کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
حدیث نمبر: 33839
٣٣٨٣٩ - حدثنا مالك بن إسماعيل ثنا يعقوب بن عبد اللَّه (القمي) (١) عن حفص بن حميد عن عكرمة عن ابن عباس عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني ممسك بحجزكم: هلموا عن النار، وتغلبوني تقاحمون فيها، تقاحم الفراش والجنادب، وأوشك أن أرسل حجزكم وأفرط لكم عن -أو على- الحوض وتردون علي معا (و) (٢) أشتاتًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے دامنوں کو پکڑتا ہوں گا کہ جہنم سے بچ جاؤ، لیکن تم مجھ پر غالب آئے ہو اور اس میں پروانوں کی طرح گھسے چلے جاتے ہو، اور قریب ہے کہ میں تمہارے دامنوں کو چھوڑ دوں۔ اور تمہارے لئے تم سے پہلے حوض پر پہنچ جاؤں، اور تم میرے پاس اکٹھے اور گروہ در گروہ آؤ گے۔
حدیث نمبر: 33840
٣٣٨٤٠ - حدثنا عمر بن سعد أبو داود الحفري عن شريك عن الركين عن القاسم بن حسان عن زيد بن ثابت قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني تارك فيكم الخليفتين من بعدي: كتاب اللَّه وعترتي؛ أهل بيتي، وإنهما لن يتفرقا حتى يردا على الحوض" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم میں اپنے بعد دو خلیفے چھوڑ رہا ہوں ، اللہ کی کتاب اور میرا خاندان اہل بیت، اور دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آجائیں۔
حدیث نمبر: 33841
٣٣٨٤١ - حدثنا يعلى بن عبيد عن أبي (حيان) (١) عن يزيد بن (حيان) (٢) عن زيد بن أرقم قال: بعث إلي عبيد اللَّه بن زياد فأتيته فقال: ما أحاديث تحدث بها ⦗٤٢٨⦘ بلغتنا وترويها عن رسول اللَّه ﷺ لا (نسمعها) (٣) في كتاب له وتحدث أن له حوضًا، فقال: قد حدثنا عنه رسول اللَّه ﷺ ووعدناه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد نے مجھے پیغام بھیجا تو میں اس کے پاس گیا، اس نے کہا کہ یہ کیسی احادیث ہیں جن کو آپ بیان کرتے ہیں جو ہم تک پہنچی ہیں اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی روایت کرتے ہیں، ہم نے ان کو کتاب اللہ میں نہیں پڑھا، اور آپ کہتے ہو کہ آپ کا کوئی حوض ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا بیان بھی فرمایا ہے اور ہم سے اس کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 33842
٣٣٨٤٢ - حدثنا محمد بن بشر ثنا زكريا عن عطية عن أبي سعيد أن النبي ﷺ قال: "إن لي حوضا طوله ما بين الكعبة إلى بيت المقدس، أبيض مثل اللبن، (١) آنيته مثل عدد نجوم السماء، (وإني) (٢) أكثر الأنبياء تبعًا يوم القيامة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسعید فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرا ایک حوض ہے جس کی لمبائی کعبہ سے بیت المقدس کے درمیانی فاصلے جتنی ہے، وہ دودھ کی طرح سفید ہے ، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں، اور میں قیامت کے دن تمام انبیاء سے زیادہ متبعین والا ہوں گا۔
حدیث نمبر: 33843
٣٣٨٤٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن أبي حصين عن الشعبي عن عاصم العدوي عن كعب بن عجرة قال: خرج (إلينا) (١) رسول اللَّه ﷺ ونحن جلوس على وسادة من أدم، فقال: "إنه سيكون أمراء فمن دخل عليهم (فصدقهم) (٢) [بكذبهم وأعانهم على ظلمهم فليس مني ولست منه، و (ليس) (٣) يرد عليَّ الحوض، ومن لم يصدقهم بكذبهم (٤) (ويعنهم) (٥) على ظلمهم فهو مني، ⦗٤٢٩⦘ وأنا منه، وهو وارد عليّ الحوض" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن عجرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے جبکہ ہم چمڑے کے تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا کہ عنقریب امراء ہوں گے ، جو ان کے پاس گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی، اور ان کی ظلم پر اعانت کی وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور وہ حوض پر میرے پاس نہیں آئے گا، اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت نہ کی وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ حوض پر میرے پاس آئے گا۔
حدیث نمبر: 33844
٣٣٨٤٤ - حدثنا محمد بن بشر ثنا زكريا ثنا عطية العوفي أن أبا سعيد الخدري حدثه أن النبي ﷺ قال: "كل نبي قد أعطي عطية (فتنجزها) (١) وإني أختبأت (٢) لشفاعة أمتي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایک تحفہ دیا گیا اس نے اس کو جلدی وصول کرلیا، اور میں نے اس کو ذخیرہ کرلیا اپنی امت کی شفاعت کے لئے۔
حدیث نمبر: 33845
٣٣٨٤٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يدعى نوح يوم القيامة فيقال (له) (١): هل بلغت؟ فيقول: نعم، فيدعى قومه فيقال: هل بلغكم؟ فيقولون: ما أتانا من نذير وما أتانا من أحد، قال: فيقال لنوح: من يشهد لك؟ فيقول: محمد وأمته، قال: فذلك قوله: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ [البقرة: ١٤٣]، قال: (و) (٢) الوسط: العدل قال: فيدعون فيشهدون له بالبلاغ، قال: ثم أشهد عليكم بعد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ، اور ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا کہ تمہارے لیے کون گواہی دے گا ؟ وہ کہیں گے محمد ﷺ اور ان کی امت، فرمایا کہ یہ معنی ہے اللہ کے فرمان { وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا } کا ” الوسط “ کا معنی ہے معتدل ، فرماتے ہیں کہ وہ ان کے لیے پیغام پہنچانے کی گواہی دیں گے، فرمایا کہ پھر میں اس کے بعد تمہارے لیے گواہی دوں گا۔
حدیث نمبر: 33846
