کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
حدیث نمبر: 33799
٣٣٧٩٩ - (١) حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن عبد اللَّه بن الحارث عن عبد المطلب بن ربيعة أن أناسا من الأنصار قالوا للنبي ﷺ: إنا نسمع من قومك حتى يقول القائل منهم: إنما مثل محمد ﷺ مثل نخلة (أنبتت) (٢) في (كباء) (٣) قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "أيها الناس، من أنا؟ " قالوا: أنت رسول اللَّه ﷺ، فقال: "أنا محمد ابن عبد اللَّه بن عبد المطلب"، (قال) (٤): فما سمعناه انتمى قبلها قط، ثم قال: "ألا إن اللَّه خلق خلقه (٥) ثم فرقهم فرقتين، فجعلني من خير (الفريقين) (٦) ثم جعلهم قبائل فجعلني من خيرهم قبيلة (٧)، فأنا خيركم ⦗٤٠٨⦘ بيتا وخيركم نفسًا" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
عبد المطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ ہم آپ کی قوم سے سنتے ہیں اور کہنے والے کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کی مثال تو اس درخت کی سی ہے جو کسی میدان میں اگ جائے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو ! میں کون ہوں ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ پر سلام ہو، آپ نے فرمایا : میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں، کہتے ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے اس نسبت کو بیان کرتے نہیں سنا، پھر فرمایا خبردار ! بیشک اللہ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا اور ان کو دو جماعتوں میں تقسیم فرما دیا پھر مجھے بہترین جماعت میں کردیا، پھر ان کے قبیلے بنائے اور مجھے بہترین قبیلے میں بنایا، پس میں گھر کے اعتبار سے بھی تم سب سے بہتر ہوں اور نفس کے اعتبار سے بھی تم سے بہتر ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33799
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه أحمد (١٧٥١٥)، والترمذي (٣٧٥٨)، والنسائي في الكبرى (٨١٧٦)، والحاكم ٣/ ٣٣٣، والطبراني ٢/ ٦٧٢، والبيهقي في دلائل النبوة ١/ ١٦٨، وابن أبي عاصم في السنة (١٤٩٧)، وابن شبة في تاريخ المدينة ٢/ ٦٣٩، ويعقوب الفسوي في المعرفة ١/ ٢٩٥، وبنحوه ابن ماجه (١٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33799، ترقيم محمد عوامة 32296)
حدیث نمبر: 33800
٣٣٨٠٠ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال ثنا زهير بن محمد عن عبد اللَّه بن محمد عن الطفيل بن أبي عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إذا كان يوم القيامة كنت إمام الناس وخطيبهم وصاحب شفاعتهم ولا فخر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
اُبی ّ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا میں لوگوں کا امام، ان کا خطیب اور ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا اور مجھے کوئی فخر نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33800
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه بن محمد بن عقيل، أخرجه أحمد (١٢٤٨)، والترمذي (٣٦١٣)، وابن ماجه (٤٣١٤)، والحاكم ١/ ٧١، وعبد بن حميد (١٧١)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ٤٨٠، والضياء في المختارة (١١٧٩)، والشاشي (١٤٤٢)، والقزويني في التدوين ١/ ١٦٧، وابن أبي عاصم في السنة (٧٨٧)، وابن المبارك في الزهد (١٦١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33800، ترقيم محمد عوامة 32297)
حدیث نمبر: 33801
٣٣٨٠١ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (١) خرجت من نكاح لم أخرج من سفاح من لدن أدم لم يصبني سفاح الجاهلية" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نکاح سے پیدا ہوا ہوں، اور بدکاری سے پیدا نہیں ہوا آدم علیہ السلام سے اب تک، جاہلیت کی بدکاری مجھ تک نہیں پہنچی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33801
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر محمد بن علي تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33801، ترقيم محمد عوامة 32298)
حدیث نمبر: 33802
٣٣٨٠٢ - حدثنا هشيم أخبرنا سيار أخبرنا يزيد الفقير أخبرنا جابر بن عبد اللَّه أن رسول اللَّه ﷺ قال: "أعطيت خمسا لم يعطهن أحد (١): نصرت بالرعب مسيرة شهر، وجعلت لي الأرض (طهورًا) (٢) ومسجدا فأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة ⦗٤٠٩⦘ فليصل، وأحلت لي الغنائم ولم تحل لأحد قبلي (وأعطيت) (٣) الشفاعة، وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة وبعثت إلى الناس عامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئی ہیں جو کسی کو نہیں دی گئیں مجھے ایک مہینہ کی مسافت تک رعب کے ذریعے مدد دی گئی، اور زمین میرے لئے پاک اور نماز کی جگہ بنائی گئی، پس میری امت کے جس آدمی پر نماز کا وقت جہاں بھی آجائے پڑھ لے، اور میرے لئے غنیمتیں حلال کردی گئیں، اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کی گئیں، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی، اور پہلے نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33802
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٨)، ومسلم (٥٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33802، ترقيم محمد عوامة 32299)
حدیث نمبر: 33803
٣٣٨٠٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد (عن) (١) مجاهد ومقسم عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال: "أعطيت خمسا ولا أقوله فخرا: بعثت إلى الأحمر والأسود، وجعلت لي الأرض طهورا ومسجدا، (وأحل) (٢) لي (المغنم) (٣) ولم (يحل) (٤) لأحد قبلي، ونصرت بالرعب فهو يسير (أمامي) (٥) مسيرة شهر، وأعطيت الشفاعة فأخرتها لأمتي إلى يوم القيامة، وهي (نائلة) (٦) إن شاء اللَّه من لم يشرك باللَّه شيئًا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئی ہیں، اور میں ان کو فخر سے بیان نہیں کرتا ، مجھے سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا، اور میرے لئے زمین کو پاک اور نماز کی جگہ بنایا گیا، اور میرے لئے مال غنیمت حلا ل کردیا گیا، جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا، اور میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، کہ وہ میرے آگے ایک مہینہ دور کی مسافت تک چلتا ہے، اور مجھے شفاعت عطا کی گئی اور میں نے اس کو اپنی امت کے لئے قیامت کے دن تک مؤخر کردیا، اور ان شاء اللہ یہ ہر اس آدمی کو حاصل ہونے والی ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33803
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه أحمد (٢٢٥٦)، وابن أبي عاصم في السنة (٨٠٣)، والبزار (٣٤٦٠/ كشف)، والطبراني (١١٠٤٧)، والبيهقي ٢/ ٤٣٣، وعبد بن حميد (٦٤٣)، والآجري في الشريعة ٣/ ١٥٥٦ (١٠٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33803، ترقيم محمد عوامة 32300)
حدیث نمبر: 33804
٣٣٨٠٤ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد (بن) (١) عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "نصرت بالرعب، وأعطيت جوامع الكلم، ⦗٤١٠⦘ و (أحل) (٢) لي (المغنم) (٣)، وبينا أنا نائم أتيت بمفاتيح خزائن الأرض فتلت في يدي" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، اور مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ، اور میرے لئے مالِ غنیمت کو حلال کردیا گیا، اور اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھوں میں ڈال دی گئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33804
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، والحديث أخرجه البخاري (٢٩٧٧)، ومسلم (٥٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33804، ترقيم محمد عوامة 32301)
حدیث نمبر: 33805
٣٣٨٠٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي بردة (بن) (١) أبي موسى عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أعطيت خمسًا لم يعطهن نبي كان قبلي: بعثت إلى الأحمر والأسود، ونصرت بالرعب مسيرة شهر، وجعلت لي الأرض طهورًا ومسجدًا، وأحلت لي الغنائم ولم تحل لنبي كان قبلي، وأعطيت الشفاعة، فإنه ليس من نبي إلا (٢) قد سأل شفاعته وإني أخرت شفاعتي (٣) (جعلتها) (٤) لمن مات (٥) لا يشرك باللَّه شيئًا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں، مجھے سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ، اور میری ایک مہینہ کی مسافت تک رعب کے ذریعے مدد کی گئی، اور میرے لئے زمین کو پاک اور نماز کی جگہ بنایا گیا، اور میرے لئے مالِ غنیمت کو حلال کیا گیا، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہیں کیا گیا تھا، اور مجھے شفاعت کی دولت عطا کی گئی، کیونکہ ہر نبی نے اپنی شفاعت مانگ لی، اور میں نے اپنی شفاعت کو مؤخر کر کے ہر اس شخص کے لئے کیا ہے جو اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33805
