کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 32677
٣٢٦٧٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثني عبد اللَّه بن الوليد قال: أخبرني عمر ابن أيوب قال: أخبرني أبو إياس معاوية بن قرة قال: كنت نازلًا عند (عمرو) (١) بن النعمان بن مقرن، فلما حضر رمضان جاء رجل بألفي درهم من قبل مصعب بن الزبير فقال: إن الأمير يقرئك السلام ويقول: إنا لم ندع قارئًا شريفًا إلا وقد وصل إليه منا معروف، (فاستعن) (٢) بهذين على (نفقة) (٣) شهرك هذا، فقال عمرو: اقرأ على الأمير السلام وقل (٤): إنا واللَّه ما قرأنا القرآن نريد به الدنيا، ورده عليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن نعمان بن مقرن کے پاس ٹھہرا ہو اتھا، جب رمضان کا مہینہ آیا تو ان کے پاس ایک آدمی مصعب بن زبیر کی طرف سے درہم لے کر آیا اور کہا کہ امیر آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کسی صاحب شرافت قاری کو بھی اپنی جانب سے بھلائی سے محروم نہیں کیا، آپ یہ دو ہزار درہم لے لیں اور اس مہینے کے خرچ میں اس سے مدد حاصل کرلیں، حضرت عمرو نے جواب میں فرمایا کہ امیر کو میرا سلام کہو اور ان سے کہو کہ واللہ ! ہم نے دنیا حاصل کرنے کی نیّت سے قرآن نہیں پڑھا ، یہ کہہ کر وہ دراہم واپس کردیے۔
حدیث نمبر: 32678
٣٢٦٧٨ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عاصم بن محمد عن حبيب بن أبي ثابت قال: (بينا) (١) أنا جالس في المسجد الحرام وابن عمر جالس في ناحية، وابناه ⦗١٤٦⦘ عن يمينه وشماله، وقد خطب الحجاج بن يوسف الناس (فقال) (٢): ألا أن ابن الزبير نكس كتاب اللَّه، نكس اللَّه قلبه، فقال ابن عمر: ألا إن ذلك ليس بيدك ولا بيده، فسكت الحجاج (هنيهة) (٣)، إن شئت قلت طويلا وإن شئت قلت ليس بطويل، ثم قال: ألا إن اللَّه قد علمنا (و) (٤) كل مسلم، وإياك أيها الشيخ أنه يفعل، قال: فجعل ابن عمر يضحك فقال لمن حوله: أما إني قد تركت (التي) (٥) فيها الفصل أن أقول: كذبت (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حبیب بن ابی ثا بت فرماتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم مسجدِ حرام میں بیٹھے تھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے، اور ان کے دائیں بائیں ان کے صاحبزادے بیٹھے ہوئے تھے، حجاج بن یوسف نے لوگوں سے خطبے میں کہا تھا : خبردار ! بیشک عبد اللہ بن زبیر نے کتاب اللہ کو بگاڑ دیا ہے اللہ تعالیٰ ا س کے دل کو بگاڑے، اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : خبردار ! نہ یہ تمہارے اختیار میں ہے نہ ان کے اختیار میں ہے۔ حجاج اس بات پر تھوڑی دیر خاموش رہا، اتنا کہ اگر میں اس خاموشی کو طویل کہوں تو بھی کہہ سکتا ہوں اور اگر کہوں کہ زیادہ طویل خاموشی نہیں تھی تب بھی درست ہوگا، پھر کہنے لگا : اے بڈھے ! آگاہ ہو جاؤ ! بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ، تمہیں اور ہر مسلمان کو علم بخشا ہے اگر وہ علم تجھے نفع دے ، راوی کہتے ہیں کہ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہنسنے لگے، اور اردگرد کے ساتھیوں سے فرمایا کہ میں نے فضیلت والی بات چھوڑ دی، یہ کہ میں کہتا کہ تو نے جھوٹ کہا۔
حدیث نمبر: 32679
٣٢٦٧٩ - حدثنا مالك بن إسماعيل عن كامل (عن) (١) حبيب قال: كان العباس أقرب (٢) شحمة آذان إلى السماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کامل بن حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ دوسرے لوگوں کی بنسبت آسمان کی طرف زیادہ قریب کان کی لو والے تھے۔
حدیث نمبر: 32680
٣٢٦٨٠ - حدثنا قبيصة قال: حدثنا يونس (بن) (١) أبي إسحاق عن الوليد بن العيزار قال: (بينا) (٢) عمرو بن العاص في ظل الكعبة إذ رأى الحسين بن علي مقبلًا فقال: هذا أحب أهل الأرض إلى أهل السماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ولید بن عیزار فرماتے ہیں کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کعبہ کے سائے میں تھے کہ انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو تشریف لاتے دیکھا تو فرمایا کہ یہ شخص زمین والوں میں آسمان والوں کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔
حدیث نمبر: 32681
٣٢٦٨١ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد الواحد بن أيمن قال: قلت لسعيد بن جبير: إنك قادم على الحجاج فانظر ماذا (تقول) (١)، لا تقل ما يستحل به دمك، قال: إنما يسألني كافر أنا أو مؤمن، فلم أكن لأشهد على نفسي بالكفر، وأنا لا (أدري) (٢) أنجو منه أم لا.