٣٣٨٤٦ - حدثنا علي بن حفص عن المسعودي عن عاصم عن أبي وائل قال: ⦗٤٣٠⦘ قال عبد اللَّه: إن اللَّه اتخذ إبراهيم خليلًا وإن صاحبكم خليل اللَّه (١) إن محمدا أكرم الخلق على اللَّه ثم قرأ: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء: ٧٩] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ بیشک اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے، اور تمہارے ساتھی اللہ کے خلیل ہیں، بیشک کہ محمد ﷺ اللہ کے ہاں مخلوق میں سب سے زیادہ معزّز ہیں، پھر انہوں نے پڑھا { عَسَی أَنْ یَبْعَثَک رَبُّک مَقَامًا مَحْمُودًا }۔
حدیث نمبر: 33847
٣٣٨٤٧ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "قال اللَّه: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ﴾ إلى قوله: ﴿فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ﴾ [الزمر: ٦٨]، فأكون أول من رفع رأسه، فإذا موسى آخذ بقائمة من قوائم العرش، فلا أدري: أرفع رأسه (قبل) (١) أو كان ممن استثنى اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا { وَنُفِخَ فِی الصُّوَرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الأَرْضِ … فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَنْظُرُونَ } کی تفسیر یہ ہے کہ میں سب سے پہلے اپنا سر اٹھاؤں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ پکڑے ہوں گے، مجھے علم نہیں کہ وہ اپنا سر پہلے اٹھائیں گے یا ان لوگوں سے ہوں گے جن کو اللہ مستثنیٰ فرمائیں گے۔
حدیث نمبر: 33848
٣٣٨٤٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن طلحة مولى (قرظة) (١) عن زيد بن أرقم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما أنتم بجزء من مائة ألف جزء (٢) ممن يرد عليّ الحوض"، قلنا لزيد: كم كنتم يومئذ؟ قال: ما بين الست مائة (إلى) (٣) السبع مائة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ میرے حوض پر آئیں گے تم ان کا لاکھواں حصّہ بھی نہیں ہو، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے زید سے پوچھا کہ آپ اس وقت کتنے تھے فرمایا کہ چھ سو سے سات سو کے درمیان۔
حدیث نمبر: 33849
٣٣٨٤٩ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن زر عن حذيفة قال: الحوض أبيض (من) (١) اللبن، وأحلى من العسل، وأبرد من الثلج، وأطيب ريحًا من المسك، آنيته عدد نجوم السماء، ما بين إيلة وصنعاء، من شرب منه لم يظمأ بعد ذلك أبدا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حوض دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہیں، اور وہ ایلہ سے صنعاء تک کی مسافت جتنا ہے، جس نے اس سے پی لیا کبھی پیاسا نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 33850
٣٣٨٥٠ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد ﴿وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ (وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ) (١)﴾ [الزخرف: ٤٤]، يقال: ممن هذا الرجل؟ (فيقال) (٢): من العرب، فيقال: من أي العرب؟ (فيقال) (٣): من قريش، ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ [الشرح: ٤]، لا أُذكر إلا ذُكِرتْ: أشهد أن لا إله إلا اللَّه وأشهد أن محمدا رسول اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد اللہ کے فرمان { وَإِنَّہُ لَذِکْرٌ لَک وَلِقَوْمِک } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ پوچھا جائے گا کہ یہ آدمی کن لوگوں میں سے ہے ؟ جوا ب دیا جائے گا کہ عرب میں سے ، پوچھا جائے گا کہ عرب کے کون سے قبیلے سے ؟ جواب دیا جائے گا قریش سے، { وَرَفَعْنَا لَک ذِکْرَک } کی تفسیر یہ ہے کہ جب بھی میرا ذکر ہوگا تمہارا بھی ذکر ہوگا، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ۔
حدیث نمبر: 33851
٣٣٨٥١ - حدثنا شريك بن عبد اللَّه عن ابن شبرمة عن الحسن في قوله: ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ﴾ (بلى) (١) مليء حكما وعلما، ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ (٢) الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ﴾ قال: ما أثقل الحمل الظهر: ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ [الشرح: ١ - ٤]، بلى لا يذكر إلا ذكرت معه.
مولانا محمد اویس سرور
ابن شبرمہ روایت کرتے ہیں کہ حسن نے اللہ کے ارشاد { أَلَمْ نَشْرَحْ لَک صَدْرَک } کی تفسیر میں فرمایا ” کیوں نہیں ! بلکہ آپ حکمت اور علم سے بھرے ہوئے ہیں “ ، { وَوَضَعْنَا عَنْک وِزْرَک الَّذِی أَنْقَضَ ظَہْرَک } فرمایا کہ بوجھ نے پشت کو بوجھل نہیں کیا، { وَرَفَعْنَا لَک ذِکْرَک } کہ جب بھی اللہ کا ذکر ہوگا آپ کا ذکر بھی ساتھ ہوگا۔ “
حدیث نمبر: 33852
٣٣٨٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن (حسين) (١) عن الزهري عن محمد ابن جبير بن مطعم عن أبيه أن النبي ﷺ قال: "إن لي أسماء: أنا محمد، وأنا أحمد، وأنا الماحي، يمحو اللَّه بي الكفر، وأنا الحاشر، أحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب"، قال له إنسان: ما العاقب؟ قال: "لا نبي بعده" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے بہت سے نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، اور میں ماحی ہوں، میرے ذریعے اللہ کفر کو مٹائیں گے، اور میں حاشر ہوں ، لوگوں کو میرے قدموں سے اٹھایا جائے گا، اور میں عاقب ہوں ، ایک شخص نے عرض کیا کہ عاقب کا کیا معنی ہے ؟ فرمایا کہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 33853
٣٣٨٥٣ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن إسرائيل عن عاصم عن (زر) (١) عن حذيفة قال: مر بي رسول اللَّه ﷺ فقال: " (أنا) (٢) محمد وأحمد والمقفى والحاشر" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد ہوں، مُقفِّی ہوں اور حاشر ہوں۔
حدیث نمبر: 33854
