، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں ؟ کہنے لگے کہ ہمیں اس کے علاوہ کوئی علم نہیں کہ ہم نے وادی کے اوپر کی جانب سے ایک آواز سنی تو سنا کہ پن چکّی جیسی آواز آرہی تھی، چناچہ ہم تھوڑا ہی چلے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور فرمایا کہ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے مجھے میری امت کے نصف لوگوں کے جنت میں داخل ہونے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے، ہم نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے اہل شفاعت میں سے کر دیجئے، آپ نے فرمایا تم میری شفاعت کے حصّہ داروں میں ہو، کہتے ہیں کہ ہم تیزی سے لوگوں کے پاس آئے تو وہ گھبرائے ہوئے تھے اور نبی ﷺ کو تلاش کر رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے مجھے میری امت کے نصف لوگوں کے جنت میں داخل کیے جانے اور میری شفاعت کے درمیان اختیار دیا، اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے اہل شفاعت میں کر دیجئے، آپ نے فرمایا کہ میں تمام حاضرین کو گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہوگا۔
حدیث نمبر: 33914
٣٣٩١٤ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن سالم بن (أبي الجعد عن جابر ابن) (١) عبد اللَّه قال: مر بي رسول اللَّه رصِل وأنا أسوق بعيرًا لي وأنا في آخر الناس وهو (يظلع) (٢) أو قد اعتل، (قال) (٣): "ما شأنه؟ " فقلت: يا رسول اللَّه (يظلع) (٤) أو قد اعتل فأخذ شيئًا كان في يده فضربه، ثم قال: "اركب"، فلقد كنت أحبسه حتى يلحقوني (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے اونٹ کو ہانک رہا تھا اور سب لوگوں سے پیچھے تھا اور میرا اونٹ لنگڑا یا بیمار تھا، آپ نے فرمایا اس کو کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لنگڑا یا بیمار ہے، آپ نے ایک چیز لی جو آپ کے ہاتھ میں تھی، اور اس کو مارا ، پھر فرمایا سوار ہو جاؤ، چناچہ میں اس کو روکتا تھا تاکہ لوگ مجھ تک پہنچ جائیں۔
حدیث نمبر: 33915
٣٣٩١٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا عثمان بن حكيم قال أخبرني عبد الرحمن بن عبد العزيز عن يعلى بن مرة قال: لقد رأيت من رسول اللَّه ﷺ ثلاثًا ما رآها أحد قبلي، ولا يراها أحد من بعدي: لقد خرجت معه في سفر حتى إذا كنا ببعض الطريق مررنا بامرأة جالسة معها صبي، قالت: يا رسول اللَّه ابني هذا (١) أصابه بلاء، وأصابنا منه بلاء، يؤخذ في اليوم لا أدري كم مرة، قال: "ناولينيه"، فرفعته إليه فجعله بينه وبين واسطة (الرحل) (٢)، ثم (فغر) (٣) فاه فنفث فيه ثلاثًا: "بسم اللَّه، أنا عبد اللَّه، اخسأ عدو اللَّه"، قال: ثم ناولها إياه ثم قال: "ألقينا به في الرجعة في هذا المكان فأخبرينا بما فعل"، قال: فذهبنا ورجعنا فوجدناها في ذلك المكان معها شياه ثلاث، فقال: "ما فعل صبيك؟ " قالت: والذي بعثك بالحق ما ⦗٤٦٢⦘ أحسسنا منه شيئا حتى الساعة، (فاجتزر) (٤) (هذه) (٥) الغنم، قال: "انزل فخذ منها (واحدة) (٦) ورد البقية"، قال: وخرجت معه ذات يوم إلى الجبانة حتى إذا برزنا قال: "انظر ويحك: هل ترى من شيء يواريني؟ "، (قلت) (٧): يا رسول اللَّه ما أرى شيئًا يواريك إلا شجرة ما أراها تواريك، قال: "ما (بقربها) (٨) شيء؟ "، قلت: شجرة خلفها وهي مثلها أو قريب منها، قال: "اذهب إليهما (فقل لهما) (٩) إن رسول اللَّه ﷺ يأمركما أن تجتمعا بإذن اللَّه (١٠) "، قال: فاجتمعتا فبرز لحاجته ثم رجع فقال: "اذهب إليهما فقل (لهما) (١١) إن رسول اللَّه ﷺ (١٢) يأمركما أن ترجع كل واحدة منكما إلى مكانها"، قال: وكنت جالسًا معه ذات يوم إذ جاء جمل (يخب) (١٣) حتى (ضرب) (١٤) بجرانه بين يديه ثم ذرفت عيناه فقال: "انظر ويحك لمن هذا الجمل؟ إن له لشأنا"، (قال) (١٥): (فخرجت) (١٦) ألتمس صاحبه، فوجدته ⦗٤٦٣⦘ لرجل من الأنصار فدعوته إليه، فقال: "ما شأن جملك هذا؟ "، قال: وما شأنه؟ قال: لا أدري واللَّه ما شأنه، (قال) (١٧): عملنا عليه ونضحنا عليه حتى عجز عن السقاية فائتمرنا بالبارحة أن ننحره ونقسم لحمه، قال "فلا تفعل هبه لي أو بعنيه"، قال: (١٨) هو لك يا رسول اللَّه، فوسمه (سمة) (١٩) الصدقة ثم بعث به (٢٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن مرّہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین نشانیاں دیکھی ہیں جو نہ مجھ سے پہلے کسی نے دیکھیں نہ میرے بعد کوئی دیکھے گا، میں آپ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا یہاں تک کہ ہم راستے میں ایک عورت کے پاس سے گزرے جس کے ساتھ ایک بچہ تھا، اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے اس بیٹے کو ایک مصیبت آئی ہے، آپ نے فرمایا مجھے دو ، اس نے بچہ آپ کو دیا، آپ نے اس کو اپنے اور کجاوے کے درمیانی حصّے کے درمیان رکھ لیا، پھر آپ نے اس کا منہ کھولا اور اس میں تین مرتبہ ” بِسْمِ اللہِ أَنَا عَبْدُ اللہِ اخْسَأْ عَدُوَّ اللہِ “ کہہ کر پھونکا ، پھر وہ بچہ اس کو دے دیا، اور فرمایا کہ واپسی میں ہمیں اسی جگہ ملنا ، اور بتانا کہ کیا ہوا، کہتے ہیں کہ ہم گئے اور پھر لوٹے اور اس عورت کو اس جگہ دیکھا ، اس کے پاس بہت سی بکریاں تھیں، آپ نے فرمایا تمہارے بچے کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم کو اس کے بارے میں ابھی تک کچھ محسوس نہیں ہوا، آپ نے یہ بکریاں لے لیں آپ نے فرمایا اترو اور ایک بکری لے لو اور باقی واپس کردو۔ کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپ کے ساتھ میدان کی طرف نکلا یہاں تک کہ جب ہم دور نکل گئے تو آپ نے فرمایا دیکھو کیا تم کوئی چیز دیکھتے ہو جو مجھے چھپالے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ کو چھپانے والی کوئی چیز نظر نہیں آرہی سوائے ایک درخت کے جو آپ کو چھپا نہیں سکتا، آپ نے فرمایا اس کے قریب کوئی چیز نہیں ؟ میں نے عرض کیا اس کے پیچھے ایک درخت ہے جو اتنا ہی ہے یا اس کے قریب ہے، آپ نے فرمایا ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم بحکم خدا کٹھے ہو جاؤ، کہتے ہیں کہ وہ دونوں درخت اکٹھے ہوگئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لئے تشریف لے گئے، پھر لوٹ آئے اور فرمایا کہ ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنی جگہ لوٹ جائے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک اونٹ روتا ہوا آیا، اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو یہ کس کا اونٹ ہے ؟ اس کی بری حالت ہے، کہتے ہیں کہ میں اس کے مالک کو ڈھونڈنے نکلا تو وہ اونٹ انصار میں سے ایک آدمی کا پایا، میں نے اس کو آپ کے پاس بلایا ، آپ نے فرمایا کہ تمہارے اس اونٹ کا کیا قصّہ ہے ؟ اس نے بخدا میں نہیں جانتا کہ اس کی کیا حالت ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ ہم نے اس پر کام کیا اور پانی اٹھوایا، یہاں تک کہ یہ پانی اٹھانے سے عاجز ہوگیا پھر شام کو ہمارا مشورہ ہوا کہ اس کو ذبح کردیں اور اس کا گوشت تقسیم کردیں، آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو یہ مجھے ہبہ کردو یا بیچ دو ، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہے، آپ نے اس پر صدقہ کا نشان لگایا اور پھر اس کو بھیج دیا۔
حدیث نمبر: 33916