مولانا محمد اویس سرور
عبد الواحد بن ایمن فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ آپ حجاج کے پاس جا رہے ہیں تو ذرا دھیان سے بات کرنا، کہیں ایسی بات نہ کہہ بیٹھنا جس سے وہ تمہارے خون کو مباح سمجھ کر قتل کر ڈالے ، انہوں نے فرمایا : وہ مجھ سے پوچھے گا کہ تم کافر ہو یا مؤمن ؟ میں تو اپنی ذات پر کفر کی گواہی نہیں دے سکتا، اور مجھے اس کا کوئی علم نہیں کہ میں اس کے شر سے نجات پاؤں گا یا نہیں۔
حدیث نمبر: 32682
٣٢٦٨٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن النعمان قال: كتب عمر إلى معاوية الزم الحق يلزمك الحق (١).
مولانا محمد اویس سرور
نعمان سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ آپ حق کے ساتھ ساتھ رہیے اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 32683
٣٢٦٨٣ - حدثنا معتمر عن عمران بن حدير عن عبد الملك بن عبيد قال: قال عمر: نستعين بقوة المنافق وإثمه عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
عبد الملک بن عبید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم منافق کی قوت سے مدد حاصل کرلیتے ہیں اور اس کا گناہ اسی پر رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 32684
٣٢٦٨٤ - حدثنا ابن فضيل عن ابن شبرمة قال: سمعت الفرزدق يقول: كان ابن حطان من أشعر الناس.
مولانا محمد اویس سرور
ابن شبرمہ فرماتے ہیں کہ میں نے فرزدق کو یہ کہتے سنا کہ ابن حطان قابل ترین شعراء میں سے تھا۔
حدیث نمبر: 32685
٣٢٦٨٥ - [حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري قال: كنت إذا لقيت عبيد اللَّه بن عبد اللَّه (فكأنما) (١) أفجر به بحرًا] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
زہری فرماتے ہیں کہ جب میں عبید اللہ بن عبد اللہ رحمہ اللہ سے ملتا تو مجھے ایسا لگتا کہ ان کی باتوں سے میرے اندر علم کے سمندر جاری ہوگئے ہیں۔
حدیث نمبر: 32686
٣٢٦٨٦ - حدثنا ابن إدريس عن حمزة (١) أبي عمارة قال: قال عمر بن عبد العزيز لعبيد اللَّه بن عبد اللَّه: مالك (و) (٢) للشعر؟ قال: هل يستطيع المصدور إلا أن ينفث؟.
مولانا محمد اویس سرور
حمزہ بن ابی عمارہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے فرمایا کہ آپ کا شعر سے کیا تعلق ؟ انہوں نے فرمایا کہ تپ دق کا مریض پھونکنے کے سوا اور کیا کرسکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 32687
٣٢٦٨٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا (سليم) (١) بن (أخضر) (٢) قال: حدثنا ابن عون قال: كان مسلم بن يسار أرفع عند أهل البصرة (من الحسن) (٣) حتى خف مع ابن الأشعث وكف الآخر، فلم يزل أبو سعيد في علو منها وسقط الآخر.
مولانا محمد اویس سرور
ابن عون فرماتے ہیں کہ مسلم بن یسار اہل بصرہ میں حسن بصری سے زیادہ مقام کے حامل تھے یہاں تک کہ ابن الأشعث کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان کا مرتبہ گھٹ گیا، اس لئے ابو سعید حسن بصری بلند مرتبہ ہی رہے اور دوسرے کا مقام گرگیا۔
حدیث نمبر: 32688
٣٢٦٨٨ - حدثنا زيد بن الحباب قال: أخبرني عبد الرحمن بن (ثوبان) (١) قال: (أخبرني) (٢) عمير بن هانئ قال: أخبرني منقذ صاحب الحجاج أن الحجاج لما قتل سعيد بن جبير مكث ثلاث ليال يقول: (٣) مالي ولسعيد بن جبير.
