کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 32717
٣٢٧١٧ - حدثنا محمد بن كناسة قال: حدثنا إسحاق بن سعيد عن أبيه قال: أتى مصعبُ بن الزبير عبد اللَّه بن عمر وهو يطوف بين الصفا والمروة فقال: من أنت؟ فقال: ابن (أخيك) (١) مصعب بن الزبير، قال: صاحب العراق، قال: نعم، جئتك لأسألك عن قوم خلعوا الطاعة، وسفكوا الدماء، و (جبوا) (٢) الأموال، فقوتلوا فغلبوا فدخلوا قصرًا (فتحصنوا) (٣) فيه ثم سألوا (الأمان) (٤) فأعطوه ثم قتلوا، قال: وكم العدة؟ قال: خمسة آلاف، قال: فسبح ابن عمر عند ذلك وقال: (عمرك) (٥) اللَّه يا ابن الزبير (لو) (٦) أن رجلًا (أتى) (٧) ماشية (للزبير) (٨) ⦗١٦٠⦘ فذبح منها في (غداة) (٩) خمسة آلاف (أكنت) (١٠) تراه (مسرفًا؟) (١١) قال: نعم، قال: فتراه إسرافا في بهائم لا تدري: ما اللَّه، و (تستحله) (١٢) ممن هلل اللَّه يوما واحدا (١٣)؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف کر رہے تھے، انہوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ جوا ب دیا کہ آپ کا بھتیجا مصعب بن زبیر، پوچھا کہ عراق کا حاکم ؟ جواب دیا جی ہاں ! میں آپ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جو اطاعت چھوڑ دیں اور خون بہائیں اور مال چھین لیں، ان سے قتال کیا جائے اور اس میں وہ مغلوب ہوجائیں پھر وہ قلعہ بند ہو کر امان طلب کریں ان کو امان دے دی جائے یا پھر ان کو قتل کردیا جائے ؟ آپ نے پوچھا وہ کتنے ہیں ؟ عرض کیا پانچ ہزار ۔ کہتے ہیں کہ اس بات کو سن کر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سبحان اللہ کہا، اور فرمایا اے ابن زبیر ! اللہ تمہاری عمر دراز کرے، اگر کوئی آدمی زبیر رضی اللہ عنہ کی بکریوں کے پاس آئے اور ایک ہی وقت میں ان میں سے پانچ ہزار بکریاں ذبح کر ڈالے تو کیا تم اس آدمی کو حدّ سے تجاوز کرنے والا سمجھو گے ؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرمایا کہ تم اس بات کو ان جانوروں کے حق میں اسراف سمجھتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو نہیں جانتے، تو کلمہ پڑھنے والے اتنے لوگوں کو ایک ہی دن میں قتل کرنے کو کیسے حلا ل سمجھ بیٹھے ہو ؟ !
حدیث نمبر: 32718
٣٢٧١٨ - حدثنا محمد بن كناسة عن إسحاق بن (سعيد) (١) عن أبيه قال: (أتى) (٢) عبد اللَّه بن عمر عبد اللَّه بن الزبير فقال: يا ابن الزبير، إياك والإلحاد في حرم اللَّه، فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "سيلحد فيه رجل من قريش لو أن ذنوبه توزن بذنوب الثقلين لرجحت عليه فانظر لا تكونه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
سعید روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے ابن زبیر ! اللہ تعالیٰ کے حرم میں بےدینی کا ارتکاب کرنے سے بچو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ عنقریب اس حرم میں قریش کا ایک آدمی بےدینی کا ارتکاب کرے گا اگر اس کے گناہ جن و انس کے گناہوں کے ساتھ تولے جائیں تو اس ایک آدمی کے گناہ جھک جائیں، خوب دھیان رکھو کہ تم کہیں وہ شخص نہ بنو۔
حدیث نمبر: 32719
٣٢٧١٩ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن المثنى بن سعيد عن أبي سفيان قال: خطبنا ابن الزبير فقال: إنا قد ابتلينا بما (قد) (١) ترون، فما أمرناكم بأمرٍ (للَّه) (٢) فيه طاعة فلنا عليكم فيه السمع والطاعة، وما أمرناكم (من أمر) (٣) ليس للَّه فيه طاعة، فليس لنا عليكم فيه طاعة ولا نعمة عين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابو سفیان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ ہم کس مصیبت میں گرفتار ہوگئے ہیں، اس لئے میں اگر تمہیں ایسے کام کا حکم کروں جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہو تو تم پر ہمارے لئے اس کا سننا اور بجا لانا لازم ہے، اور جس کام میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری نہ ہوتی ہو اس کی اطاعت بھی ضروری نہیں اور ہمیں کوئی خوشی بھی نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 32720