٣٣٩١٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسماعيل بن عبد الملك عن أبي الزبير عن جابر قال: خرجت مع رسول اللَّه ﷺ في سفر، وكان رسول اللَّه ﷺ (١) لا يأتي البراز حتى يتغيب، فلا يرى، فنزلنا (بفلاة) (٢) من الأرض ليس فيها (شجر) (٣) ولا علم فقال: "يا جابر [اجعل في إداوتك ماء"، ثم انطلق بنا قال: فانطلقنا حتى لا نرى، فإذا هو بشجرتين بينهما أربع أذرع فقال: "يا جابر] (٤) انطلق إلى هذه الشجرة فقل لها: (يقول) (٥) لك رسول اللَّه ﷺ (٦): الحقي بصاحبتك حتى أجلس خلفكما، فرجعت (إليها) (٧) فجلس رسول اللَّه ﷺ خلفهما، ثم رجعتا ⦗٤٦٤⦘ إلى مكانهما، فركبنا ورسول اللَّه ﷺ بيننا كأنما على رءوسنا الطير (تظلنا) (٨)، فعرضت لنا امرأة معها صبي لها فقالت: يا رسول اللَّه إن ابني هذا يأخذه الشيطان كل يوم مرارًا، فوقف بها ثم تناول الصبي فجعله بينه وبين مقدم الرحل ثم قال: "اخسأ عدو اللَّه، أنا رسول اللَّه" -ثلاثًا، ثم (دفعه) (٩) إليها، فلما قضينا سفرنا مررنا بذلك الموضع فعرضت لنا المرأة معها صبيها ومعها كبشان (تسوقهما) (١٠)، فقالت: يا رسول اللَّه اقبل مني هديتي، فوالذي بعثك بالحق، ما عاد إليه بعد، فقال: " (خذوا) (١١) منها أحدهما، وردوا عليها الآخر"، قال: ثم سرنا ورسول اللَّه ﷺ بيننا كأنما على رءوسنا الطير تظلنا، فإذا جمل (ناد) (١٢) حتى إذا كان بين (السماطين) (١٣) خر (ساجدًا) (١٤) فجلس رسول اللَّه ﷺ ثم قال: "علي الناس من صاحب هذا الجمل؟ " فإذا فتية من الأنصار قالوا: هو لنا يا رسول اللَّه، قال: "فما شأنه؟ " قالوا: (سنينا) (١٥) عليه منذ عشرين سنة، وكانت به شحيمة فأردنا أن ننحره فنقسمه بين غلماننا فانفلت منا، (قال) (١٦): "تبيعونه"، قالوا: لا، (بل) (١٧) ⦗٤٦٥⦘ هو لك يا رسول اللَّه، قال: " (أما) (١٨) لا، فأحسنوا إليه حتى يأتيه أجله" (١٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے نہ جاتے یہاں تک کہ اتنی دور چلے جائیں کہ نظر نہ آئیں، چناچہ ہم ایک چٹیل میدان میں اترے جس میں کوئی درخت یا ٹیلہ نہیں تھا، آپ نے فرمایا اے جابر ! اپنے برتن میں پانی ڈالو، پھر ہمارے ساتھ چلو، کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم نظر نہیں آ رہے تھے ، وہاں آپ کو دو درخت نظر آئے جن کے درمیان چار ہاتھ کا فاصلہ تھا، آپ نے فرمایا اے جابر ! اس درخت کے پاس جاؤ اور اس کے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے فرما رہے ہیں کہ اپنے ساتھ والے درخت کے ساتھ مل جاؤ تاکہ میں تمہارے پیچھے بیٹھ سکوں، چناچہ وہ درخت دوسرے سے مل گیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے بیٹھ گئے، پھر وہ اپنی جگہ واپس چلے گئے۔ (٢) پھر ہم سوار ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے سایہ فگن ہیں، چناچہ ہمارا ایک عورت سے سامنا ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے اس بیٹے کو ہر روز کئی مرتبہ شیطان پکڑ لیتا ہے، آپ اس کے لئے ٹھہرے اور بچے کو لیا اور اس کو اپنے اور کجاوے کے اگلے حصّے کے درمیان رکھا، پھر فرمایا اے اللہ کے دشمن ! دفع ہوجا، میں اللہ کا رسول ہوں، تین مرتبہ اس طرح فرمایا، پھر بچہ عورت کو دے دیا، جب ہم اس سفر سے واپس ہوئے تو ہم اس جگہ سے گزرے وہ عورت ہمارے سامنے آئی اور اس کے پاس دو مینڈھے تھے جن کو وہ ہانک رہی تھی، اس نے عرض کی یا رسول اللہ مجھ سے یہ قبول کر لیجیے، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے وہ اس کے پاس دوبارہ نہیں آیا ، آپ نے فرمایا اس سے ایک لے لو اور دوسرا واپس کردو۔ (٣) فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے، اس طرح تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے سایہ فگن ہیں، اچانک ایک اونٹ دو قطاروں کے درمیان بھاگتا ہوا آیا اور سجدے میں گرگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اے لوگو ! کون اس اونٹ کا مالک ہے ؟ معلوم ہوا کہ انصار کے چند جوان ہیں، کہنے لگے یا رسول اللہ ! یہ ہمارا ہے، آپ نے فرمایا کہ اس کی کیا حالت ہے ؟ وہ کہنے لگے کہ ہم نے بیس سال اس سے پانی لگوایا ہے، اور اس میں کچھ چربی ہے اس لیے ہم اس کو ذبح کرنا چاہتے ہیں اور اپنے غلاموں میں اس کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ، لیکن یہ ہم سے چھوٹ گیا، آپ نے فرمایا کہ کیا تم اس کو بیچتے ہو ؟ وہ کہنے لگے نہیں، بلکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کو ہدیہ ہے، آپ نے فرمایا کہ اگر بیچنا نہیں چاہتے تو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو یہاں تک کہ اس کی موت آجائے۔
