کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 32637
٣٢٦٣٧ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن زيد بن وهب قال: مررنا على أبي ذر بالربذة فسألناه عن منزله قال: كنت بالشام فقرأت هذه الآية: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [التوبة: ٣٤]، فقال معاوية: إنما هي في أهل الكتاب، فقلت: إنها لفينا وفيهم، (قال) (١): فكتب إلى عثمان (فكتب إليّ عثمان) (٢) أن أقبل، فلما قدمت ركبني الناس كأنهم لم يروني قبل ذلك، فشكوت ذلك إلى عثمان فقال: لو اعتزلت فكنت قريبًا، فنزلت هذا المنزل، فلا أدع (قوله) (٣): ولو أمروا عليَّ عبدًا حبشيًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ ہم مقام ربذہ میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ہم نے وہاں پر ان کے قیام کی وجہ پوچھی، انہوں نے فرمایا کہ میں شام میں رہا کرتا تھا، وہاں میں نے یہ آیت پڑھی : { الَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنْفِقُونَہَا فِی سَبِیلِ اللہِ } حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں ہے، میں نے کہا کہ یہ آیت ہمارے اور ان کے بارے میں ہے، میں نے یہ بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی، انہوں نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ میرے پاس آؤ، جب میں آیا تو لوگ میرے گرد اس طرح جمع ہوگئے جیسا کہ انہوں نے مجھے اس سے پہلے دیکھا ہی نہیں تھا، میں نے اس بات کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو انہوں نے فرمایا کہ اچھا ہوتا اگر آپ مدینہ کے باہر قریب کی کسی بستی میں علیحدگی اختیار کرلیتے ! میں اس جگہ آگیا اب میں امیر کے فرمان کو نہیں چھوڑوں گا چاہے وہ میرے اوپر کسی حبشی غلام کو ہی امیر بنادیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32637
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32637، ترقيم محمد عوامة 31252)
حدیث نمبر: 32638
٣٢٦٣٨ - حدثنا جرير عن مغيرة عن أبي (معشر) (١) قال: قال إبراهيم: كفى بمن شك في الحجاج (لحاه اللَّه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حجاج کے بارے میں شک کرنے والے کے لئے کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32638
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32638، ترقيم محمد عوامة 31253)
حدیث نمبر: 32639
٣٢٦٣٩ - حدثنا جرير عن مغيرة أن عمر بن عبد العزيز كان له (سمار) (١) فكان (٢) علامة ما بينه وبينهم أن يقول لهم: إذا شئتم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے کچھ قصّہ گو تھے، ان کی آپس میں مجلس برخاست کرنے کی علامت یہ تھی کہ وہ ان سے فرماتے کہ ” اب جس وقت تم چاہو “۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32639
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32639، ترقيم محمد عوامة 31254)
حدیث نمبر: 32640
٣٢٦٤٠ - حدثنا ابن إدريس عن هشام قال: كان إبراهيم إذا ذكر عند ابن سيرين قال: قد رأيت فتى (يغشى) (١) علقمة في عينه بياض، فأما الشعبي فقد رأيته (يعني) (٢) في زمان ابن زياد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے سامنے جب ابراہیم کا ذکر ہوتا تو فرماتے کہ میں نے ان کو ایسا جوان دیکھا ہے کہ حضرت علقمہ کو ہر وقت چمٹے رہتے ہیں ان کی آنکھ میں سفیدی تھی، اور شعبی کو بھی میں نے ابن زیاد کے زمانے میں دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32640
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32640، ترقيم محمد عوامة 31255)
حدیث نمبر: 32641
٣٢٦٤١ - حدثنا ابن إدريس عن الأعمش قال: كان معاذ شابًا آدم وضاح الثنايا وكان إذا جلس مع أصحاب النبي ﷺ رأوا له ما يرون للكهل (١).