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ ورواية من رواه مرسلًا لا تضر، لأن الأكثر على اتصاله، وأخرجه أحمد (١٩٧٣٥)، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٨/ ٢٥٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33805، ترقيم محمد عوامة 32302)
حدیث نمبر: 33806
٣٣٨٠٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسعود بن مالك عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني نصرت بالصبا، وأهلكت عاد بالدبور" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میر ی بادِ صبا کے ذریعے مدد کی گئی اور قوم عاد کو مغرب کی سمت کی ہوا سے ہلاک کیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33806
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٠٣٥)، ومسلم (٩٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33806، ترقيم محمد عوامة 32303)
حدیث نمبر: 33807
٣٣٨٠٧ - حدثنا يحيى بن أبي بكير عن زهير (بن) (١) محمد (عن) (٢) عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن محمد بن علي (بن) (٣) الحنفية أنه سمع علي بن أبي طالب يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "أعطيت ما لم يعط أحد من الأنبياء"، قلنا: يا رسول اللَّه ما هو؟ قال: "نصرت بالرعب، وأعطيت مفاتيح الأرض، وسميت أحمد، وجعل (التراب لي) (٤)، طهورا وجعلت أمتي خير (الأمم) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے وہ خوبیاں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟ فرمایا کہ میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، اور مجھے زمین کی کنجیاں عطا کی گئیں ، اور میرا نام احمد رکھا گیا اور مٹی کو میرے لئے پاک کرنے والا بنایا دیا گیا، اور میری امت کو سب سے بہترین امت بنایا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33807
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه بن محمد بن عقيل، أخرجه أحمد (٧٦٣)، والبزار (٦٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33807، ترقيم محمد عوامة 32304)
حدیث نمبر: 33808
٣٣٨٠٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن مسعر عن عبد الملك بن (ميسرة) (١) عن مصعب بن سعد قال: قال كعب: إن أول من يأخذ بحلقة باب الجنة فيفتح له: محمد ﷺ (٢)، ثم قرأ آية من التوراة: (أخرانا قدامنا) (٣) الآخرون الأولون.
مولانا محمد اویس سرور
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت کعب نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو شخص جنت کے دروازے کے حلقے کو پکڑے گا اور وہ کھل جائے گا محمد ﷺ ہیں، پھر انہوں نے توراۃ کی یہ آیت تلاوت فرمائی ” أخرانا قداما ، الآخِرُونَ الأَوَّلُونَ “۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33808
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33808، ترقيم محمد عوامة 32305)
حدیث نمبر: 33809
٣٣٨٠٩ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن أبي مالك الأشجعي عن ربعي عن حذيفة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "فضلنا على الناس بثلاث: (٢) جعلت لنا الأرض ⦗٤١٢⦘ كلها مسجدًا، وجعلت لنا تربتها إذا لم نجد الماء طهورًا، وأوتيت هذه الآيات من ليت كنز تحت العرش من آخر سورة البقرة، لم يعط منهن أحد قبلي، ولا (يعطى منه) (٣) أحد بعدي" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں عطا کی گئیں ہیں، ہمارے لئے پوری زمین نماز کی جگہ بنادی گئی ہے، اور ہمارے لیے اس کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ہے جبکہ ہم پانی کو نہ پائیں، اور یہ آیات مجھے عرش کے نیچے خزانے کے کمرے سے عطا کی گئی ہیں یعنی سورة بقرہ کی آخری آیات ، اس میں سے مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی، اور نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33809
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٢٢)، وأحمد (٢٣٢٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33809، ترقيم محمد عوامة 32306)
حدیث نمبر: 33810
٣٣٨١٠ - حدثنا مالك بن إسماعيل عن مندل عن الأعمش عن مجاهد عن عبيد ابن عمير عن أبي ذر قال: خرجت في طلب رسول اللَّه ﷺ فوجدته يصلي، فانتظرته حتى صلى، فقال: "أوتيت الليلة خمسا لم يؤتهن نبي قبلي: نصرت بالرعب فيرعب العدو (مني) (١) مسيرة شهر، وأرسلت إلى الأحمر والأسود، وجعلت لي الأرض طهورًا ومسجدًا، وأحلت لي الغنائم ولم تحل لأحد كان قبلي، وقيل: سل تعطه فأختبأتها فهي نائلة منكم من لم يشرك باللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا تو میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا ، پس میں آپ کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے نماز پڑھ لی، پھر آپ نے فرمایا : مجھے اس رات پانچ فضیلتیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں ، میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، پس دشمن ایک مہینے کی مسافت پر مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے، اور مجھے سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے، اور میرے لئے زمین کو پاک کرنے والا اور نماز کی جگہ بنادیا گیا ہے، اور میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا، اور کہا گیا کہ آپ سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا ، میں نے اس کو ذخیرہ کرلیا، پس یہ تم میں سے ہر اس شخص کو پہنچنے والا ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33810
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مندل، أخرجه أحمد (٢١٢٩٩)، وأبو داود (٤٨٩)، وابن حبان (٦٤٦٢)، والحاكم ٢/ ٤٢٤، والدارمي (٢٤٦٧)، والطيالسي (٤٧٢)، والبزار (٤٠٧٧)، وابن صالحد في زوائد زهد ابن المبارك (١٠٦٩)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ٢٧٧، والبيهقي في دلائل النبوة ٥/ ٤٧٣، واللالكائي (١٤٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33810، ترقيم محمد عوامة 32307)
حدیث نمبر: 33811
٣٣٨١١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن المختار عن أنس قال: قال النبي ﷺ: "أنا أول شفيع في الجنة"، وقال: "ما صدق (أحد) (١) من الأنبياء ما صدقت، وإن من الأنبياء لنبيًا ما صدقه من أمته إلا رجل واحد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں جنت میں پہلا شفیع ہوں، اور فرمایا کہ کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی میری کی گئی، اور انبیاء میں ایسے نبی بھی ہیں جن کی تصدیق ان کی امت میں ایک سے زائد آدمی نے نہیں کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33811
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٦)، وأحمد (١٢٤١٩)، وأصله عند البخاري (٦٥٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33811، ترقيم محمد عوامة 32308)
حدیث نمبر: 33812
٣٣٨١٢ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء: ٧٩] قال: يقعده على العرش (١).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد فرماتے ہیں کہ { عَسَی أَنْ یَبْعَثَک رَبُّک مَقَامًا مَحْمُودًا } کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش پر بٹھائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33812
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ ليث ضعيف، والمشهور أن المقام المحمود هو مقام الشفاعة، وهذا هو تفسير مجاهد للآية الثابت عنه كما في تفسير ابن جرير ١٥/ ١٤٤، وتفسير مجاهد ١/ ٣٦٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33812، ترقيم محمد عوامة 32309)
حدیث نمبر: 33813
٣٣٨١٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد عن عبيد بن عمير: ﴿وَإِنَّ لَهُ عِنْدَ (نَا) (١) لَزُلْفَى﴾ [ص: ٢٥]، قال: ذكر الدنو منه.