حدیث نمبر: 33917
٣٣٩١٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن سليمان بن عمرو (ابن) (١) الأحوص عن أمه أم جندب قالت: رأيت رسول اللَّه ﷺ (٢) رمى جمرة العقبة من بطن الوادي يوم النحر وهو على دابة، ثم انصرف وتبعته امرأة من خثعم، ومعها صبي لها به بلاء، فقالت: يا رسول اللَّه إن هذا ابني وبقية أهلي وإن به بلاء لا يتكلم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ائتوني بشيء من ماء"، فأتي به فغسل يديه ومضمض فاه ثم أعطاها فقال: "اسقيه منه، وصبي عليه منه واستشفي اللَّه له"، قالت: فلقيت المرأة فقلت: لو وهبت لي منه، فقالت: إنما هو لهذا المبتلى، فلقيت المرأة من الحول فسألتها عن الغلام فقالت: برأ وعقل عقلا ليس كعقول الناس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امّ جندب فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یوم النحر کو بطن الوادی سے جمرۃ العقبۃ کی رمی کی، جبکہ آپ سواری پر تھے، پھر آپ مڑے اور قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پیچھے ہوئی، اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا جس پر اثر تھا، کہنے لگی یا رسول اللہ ! یہ میرا بیٹا اور میرا وارث ہے، اور اس کو ایک اثر ہے جس کی وجہ سے بولتا نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس تھوڑا پانی لاؤ، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی اور اس کو پانی دے دیا، اور فرمایا کہ اس کو اس سے پلاؤ اور اس پر اس سے چھڑکو، اور اللہ سے اس کے لئے شفاء مانگو ، کہتی ہیں کہ میں ایک عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تھوڑا سا پانی اس میں سے مجھے دے دیں تو کیسا ہے، وہ کہنے لگی کہ یہ تو اس آفت زدہ کے لئے ہے، پھر میں ایک سال کے بعد عورت سے ملی اور اس سے لڑکے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ صحت یاب ہوگیا اور ایسا عقل مند ہوگیا کہ عام لوگ اتنے عقل مند نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 33918
٣٣٩١٨ - حدثنا أسود بن عامر عن مهدي بن ميمون عن محمد بن عبد اللَّه بن أبي يعقوب عن الحسن بن سعد عن عبد اللَّه بن جعفر قال: أردفني النبي ﷺ ذات ⦗٤٦٦⦘ يوم خلفه فاسر إليَّ حديثًا لا أحدثه أحدا من الناس، وكان مما يعجبه - (يعني) (١) النبي ﷺ أن يستتر به لقضاء حاجته (هدف) (٢) أو حائش نخل، فدخل يوما حائش نخل الأنصار فرأى فيه بعيرًا، فلما رآه البعير خر وذرفت عيناه، قال: فمسح النبي ﷺ (٣) سراته وذفراه (٤) فسكن، فقال: "لمن هذا البعير؟ "، أو "من رب هذا البعير؟ " قال: فقال الأنصاري: أنا يا رسول اللَّه، فقال: "أحسن إليه، فقد شكا إلي أنك تجيعه وتدئبه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن جعفر فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ نے مجھے اپنا ردیف بنایا اور مجھے رازداری سے ایک بات بتلائی جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا، اور آپ کو یہ پسند تھا کہ قضاء حاجت کے لئے آپ کو کوئی ٹیلہ یا کھجور کے درخت کا جھنڈ چھپالے، ایک مرتبہ آپ انصار کے درختوں کے جھنڈ میں داخل ہوئے تو اس میں ایک اونٹ دیکھا ، جب اونٹ نے آپ کو دیکھا تو گرگیا اور اس کی آنکھیں بہنے لگیں، چناچہ نبی ﷺ نے اس کی پیٹھ اور گردن پر ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہوگیا، آپ نے فرمایا کہ یہ اونٹ کس کا ہے ؟ یا فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے ؟ تو ایک انصاری نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہوں، آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیونکہ یہ مجھے شکایت کر رہا ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور ہمیشہ کام میں لگا کر رکھتے ہو۔
…