مولانا محمد اویس سرور
اعمش فرماتے ہیں کہ معاذ جوان مرد تھے، گندم گوں رنگت والے ، چمکتے دندان والے، اور جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ بیٹھتے تو لوگ دیکھتے کہ ان کو ادھیڑ لوگوں میں مقام حاصل ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32641
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32641، ترقيم محمد عوامة 31256)
حدیث نمبر: 32642
٣٢٦٤٢ - حدثنا ابن إدريس عن حسن بن فرات عن أبيه عن عمير بن سعد قال: لما رجع علي من الجمل، وتهيأ إلى صفين اجتمعت النخع حتى دخلوا على الأشتر، فقال: هل في البيت إلا نخعي؟ قالوا: لا، قال: إن هذه الأمة عمدت إلى خيرها فقتلته، وسرنا إلى أهل البصرة قوم لنا عليهم بيعة فنصرنا عليهم (بنكثهم) (١)، وإنكم ستسيرون إلى أهل الشام قوم ليس لكم عليهم بيعة، فلينظر امرؤ منكم أين يضع سيفه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن سعد فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل سے واپس ہوئے اور صفّین کی تیاری کرنے لگے تو قبیلہ نخع والے جمع ہو کر اشتر کے پاس پہنچ گئے، آپ نے پوچھا کہ اس گھر میں قبیلہ نخع کے لوگوں کے علاوہ کوئی آدمی نہیں ؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا، آپ نے فرمایا بیشک اس جماعت نے اپنے بہترین آدمی قتل کردیے، اور ہم نے اہل بصرہ کی طرف پیش قدمی کی جن پر ہمارا بیعت کا حق تھا پس ان کی عہد شکنی کے ساتھ ہماری مدد کی گئی، بیشک تم لوگ عنقریب اہل شام کی طرف کوچ کرو گے جن پر تمہیں بیعت کا حق حاصل نہیں ہے، اس لئے ہر آدمی کو چاہیے کہ دیکھ لے اور خوب سوچ لے کہ اپنی تلوار کہاں چلائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32642
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ١٠٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32642، ترقيم محمد عوامة 31257)
حدیث نمبر: 32643
٣٢٦٤٣ - حدثنا ابن إدريس عن ابن عون عن ابن سيرين قال: قيل لعمر: اكتب إلى جوانان، قال: وما جوانان (١)؟ قالوا: خير الفتيان، قال: أكتب إلى شر الفتيان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سے کہا گیا کہ جوانوں کی طرف پیغام لکھ دو آپ نے پوچھا جوان کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ بہترین نوجوان، آپ نے فرمایا : میں بدترین نوجوانوں کو پیغام لکھ دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32643
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32643، ترقيم محمد عوامة 31258)
حدیث نمبر: 32644
٣٢٦٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش قال رأيت عبد الرحمن بن أبي ليلى ضربه الحجاج (ووقفه) (١) على باب المسجد، قال: فجعلوا يقولون (له) (٢): العن الكذابين (قال: فجعل يقول: لعن اللَّه الكذابين) (٣)، ثم (يسكت) (٤)، ثم يقول: عليُّ بن أبي طالب وعبد اللَّه بن الزبير والمختار بن أبي عبيد، فعرفت حين (سكت) (٥) ثم ابتدأهم، (فعرفهم) (٦) أنه ليس يريدهم.
مولانا محمد اویس سرور
اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ حجاج نے ان کو کوڑے لگوا کر مسجد کے دروازے پر کھڑا کیا ہو اتھا، فرماتے ہیں کہ پھر وہ لوگ ان سے کہنے لگے کہ جھوٹوں پر لعنت کرو، وہ فرمانے لگے : اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے جھوٹوں پر، پھر تھوڑا رہ کر فرماتے ، علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب، عبد اللہ بن زبیر اور مختار بن ابی عبید، ان کے خاموش رہنے کے بعد بولنے سے مجھے پتہ چل گیا کہ وہ انہیں مراد نہیں لے رہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32644
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32644، ترقيم محمد عوامة 31259)
حدیث نمبر: 32645
٣٢٦٤٥ - حدثنا مالك بن إسماعيل قال: أخبرنا جعفر بن زياد عن عطاء بن السائب قال: كنت جالسًا مع أبي البختري الطائي والحجاج يخطب فقال: مثل عثمان عند اللَّه كمثل عيسى ابن مريم، قال: فرفع رأسه ثم تأوه ثم قال: ﴿إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ (وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا) (١) وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ [آل عمران: ٥٥]، قال: فقال أبو البحتري: كفر ورب الكعبة.