٣٣٨٥٤ - حدثنا الفضل بن دكين عن المسعودي عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن أبي موسى قال: سمى لنا رسول اللَّه ﷺ (لنفسه) (١) أسماء، فمنها ما حفظنا، قال: "أنا محمد، وأنا أحمد، والمقفى، والحاشر، ونبي التوبة، ونبي الملحمة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے نا م بیان فرمائے ان میں سے بعض ہم نے یاد کرلیے، فرمایا میں محمد ہوں، احمد ہوں، مُقفِّی ہوں، حاشر ہوں، نبی التوبہ ہوں اور نبی الملحمہ ہوں۔
حدیث نمبر: 33855
٣٣٨٥٥ - حدثنا العلاء بن عصيم عن حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة ⦗٤٣٣⦘ عن أبي (أسماء) (١) عن ثوبان قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه زوى لي الأرض فرأيت مشارقها ومغاريها، وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زوي لي منها، وأعطيت الكنزين الأحمر والأبيض"، -قال حماد: وسمعته مرة واحدة يقول: "فأولتها ملك فارس والروم- وإني سألت ربي لأمتي أن لا يهلكها بسنة (بعامة) (٢)، ولا يسلط عليهم عدوا من سوى أنفسهم، يستبيح بيضتهم، وإن ربي قال (لي) (٣): يا محمد، إني إذا قضيت قضاء فإنه لا يرد، وإني أعطيك لأمتك أن لا أهلكها بسنة بعامة، ولا أسلط عليهم عدوا من سوى أنفسهم يستبيح بيضتهم، ولو (اجتمع) (٤) عليهم من بين أقطارها أو قال: من أقطارها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشرق و مغرب دیکھے، اور میری امت کی حکومت وہاں تک جائے گی جہاں تک میرے لیے لپیٹا گیا ، اور مجھے دو خزانے دیے گئے، سرخ وسفید ، حماد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے راوی کو یہ کہتے سنا کہ ” میں نے اس کی تعبیر ملک فارس اور روم سے لی، اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سے ہلاک نہ فرمانا، اور ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط نہ فرمانا جوا ان کو جڑ سے ختم کر دے ، اور میرے رب نے مجھ سے فرمایا کہ اے محمد ! جب میں کوئی فیصلہ کردیتا ہوں تو وہ رد نہیں کیا جاسکتا، اور میں نے آپ کی یہ دعا قبول کرلی کہ ان کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور ان پر غیروں میں سے کوئی دشمن مسلّط نہیں کروں گا جو ان کو جڑ سے ختم کر دے ، اگرچہ ان پر پوری طاقت جمع کر کے حملہ آور ہو۔
حدیث نمبر: 33856
٣٣٨٥٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا عثمان بن حكيم عن عامر بن سعد عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ (١) أقبل ذات يوم من العالية حتى إذا مر بمسجد بني معاوية قال: دخل (فركع) (٢) فيه ركعتين وصلينا معه، ودعا ربه طويلا ثم انصرف إلينا فقال: "سألت ربي ثلاثًا، فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة، سألت ربي: أن لا يهلك أمتي بالسنة فأعطانيها، وسألته أن لا يهلك أمتي بالغرق فأعطانيها، وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم (فردت) (٣) علي" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن عوالی مدینہ سے تشریف لائے یہاں تک کہ جب مسجد بنی معاویہ سے گزرے تو اس میں داخل ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھیں اور آپ نے اللہ سے طویل دعا مانگی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی، دو اللہ نے قبول فرما لیں اور ایک کے قبول کرنے سے انکار فرما دیا، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ فرمائے ، اللہ نے اس کو قبول فرما لیا، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ میری امت کو ڈوبنے کے عذاب سے ہلاک نہ فرمائے، اس کو بھی قبول فرما لیا، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ ان کو آپس میں لڑنے سے بچا لے، اس دعاء کو رد فرما دیا۔
حدیث نمبر: 33857
٣٣٨٥٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نميرقال: ثنا محمد بن إسحاق عن حكيم بن حكيم عن علي بن عبد الرحمن عن حذيفة بن اليمان قال: خرج رسول اللَّه ﷺ إلى حرة بني معاوية واتبعت أثره حتى ظهر عليها، فصلى الضحى (ثماني) (١) ركعات طول فيهن ثم انصرف فقال: "يا حذيفة طولت عليك؟ "، قلت: اللَّه ورسوله أعلم، قال: "إني سألت اللَّه (٢) ثلاثًا فأعطاني اثنتين ومنعني واحدة، سألته أن لا يظهر على أمتي غيرها فأعطانيها، وسألته أن لا يهلكها بالسنين فأعطانيها، وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم فمنعني" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو معاویہ کے محلہ کی طرف تشریف لے گئے اور میں آپ کے پیچھے چلا، یہاں تک کہ آپ وہاں پہنچ گئے تو آپ نے چاشت کی آٹھ رکعات پڑھیں اور طویل پڑھیں، پھر مڑے اور فرمایا اے حذیفہ رضی اللہ عنہ ! میں نے تم پر طوالت کردی ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا کہ میں نے اللہ سے تین چیزوں کا سوال کیا دو اس نے عطاء فرما دیں اور ایک سے منع فرما دیا، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر غیر کو غالب نہ کرنا ، اس کو قبول فرما لیا، اور میں نے سوال کیا کہ اس کو قحط سے ہلاک نہ فرمانا، اس کو بھی قبول فرما لیا، اور میں نے سوال کیا کہ ان کو آپس کی جنگ میں مبتلا نہ فرمانا، اس کو منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 33858
٣٣٨٥٨ - حدثنا أبو أسامة عن مالك بن مغول عن الزبير بن عدي عن طلحة عن مرة عن عبد اللَّه قال: لما أسري برسول اللَّه ﷺ انتهي به إلى سدرة المنتهى وهي (بالسماء) (١) السادسة، وإليها ينتهي ما يخرج به من الأرض (فيقبض) (٢) منها، ﴿إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى﴾ [النجم: ١٦]، قال: فراش (٣) من ذهب قال: (فأعطي) (٤) ثلاثًا: (أعطي) (٥) الصلوات الخمس، وأعطي (خواتيم) (٦) سورة البقرة، وغفر لمن ⦗٤٣٥⦘ لا يشرك باللَّه من أمته المقحمات (٧).