مولانا محمد اویس سرور
عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ { وَإِنَّ لَہُ عنْدَنَا لَزُلْفَی } میں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کا ذکر فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33813
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33813، ترقيم محمد عوامة 32310)
حدیث نمبر: 33814
٣٣٨١٤ - حدثنا الثقفي عن حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري، حافاته خيام اللؤلؤ، فضربت بيدي إلى الطين فإذا مسك أذفر"، قال: "فقلت لجبريل ما هذا؟ " قال: (هذا) (١) الكوثر الذي أعطاك اللَّه ﷿ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو ایک نہر دیکھی جس کے کناروں پر موتیوں کے خیمے تھے ، میں نے مٹی میں اپنا ہاتھ مارا تو خوشبودار مشک تھی، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ کوثر ہے جو اللہ عزوجلّ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33814
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٠٠٨)، وابن حبان (٦٤٧٣)، والحاكم ١/ ٧٩، وأبو يعلى (٣٨٢٣)، والنسائي في الكبرى (١١٧٠٦)، والبغوي (٤٣٤٣)، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٦١٢)، وهناد (١٣٤)، والآجري في الشريعة ص ٣٩٦، والخطيب ١١/ ٤٥، وأصله عند مسلم (٤٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33814، ترقيم محمد عوامة 32311)
حدیث نمبر: 33815
٣٣٨١٥ - حدثنا علي بن مسهر عن المختار عن أنس بن مالك قال: بينا رسول اللَّه ﷺ بين أظهرنا إذ أغفى إغفاءة ثم رفع رأسه متبسما فقلنا: ما (لك) (١) يا رسول اللَّه؟ قال: "نزلت علي آنفا سورة فقرأ: بسم اللَّه الرحمن الرحيم ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (١) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (٢) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾، ثم قال: "أتدرون ما ⦗٤١٤⦘ الكوثر؟ " قلنا: اللَّه ورسوله أعلم، قال: "فإنه نهر وعدنيه ربي عليه خير كثير، هو حوض ترد عليه يوم القيامة أمتي، آنيته عدد النجوم، فيختلج العبد منهم، فأقول: رب، أنه من أصحابي، فيقول: لا، إنك لا تدري ما أحدث بعدك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھے تھے کہ آپ کو ایک اونگھ آئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا ، ہم نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کیا ہوا َ ؟ فرمایا کہ ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا {إنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إنَّ شَانِئَک ہُوَ الأَبْتَرُ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا کہ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر بہت سی خیر ہے، اور وہ حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں، پس ایک بندہ اس سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ اے میرے رب ! بیشک یہ میرے ساتھیوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، نہیں تم نہیں جانتے کہ اس نے تمہارے بعد کیا بدعت جاری کی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33815
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٤٠٠)، وأحمد (١١٩٩٦)، وأصله في البخاري (٦٥٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33815، ترقيم محمد عوامة 32312)
حدیث نمبر: 33816
٣٣٨١٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن خولة بنت حكيم قالت: قلت: يا رسول اللَّه، إن لك حوضا؟ قال: "نعم، وأحب من ورده الي قومك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
خولہ بنت حکیم کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ کا کوئی حوض ہے ؟ فرمایا جی ہاں ! اور اس پر آنے والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33816
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33816، ترقيم محمد عوامة 32313)
حدیث نمبر: 33817
٣٣٨١٧ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن المهاجر بن المسمار عن عامر بن (سعد) (١) قال: (كتبت) (٢) إلى جابر بن سمرة: أخبرني بشيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ، قال: فكتب (إليَّ) (٣): سمعته يقول: "أنا الفرط على الحوض" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
عامر بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے جاببر بن سمرہ کو لکھا کہ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے لکھا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں حوض پر پہلے سے پہنچنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33817
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ المهاجر صدوق، أخرجه مسلم (١٨٢١)، وأحمد وابنه (٢٠٨٦٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33817، ترقيم محمد عوامة 32314)
حدیث نمبر: 33818
٣٣٨١٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن إسماعيل عن قيس عن (الصنابح) (١) قال: (سمعته يقول) (٢): سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "أنا ⦗٤١٥⦘ فرطكم على الحوض" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
صُنابح فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میں تمہارے لیے حوض پر پہلے پہنچنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33818
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٩٠٦٩)، وابن ماجه (٣٩٤٤)، وابن حبان (٦٤٤٦)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٣٩)، والحميدي (٧٨٠)، والبخاري في الصغير ١/ ١٦٨، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٢٢٠، وابن قانع ٢/ ٢٣، وابن بشكوال في الحوض (٤٦)، والطبراني (٧٤١٦)، وابن الأثير ٣/ ٣٥، وأبو يعلى (١٤٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33818، ترقيم محمد عوامة 32315)
حدیث نمبر: 33819
٣٣٨١٩ - حدثنا أبو أسامة وابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن (خبيب) (٢) بن عبد الرحمن عن حفص بن عاصم عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما بين قبري ومنبري روضة من رياض الجنة، ومنبري على (حوضي) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری قبر اور منبر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے، اور میرا منبر میرے حوض پر ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33819
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ إلا لفظة: (قبري) فهي شاذة، فقد رواه محمد بن عبيد ويحيى القطان ونوح بن ميمون عن عبيد اللَّه بلفظ: (بيتي)، واختلف على ابن نمير ومحمد بن بشر، ورواه مالك وشعبة عن خبيب بلفظ: (بيتي)، ومن طريق المؤلف أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (٧٣١) بلفظ: (قبري)، وأخرجه أبو نعيم في مستخرج مسلم بلفظ: (بيتي) ٤/ ٥٤ (٣٢١٣)، والحديث أخرجه البخاري (٦٥٨٨)، ومسلم (١٣٩١) بلفظ: (بيتي).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33819، ترقيم محمد عوامة 32316)
حدیث نمبر: 33820
٣٣٨٢٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي وائل عن (عبد اللَّه) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أنا فرطكم على الحوض" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حوض پر تمہارے لیے تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33820