مولانا محمد اویس سرور
عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ ابو البختری طائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جبکہ حجاج خطبہ دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مثال اللہ کے ساتھ حضرت عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، کہتے ہیں کہ پھر اس نے سر اٹھا کر آہ نکالی پھر کہا {إنِّی مُتَوَفِّیک وَرَافِعُک إلَیَّ } … { وَجَاعِلُ الَّذِینَ اتَّبَعُوک فَوْقَ الَّذِینَ کَفَرُوا إلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ } ( اور بنانے والا ہوں تیرے متبعین کو کفار پر غالب قیامت کے دن تک) عطاء فرماتے ہیں کہ اس پر ا بو البختری نے فرمایا رب کعبہ کی قسم ! یہ کافر ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32645
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32645، ترقيم محمد عوامة 31260)
حدیث نمبر: 32646
٣٢٦٤٦ - حدثنا مالك بن إسماعيل قال: حدثنا زهير قال: حدثنا كنانة قال: كنت (أقود بصفية) (١): (لترد) (٢) (عن) (٣) عثمان، قال: فلقيها الأشتر فضرب وجه ⦗١٣٠⦘ (بغلها) (٤) (حتى مالت وحتى) (٥) قالت: ردوني لا يفضحني هذا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
کنانہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت صفیّہ کی سواری چلا رہا تھا تاکہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف داری کرتے ہوئے ان کا دفاع کریں، کہ اس اثناء میں ان کے سامنے اشتر آگیا اور اس نے ان کے خچر کے چہرے پر مارنا شروع کردیا یہاں تک کہ خچر واپس ہوگیا، اور حضرت صفیہ بھی فرمانے لگیں کہ مجھے واپس کردو کہیں یہ آدمی مجھے رسوا نہ کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32646
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كنانة وثقه ابن حبان والعجلي وروى عنه جماعة وحسن الحافظ ابن حجر هذا الخبر وقال ابن حجر عنه: مقبول، وقد وثق، وقال ابن القيم: لا يحتج به، وضعف الترمذي حديثه وقد أخرج الخبر إسحاق ٤/ ٢٦١، وابن سعد ٣/ ٨٣، وخليفة بن خياط ص ١٧٥، وابن شبه (٢٣٥٤)، والبغوي في الجعديات (١٦٦٣)، وابن عساكر ٣٩/ ٤٠٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32646، ترقيم محمد عوامة 31261)
حدیث نمبر: 32647
٣٢٦٤٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الربيع بن أبي صالح قال: لما قدم سعيد بن جبير من مكة إلى الكوفة لينطلق به إلى الحجاج إلى واسط، قال: (فأتيناه) (١) ونحن ثلاثة نفر أو أربعة، فوجدناه في كناسة الخشب فجلسنا إليه فبكى رجل منا، فقال له سعيد: ما يبكيك؟ قال: أبكي للذي نزل بك من الأمر، قال: فلا تبك فإنه قد كان سبق في علم اللَّه يكون هذا ثم قرأ: ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾ [الحديد: ٢٢].