٣٢٧٢٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب عن علي أنه خطب ثم قال: إن ابن أخيكم الحسن بن علي (١) قد جمع مالًا وهو يريد أن يقسمه بينكم، فحضر الناس، فقام الحسن فقال: إنما جمعته لفقرائكم، فقام نصف الناس، (فكان) (٢) أول من أخذ منه الأشعث بن قيس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حارثہ بن مضرب روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا پھر فرمایا تمہارے بھتیجے حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے مال جمع کر رکھا ہے اور وہ تمہارے درمیان اسے تقسیم کرنا چاہتے ہیں ، سب کے سب لوگ آگئے تو حسن نے کھڑے ہو کر فرمایا میں نے تو یہ مال تمہارے فقراء کے لیے جمع کیا ہے، یہ سن کر آدھے آدمی کھڑے ہو کر چل دیے، پھر وہ شخص جس نے سب سے پہلے اس مال میں سے لیا اشعث بن قیس تھے۔
حدیث نمبر: 32721
٣٢٧٢١ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن هانئ عن علي قال: ليقتلن الحسين ظلمًا، وإني لأعرف (تربة) (١) الأرض التي يقتل فيها قريبا من النهرين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہانی ٔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ : البتہ حسین کو ظلماً قتل کیا جائے گا، اور البتہ میں جانتا ہوں اس زمین کی مٹی کو جس میں ان کو قتل کیا جائے گا، وہ جگہ دو نہروں کے قریب ہے۔
حدیث نمبر: 32722
٣٢٧٢٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش (عن عبد اللَّه بن مرة) (١) (عن عمرو ابن عتبة) (٢) السلمي قال: جاء الأشعث بن قيس فجلس إلى كعب بن عجرة في المسجد فوضع إحدى رجليه على الأخرى فقال له كعب: ضعها، فإنها لا تصلح لبشر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن مرّہ سُلّمی فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس مسجد میں آئے اور کعب بن عجرہ کے پاس بیٹھ گئے اور اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھ لیا، حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اس کو نیچے رکھو کیونکہ یہ ہیئت انسان کے لئے مناسب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 32723
٣٢٧٢٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن مالك بن الحارث عن أبي خالد قال: وفدت إلى عمر ففضل أهل الشام علينا في الجائزة فقلنا له، فقال: ⦗١٦٢⦘ يا أهل الكوفة أجزعتم أني فضلت عليكم أهل الشام في الجائزة لبعد (شقتهم) (١)، فقد آثرتكم بابن أم عبد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابو خالد فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس ایک وفد کے ساتھ گیا، انہوں نے اہل شام کو ہم پر انعام اور عطیہ میں فوقیت دی، ہم نے ان سے یہ بات عرض کی، تو آپ نے فرمایا اے کوفہ والو ! تم دور ہونے کی وجہ سے اس بات پر پریشان ہو رہے ہو کہ میں نے شام والوں کو تم پر فوقیت دی ہے، لیکن میں نے تمہیں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی صورت میں فوقیت اور ترجیح بھی تو دی ہے۔
حدیث نمبر: 32724
٣٢٧٢٤ - حدثنا ابن فضيل عن سالم بن أبي حفصة عن منذر قال: كنت عند ابن الحنفية فرأيته (يتقلب) (١) على فراشه وينفخ، فقالت له امرأته: ما يكربك من أمر عدوك هذا ابن الزبير؟ فقال: واللَّه ما بي عدو اللَّه هذا ابن الزبير، ولكن بي ما يفعل في حرمه غدا، قال: ثم رفع يديه إلى السماء ثم قال: اللهم أنت تعلم أني كنت أعلم مما علمتني أنه يخرج منها قتيلًا يطاف برأسه في الأمصار أو في الأسواق.