مولانا محمد اویس سرور
عمیر بن ہانی فرماتے ہیں کہ مجھے حجاج کے ساتھی منقذ نے خبر دی کہ جب حجاج نے سعید بن جبیر کو قتل کیا تو تین رات تک یہی کہتا ہوا جاگتا رہا کہ سعید بن جبیر میرا کیسا دشمن ہوگیا۔
حدیث نمبر: 32689
٣٢٦٨٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا شريك (عن محمد) (١) بن عبد اللَّه المرادي عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة قال: بينا شاعر يوم صفين ينشد هجاء لمعاوية وعمرو بن العاص قال: وعمار يقول: (إلزق) (٢) (بالعجوزين) (٣) قال: فقال رجل: سبحان اللَّه تقول هذا وأنتم أصحاب رسول اللَّه ﷺ فقال له عمار: إن شئت أن تجلس فأجلس، وإن شئت (أن) (٤) تذهب فاذهب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن سلیمہ فرماتے ہیں کہ صفین کی جنگ میں ایک شاعر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہجو کر رہا تھا اور عمار رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ دونوں بڑھیوں کے ساتھ چپکے رہو، کہ اس بات پر ایک آدمی نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں حالانکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں ؟ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا اور اگر جانا چاہے تو چلا جا۔
حدیث نمبر: 32690
٣٢٦٩٠ - حدثنا ابن علية عن حبيب (بن) (١) الشهيد عن محمد بن سيرين قال: كان ابن عمر يقول: رحم اللَّه ابن الزبير أراد دنانير الشام، رحم اللَّه مروان أراد دراهم العراق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ عبد اللہ بن زبیر پر رحم فرمائے کہ وہ شام کے دینار چاہتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ مروان پر رحم فرمائے کہ وہ عراق کے درہم چاہتا تھا۔
حدیث نمبر: 32691
٣٢٦٩١ - حدثنا ابن علية عن هشام عن الحسن قال: كتب زياد إلى الحكم بن عمرو الغفاري وهو على خراسان أن أمير المؤمنين كتب أن (تصطفي) (١) له (البيضاء والصفراء) (٢) فلا تقسم بين الناس ذهبًا ولا فضة، فكتب إليه: بلغني كتابك، تذكر أن أمير المؤمنين كتب أن يصطفى له البيضاء والصفراء، وأني وجدت كتاب اللَّه قبل كتاب أمير المؤمنين (و) (٣) أنه واللَّه: لو أن السماوات والأرض كانتا رتقا على عبد ثم اتقى اللَّه جعل اللَّه له مخرجًا، والسلام (عليكم) (٤)، ثم قال للناس: اغدوا على مالكم، فغدوا فقسمه بينهم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو پیغام بھیجا جو خراسان کے عامل تھے کہ امیر المؤمنین فرماتے ہیں کہ ان کے لئے سونا اور چاندی علیحدہ کرلی جائے اور لوگوں کے درمیان تقسیم نہ کی جائے، انہوں نے جواب میں لکھا : مجھے آپ کا خط ملا جس میں آپ نے ذکر کیا ہے کہ امیر المؤمنین نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ ان کے لئے سونا اور چاندی علیحدہ رکھ لیا جائے، اور میں نے امیر المؤمنین کے خط سے پہلے کتاب اللہ کو پڑھ لیا ہے، بخدا اگر آسمان و زمین کسی بندے پر بالکل بند بھی ہوجائیں پھر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ نکال دیں گے، والسلام علیکم، پھر انہوں نے لوگوں سے فرمایا کہ صبح میرے پاس اپنے مال لاؤ ، چناچہ وہ لائے تو آپ نے وہ سارا مال ان کے درمیان تقسیم کردیا۔
حدیث نمبر: 32692
٣٢٦٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن محمد بن عمر بن علي قال: قال علي: ما (بال) (١) الزبير كأنه رجل منا أهل البيت حتى أدركه (بنيه) (٢) عبد اللَّه فلفته عنا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن محمد بن عمر بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ زبیر رضی اللہ عنہ ہمیشہ سے ہمارے ساتھ اس طرح رہے جیسے وہ ہمارے گھر کے ایک فرد ہوں یہاں تک کہ جب وہ اپنے بیٹے عبد اللہ کے پاس پہنچ گئے تو اس نے ان کی توجہ ہم سے ہٹا دی۔
حدیث نمبر: 32693
٣٢٦٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن أبي (شراعة) (١) عن عبادة بن نسي قال: ذكروا الشعر عند النبي ﷺ فذكروا امرئ القيس فقال النبي ﷺ: "مذكور في الدنيا مذكور في الآخرة حامل لواء الشعر في جهنم يوم القيامة، أو قال في النار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عبادہ بن نُسیّ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م نے حضور ﷺ کے سامنے شعراء کا تذکرہ کیا، جب امرؤ القیس کا تذکرہ آیا تو آپ نے فرمایا : اس شاعر کا ذکر دنیا میں بھی لوگوں کی زبانوں پر رہے گا، آخرت میں بھی لوگوں کی زبانوں پر رہے گا، اور وہ قیامت کے دن جہنم میں شعر کا عَلَم اٹھائے ہوگا، یا فرمایا آگ میں شعر کا عَلَم اٹھائے ہوگا۔
حدیث نمبر: 32694
٣٢٦٩٤ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن هنيدة بن خالد الخزاعي قال: أول رأس أهدى في الإسلام رأس ابن الحمق.