مولانا محمد اویس سرور
ربیع بن ابی صالح فرماتے ہیں کہ جب سعید بن جبیر مکہ سے کوفہ آئے تاکہ ان کو واسط میں حجاج کے پاس لے جایا جائے تو ہم تین یا چار آدمی ان کے پاس آئے تو ہم نے ان کو لکڑی کے ایک ڈھیر میں بیٹھا ہوا پایا۔ ہم ان کے پاس بیٹھے تو ہم میں سے ایک آدمی رو پڑا، سعید نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز رلاتی ہے ؟ عرض کیا کہ میں آپ کی مصیبت پر رو رہا ہوں، آپ نے فرمایا نہ روؤ کیونکہ اللہ کے علم میں پہلے سے یہ بات ہے کہ اس طرح ہوگا، پھر آپ نے پڑھا { مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَۃٍ فِی الأَرْضِ ، وَلاَ فِی أَنْفُسِکُمْ إلاَّ فِی کِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَہَا إنَّ ذَلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیرٌ}(زمین میں اور تمہاری جانوں میں کوئی مصیبت نہیں آتی مگر وہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے ہمارے اس زمین کو پیدا کرنے سے پہلے، بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32647
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32647، ترقيم محمد عوامة 31262)
حدیث نمبر: 32648
٣٢٦٤٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة قال: حدثنا المغيرة عن ثابت بن (هرمز) (١) عن عباد قال: أتى المختار علي بن أبي طالب بمال من المدائن، وعليها عمه سعد بن مسعود قال: فوضع المال بين يديه وعليه مقطعة حمراء، قال: فأدخل يده فاستخرج كيسًا فيه نحو من خمس (عشرة) (٢) مائة، قال: هذا من أجور المومسات، قال: فقال علي: لا حاجة لنا في أجور المومسات، قال: وأمر بمال ⦗١٣١⦘ المداين فرفع إلى بيت المال، قال: فلما أدبر قال له علي: (قاتله) (٣) اللَّه، لو شق على قلبه لوجد ملآن من حب اللات والعزى (٤).
مولانا محمد اویس سرور
عباد فرماتے ہیں کہ مختار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس مدائن سے ما ل لے کر آیا اور مدائن پر اس کے چچا سعد بن مسعود حاکم تھے، راوی کہتے ہیں کہ اس نے ان کے سامنے مال رکھا اس پر سرخ رنگ کی چادر پڑی تھی، اس نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا اور ایک تھیلی اس میں سے نکالی جس میں تقریباً پندرہ سو درہم تھے، کہنے لگا کہ یہ زانیہ عورتوں کی اجرتیں ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں زانیہ عورتوں کی اجرتوں کی کوئی ضرورت نہیں، فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پھر مدائن کے مال کو بیت المال میں داخل کرنے کا حکم دیا اور جب مختار چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کو غارت کرے اگر اس کا سینہ چیر کر دیکھا جائے تو لات اور عزّیٰ کی محبت سے بھرا ہوا ملے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32648
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32648، ترقيم محمد عوامة 31263)
حدیث نمبر: 32649
٣٢٦٤٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا داود عن الحسن عن الزبير بن العوام في هذه الآية: ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ (خَاصَّةً) (١)﴾ [الأنفال: ٢٥]، قال: لقد نزلت (وما) (٢) ندري من (يخلف) (٣) لها، قال: فقال بعضهم: يا أبا عبد اللَّه، فلم جئت إلى البصرة؟ قال: ويحك إنا نبصر ولكنا لا نصبر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ { وَاتَّقُوا فِتْنَۃً لاَ تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّۃً } نازل ہوئی اور ہم یہ نہیں جانتے کہ اس فتنے کا پیچھا کون کرے ؟ راوی کہتے ہیں کہ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ اے ابو عبد اللہ ! پھر آپ بصرہ کیوں آگئے ؟ آپ نے فرمایا تیرا ناس ہو ہم خوب دیکھتے ہیں لیکن ہم صبر نہیں کر پاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32649
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32649، ترقيم محمد عوامة 31264)
حدیث نمبر: 32650
٣٢٦٥٠ - حدثنا (عفان قال: أخبرنا) (١) أبو عوانة عن المغيرة عن قدامة بن (عتاب) (٢) قال: رأيت عليا يخطب فأتاه آت فقال: يا أمير المؤمنين أدرك بكر بن وائل فقد ضربتها بنو تميم بالكناسة، قال علي: هاه، ثم أقبل على خطبته، ثم أتاه آخر فقال مثل ذلك، فقال: آه، ثم أتاه الثالثة أو الرابعة فقال: أدرك بكر بن وائل، فقد ضربتها بنو تميم (هي) (٣) بالكناسة، فقال: (ألا) (٤) صدقتني سن ⦗١٣٢⦘ (بكرك) (٥) يا شداد أدرك (بكر) (٦) بن وائل (وبني) (٧) تميم (فأفرع) (٨) بينهم (٩).