مولانا محمد اویس سرور
مُرّہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا، جو چھٹے آسمان میں ہے، اور اسی تک وہ اعمال پہنچتے ہیں جو زمین سے لائے جاتے ہیں، اور وہاں سے ان سے لے لیے جاتے ہیں، اور اسی تک وہ چیزیں پہنچتی ہیں جو اوپر سے اتاری جاتی ہیں اور اس جگہ لے لی جاتی ہیں، {إذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشَی } کا معنی ہے کہ سونے کی تتلیاں اس کو ڈھانپ لیتی ہیں، راوی کہتے ہیں کہ وہاں آپ کو تین چیزیں عطا کی گئیں، پانچ نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات، اور آپ کی امت کے شرک نہ کرنے والوں کے گناہ معاف کردیے گئے۔
حدیث نمبر: 33859
٣٣٨٥٩ - حدثنا عفان قال ثنا حماد بن سلمة عن عاصم عن (زر) (١) عن حذيفة أن رسول اللَّه ﷺ أتي بالبراق -وهو دابة أبيض طويل- يضع حافره عند منتهى طرفه -قال: فلم يزايل ظهره هو وجبريل حتى أتيا بيت المقدس، (وفتحت لهما أبواب السماء، ورأى الجنة والنار، قال حذيفة: لم يصل في بيت المقدس) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس براق لایا گیا جو سفید لمبا جانور ہے، اور وہ اپنی نظر کی انتہاء پر ایک قدم رکھتا ہے، آپ اس کی پیٹھ پر جبرئیل کے ساتھ بیٹھے رہے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گئے، اور ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور آپ نے جنت اور دوزخ کو دیکھا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیت المقدس میں آپ نے نماز نہیں پڑھی۔
حدیث نمبر: 33860
٣٣٨٦٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد قال: لا أسري بالنبي ﷺ أتي بدابة دون البغل وفوق الحمار، يضع حافره عند منتهى طرفه، يقال له: البراق، ومر رسول اللَّه ﷺ (بعير) (١) للمشركين (فنفرت) (٢) فقالوا: يا هؤلاء ما هذا؟ قالوا: ما نرى شيئًا، ما هذه إلا ريح، حتى أتى بيت المقدس فأتي بإنائين في واحد خمر وفي الآخر لبن، فأخذ اللبن، فقال له جبريل: هديت وهديت أمتك ثم سار إلى (قصر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ کو معراج کروائی گئی تو آپ کے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا، وہ اپنا پاؤں وہاں رکھتا تھا جہاں اس کی نظر کی انتہاء ہوتی اس کا نام براق تھا، اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے ایک قافلے کے پاس سے گزرے، وہ اونٹ بدک گئے، وہ کہنے لگے یہ کیا ہے ؟ دوسروں نے جواب دیا کہ ہم کو تو کچھ نظر نہیں آرہا، یہ تو ایک ہوا ہی تھی، یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچ گئے، پھر آپ کے پاس دو برتن لائے گئے ، ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا، آپ نے دودھ کو لیا، جبرئیل نے کہا کہ آپ کو ہدایت دی گئی اور آپ کی امت کو بھی ہدایت دی گئی، پھر آپ مصر کی طرف چلے۔
حدیث نمبر: 33861
٣٣٨٦١ - حدثنا هوذة قال: ثنا عوف عن (زرارة) (١) بن أوفى قال: قال ابن عباس: قال رسول اللَّه ﷺ: "لما كان ليلة أسري بي وأصبحت بمكة (فظعت) (٢) بأمري وعرفت أن الناس مكذبيَّ"، فقعد رسول اللَّه ﷺ معتزلًا حزينًا فمر به أبو جهل فجاء حتى جلس إليه فقال له كالمستهزئ: هل كان من شيء؟ قال: "نعم"، [قال: وما هو؟ قال: "إني أُسريَّ بي الليلة"، قال: إلى أين؟ قال: "إلى بيت المقدس"، قال: ثم أصبحت بين (أظهرنا؟) (٣) قال: "نعم"] (٤)، فلم (يره) (٥) أنه يكذبه مخافة أن (يجحد) (٦) الحديث إن دعا قومه إليه، قال: أتحدث قومك ما حدثتني إن دعوتهم إليك؟ قال: "نعم"، قال: هيا يا معشر بني كعب بن لؤي هلم، قال: (فتنفضت) (٧) المجالس، فجاؤوا (حتى) (٨) جلسوا إليهما، فقال له: حدث قومك ما حدثتني، قال رسول اللَّه ﷺ: "إني أسري بي الليلة"، قالوا: إلى أين؟ قال: "إلى بيت المقدس"، قالوا: ثم أصبحت بين ظهرانينا؟ قال: "نعم"، قال: فبين مصفق وبين واضع يده على رأسه متعجبا للكذب زعم، وقالوا (لي) (٩): أتستطيع أن تنعت لنا المسجد، قال: وفي القوم من قد سافر إلى ذلك البلد ورأى المسجد، قال رسول اللَّه ﷺ: "فذهبت أنعت لهم، فما زلت أنعت لهم وأنعت حتى التبس عليَّ بعض ⦗٤٣٧⦘ النعت، فجيء بالمسجد وأنا أنظر إليه حتى وضع دون دار عقيل أو دار عقال، فنعته وأنا أنظر إليه"، (فقال) (١٠) القوم: أما النعت -فواللَّه- قد أصاب (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب معراج کی رات ہوئی اور میں نے مکہ میں صبح کی تو میں اپنے معاملے میں حیران ہوگیا اور مجھے لگا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے غمزدہ بیٹھ گئے، چناچہ ابو جہل آپ کے پاس سے گزرا تو آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا، اور آپ سے مذاق کے انداز میں کہا کہ کیا کچھ ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں ! اس نے کہا کیا ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے آج رات معراج کروائی گئی، اس نے کہا کہاں کی ؟ فرمایا بیت المقدس کی، اس نے کہا کہ پھر صبح آپ ہمارے پاس پہنچ گئے ؟ فرمایا جی ہاں ! اس نے تکذیب ظاہر نہ کی اس خوف سے کہ اگر وہ اپنی قوم کو آپ کے پاس بلائے گا تو کہیں آپ انکار نہ کردیں، چناچہ اس نے کہا اے بنو کعب بن لؤیّ کی جماعت ! آؤ ، چناچہ مجلس چھٹ گئی اور وہ ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے، اس نے آپ سے کہا کہ اپنی قوم کو بھی وہ بات بیان کیجئے جو آپ نے مجھے بیان کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات مجھے معراج کروائی گئی، انہوں نے کہا کہاں کی ؟ آپ نے فرمایا بیت المقدس کی ، وہ کہنے لگے پھر صبح کے وقت آپ ہمارے پاس پہنچ گئے ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں ! کہتے ہیں کہ بعض تالیاں پیٹنے لگے اور بعض نے تعجب سے اپنے سر پر ہاتھ رکھا، اور مجھے کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں مسجد کی صفت بیان کرسکتے ہیں ؟ اور لوگوں میں سے بعض نے اس شہر کا سفر کیا ہوا تھا اور مسجد کو دیکھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان کو صفت بیان کرنے لگا، یہاں تک کہ بعض صفات میں مجھے شک ہوگیا، چناچہ مسجد کو میرے سامنے لایا گیا جبکہ میں اس کو دیکھ رہا تھا، اور دار عقیل یا دار عقال کے سامنے رکھ دی گئی، میں اس کو دیکھ کر اس کی صفت بیان کرنے لگا، لوگ کہنے لگے کہ صفت تو بخدا بالکل درست ہے۔
حدیث نمبر: 33862
٣٣٨٦٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا عمار بن (رزيق) (١) عن عبد اللَّه ابن عيسى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: بينما جبريل (جالسًا) (٢) عند رسول اللَّه ﷺ إذ سمع نقيضًا من فوقه فرفع رأسه فقال: لقد فتح باب من السماء ما فتح قط، قال: فأتاه ملك فقال: أبشر بنورين أوتيتهما لم يعطهما من كان (قبلك) (٣): فاتحة الكتاب وخواتيم سورة البقرة، لم تقرأ (منها) (٤) حرفا إلا أعطيته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس دوران کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے اپنے اوپر ٹوٹنے کی آواز سنی، آپ نے سر اٹھایا تو فرمایا کہ آسمان کا ایک دروازہ کھولا گیا ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا، چناچہ آپ کے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا کہ آپ کو دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ کو عطا کیے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کئے گئے، سورة الفاتحۃ اور سورة البقرہ کی آخری آیات، آپ ان میں سے جس حرف کو پڑھیں گے آپ کو عطا کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 33863
٣٣٨٦٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن داود بن أبي هند قال: حدثني عبد اللَّه بن قيس قال: كنت عند ابن أبي بردة ذات ليلة فدخل (علينا) (١) الحارث بن (أقيش) (٢) فحدث الحارث أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن من أمتي من يدخل الجنة ⦗٤٣٨⦘ (بشفاعته) (٣) أكثر من مضر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں ایک رات حضرت ابو بردہ کے پاس تھا کہ حارث بن أقیش ہمارے پاس آئے، اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کی شفاعت سے قبیلہ مضر کے لوگوں سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
حدیث نمبر: 33864
٣٣٨٦٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا زكريا قال: ثنا عطية عن أبي سعيد أن النبي ﷺ قال: "إن من أمتي من يشفع للرجل (ولأهل) (١) (بيته) (٢) فيدخلون الجنة بشفاعته" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں بعض لوگ ایسے ہوں گے جو کسی آدمی اور اس کے اہل بیت کے لئے شفاعت کریں گے اور وہ اس کی شفاعت سے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 33865
٣٣٨٦٥ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لقد أوذيت في اللَّه وما يؤذى أحد، ولقد أخفت في اللَّه وما يخاف أحد، ولقد أتت عليَّ (ثالثة) (١) ما بين يوم وليلة ما لي ولبلال طعام يأكله ذو كبد إلا ما واراه إبط بلال" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ کے راستے میں اتنی اذیتیں دی گئیں جتنی کسی کو نہیں دی گئیں، اور مجھے اللہ کے بارے میں اتنا ڈرایا گیا جتنا کسی اور کو نہیں ڈرایا گیا، اور ہم پر تیسری رات ایسی آئی کہ میرے اور بلال کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کو کوئی کلیجہ رکھنے والا شخص کھائے، سوائے اس کے جس کو بلال کی بغل چھپالے۔
حدیث نمبر: 33866
٣٣٨٦٦ - حدثنا يحيى بن (أبي) (١) بكير قال: حدثني إبراهيم بن طهمان قال: ⦗٤٣٩⦘ حدثني سماك بن حرب عن جابر بن سمرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني لأعرف حجرًا بمكة يسلم علي قبل أن أبعث، إني لأعرفه الآن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مکہ میں ایسے پتھر کو پہچانتا ہوں جو مجھے میری بعثت سے پہلے سلام کرتا تھا، میں اس کو اب بھی پہچانتا ہوں۔
حدیث نمبر: 33867
٣٣٨٦٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا موسى بن مسلم عن عبد الرحمن ابن سابط قال: قال رسول اللَّه ﷺ (١): "إن اللَّه (تجلى) (٢) لي في أحسن صورة فسألني فيما اختصم الملأ الأعلى؟ قال: فقلت: ربي لا علم لي به، قال: فوضع يده بين كتفي (حتى وجدت بردها بين ثديي، أو وضعهما بين ثديي حتى وجدت بردها بين كتفي) (٣) فما سألني عن شيء إلا علمته" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے بہترین صورت میں تجلی فرمائی اور مجھ سے سوال کیا کہ ملأ اعلیٰ کس چیز کے بارے میں جھگڑتے ہیں ، میں نے عرض کیا اے میرے رب ! مجھے اس کا علم نہیں، کہتے ہیں کہ پھر اللہ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں پائی، یا فرمایا کہ اللہ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے کندھوں کے درمیان پائی، اور مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا اس کو میں نے جان لیا۔