مولانا محمد اویس سرور
ھُنیدہ بن خالد خزاعی فرماتے ہیں کہ پہلا سر جو اسلام میں تحفۃً بھیجا گیا وہ ابن الحَمِق کا سر تھا۔
حدیث نمبر: 32695
٣٢٦٩٥ - حدثنا شريك عن أبي الجويرية الجرمي قال: كنت فيمن (سار) (١) إلى (أهل) (٢) الشام يوم (الخازر) (٣) (فالتقينا) (٤) (فهبت) (٥) الريح عليهم فأدبروا فقتلناهم عشيتنا وليلتنا حتى أصبحنا، قال: فقال إبراهيم -يعني ابن الأشتر (إني) (٦): قتلت البارحة رجلًا وإني وجدت منه ريح طيبٍ، وما أراه إلا ابن مرجانة (٧)، شرقت (رجلاه) (٨) وغرب رأسه، أو شرق رأسه وغربت رجلاه، قال: فانطلقت، فإذا هو -واللَّه- هو.
مولانا محمد اویس سرور
ابو جویریہ جرمی فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو جنگ خازر کے دن شام کی طرف جا رہا تھا، چناچہ ہمارا مقابلہ ہوا تو ہمارے مخالف فریق کے پڑاؤ میں تیز ہوا چل پڑی، وہ بھاگ کھڑے ہوئے ، چناچہ ہم نے ان کو ساری رات صبح تک قتل کیا، ابراہیم بن اشتر کہنے لگے کہ میں نے گذشتہ رات ایک آدمی کو قتل کیا جس سے بہت خوشبو آرہی تھی اور میرا خیال ہے کہ وہ شخص ابن مرجانہ ہی ہوگا، میں نے اس کو اس طرح قتل کیا کہ اس کے دونوں پاؤں مشرق کی سمت گرے اور سر مغرب کی سمت، یا اس کا سر مشرق کی سمت گرا اور اس کے پاؤں مغرب کی سمت گرے، کہتے ہیں کہ میں نے چل کر دیکھا تو بخدا وہ شخص ابن مرجانہ ہی تھا۔
حدیث نمبر: 32696
٣٢٦٩٦ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني العلاء بن المنهال الغنوي قال: حدثني أبو الجهم القرشي عن أبيه قال: بلغ عليًا (عني) (١) شيء فضربني أسواطا، ثم بلغه بعد ذلك أن معاوية كتب إليه، فأرسل رجلين يفتشان منزله، فوجد الكتاب في منزله فقال لأحد الرجلين وهو من (العشيرة) (٢): إنك من العشيرة فاستر عليَّ، قال فأتيا عليًا فأخبراه قال: فركب عليٌ وركب أبي، فقال لأبي: أما إنا (فتشنا) (٣) (عليه) (٤) ذلك فوجدناه باطلًا، قال: ما ضربني فيه أبطل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابو جہم قریشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو میرے بارے میں کوئی بری خبر پہنچی تو انہوں نے مجھے کوڑے لگوائے، پھر ان کو خبر پہنچی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کوئی خط لکھا ہے چناچہ انہوں نے دو آدمی میرا گھر تلاش کرنے بھیجے، انہوں نے میرے گھر میں وہ خط پالیا، تو میں نے ان میں سے ایک آدمی سے جو میرے خاندان سے تھا کہا کہ تو میرے خاندان کا ہے اس لئے میری پردہ پوشی کرنا، چناچہ وہ آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کو بات بتائی، ابو جہم فرماتے ہیں کہ پھر میرے والد اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سوار ہو کر نکلے تو انہوں نے ان سے فرمایا کہ ہم نے آپ کے بارے میں تحقیق کی ہے تو وہ بات باطل محض ثابت ہوئی ہے، میرے والد نے کہا کہ جس معاملے میں آپ نے مجھے کوڑے لگوائے ہیں وہ اس سے زیادہ بےاصل ہے۔
حدیث نمبر: 32697
٣٢٦٩٧ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى حدثنا شيبان عن الأعمش عن أبي الضحى قال: حدثني من سمع عمر يقول إذا رأى المغيرة بن شعبة: ويحك يا مغيرة واللَّه ما رأيتك قط إلا خشيت (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابو الضحیٰ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے ایک صاحب نے بیان کیا جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی ہے کہ جب آپ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو دیکھتے تو فرماتے کہ مغیرہ ! تیرا ناس ہو جب بھی میں نے آپ کو دیکھا میں ڈر ہی گیا۔
حدیث نمبر: 32698
٣٢٦٩٨ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا شيبان عن الأعمش عن عبد اللَّه بن سنان قال: خرج إلينا ابن مسعود ونحن في المسجد (فقال) (١): يا (أهل) (٢) الكوفة فقدت من بيت مالكم الليلة مائة ألف لم يأتني بها كتاب من أمير المؤمنين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن سنان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں تھے کہ ہمارے پاس حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا اے کوفہ والو ! آج رات تمہارے بیت المال میں سے ایک لاکھ درہم غائب ہوگئے جن کے بارے میں میرے پاس امیر المؤمنین کا کوئی خط بھی نہیں آیا۔
حدیث نمبر: 32699
٣٢٦٩٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا (فطر) (١) قال: حدثنا منذر الثوري عن محمد بن علي ابن الحنفية قال: اتقوا هذه الفتن فإنه لا (يستشرف) (٢) (إليها) (٣) أحد إلا (انتسغته) (٤)، ألا إن هؤلاء القوم لهم أجل ومدة، لو أجمع من في الأرض أن (يزيلوا) (٥) (ملكهم) (٦) لم يقدروا على ذلك حتى يكون اللَّه هو الذي يأذن فيه، أتستطيعون أن تزيلوا هذه الجبال.