مولانا محمد اویس سرور
منذر فرماتے ہیں کہ میں محمد بن حنفیہ کے پاس تھا کہ میں نے ان کو دیکھا کہ بستر پر بےچینی سے کروٹیں بدل رہے ہیں اور لمبے لمبے سانس لے رہے ہیں، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ آپ کو آپ کے اس دشمن عبد اللہ بن زبیر کی کون سی بات نے بےچین کر رکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ واللہ ! مجھے یہ پریشانی نہیں کہ ابن زبیر اللہ کا دشمن ہے ، لیکن مجھے یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ کل اللہ تعالیٰ کے حرم میں کیا ہوگا ! کہتے ہیں کہ پھر آپ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور یہ کہا : اے اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ میں جانتا تھا اس علم سے جو آپ نے مجھے عطا فرمایا ہے کہ وہ اس حرم سے قتل ہو کر نکلیں گے اور ان کے سر کو شہروں یا بازاروں میں پھرایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 32725
٣٢٧٢٥ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا شعبة بن الحجاج قال: حدثنا عمارة ابن أبي حفصة عن أبي مجلز عن قيس بن عباد قال: خرجت إلى المدينة أطلب الشرف والعلم، فأقبل رجل عليه حلة (جميلة) (١)، فوضع يديه على منكبي عمر فقلت: من هذا؟ قالوا: علي بن أبي طالب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی طرف بزرگی اور علم کی تلاش میں نکلا، میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے خوبصورت جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا پس اس نے اپنے ہاتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر رکھ دیے، میں نے لوگوں سے پوچھا یہ آدمی کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب ہیں۔
حدیث نمبر: 32726
٣٢٧٢٦ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم ابن جابر قال: لما (حصر) (١) عثمان أتى عليُّ طلحة وهو مسند ظهره إلى وسائد في بيته فقال: أنشدك اللَّه لم رددت الناس عن علي أمير المؤمنين، فقال طلحة: حتى ⦗١٦٣⦘ يعطوا الحق من أنفسهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حکیم بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرلیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت طلحہ کے پاس تشریف لے گئے جبکہ انہوں نے اپنے گھر میں تکیوں کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ لوگوں کو امیر المؤمنین سے باز رکھیں، حضرت طلحہ نے فرمایا : یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ان کو ان کی جانوں کا بدلہ نہ دے دیا جائے۔
حدیث نمبر: 32727
٣٢٧٢٧ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن سعيد بن وهب (أو) (١) عن ابن أخيه عبد الرحمن أنه سمع المختار وهو يقول: ما (بقي) (٢) من عمامة علي إلا ذراعان حتى يجيء، (قال) (٣): قلت: لم تضل الناس: قال: دعني أتالفهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابو اسحاق سعید بن وہب یا ان کے بھتیجے عبد الرحمن سے روایت کرتے ہیں ، کہ انہوں نے مختار کو یہ کہتے سنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عمامے کے صرف دو گز رہ گئے ہیں پھر وہ ظاہر ہوجائیں گے، کہتے ہیں میں نے کہا تم لوگوں کو گمراہ کیوں کرتے ہو ؟ کہنے لگا : مجھے لوگوں کو مانوس کرنے دو ۔
حدیث نمبر: 32728
٣٢٧٢٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثني) (١) ابن عيينة عن إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم (بن) (٢) جابر قال: سمعت طلحة بن عبيد اللَّه يقول يوم الجمل: إنا كنا قد داهنا في أمر عثمان، فلا نجد بدا من المبالغة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حکیم بن جابر فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ جمل کے دن حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو یہ کہتے سنا کہ ہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی امارت کے معاملے میں مداہنت سے کام لیا تھا اب ہمارے لئے ان کی طرف داری میں حد سے گزر جانے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 32729