حدیث نمبر: 33868
٣٣٨٦٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال حدثني سعد بن سعيد قال: حدثني أنس ابن مالك قال: بعثني أبو طلحة إلى رسول اللَّه ﷺ لأدعوه، قال: فأقبلت ورسول اللَّه ﷺ (١) مع الناس، قال: فنظر إليَّ فاستحييت فقلت: أجب أبا طلحة، فقال للناس: "قوموا"، فقال أبو طلحة: يا رسول اللَّه، إنما صنعت شيئًا لك، قال: فمسها رسول اللَّه ﷺ ودعا فيها بالبركة، وقال: "أدخل نفرا من أصحابي عشرة"، فأكلوا حتى شبعوا، فما زال يدخل عشرة ويخرج عشرة، حتى لم يبق منهم أحد إلا دخل فأكل حتى شبع، ثم هيأها فإذا هي (مثلها) (٢) حين أكلوا منها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آپ کو بلانے کے لئے بھیجا ، چناچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ لوگوں کے ساتھ تھے، آپ نے مجھے دیکھا تو میں شرمایا، اور میں نے عرض کیا کہ ابو طلحہ کے پاس چلیے، آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ اٹھو، ابو طلحہ نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو صرف آپ کے لیے چیز تیار کی تھی، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہاتھ لگایا اور اس میں برکت کی دعا فرمائی، اور فرمایا کہ میرے دس صحابہ کو بلاؤ، انہوں نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، چناچہ آپ مسلسل دس کو بلاتے اور دس کو فارغ کرتے رہے یہاں تک کہ کوئی نہ بچا جو کھانا کھا کر سیر نہ ہوگیا ہو، پھر آپ نے اس کو برابر کیا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا کھانے سے پہلے تھا۔
حدیث نمبر: 33869
٣٣٨٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سليمان التيمي عن أبي العلاء ابن الشخير عن سمرة بن جندب أن رسول اللَّه ﷺ أتي بقصعة من ثريد فوضعت بين يدي القوم فتعاقبوها (إلى الظهر) (١) من (غدوة) (٢) يقوم قوم ويجلس آخرون، فقال رجل: يا سمرة أكانت تمد، قال سمرة: من أي شيء (٣) (تعجب؟) (٤) ما كانت تمد إلا من ها هنا وأشار بيده إلى السماء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا اور لوگوں کے سامنے رکھ دیا گیا، وہ ایک دوسرے کے بعد صبح سے دوپہر تک آ کر کھاتے رہے ، ایک جماعت اٹھتی اور دوسری بیٹھ جاتی، ایک آدمی نے پوچھا اے سمرہ ! کیا وہ بڑھ رہا تھا ؟ سمرہ نے فرمایا کہ بھلا ہمیں کس چیز پر تعجب ہوتا، وہ تو وہاں سے بڑھ رہا تھا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 33870
٣٣٨٧٠ - حدثنا المحاربي عن عبد الواحد بن أيمن عن أبيه قال: قلت لجابر بن عبد اللَّه: حدثني بحديث عن رسول اللَّه ﷺ (١) سمعته منه أرويه عنك، فقال جابر: كنا مع رسول اللَّه ﷺ يوم الخندق نحفر (٢) فلبثنا ثلاثة أيام لا نطعم طعاما ولا نقدر عليه، فعرضت في الخندق كُدْيةٌ، فجئت إلى رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه هذه كدية قد عرضت في الخندق، فرششنا عليها الماء، قال: فقام رسول اللَّه ﷺ وبطنه معصوب بحجر، فأخذ المعول أو المسحاة ثم سمى ثلاثًا ثم ضرب فعادت كثيبا أهيل، فلما رأيت ذلك من رسول اللَّه ﷺ (قلت: يا رسول اللَّه) (٣) ائذن لي، فأذن لي، فجئت امرأتي فقلت: ثكلتك أمك، قد رأيت من رسول اللَّه ﷺ شيئًا لا أصبر ⦗٤٤١⦘ عليه، فما عندك؟ قالت: عندي صاع من شعير وعناق، (قال) (٤): (فطحنا) (٥) الشعير (وذبحنا) (٦) العناق وسلخناها وجعلناها في البرمة وعجنا الشعير، ثم رجعت إلى رسول اللَّه ﷺ (فلبثت) (٧) ساعة واستأذنته (٨) فأذن لي فجئت، فإذا العجين قد أمكن، فأمرتها بالخبز، وجعلت القدر على الأثافي، ثم جئت رسول اللَّه ﷺ (فساررته) (٩) فقلت: إن عندنا طعيمًا لنا، فإن رأيت أن تقوم معي أنت ورجل أو رجلان معك فعلت، قال: "وكم هو؟ " قلت: صاع من شعير وعناق، قال: "ارجع إلى أهلك وقل لها لا تنزعي البرمة من الأثافي ولا تخرجي الخبز من التنور حتى آتي"، ثم قال للناس: "قوموا إلى بيت جابر"، قال: فاستحييت حياء لا يعلمه إلا اللَّه، فقلت لامرأتي: ثكلتك أمك جاءك رسول اللَّه ﷺ بأصحابه أجمعين، فقالت: أكان رسول اللَّه ﷺ سألك عن الطعام؟ فقلت: نعم، فقالت: اللَّه ورسوله أعلم، قد أخبرته بما كان عندنا، قال: فذهب عني بعض ما (١٠) أجد، قلت لها: صدقت، قال: فجاء رسول اللَّه ﷺ فدخل ثم قال لأصحابه: "لا تضاغطوا"، ثم برك على التنور وعلى البرمة، ثم جعلنا نأخذ من التنور الخبز ونأخذ اللحم من البرمة، فنثرد ونغرف ونقرب إليهم، وقال رسول اللَّه ﷺ: "ليجلس على الصحفة سبعة أو ثمانية"، قال: فلما أكلوا كشفنا التنور والبرمة فإذا هما قد عادا إلى أملأ ما كانا [فنثرد ⦗٤٤٢⦘ ونغرف ونقرب إليهم فلم نزل نفعل كذلك كلما فتحنا التنور وكشفنا عن البرمة وجدناهما أملأ ما كانا] (١١)، حتى شبع المسلمون كلهم، وبقي طائفة من الطعام، فقال لنا رسول اللَّه ﷺ: "إن الناس قد أصابتهم نحمصة فكلوا وأطعموا"، قال: فلم نزل يومنا نأكل ونطعم، قال: وأخبرني أنهم كانوا ثمانمائة أو ثلاثمائة (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے ان سے سنی ہو میں اس کو آپ کے حوالے سے روایت کروں گا، حضرت جابر نے فرمایا کہ ہم خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خندق کھود رہے تھے، چناچہ ہم نے تین دن نہ کچھ کھایا اور نہ اس پر قادر تھے، چناچہ خندق میں ایک چٹان آڑے آگئی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ چٹان خندق میں آڑھے آگئی ہے، ہم نے اس پر پانی چھڑکا، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا، آپ نے کدال کو یا پھاوڑے کو پکڑا، پھر تین مرتبہ بسم اللہ پڑھی ، پھر اس پر ضرب لگائی تو وہ ریت کی طرح ہوگیا۔ (٢) جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت دیکھی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے، آپ نے مجھے اجازت دی، میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور میں نے کہا تجھے تیری ماں روئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت دیکھی ہے جس پر مجھے صبر نہیں آتا، تمہارے پاس کیا ہے ؟ انہوں نے کہا میرے پاس ایک صاع جو اور بکری کا چھ ماہ کا بچہ ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے جو کو ٹے اور بکری کو ذبح کیا، اور ہم نے اس کی کھال اتاری اور اس کو ہنڈیا میں ڈال دیا اور جو کا آٹا گوندھا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ایک گھڑی ٹھہرا اور پھر آپ سے اجازت طلب کی آپ نے اجازت دے دی، پھر میں آیا توآٹا تیار تھا، میں نے اس کو روٹیاں پکانے کا کہا اور ہنڈیا کو چولہے پر چڑھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سرگوشی کی ، میں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تھوڑا سا کھانا ہے، اگر آپ اور آپ کے ساتھ ایک یا دو آدمی میرے ساتھ شریک آجائیں تو بہتر ہے، آپ نے پوچھا کہ وہ کتنا ہے ؟ میں نے عرض کیا ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچہ ہے، آپ نے فرمایا اپنے گھر جاؤ اور گھر والوں سے کہو کہ ہنڈیا کو چولہے سے نہ اتاریں اور روٹیوں کو تنور سے نہ نکالیں یہاں تک کہ میں آ جاؤں۔ (٣) پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جابر کے گھر کی طرف چلو ، کہتے ہیں کہ مجھے ایسی شرم آئی کہ اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تیری ماں تجھے روئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے گھر تمام صحابہ کے ساتھ آ رہے ہیں، اس نے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کھانے کا پوچھا تھا ؟ میں نے کہا جی ہاں ! اس نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے ان کو اپنا کھانا بتلا دیا ہے، میری پریشانی کم ہوگئی اور میں نے کہا کہ تم نے سچ کہا۔ (٤) کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اندر داخل ہوگئے اور آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ ہجوم نہ کرو، پھر آپ نے تنور اور ہنڈیا پر برکت کی دعا فرمائی، اور ہم تنور سے روٹی اور ہنڈیا سے گوشت لیتے رہے اور ثرید بنا کر لوگوں کو پیش کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک پیالے پر سات یا آٹھ آدمی بیٹھیں ، جب انہوں نے کھالیا تو ہم نے تنور سے پردہ ہٹایا اور ہنڈیا سے ڈھکن اٹھایا، تو وہ پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے تھے، پھر ہم ثرید کرتے اور چمچ بھر کر اس میں ڈالتے اور ان کے قریب کرتے اور ایسا ہی کرتے رہے، جب بھی تنور کھولتے اور ہنڈیا کھولتے ان کو پہلے سے زیادہ بھرا ہوا پاتے، یہاں تک کہ تمام مسلمان سیر ہوگئے ، اور کھانا بھی بچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ لوگوں کو بھوک لگی ہے اس لئے تم کھاؤ اور کھلاؤ، کہتے ہیں کہ ہم سارا دن کھاتے اور کھلاتے رہے، کہتے ہیں کہ ہم اس وقت آٹھ سو یا تین سو تھے۔
حدیث نمبر: 33871
٣٣٨٧١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي عن جابر قال: توفي أو استشهد عبد اللَّه بن عمرو بن حرام، فاستعنت برسول اللَّه ﷺ على غرمائه أن يضعوا من (دينهم) (١) شيئًا فأبوا، فقال لي رسول اللَّه ﷺ: "اذهب فصنف تمرك أصنافا ثم أعلمني"، قال: ففعلت (فجعلت) (٢) العجوة على حدة وصنفته أصنافًا، ثم أعلمت رسول اللَّه ﷺ قال: فجاء فقعد على أعلاه أو في وسطه ثم قال: "كِلْ للقوم"، فكلت لهم حتى وفيتهم و (بقي) (٣) تمري كأنه لم ينقص منه شيء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن حرام فوت ہوئے، یا فرمایا کہ شہید ہوئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے قرض خواہوں پر مدد چاہی کہ وہ اپنے قرضے سے کچھ چھوڑ دیں، انہوں نے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور اپنی کھجوروں کی ڈھیریاں لگاؤ اور پھر مجھے بتاؤ، کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا اور عجوہ کو علیحدہ کیا اور علیحدہ علیحدہ ڈھیریاں لگا دیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ان کے اوپر کی طرف یا ان کے درمیان میں بیٹھ گئے پھر فرمایا کہ لوگوں کے لئے وزن کرو، میں نے وزن کیا یہاں تک کہ ان کو پورا پورا دے دیا، اور میری کھجوروں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔
حدیث نمبر: 33872