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن حنفیہ سے روایت ہے فرمایا کہ ان فتنوں سے بچو کیونکہ جو بھی ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے یہ اس کو بربا د کردیتے ہیں، آگاہ رہو ! بیشک اس قوم کا ایک وقت اور ایک مدت مقرر ہے اگر تمام زمین والے اس مدت میں ان کی سلطنت زائل کرنا چاہیں تو نہیں کرسکیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کی اجازت دے دیں، کیا تم ان پہاڑوں کو ٹلا سکتے ہو ؟ !
حدیث نمبر: 32700
٣٢٧٠٠ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر حدثني أبو بكر بن عمرو بن عتبة عن جابر بن سمرة قال: بعثني سعد أقسم بين الزبير و (خباب) (١) أرضًا، فتراميًا بالجندل فرجعت فأخبرت سعدا ذلك، فضحك حتى ضرب برجله وقال: في أرض مثل هذا المسجد أو قل ما يزيد عليه، قال: فهلا رددتهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک زمین کو تقسیم کرنے کے لئے بھیجا تو وہ ایک دوسرے کو کنکر مارنے لگے، میں نے واپس آ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی تو وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ انہوں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا اور فرمایا کہ وہ زمین اس مسجد جتنی یا اس سے ذرا بڑی ہوگی، پھر فرمایا کہ تم نے ان کو روک کیوں نہیں دیا ؟
حدیث نمبر: 32701
٣٢٧٠١ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر حدثنا سعيد بن شيبان عمن حدثه عن (عدي) (١) بن حاتم قدم إليه لحم (جداولا) (٢) فقال: انهشوا نهشًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ ان کے پاس گوشت کے پارچے لائے گئے، انہوں نے حاضرین سے فرمایا اس کو نوچ کر کھاؤ۔
حدیث نمبر: 32702
٣٢٧٠٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال: لما بويع لعلي أتاني فقال: إنلث امرؤ (محبب) (١) في أهل (الشام) (٢)؟ وقد استعملتك عليهم فسر إليهم، قال: فذكرت القرابة وذكرت (الصهر) (٣) فقلت: أما بعد فواللَّه لا أبايعك، قال: فتركني وخرج، فلما كان بعد ذلك جاء ابن عمر إلى أم كلثوم فسلم عليها و (توجه) (٤) إلى مكة فأتي (علي) (٥) ﵀ فقيل له: إن ابن عمر قد توجه إلى الشام فاستنفر الناس، قال: فإن كان الرجل ليعجل حتى يلقي رداءه في عنق بعيره، قال: وأتيت أم كلثوم فأخبرت فأرسلت إلى أبيها: ما هذا الذي تصنع؟ قد جاءني الرجل وسلم علي وتوجه إلى مكة، فتراجع الناس (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تو وہ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اہل شام تم سے محبت کرتے ہیں اور میں تمہیں ان پر عامل بناتا ہوں تم ان کے پاس چلے جاؤ، میں نے ان سے رشتہ داری اور سسرالی رشتے کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ بخدا ! میں آپ کے ہاتھ پر بیعت ہی نہیں کرتا ، کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے چھوڑا اور نکل گئے، بعد میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ام کلثوم کے پا س آئے، ان کو سلام کیا اور مکہ کی طرف چل دیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لوگ آئے اور کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما شام کی طرف چلے گئے ہیں ، چناچہ انہوں نے لوگوں سے نکلنے کا مطالبہ کیا اور کہا کوئی آدمی تیزی سے جائے اور اپنی چادر ان کے اونٹ کی گردن میں ڈال دے، کہتے ہیں کہ ام کلثوم کے پاس کسی نے خبر پہنچائی تو انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں ؟ وہ میرے پاس آئے ، مجھ سے سلام کیا اور مکہ کی طرف گئے ہیں، چناچہ یہ سن کر لوگ واپس لوٹ آئے۔
حدیث نمبر: 32703