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٧٥)، ومسلم (٢٢٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33820، ترقيم محمد عوامة 32317)
حدیث نمبر: 33821
٣٣٨٢١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن رافع عن أم سلمة قالت: سمعت رسول اللَّه ﷺ على هذا المنبر يقول: "إني لكم سلف على الكوثر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں حوض پر تمہارے لیے تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33821
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33821، ترقيم محمد عوامة 32318)
حدیث نمبر: 33822
٣٣٨٢٢ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن (محارب بن دثار) (١) عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الكوثر نهر في الجنة حافتاه من ذهب، ومجراه على الياقوت والدر، تربته أطيب من المسك، وماؤه أحلى من العسل وأشد بياضًا من الثلج" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوثر جنت کی نہر ہے ، اس کے کنارے سونے کے ہیں اور اس کے بہنے کی جگہ یاقوت اور موتی پر ہے، اس کی مٹی مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور برف سے زیادہ سفید ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33822
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ ابن فضيل روى عن عطاء بعد اختلاطه، أخرجه أحمد (٥٣٥٥)، وابن ماجه (٤٣٣٤)، والترمذي (٣٣٦١)، وهناد في الزهد (١٣٢)، والبغوي (٤٣٤١)، والدارمي ٢/ ٣٣٧، والطبري في التفسير ٣٠/ ٣٢٤، وأبو نعيم في صفة الجنة (٣٢٦)، والطبراني (١٣٣٠٦)، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٦١٣)، والطيالسي (١٩٣٣)، وابن أبي حاتم في التفسير (١٩٥٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33822، ترقيم محمد عوامة 32319)
حدیث نمبر: 33823
٣٣٨٢٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد الملك بن عمير عن جندب قال: سمعت النبي ﷺ يقول: "أنا فرطكم على الحوض" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جند ب فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہارے لئے حوض پر پہلے پہنچنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33823
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٨٩)، ومسلم (٢٢٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33823، ترقيم محمد عوامة 32320)
حدیث نمبر: 33824
٣٣٨٢٤ - حدثنا (محمد) (١) بن بشر قال حدثنا عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أمامكم حوضا كما بين جرباء وأذرح" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک تمہارے سامنے ایسا حوض ہے جو ’ جربائ ‘ اور ’ اذرح ‘ کی درمیانی مسافت کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33824
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٧٧)، ومسلم (٢٥٩٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33824، ترقيم محمد عوامة 32321)
حدیث نمبر: 33825
٣٣٨٢٥ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن (أنيس) (١) بن أبي يحيى عن أبيه عن أبي سعيد قال: خرج رسول اللَّه ﷺ ونحن في المسجد، وهو عاصب رأسه بخرقة في المرض الذي مات فيه، فأهوى قبل المنبر فاتبعناه فقال: "والذي نفسي بيده إني لقائم ⦗٤١٧⦘ على الحوض الساعة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، اور ہم مسجد میں تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر پٹی باندھ رکھی تھی، اس مرض میں جس میں آپ کی وفات ہوئی، آپ منبر کی طرف چلے ، ہم آپ کے پیچھے چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے میں اس وقت گویا کہ حوض پر کھڑا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33825
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو يحيى صدوق، قال النسائي: "لا بأس به"، أخرجه أحمد (١١٨٨٢)، وابن حبان (٦٥٩٣)، والحاكم ٤/ ٢٨٢، وعبد بن حميد (٩٦٤)، وأبو يعلى (١١٥٥) وابن سعد ٢/ ٢٣٠، وابن عساكر ٣٠/ ٢٤٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33825، ترقيم محمد عوامة 32322)
حدیث نمبر: 33826
٣٣٨٢٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن أبي وائل عن حذيفة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليردن على حوضي أقوام (فيختلجون) (١) دوني" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہت سے لوگ میرے حوض پر آئیں گے لیکن مجھ سے دور روک دیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33826
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ لكن الأكثر على أنه من حديث ابن مسعود، حديث حذيفة أخرجه مسلم (٢٢٩٧) (٥٩٨١)، وأحمد (٢٣٢٢٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33826، ترقيم محمد عوامة 32323)
حدیث نمبر: 33827
٣٣٨٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن مرة عن رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: قام فينا رسول اللَّه ﷺ (فقال) (١): "إني فرطكم على الحوض" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
مُرّہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی سے نقل فرماتے ہیں، فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حوض پر تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33827
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٥٤٤)، والنسائي (٤٠٩٩)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٢)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٣٢)، والعقيلي ٢/ ٩٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33827، ترقيم محمد عوامة 32324)
حدیث نمبر: 33828
٣٣٨٢٨ - حدثنا هاشم بن القاسم ثنا عبد الرحمن بن عبد اللَّه بن دينار عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " [أنا فرطكم على الحوض من ورد علي شرب منه ومن شرب منه لم يظمأ أبدا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حوض پر تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں، جو میرے پاس آئے گا اس میں سے پی لے گا، اور جو اس سے پی لے گا اس کو کبھی پیاس نہ لگے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33828
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الرحمن بن عبد اللَّه بن دينار صدوق، أخرجه البخاري (٧٠٥٠)، ومسلم (٢٢٩٠)
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33828، ترقيم محمد عوامة 32325)
حدیث نمبر: 33829
٣٣٨٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا شعبة عن قتادة عن أنس عن أسيد بن ⦗٤١٨⦘ (حضير) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ] (٢): "إنكم سترون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسید بن حضیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب تم میرے بعد ترجیح دیکھو گے ، پس صبر کرو یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33829
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٠٥٧)، ومسلم (١٨٤٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33829، ترقيم محمد عوامة 32326)
حدیث نمبر: 33830