٣٣٨٧٢ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن أنيس بن أبي يحيى عن إسحاق بن سالم عن أبي هريرة قال: خرج علي رسول اللَّه ﷺ يومًا فقال: "ادع لي أصحابك"، -يعني أصحاب الصفة-، فجعلت أتبعهم رجلًا رجلًا أوقظهم حتى جمعتهم، فجئنا باب رسول اللَّه ﷺ فاستأذنا، فأذن لنا، قال أبو هريرة: ووضعت بين أيدينا صحفة فيها صنيع قدر (مدٍ من) (١) شعير، قال: فوضع رسول اللَّه ﷺ يده ⦗٤٤٣⦘ عليها، فقال: "خذوا بسم اللَّه"، فأكلنا ما شئنا، ثم رفعنا أيدينا، فقال رسول اللَّه ﷺ حين وضعت الصحفة: "والذى نفس محمد بيده ما أمسى في آل محمد طعام غير شيء ترونه"، فقيل لأبي هريرة: قدركم كانت حين (فرغتم؟) (٢) قال: مثلها (٣) حين وضعت إلا أن فيها أثر الأصابع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ میرے پاس اپنے ساتھیوں کو بلاؤ یعنی اصحاب صفہ کو، میں ایک ایک آدمی کو تلاش کرنے لگا، اور ان کو بیدار کر کے جمع کرنے لگا، پھر ہم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئے اور اجازت چاہی آپ نے اجازت دے دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے ایک پیالہ رکھا گیا جس میں ایک مد جو کے بقدر کھانا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ اللہ کے نام پر لے لو، ہم نے جتنا چاہا کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ پیالہ رکھا گیا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے آل محمد میں اس کے علاوہ کوئی کھانا نہیں جو تم دیکھ رہے ہو، حضرت ابوہریرہ سے کہا گیا کہ جب تم فارغ ہوئے اس وقت کتنا بچا ہوا تھا ؟ انہوں نے فرمایا اتنا ہی جتنا رکھتے ہوئے تھا، مگر اس میں انگلیوں کے نشانات تھے۔
حدیث نمبر: 33873
٣٣٨٧٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال ثنا موسى الجهني عن الشعبي قال: سمعته يقول قال: نبي اللَّه ﷺ لجلسائه (يومًا) (١): "أيسركم أن تكونوا ثلث أهل الجنة"، قالوا: اللَّه ورسوله أعلم، قال: " (أفيسركم) (٢) أن تكونوا نصف أهل الجنة"، قالوا: اللَّه ورسوله أعلم، قال: "فإن أمتي يوم القيامة ثلثا أهل الجنة، إن الناس يوم القيامة عشرون ومائة صف، وإن أمتي من ذلك ثمانون صفًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ نے اپنے اھل مجلس سے فرمایا کہ کیا اس پر تم خوش ہو کہ تم اھل جنت کا ایک تہائی ہو ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا کہ پھر کیا تم اس پر خوش ہو کہ تم اہل جنت کا نصف ہو ؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا کہ پھر میری امت قیامت کے دن اہل جنت کا دو تہائی ہوگی، لوگ قیامت کے دن ایک سو بیس صفوں میں ہوں گے اور میری امت کی اسّی صفیں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 33874
٣٣٨٧٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبي سنان ضرار بن مرة عن محارب بن دثار عن ابن بريدة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أهل الجنة عشرون ومائة صف، هذه الأمة منها ثمانون صفًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، اور اس امت کی اسّی صفیں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 33875
٣٣٨٧٥ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن محمد بن (زياد) (١) قال: سمعت أبا أمامة الباهلي يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "وعدني ربي أن يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفًا، مع كل ألف سبعون ألفًا، لا حساب عليهم ولا عذاب، وثلاث حثيات من حثيات ربي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ باھلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میر ی امت میں سے ایسے ستر ہزار کو جنت میں داخل فرمائیں گے کہ ہر ہزار کے ساتھ ایسے ستر ہزار ہوں گے جن پر کوئی حساب ہوگا نہ عذاب، پھر میرے رب کی تین لپیں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 33876
٣٣٨٧٦ - حدثنا عفان قال: ثنا عبد الواحد بن زياد قال: حدثنا الحارث بن (حصيرة) (١) قال: ثنا القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه عن عبد اللَّه بن مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كيف (٢) أنتم (و) (٣) ربع الجنة، لكم ربعها، ولسائر الناس ثلاثة أرباعها"، (قال) (٤): فقالوا: اللَّه ورسوله أعلم، (قال: "فكيف) (٥) أنتم وثلثها؟ " قالوا: فذاك كثير، (قال: "فكيف) (٦) أنتم والشطر؟ "، قالوا: فذاك أكثر، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أهل الجنة يوم القيامة عشرون ومائة صف، أنتم ثمانون صفًا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے جنت کے ایک چوتھائی حصّے کے بارے میں، کہ تمہارے لئے اس کا ایک چوتھائی اور بقیہ لوگوں کے لئے تین چوتھائی ہو ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، پھر فرمایا کہ پھر جنت کے ایک تہائی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو بہت ہے، پھر آپ نے فرمایا کہ تم نصف کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو بہت ہی زیادہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت قیامت کے دن ایک سو بیس صفوں میں ہوں گے اور تم اسّی صفوں میں ہو گے۔
حدیث نمبر: 33877
٣٣٨٧٧ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن زيد قال: ثنا بديل عن عبد اللَّه بن شقيق عن قيس بن عباد عن كعب قال: أهل الجنة عشرون ومائة صف، ثمانون من هذه الأمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور اس امت کی اسّی صفیں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 33878
٣٣٨٧٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لما انتهيت إلى سدرة المنتهى إذا ورقها أمثال آذان الفيلة، وإذا نبقها أمثال القلال، فلما غشيها من أمر اللَّه ما غشيها تحولت فذكرت الياقوت" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا تو اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جتنے تھے، اس کا پھل بڑے مٹکوں کی طرح تھا، جب اس کو اللہ کے حکم سے عجیب کیفیت طاری ہوئی تو وہ بدل گیا اور مجھے یاقوت یاد آگیا۔
…