٣٢٧٢٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن مجالد بن سعيد عن الشعبي قال: لما كان الصلح بين الحسن بن علي وبين معاوية بن أبي سفيان أراد الحسن الخروج -يعني إلى المدينة، فقال له معاوية: ما أنت بالذي تذهب حتى تخطب الناس، قال الشعبي: فسمعته على المنبر حمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: أما بعد، فإن أكيس الكيس التقى، وإن أعجز العجز الفجور، وإن هذا الأمر الذي أختلفت فيه أنا ومعاوية (حق) (١) كان لي فتركته لمعاوية، أو حق كان لامرئ أحق به مني، وإنما فعلت هذا لحقن دمائكم، وإن أدري لعله فتنة لكم ومتاع إلى حين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی کہتے ہیں کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان صلح ہوگئی تو حضرت حسن نے مدینہ کی طرف واپسی کا ارادہ کیا ، حضرت معاویہ نے ان سے فرمایا کہ آپ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک لوگوں کو خطبہ نہ دے دیں ، شعبی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے حضرت حسن کو منبر پر سنا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر فرمایا : اما بعد ! سب سے بڑی عقل مندی تقویٰ اختیار کرنا ہے اور سب سے بڑی عاجزی گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے، اور بیشک یہ امارت جس میں میرا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اختلاف ہوا تھا میرا حق تھا جس کو میں نے حضرت معاویہ کے لئے چھوڑ دیا یا پھر یہ کسی ایسے آدمی کا حق تھا جو مجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہو، اور میں نے یہ کام تمہاری جانوں کے تحفظ کے لئے کیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ ممکن ہے یہ کام تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک وقت تک فائدہ اٹھانے کا سامان ہو۔
حدیث نمبر: 32730
٣٢٧٣٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبي الضحى عن أبي جعفر قال: اللهم إني أبرأ إليك من مغيرة و (بيان) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابو الضحیٰ روایت کرتے ہیں کہ ابو جعفر نے فرمایا کہ اے اللہ ! میں آپ کے سامنے براءت کا اعلان کرتا ہوں مغیرہ اور بیان سے۔
حدیث نمبر: 32731
٣٢٧٣١ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن (السميط) (١) عن كعب قال: لكل زمان ملوك، فإذا أراد اللَّه بقوم خيرًا بعث فيهم مصلحيهم، وإذا أراد (اللَّه) (٢) (بقوم) (٣) شرا بعث فيهم مترفيهم.
مولانا محمد اویس سرور
سمیط حضرت کعب سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ہر زمانے کے علیحدہ بادشاہ ہوا کرتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان پر نیک لوگوں کو بادشاہ بناتے ہیں اور جب کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان پر بدمعاش لوگوں کو بادشاہ بنا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 32732
٣٢٧٣٢ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن ميسرة قال: كان يمر عليه الغلام أو الجارية ممن يخرجه الحجاج إلى السواد فيقول: من ربك؟ فيقول: اللَّه، فيقول: من نبيك؟ فيقول: محمد ﷺ، قال: فيقول: واللَّه الذي لا إله إلا هو لا أجد أحدا يقاتل الحجاج إلا قاتلت معه الحجاج.
مولانا محمد اویس سرور
میسرہ فرماتے ہیں کہ میرے قریب سے لڑکا یا لڑکی گزرا کرتے تھے جن کا تعلق ان لوگوں سے تھا جن کو حجاج نے دیہاتوں کی طرف نکال دیا تھا، وہ لوگوں سے کہتے : تمہارا رب کون ہے ؟ لوگ کہتے ” اللہ “ وہ کہتے :ـ تمہارا نبی کون ہے ؟ لوگ کہتے : محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، پھر وہ کہتے : اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں جس شخص کو بھی حجاج کے ساتھ قتال کرتا ہوا دیکھ لوں گا اس کے ساتھ مل کر حجاج سے قتال کروں گا۔
حدیث نمبر: 32733
٣٢٧٣٣ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن) (١) يزيد عن أبي (البختري) (٢) أنه رأى رجلًا (انحاز) (٣) فقال: حر النار أشد من حر السيف.