٣٣٨٣٠ - [حدثنا عفان حدثنا وهيب حدثنا عمرو بن يحيى عن عباد بن تميم عن عبد اللَّه بن زيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ للأنصار: "إنكم ستلقون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ تم عنقریب میرے بعد ترجیح دیکھو گے، پس صبر کرو یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33830
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٣٠)، ومسلم (١٠٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33830، ترقيم محمد عوامة 32327)
حدیث نمبر: 33831
٣٣٨٣١ - حدثنا عفان حدثنا وهيب ثنا عبد اللَّه بن عثمان بن خثيم عن ابن أبي مليكة عن عائشة قالت: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إني على الحوض أنتظر من يرد علي الحوض" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میں حوض پر پانی پینے کے لئے آنے والوں کا منتظر ہوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33831
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢٩٤)، وأحمد (٢٤٩٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33831، ترقيم محمد عوامة 32328)
حدیث نمبر: 33832
٣٣٨٣٢ - حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي عن أبي عمران الجوني عن عبد اللَّه بن الصامت عن أبي ذر قال: قلت: يا رسول اللَّه، ما آنية الحوض؟ قال: "والذي نفسي بيده لآنيته أكثر من عدد نجوم السماء وكواكبها في الليلة المظلمة المصحية، من شرب منها لم يظمأ، عرضه مثل طوله ما بين عمان إلى أيلة، ماؤه أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حوض کے برتن کیسے ہوں گے ؟ فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس کے برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں، اور اس کے ستاروں سے مراد صاف آسمان والی رات کے ستارے ہیں، جس نے اس سے پی لیا وہ پیاسا نہ ہوگا، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کی طرح عمان سے أیلہ کی درمیانی مسافت جتنی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33832
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٠٠)، وأحمد (٢١٣٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33832، ترقيم محمد عوامة 32329)
حدیث نمبر: 33833
٣٣٨٣٣ - حدثنا محمد بن بشر عن سعيد عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد عن معدان بن أبي طلحة اليعمري عن ثوبان مولى رسول اللَّه ﷺ أن النبي ﷺ قال: "أنا ⦗٤١٩⦘ عند عقر حوضي، أذود عنه الناس لأهل (اليمن إني) (١) لأضربهم بعصاي حتى (ترفض) (٢) "، قال فسئل (نبي اللَّه) (٣) ﷺ عن سعة الحوض، فقال: "هو ما بين مقامي هذا إلى عمان ما بينهما شهر أو نحو ذلك"، فسئل نبي اللَّه ﷺ عن شرابه فقال: "أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل، يصب فيه ميزابان مداده أو مدادهما من الجنة أحدهما ورق والآخر ذهب" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثوبان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے حوض کے پانی پینے کی جگہ ہوں گا، اور اہل یمن کے لیے لوگوں کو دور ہٹاؤں گا یہاں تک کہ لوگ چھٹ جائیں گے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کی وسعت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ وہ میری اس جگہ سے عمّان کی درمیانی مسافت تک ہے، ان دونوں علاقوں کے درمیان ایک ماہ یا اس کے قریب مسافت ہے، پھر نبی ﷺ سے اس کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس میں جنت سے دو پرنالے گریں گے جن کا بہاؤ جنت سے ہوگا، ایک پرنالہ چاندی کا اور دوسرا سونے کا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33833
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٠١)، وأحمد (٢٢٤٤٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33833، ترقيم محمد عوامة 32330)
حدیث نمبر: 33834
٣٣٨٣٤ - حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أبي بكرة أن رسول اللَّه ﷺ قال: "ليردن على الحوض رجال ممن صحبني ورآني حتى إذا رفعوا (١) اختلجوا دوني، فلأقولن: رَبِّ أصحابي، فليقالن: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حوض پر بہت سے لوگ آئیں گے جو میرے ساتھ رہے ہوں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا ہوگا ، یہاں تک کہ جب وہ میری طرف اٹھائے جائیں گے تو ان کو مجھ سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ اے میرے رب ! یہ میرے ساتھی ہیں، اللہ فرمائیں گے کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات جاری کی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33834
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (٢٠٤٩٤)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٦٥)، وابن عبد البر في التمهيد ٢/ ٢٩٣، وتمام (٣٨٧)، وابن بشكوال في ذيل جزء بقي (٥٥)، وابن عبد البر في التمهيد ٢/ ٢٩٢، والطبراني في مسند الشاميين (٢٦٦٠)، وابن عساكر ٣٦/ ٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33834، ترقيم محمد عوامة 32331)
حدیث نمبر: 33835
٣٣٨٣٥ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا أبو حيان عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: أُتيَّ رسول اللَّه ﷺ يومًا بلحم فرفعت إليه الذراع، وكانت تعجبه، (فنهس منها نهسة) (١) ثم قال: "أنا سيد الناس يوم القيامة؛ وهل تدرون بم ذاك؟ يجمع اللَّه يوم ⦗٤٢٠⦘ القيامة الأولين والآخرين في صعيد واحد، (فيسمعهم) (٢) الداعي، (و) (٣) ينفذهم البصر وتدنو الشمس، فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون، فيقول بعض الناس لبعض (٤): ألا ترون ما قد بلغكم، ألا تنظرون من يشفع لكم إلى ربكم؟ فيقول بعض الناس لبعض: أبوكم آدم (فيأتون) (٥) (آدم) (٦) فيقولون: يا آدم أنت أبو البشر، خلقك اللَّه (٧) بيده، ونفخ فيك من روحه وأمر الملائكة فسجدوا لك، اشفع لنا إلى ربك (٨)، ألا ترى ما نحن فيه، ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم: إن ربي (قد) (٩) (غضب اليوم غضبًا) (١٠) لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإنه نهاني عن الشجرة فعصيته، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى نوح، فيأتون نوحًا فيقولون: يا نوح أنت أول الرسل إلى أهل الأرض، وسماك اللَّه (١١) عبدًا شكورًا، اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه، ألا ترى ما قد بلغنا (إليه) (١٢)؟ فيقول لهم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإنه قد كانت لي دعوة دعوت بها على قومي، نفسي نفسي، اذهبوا إلى ⦗٤٢١⦘ غيري، اذهبوا إلى إبراهيم، فيأتون إبراهيم، فيقولون: يا إبراهيم، أنت نبي اللَّه وخليله من أهل الأرض، اشفع لنا إلى ربك (١٣) ألا ترى ما نحن فيه، ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم إبراهيم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، وذكر كذباته، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى موسى، فيأتون موسى فيقولون: يا موسى أنت رسول اللَّه (١٤)، فضلك اللَّه برسالته وبتكليمه على الناس، اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى إلى ما نحن فيه، ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم موسى: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، وإني قتلت نفسا لم أومر بقتلها، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى عيسى، فيأتون عيسى فيقولون: يا عيسى أنت رسول اللَّه، وكلمت الناس في المهد، وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه، اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى (١٥) ما نحن فيه، ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم عيسى: إن ربي قد غضب (اليوم) (١٦) غضبًا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، -ولم يذكر له ذنبا- نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى محمد ﷺ، فيأتوني فيقولون: يا محمد أنت رسول اللَّه وخاتم الأنبياء وغفر (اللَّه لك) (١٧) ما تقدم من ذنبك وما تأخر، اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فأنطلق فآتي تحت العرش فأقع ساجدا لربي، ثم يفتح اللَّه علي ويلهمني من محامده وحسن الثناء عليه شيئا لم يفتحه لأحد قبلي، ثم قيل: يا محمد ارفع رأسك، ⦗٤٢٢⦘ (سل) (١٨) تعطه، اشفع تشفع، فأرفع رأسي فأقول: يا رب أمتي يارب (١٩) أمتي، فيقال: يا محمد، أدخل من أمتك (الجنة) (٢٠) من لا حساب (عليهم) (٢١) من الباب الأيمن من أبواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الأبواب"، ثم قال: "والذي نفس محمد بيده إن ما بين المصراعين من (مصارع) (٢٢) الجنة لكما بين مكة وهجر أو كما بين مكة وبصرى" (٢٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن گوشت لایا گیا، آپ کو اس کا بازو کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک مرتبہ نوچا پھر فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا، اور تم جانتے ہو کہ یہ کس طرح ہوگا ؟ اللہ قیامت کے دن اولین و آخرین کو ایک میدان میں جمع فرمائیں گے، پس ایک پکارنے والے کی پکار ان کو سنوائیں گے اور ان کی نظریں تیز ہوجائیں گی، اور سورج قریب ہوجائے گا اور لوگوں کو اتنی تکلیف اور غم ہوگا کہ جس کی ان کے اندر طاقت نہ ہوگی، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ تمہیں کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ کیا تم کوئی ایسا شخص نہیں دیکھتے جو تمہارے رب کی طرف تمہاری سفارش کرے ؟ (٢) چناچہ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام ہیں، وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے آدم ! آپ انسانوں کے باپ ہیں ، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، اور آپ کے اندر اپنی جانب سے روح پھونکی، اور ملائکہ کو حکم دیا کہ آپ کو سجدہ کریں، ہمارے لئے اپنے رب کی طرف سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ ہماری مصیبت کو نہیں دیکھتے ؟ وہ فرمائیں گے کہ میرے رب آج ایسے غصہ میں ہیں کہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھے، اور اس کے بعد کبھی نہ ہوں گے، اور اللہ نے مجھے درخت کے پاس جانے سے منع فرمایا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی، مجھے تو اپنی جان کی امان چاہیے ، تم کسی اور کے پاس جاؤ تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، (٣) چناچہ وہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، اور کہیں گے اے نوح ! آپ زمین والوں کی طرف پہلے رسول ہیں، اور اللہ نے آپ کو شکر گزار بندے کا نام دیا ہے، ہمارے لئے اپنے رب کی طرف سفارش کیجیے ، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ نوح علیہ السلام ان سے فرمائیں گے کہ میرے رب آج ایسے غصے میں ہیں کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھے اور کبھی آج کے بعد نہ ہوں گے، اور میرے پاس ایک دعا کا اختیار تھا جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کردی، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٤) چناچہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے ابراہیم ! آپ اللہ کے نبی اور زمین والوں میں سے اس کے خلیل ہیں، ہمارے لئے اپنے رب کے ہاں سفارش فرمائیں ، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم پر کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ چناچہ ابراہیم علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ میرا رب آج ایسے غصے میں ہے کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھا، اور نہ کبھی اس کے بعد اس جیسے غصے میں ہوگا، اور وہ اپنے جھوٹ ذکر فرمائیں گے، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے ، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٥) چناچہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے ، اور کہیں گے اے موسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور ہم کلامی کے ذریعے فضیلت بخشی ، ہمارے لیے اپنے رب کی طرف سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ چناچہ موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسے غصے میں ہے کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھا او کبھی اس کے بعد نہ ہوگا، اور میں نے ایک ایسی جان کو قتل کیا تھا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں تھا، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٦) چناچہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ نے لوگوں سے پن گھوڑے میں بات کی، اور آپ اللہ کا کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا تھا، اور اس کی روح ہیں، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ چناچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ میرا رب آج ایسے غصے میں ہے کہ اس سے پہلے ایسے غصے میں نہیں تھا اور نہ اس کے بعد ایسے غصے میں ہوگا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کوئی گناہ ذکر نہیں فرمایا، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے ، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، تم محمد ﷺ کے پاس چلے جاؤ۔ (٧) چناچہ وہ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمد ! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اور اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمائے ہیں ، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کیجیے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے ؟ میں عرش کے نیچے جاؤں گا اور اپنے رب کو سجدہ کرنے کے لئے گر جاؤں گا، پھر اللہ میرا سینہ کھولیں گے ، اور مجھے اپنی حمدو ثناء القاء فرمائیں گے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے کسی کو القاء نہیں فرمائی ہوگی، پھر کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھائیے ، سوال کیجیے، آپ کو عطا کیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبو
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33835
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٤٠)، ومسلم (١٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33835، ترقيم محمد عوامة 32332)
حدیث نمبر: 33836