٣٢٧٠٣ - [حدثنا ابن عيينة عن داود بن (شابور) (١) عن مجاهد قال: كنا نفخر على الناس بأربعة: بفقيهنا و (قاصنا) (٢) ومؤذننا وقارئنا، ففقيهنا ابن عباس، ومؤذننا أبو محذورة، (وقاصنا) (٣) عبيد بن عمير، وقارئنا عبد اللَّه بن السائب] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں پر چار آدمیوں کے ذریعے فخر کیا کرتے تھے، اپنے فقیہ کے ذریعے، اپنے واعظ کے ذریعے، اور اپنے مؤذن اور قاری کے ذریعے، ہمارے فقیہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے، ہمارے مؤذن ابو محذورہ تھے، ہمارے واعظ عبیدبن عمیر تھے، اور ہمارے قاری عبد اللہ بن سائب تھے۔
حدیث نمبر: 32704
٣٢٧٠٤ - حدثنا ابن عيينة عن داود بن (شابور) (١) عن مجاهد قال: لما أجمع ابن الزبير على هدمها خرجنا إلى منى ننتظر العذاب -يعني هدم الكعبة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کے منہدم کرنے کا فیصلہ کرلیا تو ہم منیٰ کی طرف نکل گئے اور ہم عذاب کا انتظار کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 32705
٣٢٧٠٥ - حدثنا (١) ابن عيينة عن منصور (بن) (٢) صفية عن (أمه) (٣) قالت: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب فقالوا له: هذه أسماء، فأتاها فذكرها ووعظها وقال: إن الجثة ليست بشيء، وإنما الأرواح عند اللَّه، (فاصبري واحتسبي) (٤) فقالت: ما يمنعني من الصبر وقد أهدي رأس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیہ روایت کرتی ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد حرام میں داخل ہوئے جبکہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سولی پر لٹکے ہوئے تھے، لوگوں نے آپ سے فرمایا کہ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا تشریف لا رہی ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت اسماء کے پاس گئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور کہا کہ جسم کی کچھ حقیقت نہیں، اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہوتی ہیں، آپ صبر کیجیے ! اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیے ! انہوں نے فرمایا مجھے صبر سے کیا مانع ہے ؟ جبکہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کو دے دیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 32706
٣٢٧٠٦ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن ابن أبي مليكة قال: أتيت أسماء بعد قتل عبد اللَّه بن الزبير فقالت: بلغني أنهم (صلبوا) (١) عبد اللَّه منكسا وعلقوا معه الهرة، واللَّه لوددت أني لا أموت حتى يدفع إليَّ فأغسله وأحنطه وأكفنه ثم أدفنه، (فما لبثوا) (٢) أن جاءه كتاب (عبد الملك) (٣) أن يدفع إلى أهله، قال: فأتيت به أسماء فغسلته وحنطته وكفنته ثم دفنته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا، وہ فرمانے لگیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ لوگوں نے عبد اللہ کو الٹا کر کے سولی چڑھایا ہے، اور اس کے ساتھ ایک بلی کو بھی لٹکایا ہے، بخدا میں چاہتی ہوں کہ میری موت سے پہلے مجھے اس کی نعش دی جائے تو میں اس کو غسل دوں خوشبو لگاؤں، کفن دوں اور دفن کر دوں، کچھ ہی دیر بعد عبد الملک کا خط آگیا کہ ان کی نعش کو ان کے گھر والوں کے سپرد کردیا جائے، چناچہ ان کو حضرت اسماء کے پاس لایا گیا ، انہوں نے ان کو غسل دیا ، خوشبو لگائی ، کفن دیا اور دفنا دیا۔
حدیث نمبر: 32707
٣٢٧٠٧ - حدثنا أبو أسامة (١) حدثنا هشام عن أبيه قال: دخلت أنا وعبد اللَّه بن الزبير على أسماء قبل قتل عبد اللَّه بعشر ليال وأسماء وجعة، فقال لها عبد اللَّه: كيف تجدينك؟ قالت: وجعة، قال: إن في الموت لعافية، (قالت) (٢): لعلك (تشمت بموتي) (٣)، (فلذلك) (٤) (تتمناه) (٥) فلا (تفعل) (٦)، فواللَّه ما أشتهي أن أموت حتى يأتي علي أحد (طريقيك) (٧)، إما أن تقتل فأحتسبك، وإما (أن) (٨) (تظهر) (٩) فتقر عيني، فإياك أن تعرض عليك (خطة) (١٠) لا توافقك فتقبلها كراهة الموت، قال: وإنما عنى ابن الزبير ليقتل فيحزنها ذلك (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں اور عبد اللہ بن زبیر حضرت اسماء کے پاس حضرت عبد اللہ کے قتل سے دس رات پہلے حاضر ہوئے ، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو تکلیف تھی، حضرت عبد اللہ نے ان سے پوچھا کہ آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ فرمایا کہ مجھے تکلیف ہے، حضرت عبد اللہ نے فرمایا موت کے اندر عافیت ہے، انہوں نے فرمایا کہ شاید تم مجھے میری موت کی خبر سنا رہے ہو، کیا تم یہی چاہتے ہو ؟ ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک مرنا نہیں چاہتی جب تک میرے پاس تمہاری دو حالتوں میں سے ایک حالت کی خبر نہ آجائے، یا تو تمہیں قتل کردیا جائے تو میں تجھ پر ثواب کی امید رکھوں اور صبر کروں ، یا تم کو غلبہ حاصل ہوجائے تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، اس بات سے بچے رہنا کہ تم پر کوئی ایسی حالت پیش کردی جائے جو تمہارے لئے موافق نہ ہو اور تم موت سے بچنے کے لئے اس کو قبول کرلو، راوی کہتے ہیں ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ان سے اس وجہ سے کی تھی کہ ان کو قتل کا یقین تھا اور انہوں نے سوچا کہ کہیں حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا کو ان کے قتل کی وجہ سے غم نہ پہنچے۔
حدیث نمبر: 32708
٣٢٧٠٨ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبيه قال أخبرني أبي أن الحجاج حين قتل ابن الزبير جاء به إلى منى فصلبه عند الثنية في بطن الوادي، ثم قال للناس: انظروا إلى هذا: شر الأمة، فقال: إني رأيت ابن عمر جاء على بغلة له فذهب ليدنيها من الجذع: فجعلت تنفر فقال لمولاها: ويحك خذ بلجامها فأدنها، قال: فرأيته أدناها فوقف عبد اللَّه بن عمر وهو يقول: رحمك اللَّه، إن كنت ⦗١٥٦⦘ (لصوامًا) (١) (قوامًا) (٢)، ولقد أفلحت أمة أنت (٣) شرها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
خلیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حجاج نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کر ڈالا تو ان کو منیٰ لے گیا اور ان کو وادی کے درمیان ایک ٹیلہ کے قریب سولی دے دی، پھر لوگوں سے کہا کہ اس آدمی کو دیکھو یہ امت کا بد ترین آدمی ہے، راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک خچر پر آتے ہوئے دیکھا ، وہ اپنے خچّر کو شہتیر سے قریب کرنے لگے اور خچر بدکنے لگا، حضرت نے اپنے غلام سے فرمایا اس کی لگام پکڑ کر شہتیر کے قریب کرو، کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ انہوں نے خچر کو شہتیر کے قریب کردیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں رکے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے ، بیشک تو بہت روزے رکھنے والا اور بہت نماز کے لئے قیام کرنے والا تھا، اور یقینا وہ امت فلاح پا گئی جس کا بدترین آدمی تجھ جیسا ہو۔
حدیث نمبر: 32709
٣٢٧٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن (شمر) (١) عن هلال بن يساف قال: حدثني (البريد) (٢) الذي جاء برأس المختار إلى عبد اللَّه بن الزبير قال: فلما (وضعته) (٣) بين يديه قال: ما حدثني كعب بحديث إلا رأيت مصداقه غير هذا، فإنه حدثني أنه (يقتلني) (٤) رجل من (بني) (٥) ثقيف، أراني أنا الذي قتلته (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ھلال بن یساف روایت کرتے ہیں کہ مجھے اس قاصد نے بیان کیا جو مختار کا سر حضرت عبد اللہ بن زبیر کے پاس لایا تھا، اس نے کہا کہ جب میں نے مختار کا سر ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے فرمایا کہ کعب نے مجھے جو بات بھی بیان کی میں نے اس کا مصداق دیکھ لیا ، سوائے اس بات کے کہ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھے قبیلہ بنو ثقیف کا ایک آدمی قتل کرے گا، میر اخیال ہے کہ میں نے ہی اس ثقفی کو قتل کردیا ہے۔
حدیث نمبر: 32710
٣٢٧١٠ - حدثنا يحيى بن يعلى عن أبيه يعلى بن حرملة قال: تكلم الحجاج يوم عرفة بعرفات، فأطال الكلام، فقال عبد اللَّه بن عمر: ألا إن اليوم يوم ذكر، (١) (فمضى) (٢) الحجاج (٣) قال: فأعادها عبد اللَّه مرتين أو ثلاثًا، ثم قال: يا نافع ناد بالصلاة، فنزل الحجاج (٤).