مولانا محمد اویس سرور
قدامہ بن عتاب فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خطبہ فرما رہے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا اے امیر المؤمنین ! بکر بن وائل کی مدد کو پہنچو کیونکہ ان کو مقام کُناسہ میں بنو تمیم نے مار ہی ڈالا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آہ لی اور پھر خطبے کی طرف متوجہ ہوگئے، پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے بھی یہی کہا آپ نے بھی آہ کیا، پھر وہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آیا اور وہی بات دہرائی تو آپ نے فرمایا کہ اے شداد ! اب تو نے میرے ساتھ سچائی کا برتاؤ کیا، بکر بن وائل اور بنو تمیم کے پاس پہنچو اور ان کے درمیان قرعہ اندازی کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32650
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32650، ترقيم محمد عوامة 31265)
حدیث نمبر: 32651
٣٢٦٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا العوام بن حوشب عن إبراهيم مولى صخر عن أبي وائل قال: بدث إلي الحجاج فقدمت عليه (الأهواز) (١) (قال) (٢) لي: ما معك من القرآن؟ قال: قلت: (معي) (٣) ما إن اتبعته كفاني، قال: إني أريد أن أستعين بك على بعض عملي، قال: قلت: إن تقحمني أقتحم، وإن تجعل (معي) (٤) غيري خفت بطائن السوء، قال: فقال الحجاج: واللَّه لئن قلت ذاك، إن بطائن السوء لمفسدة (للرجل) (٥)، قال: قلت: ما زلت (أقحز منذ) (٦) الليلة على فراشي مخافة أن تقتلني، قال: وعلام (أقتلك) (٧)، أما واللَّه (لئن قلت) (٨) ذاك، إني (لأقتل) (٩) الرجل على أمر قد كان من قبلي يهاب القتل على مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابو وائل فرماتے ہیں کہ میرے پا س حجاج کا پیغام آیا تو میں اس کے پاس اہواز گیا ، ا س نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کو کتنا قرآن یاد ہے ؟ میں نے کہا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ اگر میں اس کی پیروی کروں تو میرے لیے کافی ہے، و ہ کہنے لگا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے بعض کاموں میں آپ سے مدد لوں، میں نے کہا اگر آپ مجھے اس کام میں جھونک دیں تو میں اتر جاؤں گا، اور اگر آپ میرے ساتھ کسی دوسرے آدمی کو بھی لگائیں گے تو مجھ برے راز دار کا خطرہ رہے گا، کہتے ہیں کہ اس پر حجاج نے کہا : بخدا آپ نے سچ فرمایا بیشک برے رازدان انسان کی بگاڑ کا سبب ہیں، میں نے کہا : میں رات بھر اپنے بستر پر اس بارے میں بےچین رہا کہ کہیں تم مجھے قتل نہ کر ڈالو، کہنے لگا کہ میں تمہیں کیوں قتل کروں گا ؟ بخدا اگر آپ نے یہ کہہ ہی دیا ہے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں کسی بھی آدمی کو ایسے جرم پر قتل کرتا ہوں کہ مجھ سے پہلے لوگ بھی اس جیسی بات پر قتل کا خوف رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32651
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32651، ترقيم محمد عوامة 31266)
حدیث نمبر: 32652
٣٢٦٥٢ - حدثنا زيد بن حباب قال حدثنا محمد بن هلال القرشي قال: أخبرني أبي قال: سمعت أبا هريرة يقول لمروان وأبطأ بالجمعة: تظل عند (بنت) (١) فلان (تروحك) (٢) بالمرواح (وتسقيك) (٣) الماء البارد، وأبناء المهاجرين يسلقون من الحر، لقد هممت أني أفعل وأفعل، (ثم) (٤) قال: اسمعوا (لأميركم) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ہلال قرشی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مروان سے اس وقت یہ فرماتے سنا جبکہ مروان جمعہ کے لئے دیر سے پہنچا تھا، کہ تم فلاں کی بیٹی کے پاس پڑے رہتے ہو جو تمہیں پنکھے جھلتی اور ٹھنڈا پانی پلاتی ہے اور مہاجرین کی اولاد گرمی سے جلتی رہتی ہے میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ ایسا ایسا کروں گا، پھر لوگوں سے فرمایا کہ اپنے امیر کی بات سنو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32652