٣٣٨٣٦ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان عن (سلمان) (١) قال: تعطى الشمس يوم القيامة حر عشر سنين، ثم (تُدنى) (٢) من جماجم الناس حتى (تكون) (٣) قاب قوسين، (فيعرقون) (٤) حتى يرشح العرق قامة في الأرض ثم يرتفع حتى يغرغر الرجل، قال سلمان: حتى يقول الرجل: غر غر، فإذا (رأوا) (٥) ما هم فيه، قال بعضهم لبعض: ألا ترون ما أنتم فيه، ائتوا أباكم آدم فليشفع لكم إلى ربكم، فيأتون آدم فيقولون: يا أبانا، أنت الذي خلقك اللَّه بيده ونفخ فيك من روحه وأسكنك جنته، قم فاشفع لنا إلى ربنا فقد ترى ما نحن فيه، فيقول: لست ⦗٤٢٣⦘ (هناك) (٦) ولست بذاك، فاين الفعلة، فيقولون: إلى من تأمرنا؟ فيقول: ائتوا عبدا جعله اللَّه شاكرًا، فيأتون نوحًا فيقولون: يا نبي اللَّه، أنت الذي جعلك اللَّه شاكرًا، وقد ترى ما نحن فيه، (فقم) (٧) (فاشفع لنا إلى ربك) (٨) فيقول: لست هناك ولست بذاك، فأين الفعلة؟ فيقولون إلى من تأمرنا؟ فيقول: [ائتوا خليل الرحمن إبراهيم، فيأتون إبراهيم فيقولون: يا خليل الرحمن، قد ترى ما نحن فيه فاشفع لنا إلى (ربك) (٩)، فيقول: لست هناك ولست بذاك، فأين الفعلة؟ فيقولون: إلى من تأمرنا؟] (١٠) فيقول: [ائتوا موسى عبدًا اصطفاه اللَّه برسالته وبكلامه، فيأتون موسى فيقولون: قد ترى ما نحن فيه فاشفع لنا إلى ربنا، فيقول: ليست هناك ولست بذاك، فأين الفعلة؟ فيقولون: إلى من تأمرنا؟ فيقول] (١١): ائتوا كلمة اللَّه وروحه عيسى (ابن مريم) (١٢) فيأتون عيسى فيقولون: يا كلمة اللَّه وروحه، قد ترى ما نحن فيه، فاشفع لنا إلى ربنا، فيقول: لست هناك ولست بذاك، فأين الفعلة؟ فيقولون: إلى من تأمرنا؟ فيقول: ائتوا عبدًا فتح اللَّه به وختم، وغفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، (ويجيء) (١٣) في هذا اليوم (آمنًا) (١٤)، فيأتون محمدًا ﷺ (١٥) فيقولون: يا نبي اللَّه (أنت ⦗٤٢٤⦘ الذي) (١٦) فتح اللَّه بك وختم، وغفر لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر، وجئت في هذا اليوم آمنًا، وقد ترى ما نحن فيه، فاشفع لنا إلى ربنا، فيقول: أنا صاحبكم فيخرج (يحوش) (١٧) الناس حتى ينتهي إلى باب الجنة، فيأخذ بحلقة في الباب من ذهب، فيقرع الباب فيقال: من هذا؟ (فيقال) (١٨): محمد، قال: (فيفتح) (١٩) له فيجيء حتى يقوم بين يدي اللَّه فيستأذن (في السجود) (٢٠) فيؤذن له، فيسجد فينادى: يا محمد، ارفع رأسك، سل تعطه، واشفع تشفع، وادع تجب، قال: فيفتح اللَّه عليه من الثناء والتحميد والتمجيد ما لم يفتح لأحد من الخلائق، قال: فيقول: "رب أمتي أمتي"، ثم يستأذن في السجود فيؤذن له فيسجد، فيفتح اللَّه عليه من الثناء والتحميد والتمجيد ما لم يفتح لأحد من الخلائق، وينادى: يا محمد (يا محمد) (٢١) ارفع رأسك سل تعطه، واشفع تشفع، وادع تجب، فيرفع رأسه (فيقول) (٢٢): "يا رب أمتي أمتي"، -مرتين أو ثلاثًا- قال سلمان: فيشفع في كل من كان في قلبه مثقال حبة من حنطة من إيمان، أو مثقال شعيرة من إيمان، أو مثقال حبة خردل من إيمان، فذلكم المقام المحمود (٢٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سورج کو دس سال کی گرمی دے دی جائے گی، پھر اس کو لوگوں کے سروں کے قریب کردیا جائے گا یہاں تک کہ دو کمانوں کے درمیانی فاصلے کی دوری پر ہوگا، چناچہ لوگوں کو پسینہ آئے گا یہاں تک کہ پسینہ زمین میں قد آدم ہوجائے گا، پھر بلند ہوگا یہاں تک کہ آدمی ” غر غر “ کہے گا ، سلمان فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ آدمی غر غر کہنے لگے گا، جب وہ اپنی حالت دیکھیں گے تو ایک دوسرے کو کہیں گے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تم کس حالت میں ہو ؟ اپنے باپ آدم علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ تمہارے لئے تمہارے رب کی طرف سفارش کرے ، چناچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے باپ ! آپ ہی ہیں جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، اور آپ میں روح پھونکی، اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا، اٹھیے اور ہمارے لئے سفارش کیجئے، کیا آپ ہماری حالت کو دیکھ رہے ہیں، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور میں اس مرتبہ کا نہیں، تو میں ایسا کس طرح کروں ؟ وہ کہیں گے کہ پھر آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں ؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اس بندے کے پاس جاؤ جس کو اللہ نے شکر گذار قرار دیا ہے۔ (٢) چناچہ وہ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ کے نبی ! آپ ہی ہیں جن کو اللہ نے شکر گذار قرار دیا ہے ، اور آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں، اٹھیے اور ہمارے لیے سفارش کیجئے ، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں اور میرا یہ مرتبہ نہیں، پس میں یہ کیسے کروں، وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں ؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٣) چناچہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے خلیل ! آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں، پس ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور میں اس مرتبے کا نہیں، میں کیسے یہ کام کروں ؟ وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں ؟ وہ فرمائیں گے کہ تم موسیٰ کے پاس جاؤ، جن کو اللہ نے اپنی رسالت اور اپنی ہم کلامی کے لیے چنا تھا۔ (٤) چناچہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، اور کہیں گے کہ آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں پس ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں اور میں اس مرتبے کا نہیں، میں ایسا کیسے کروں ؟ وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں ؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اللہ کے کلمہ اور اس کی روح عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٥) چناچہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے کلمہ اور اے روح اللہ ! آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں پس ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں اور میں اس مرتبے کا نہیں، ایسا کیسے کروں ؟ وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں ؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اس بندے کے پاس جاؤ جس کے ذریعے اللہ نے کھولا اور جس کے ذریعے مہر لگائی، اور اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمائے ، اور وہ اس دن امن کے ساتھ آئیں گے۔ (٦) چناچہ وہ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ ہی ہیں جس کے ذریعے اللہ نے کھولا اور جس کے ذریعے مہر لگائی، اور آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمائے، اور اس دن آپ امن کے ساتھ آئے، اور آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں، پس ہمارے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ چناچہ آپ لوگوں کو ہٹاتے ہوئے نکلیں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے پر آئیں گے، اور درواز میں لگے ہوئے سونے کے حلقے کو پکڑیں گے اور دروازہ کھٹکھٹائیں گے ، پس کہا جائے گا یہ کون ہے ؟ جواب دیا جائے گا کہ یہ محمد ہیں، کہتے ہیں کہ پھر آپ کے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا، پھر آپ آئیں گے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ، اور سجدے کی اجازت چاہیں گے، اور آپ کو اجازت دی جائے گی تو آپ سجدہ کریں گے، چناچہ آپ کو پکارا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھائیے ، سوال کیجئے ، آپ کو دیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، اور دعا کیجئے آپ کی دعا قبول کی جائے گی، کہتے ہیں کہ پھر اللہ آپ کے دل پر ایسی حمدو ثناء القاء فرمائیں گے جو مخلوقات میں کسی کو القاء نہیں ہوئی ہوگی، آپ فرمائیں گے اے رب ! میری اُمت، میری امت، پھر سجدے کی اجازت مانگیں گے، پھر آپ کو اجازت دی جائے گی اور آپ سجدہ کریں گے ، پھر اللہ آپ کے دل میں ایسی حمد وثناء القاء فرمائیں گے جو مخلوقات میں سے کسی کو القاء نہیں ہوئی ہوگی، اور پکارا جائے گا اے محمد ! اے محمد ! اپنا سر اٹھائیے، مانگیے آپ کو دیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، اور دعا کیجئے آپ کی دعا قبول کی جائے گی، آپ اپنا سر اٹھائیں گے اور فرمائیں گے اے رب ! میری امت، میری امت، دو یا تین مرتبہ، حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ آپ کی س