مولانا محمد اویس سرور
یزید فرماتے ہیں کہ ابو البختری نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جنگ میں پشت دے کر بھاگ رہا تھا، انہوں نے فرمایا : دوزخ کی آگ کی گرمی تلوار کی گرمی سے زیادہ سخت ہے۔
حدیث نمبر: 32734
٣٢٧٣٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن حصين قال: سمعت عبد الرحمن بن أبي ليلى (يحضض) (١) الناس أيام (الجماجم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حصین فرماتے ہیں کہ میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کو دیکھا کہ جماجم کے دنوں میں لوگوں کو جنگ کی ترغیب دے رہے تھے۔
حدیث نمبر: 32735
٣٢٧٣٥ - حدثنا عبد الأعلى عن (الجريري) (١) عن (أبي) (٢) العلاء قال: قالوا لمطرف: هذا عبد الرحمن بن الأشعث قد أقبل، فقال مطرف: واللَّه لقد (نزى بين) (٣) (أمرين) (٤): لئن ظَهر لا يقوم للَّه دين، ولئن ظُهر عليه لا (يزالون) (٥) أذلة إلى يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
ابو العلاء فرماتے ہیں کہ لوگوں نے مطرف سے کہا کہ یہ عبد الرحمن بن اشعث آ رہا ہے، مطرف نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ دو باتوں کے بیچ میں حملہ آور ہوا ہے، اگر یہ غالب آیا تو اللہ تعالیٰ کے لئے دین قائم نہیں ہوگا، اور اگر مغلوب ہوگیا تو تم قیامت تک ذلیل رہو گے۔
حدیث نمبر: 32736
٣٢٧٣٦ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: أخبرني غير واحد أن قاضيًا من قضاة أهل الشام أتى عمر فقال: يا أمير المؤمنين رأيت رؤيا أفظعتني، قال: وما رأيت؟ قال: رأيت الشمس والقمر يقتتلان، والنجوم معهما نصفين، قال: فمع أيهما كنت؟ (قال) (١): كنت مع القمر على الشمس، فقال عمر: ﴿وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً﴾ [الإسراء: ١٢]، فانطلق فواللَّه لا تعمل لي (عملًا) (٢) أبدًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ مجھے ایک سے زیادہ آدمیوں نے خبر دی ہے کہ شام کے قاضیوں میں سے ایک قاضی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا اے امیر المؤمنین ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے، آپ نے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے سورج اور چاند کو لڑتے ہوئے دیکھا جن کی ماتحتی میں ستارے بھی دو فریق بنے ہوئے ہیں، آپ نے فرمایا تم کس فریق کے ساتھ تھے ؟ انہوں نے کہا میں چاند کے ساتھ تھا جو سورج پر حملہ آور ہو رہا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی : { وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً } ( اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ، پس رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنادیا) پھر فرمایا : چلے جاؤ ، خدا کی قسم ! آئندہ تم میرے لئے کوئی کام نہیں کرو گے : عطاء فرماتے ہیں مجھے خبر پہنچی کہ وہ جنگ صفین میں حضرت معاویہ کے ساتھ مقتول ہوا۔
حدیث نمبر: 32737
٣٢٧٣٧ - قال عطاء: فبلغني أنه قتل مع معاوية يوم صفين.
حدیث نمبر: 32738
٣٢٧٣٨ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء قال: اجتمع عيدان في يوم (فقام) (١) الحجاج في العيد الأول (فقال) (٢): من شاء أن يجمع معنا فليجمع، ومن شاء أن ⦗١٦٦⦘ ينصرف فلينصرف ولا حرج، فقال أبو البختري وميسرة: ماله قاتله اللَّه، من أين سقط على هذا؟
مولانا محمد اویس سرور
عطاء فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک دن میں دو عیدیں اکٹھی ہوگئیں ، چناچہ پہلی عید کی نماز کے وقت حجاج کھڑا ہوا اور کہنے لگا : جو شخص ہمارے ساتھ جمعہ پڑھنا چاہے پڑھ لے، اور جو شخص جانا چاہے چلا جائے کوئی حرج نہیں ، یہ سن کر ابو البختری اور میسرہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے اس پر یہ وحی کہاں سے آ پڑی۔
حدیث نمبر: 32739
٣٢٧٣٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا سفيان عن واصل الأحدب قال: رأى إبراهيم أمير حلوان (يمر) (١) (بدوابه) (٢) في زرع (قوم) (٣)، فقال إبراهيم: الجور في الطريق، خير من (الجور في) (٤) الدين.