مولانا محمد اویس سرور
یعلی رضی اللہ عنہ بن حرملہ فرماتے ہیں کہ حجاج نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن گفتگو کی اور بہت لمبی گفتگو کی، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا آج کا دن ذکر کا دن ہے، کہتے ہیں کہ حجاج نے اپنا خطبہ جاری رکھا، حضرت عبد اللہ نے دو یا تین مرتبہ یہ بات دہرائی ، پھر فرمایا اے نافع ! نماز کے لئے اذان کہو، یہ سن کر حجاج منبر سے اتر گیا۔
حدیث نمبر: 32711
٣٢٧١١ - (١) حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا إسماعيل أخبرنا قيس قال: قال عمر: (ألا) (٢) تخبروني (عن منزليكم) (٣) هذين؟ ومع هذا إني (لأسألكما) (٤) وإني لأتبين في وجوهكما أي (المنزلين) (٥) خير، قال: فقال له جرير: أنا أخبرك يا أمير المؤمنين، أما (أحد) (٦) (المنزلين) (٧) (فأدنى) (٨) نخلة بالسواد إلى أرض العرب، وأما المنزل الآخر فأرض فارس (وعكها) (٩) وحرها و (بقها) (١٠) يعني المدائن، قال: فكذبني عمار فقال: كذبت، فقال عمر: أنت أكذب، ثم قال عمر: ألا تخبروني عن أميركم هذا (أمجزئ) (١١) هو؟ قلت: (لا) (١٢) واللَّه (ما) (١٣) هو (بمجزئ) (١٤) ولا (كاف) (١٥) ولا ⦗١٥٨⦘ عالم بالسياسة، فعزله (وبعث) (١٦) المغيرة ابن شعبة (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
قیس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم مجھے خبر دیتے نہیں اپنی ان دو منزلوں کے بارے میں، لیکن اس کے باوجود میں تم سے پوچھوں گا اور میں تمہارے چہروں سے معلوم کروں گا کہ کون سی منزل بہتر ہے، کہتے ہیں کہ جریر نے آپ سے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! میں آپ کو بتاتا ہوں، ایک منزل تو درختوں کے اعتبار سے عرب کی زمین کے قریب قریب ہے، اور دوسری منزل فارس کی زمین ہے جس میں سخت بخار اور گرمی اور کھٹمل ہیں، یعنی مدائن، کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمار نے جھٹلایا اور کہا کہ تم نے جھوٹ کہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے اس سے زیادہ جھوٹ بولا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے اپنے اس امیر کے بارے میں بتاؤ ، کیا یہ معقول اور مناسب آدمی ہے ؟ لوگوں نے کہا واللہ ! نہ تو یہ بہتر کام کرنے والے ہیں اور نہ اکیلے کفایت کرنے والے ہیں اور نہ ہی سیاست کو جانتے ہیں، چناچہ آپ نے ان کو معزول کردیا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔
حدیث نمبر: 32712
٣٢٧١٢ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: كان بين ابن مسعود والوليد بن عقبة (حسن) (١) قال: فدعا عليهما سعد فقال: اللهم أمسّ بينهما، فكان أحدهما يقول لصاحبه: لقد أجيب فينا سعد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ولید بن عقبہ کے درمیان اچھے تعلقات تھے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان دونوں پر بد دعا کردی، اور کہا اے اللہ ! ان دونوں میں اتراہٹ اور اکڑ پیدا کر دے، چناچہ بعد میں ان میں سے ایک دوسرے سے کہا کرتا تھا کہ ہمارے بارے میں حضرت سعد کی بد دعا قبول ہوگئی ہے۔
حدیث نمبر: 32713
٣٢٧١٣ - حدثنا ابن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن طاوس قال: ذكرت الأمراء عند ابن عباس، (فابترك) (١) فيهم رجل، فتطاول حتى ما أرى في البيت أطول منه، فسمعت ابن عباس يقول: يا (هزهاز) (٢) لا تجعل نفسك فتنة للظالمين، فتقاصر حتى ما رأيت في القوم أقصر منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے امراء کا ذکر کیا گیا ان لوگوں میں ایک آدمی امراء کو خوب برا بھلا کہنے لگا یہاں تک کہ مجھے گھر میں کوئی آدمی اس سے لمبی بات کرنے والا نہیں ملا ، پھر میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا کہ اے حرکت کرنے والے ! اپنے آپ کو ظالموں کے لئے فتنہ نہ بناؤ ! چناچہ وہ خاموش ہوگیا یہاں تک کہ پھر میں نے لوگوں میں اس سے زیادہ کم گو شخص نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 32714
٣٢٧١٤ - حدثنا محمد بن الحسن الأسدي قال: أخبرنا يحيى بن المهلب أبو (كدينة) (١) عن الأعمش قال: ذكروا عند ابن عمر الخلفاء، وحب الناس تغييرهم فقال ابن عمر: لو ولي الناس صاحب هذه السارية ما رضوا به -يعني عبد الملك ابن مروان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
اعمش سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے خلفاء کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ لوگ ان کا تبدیل کرنا پسند کرتے ہیں ، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر اس ستون والا شخص لوگوں کا حاکم بن جائے تو بھی لوگ اس کو پسند نہیں کریں گے یعنی عبد الملک بن مروان۔
حدیث نمبر: 32715
٣٢٧١٥ - حدثنا محمد بن الحسن الأسدي قال: حدثنا شريك عن أبي الجحاف عن عبد الرحمن بن أبزى عن علي قال: إن حمة (كحمة) (١) العقرب، فإذا كان ذلك فالحقوا بعمتكم النخلة -يعني السواد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابزیٰ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ تمثیلی فرمان نقل کرتے ہیں کہ بہت سے ڈنگ بچّھو کے ڈنگ کے سے ہوتے ہیں ، جب ایسا ہو تو تم اپنی پھوپھی کھجور کے ساتھ ہو جاؤ یعنی عام لوگوں کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 32716
٣٢٧١٦ - (١) حدثنا محمد بن الحسن قال: حدثنا شريك عن داود عن رجل عن علي أنه قال: ستكون عكرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
داؤد ایک آدمی کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ عنقریب شدید گڑبڑ ہوجائے گی۔
…