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33836
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٨٥٠)، وابن أبي عاصم في السنة (٨١٣)، والطبراني (٦١١٧)، وابن المبارك في الزهد (٣٤٧)، وهناد (٣٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33836، ترقيم محمد عوامة 32333)
حدیث نمبر: 33837
٣٣٨٣٧ - حدثنا (يحيى بن آدم) (١) (ثنا) (٢) إسرائيل عن أبي إسحاق عن عبد اللَّه ابن غالب عن حذيفة قال: سيد ولد آدم يوم القيامة محمد ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ غالب روایت کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اولاد آدم کے سردار محمد ﷺ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33837
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن غالب صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٢٩٥)، ومسدد والحارث كما في إتحاف الخيرة (٨٥٤٩ - ٨٥٥١)، وأخرجه مرفوعًا الحاكم ٤/ ٥٧٣، والطبراني في الأوسط (١٥٦٢)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣٤٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33837، ترقيم محمد عوامة 32334)
حدیث نمبر: 33838
٣٣٨٣٨ - حدثنا محمد بن بشر ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس عن النبي ﷺ قال: "يجتمع المؤمنون يوم القيامة فيقولون: لو استشفعنا إلى ربنا -ويلهمون ذلك- فأراحنا من مكاننا هذا، فيأتون فيقولون له: يا آدم، أنت أبو البشر! وخلقك اللَّه بيده ونفخ فيك من روحه، وعلمك أسماء كل شيء، فاشفع لنا إلى ربنا يرحنا من مكاننا هذا، قال: لست (هناكم) (١)، ويشكو إليهم أو يذكر خطيئته التي أصاب، فيستحيي ربه، ولكن ائتوا نوحًا فإنه أول رسول أرسل إلى أهل الأرض، فيأتون نوحًا، فيقول: لست (هناكم) (٢)، ويذكر سؤاله ربه ما ليس له به علم، فيستحيي ربه، ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن فيأتونه فيقول: لست (هناكم) (٣)، ولكن ائتوا موسى (عبدا) (٤) كلمه اللَّه وأعطاه التوراة، فيأتونه فيقول: لست (هناكم) (٥) ويذكر لهم قتل النفس بغير نفس، فيستحيي ربه من ذلك، ولكن ⦗٤٢٦⦘ ائتوا (٦) عبد اللَّه ورسوله وكلمة اللَّه وروحه، فيأتون عيسى فيقول: لست (لذاكم) (٧) ولست هناكم، ولكن ائتوا محمدا (عبدا) (٨) (٩) غفر اللَّه (له) (١٠) ما تقدم من ذنبه وما تأخر، فيأتوني -قال الحسن (١١): - قال: فأنطلق فأمشي بين سماطين من المؤمنين، انقطع قول الحسن -فأستأذن على ربي فيؤذن لي، فإذا رأيت ربي وقعت ساجدًا، فيدعني ما شاء اللَّه أن يدعني فيقال: أو يقول: ارفع رأسك قل تُسمع وسل تُعطه واشفع تُشفَّع، فأرفع رأسي فأحمده تحميدًا يُعلمنيه فأشفع فيحد لي حدا فأُدخلهم الجنة، ثم أعود إليه (الثانية) (١٢)، فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء اللَّه أن يدعني ثم يقول مثل قوله الأول: قل تُسمع وسل تُعطه واشفع تُشفع، فأرفع رأسي فأحمده تحميدا يُعلمنيه فأشفع فيحد لي حدا، فأُدخلهم الجنة ثم أعود إليه ثالثة، فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء اللَّه أن يدعني فيقال: سل تُعطه واشفع تُشفَّع، فأرفع رأسي فأحمده تحميدا يُعلمنيه فأشفع فيحد لي حدا فأُدخلهم الجنة، ثم أعود إليه في الرابعة فأقول: يا رب ما بقي إلا من حبسه القرآن (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مؤمنین جمع ہوں گے اور کہیں گے کہ اگر ہم اپنے رب کے سامنے سفارشی پیش کریں۔ ” اس بات کا ان کو القاء ہوگا “ تو اللہ ہمیں اس جگہ راحت عطا فرما دیں گے، چناچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے اے آدم ! آپ انسانوں کے باپ ہیں اور اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے، اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے، آپ ہمارے لیے ہمارے رب سے سفارش کریں، کہ وہ اس جگہ سے ہمیں آرام بخشیں، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں ، اور ان سے شکایت ذکر کریں گے یا اپنی غلطی بیان کریں گے جو آپ سے سرزد ہوئی تھی، اور اپنے رب سے شرمائیں گے ، لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ سب سے پہلے رسول ہیں جن کو اہل زمین کی طرف بھیجا گیا، چناچہ وہ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لیکن وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں ، اور وہ اپنے رب سے اس سوال کا ذکر کریں گے جس کا ان کو علم نہیں تھا، اور اپنے رب سے شرمائیں گے لیکن تم ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ، وہ ان کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے کلام فرمایا اور ان کو توراۃ عطا فرمائی، وہ ان کے پاس جائیں گے لیکن وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور ان سے بغیر کسی جان کے عوض کے ایک جان کو قتل کرنے کا ذکر فرمائیں گے اور اس وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے، لیکن تم اللہ کے بندے اور اس کے رسول اور اس کے کلمہ اور روح اللہ کے پاس جاؤ، وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کے لئے نہیں ، اور میرا یہ مقام نہیں ، لیکن تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ جن کے پچھلے اور اگلے گناہ اللہ نے معاف فرما دیے ہیں ، حسن فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں مؤمنین کی دو قطاروں کے درمیان چلوں گا، ” حسن کا قول ختم ہوگیا۔ ‘ ‘ پھر اپنے رب سے اجازت مانگوں گا اور مجھے اجازت دے دی جائے گی، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ تعالیٰ جتنا عرصہ چاہیں گے مجھے اس حال میں چھوڑیں گے ، پھر کہا جائے گا ، یا پھر کہیں گے کہ اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی ایسی حمد کروں گا جو مجھے اللہ سکھائیں گے، پس میری شفاعت قبول کی جائے گی، اللہ مجھے ایک حد بیان فرمائیں گے اور میں اتنے لوگوں کو جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں دوبارہ واپس آؤں گا، جب اپنے رب کو دیکھوں گا سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ مجھے کافی عرصہ اس حال میں رکھیں گے، پھر پہلے کی طرح فرمائیں گے کہ کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اور ایسی حمد کروں گا جو اللہ مجھے سکھائیں گے، پھر کہا جائے گا مانگیے آپ کو دیا جائے گا ، اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا، پھر اللہ میرے لئے ایک حد قائم فرمائیں گے اور میں ان کو جنت میں داخل کروں گا، پھر میں چوتھی مرتبہ اللہ کی طرف لوٹ کر آؤں گا اور کہوں گا اے میرے رب ! ان لوگوں کے علاوہ کوئی باقی نہیں رہا جن کو قرآن نے روک لیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 33838
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤٧٦)، ومسلم (١٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33838، ترقيم محمد عوامة 32335)