مولانا محمد اویس سرور
واصل أحدب فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے حلوان کے امیر کو دیکھا کہ اپنے چوپایوں کو لوگوں کی کھیتیوں سے گزارتا ہوا چلا جا رہا تھا، آپ نے فرمایا : راستے کی بےراہ روی دین کی بےراہ روی سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 32740
٣٢٧٤٠ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا زائدة قال: حدثنا عبد الملك بن عمير عن ربعي عن أبي موسى قال: قال عمرو بن العاص: لئن كان أبو بكر وعمر تركا هذا المال وهو يحل لهما منه شيء لقد غُبنَا ونقص رأيهما، ولعمر اللَّه (ما) (١) كانا (بمغبونين) (٢) ولا (ناقصي) (٣) الرأي، و (لئن) (٤) كانا امرأين يحرم عليهما من هذا المال الذي أصبنا بعدهما لقد هلكنا، وأيم اللَّه ما جاء الوهم إلا من قبلنا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ نے یہ مال اس حال میں چھوڑا کہ ان کے لئے اس میں سے کچھ حلال تھا تو وہ گھاٹے میں رہ گئے اور ان کی رائے کمزور رہی، اور خدا کی قسم ! نہ وہ گھاٹا کھانے والے تھے اور نہ ضعیف الرائے تھے، اور اگر ان پر مال جو ہم نے ان کے بعد پایا حرام تھا تو یقینا ہم ہلاک ہوگئے، اور بخدا غلطی ہم لوگوں کو ہی لگی ہے۔
حدیث نمبر: 32741
٣٢٧٤١ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا جرير بن حازم قال: سمعت محمد ابن سيرين قال: بعث علي بن أبي طالب قيس بن سعد أميرًا على مصر، قال: فكتب إليه معاوية وعمرو بن العاص بكتاب فأغلظا له فيه وشتماه وأوعداه، ⦗١٦٧⦘ فكتب إليهما بكتاب (لين) (١) (يقاربهما) (٢) (ويطمعهما) (٣) في نفسه، (٤) قال: فلما أتاهما الكتاب كتبا إليه بكتاب (لين) (٥) يذكران فضله و (يطمعانه) (٦) فيما قبلهما، فكتب إليهما بجواب كتابهما الأول يغلظ (لهما) (٧)، فلم يدع شيئًا إلا قاله، فقال أحدهما للآخر: لا، واللَّه ما نطيق نحن قيس بن سعد، ولكن تعال نمكر به عند علي، قال: فبعثا بكتابه الأول إلى علي، قال: فقال له أهل الكوفة: عدو اللَّه قيس ابن سعد فاعزله، فقال علي: ويحكم أنا واللَّه أعلم هي (واللَّه) (٨) إحدى فعلاته، فأبوا إلا عزله فعزله، وبعث محمد بن أبي بكر، فلما قدم على قيس بن سعد قال له قيس: انظر ما آمرك به، إذا كتب إليك معاوية بكذا وكذا فاكتب إليه بكذا (وكذا) (٩)، وإذا (صنع) (١٠) (كذا) (١١) فاصنع كذا، وإياك أن تخالف ما أمرتك به، واللَّه لكأني أنظر إليك إن فعلت قد قتلت، ثم أدخلت (في) (١٢) جوف حمار فأحرقت بالنار، قال: ففعل ذلك به (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے قیس بن سعد کو مصر کا امیر بنا کر بھیجا، حضرت معاویہ اور عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھ بھیجا جس میں ان کو سخت الفاظ میں خطاب کیا، چناچہ انہوں نے ان کی طرف جواب میں نرم الفاظ میں خط لکھا جس میں ان کو اپنے قریب کیا اور ان کو اپنے بارے میں طمع دلائی، جب ان کے پاس خط پہنچا تو انہوں نے حضرت قیس کے پاس نرم الفاظ پر مشتمل خط بھیجا جس میں ان کی فضیلت تحریر کی اور ان کو اس خط میں اپنی جانب لالچ دیا، چناچہ قیس نے ان کو پہلے خط کا جواب دیا جس میں ان کے لئے سخت الفاظ استعمال کیے، اور کوئی بات جواب کے بغیر نہیں چھوڑی، یہ دیکھ کر ان دونوں نے ایک دوسرے سے کہا : واللہ ! ہم قیس بن سعد پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتے، لیکن ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھ کر قیس کے ساتھ ایک تدبیر کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کا پہلا خط بھیج دیا، جب خط پہنچا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوفہ والوں نے کہا : قیس بن سعد اللہ کا دشمن ہے اس کو معزول کردیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ناس ہو ، بخدا میں تم سے زیادہ جانتا ہوں یہ توقیس بن سعد کا ایک کردار ہے، لیکن کوفہ والے مسلسل قیس بن سعد کی معزولی کا مطالبہ کرنے لگے، چاروناچار حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کردیا اور ان کی جگہ محمّد بن ابی بکر کو امیر بنا کر بھیجا، جب محمد بن ابی بکر قیس بن سعد کے پاس پہنچے تو قیس نے فرمایا میری بات غور سے سنو ! اگر حضرت معاویہ تمہاری طرف اس مضمون کا خط لکھیں تو تم یہ یہ بات لکھ کر جواب دینا، اور جب وہ یہ یہ کام کریں تو تم اس طرح کرنا، اور خبردار ! میرے اس حکم کی مخالفت نہ کرنا، اللہ کی قسم ! گویا کہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ اگر تم میرے حکم کی مخالفت کرو گے تو تم قتل کردیے جاؤ گے اور پھر گدھے کے پیٹ میں ڈال کر جلا دیے جاؤ گے، راوی کہتے ہیں : کہ بعد میں ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔
حدیث نمبر: 32742
٣٢٧٤٢ - [حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا جرير بن حازم عن محمد بن سيرين قال: ما علمت أن عليًا اتهم في قتل عثمان حتى بويع، فلما بويع اتهمه الناس] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت سے پہلے لوگوں نے ان پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کی تہمت نہیں لگائی ، جب ان کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو لوگوں نے ان پر حضرت عثمان کے قتل کی تہمت لگا دی۔
حدیث نمبر: 32743
٣٢٧٤٣ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا جرير بن حازم عن محمد بن سيرين قال: قال قيس بن سعد بن عبادة: لولا أن يمكر الرجل حتى يفجر لمكرت بأهل الشام مكرًا يضطربون يومًا إلى الليل (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی مکر سے فاجر نہ ہوجاتا ہو تو میں اہل شام کے ساتھ ایسا مکر کروں جس سے وہ دن رات بےچینی میں مبتلا رہیں۔
حدیث نمبر: 32744
٣٢٧٤٤ - حدثنا معاذ بن معاذ عن أبي معدان عن مالك بن (دينار) (١) قال: شهدت الحسن (ومالك بن دينار) (٢) ومسلم بن يسار و (سعيدًا) (٣) يأمرون بقتال الحجاج مع ابن الأشعث، فقال الحسن: إن (الحجاج) (٤) (عقوبة جاءت) (٥) من السماء (أفتستقبل) (٦) عقوبة اللَّه بالسيف.
مولانا محمد اویس سرور
مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حسن بصری اور مالک بن دینار اور مسلم بن یسار اور سعید کو دیکھا کہ ابن الأشعث کے ساتھ ہو کر حجاج کے خلاف قتال کا حکم دیتے تھے، حسن بصری نے فرمایا : حجاج ایک سزا ہے جو آسمان سے اتری ہے، تو ہم اللہ تعالیٰ کی سزا کا سامنا تلوار سے کرنے والے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 32745
٣٢٧٤٥ - حدثنا أبو سفيان الحميري قال: حدثنا خالد بن محمد القرشي قال: قال عبد الملك بن مروان: من أراد أن يتخذ جارية [للتلذذ فليتخذها بربرية، ومن ⦗١٦٩⦘ أراد أن يتخذها للولد فليتخذها فارسية، ومن أراد أن يتخذها للخدمة فليتخذها رومية.
مولانا محمد اویس سرور
خالد بن محمد فرماتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان نے کہا کہ جو شخص لذت حاصل کرنے کے لئے لونڈی خریدنا چاہے وہ بربری باندی خریدے، اور جو شخص اولاد کے لئے باندی خریدنا چاہے وہ فارس کی باندی خریدے، اور جو شخص خدمت کے لئے باندی خریدنا چاہے وہ رومی باندی خریدے۔
حدیث نمبر: 32746
٣٢٧٤٦ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا ابن أبي (غَنِيَّة) (١) عن شيخ] (٢) من أهل المدينة قال: قال معاوية: أنا أول الملوك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی غنیہ مدینہ کے ایک بزرگ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں پہلا بادشاہ ہوں۔
حدیث نمبر: 32747
٣٢٧٤٧ - حدثنا ابن نمير عن إسماعيل بن إبراهيم عن عبد الملك بن عمير قال: قال معاوية: ما زلت أطمع في الخلافة منذ قال لي رسول اللَّه ﷺ: "يا معاوية إن ملكت فأحسن" (١). (تم كتاب الأمراء والحمد للَّه رب العالمين وصلى اللَّه على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم) (٢)
مولانا محمد اویس سرور
عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں مسلسل خلافت کی طمع میں مبتلا رہا جب سے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہیں بادشاہت ملے تو لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھنا۔ تم کتاب الأمراء والحمد للہ رب العالمین ، والصلاۃ علی رضی اللہ عنہ محمد وآلہ والسلام۔ ” کتاب الأمراء مکمل ہوئی “ والحمد للہ رب العالمین۔