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32652، ترقيم محمد عوامة 31267)
حدیث نمبر: 32653
٣٢٦٥٣ - حدثنا حماد بن (أسامة) (١) قال: (حدثنا حماد بن زيد قال) (٢): حدثنا (أبو نعامة) (٣) عمرو بن عيسى قال: قالت عائشة: اللهم أدرك خفرتك في عثمان وأبلغ القصاص في (مذمم) (٤) وأبد عورة (أعين: رجل) (٥) (من) (٦) بني تميم (أبو امرأة فرزدق) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
ابو نعامہ عمرو بن عیسیٰ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول نقل فرماتے ہیں : اے اللہ ! عثمان کے بارے میں اپنے وعدے کو پورا کردیجیے ! اور ” مذمّم “ کو قصاص تک پہنچائیے ! اور أَعْیَنْ کے عیوب کو ظاہر فرما دیجیے ! أعین بنو تمیم کا ایک آدمی تھا اور فرزدق کی بیوی کا باپ تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32653
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32653، ترقيم محمد عوامة 31268)
حدیث نمبر: 32654
٣٢٦٥٤ - (١) حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا معتمر عن أبيه قال: أخبرنا أبو نضرة أن ربيعة (كلمت) (٢) (طلحة) (٣) في مسجد بني سلمة (فقالت) (٤): كنا في نحر العدو حتى (جاءتنا) (٥) بيعتك هذا الرجل ثم أنت الآن تقاتله، أو كما قالوا، فقال: إني أدخلت (الحش) (٦) ووضع على (عنقي) (٧) (اللج) (٨) فقيل: بايع وإلا (قتلناك) (٩)، قال: فبايعت وعرفت أنها بيعة ضلالة (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
ابو نضرہ روایت کرتے ہیں کہ ربیعہ نے طلحہ رضی اللہ عنہ سے مسجدِ بنو سلمہ میں بات کی، اور کہا کہ ہم دشمن سے مقابلہ کر رہے تھے جب ہمیں آپ کی اس شخص کے ہاتھ پر بیعت کی خبر پہنچی، پھر اب آپ ان سے قتال کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ایک تنگ جگہ میں داخل کر کے میری گردن پر تلوار رکھ دی گئی اور مجھ سے کہا گیا بیعت کرو ورنہ ہم آپ کو قتل کردیں گے اس لیے میں نے یہ جانتے ہوئے بیعت کی کہ یہ گمراہی کی بیعت ہے۔ ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ ولید بن عبد الملک نے کہا کہ اہل عراق کے ایک منافق جبلہ بن حکیم نے حضرت زبیر سے کہا کہ آپ نے تو بیعت کرلی تھی ؟ حضرت زبیر نے جواب دیا کہ میری گردن پر تلوار رکھ کر مجھے کہا گیا بیعت کرو ورنہ ہم تمہیں قتل کردیں گے، اس لیے میں نے بیعت کرلی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32654
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32654، ترقيم محمد عوامة 31269)
حدیث نمبر: 32655
٣٢٦٥٥ - قال التيمي: وقال وليد بن عبد الملك: إن منافقا من (منافقي) (١) أهل العراق جبلة بن (حكيم) (٢) قال (للزبير) (٣): (إنك) (٤) قد بايعت، فقال الزبير: إن السيف وضع على عنقي (فقيل لي) (٥): بايع وإلا (قتلناك) (٦)، قال: فبايعت (٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32655
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32655، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32656
٣٢٦٥٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا معتمر عن أبيه عن أبي نضرة عن أبي سعيد أن ناسا كانوا عند فسطاط عائشة، فمر عثمان (أرى ذلك) (١) بمكة، قال أبو سعيد: فما بقي أحد منهم إلا لعنه أو سبه غيري، وكان فيهم رجل من أهل الكوفة، فكان عثمان على الكوفي (٢) أجرأ منه على غيره، فقال: يا كوفي (أتشتمني) (٣) -أقدم المدينة- كأنه يتهدده، قال: فقيل له: عليك بطلحة، قال: فانطلق معه طلحة حتى أتى عثمان قال عثمان: واللَّه لأجلدنك مائة، قال طلحة: واللَّه لا تجلده مائة إلا أن يكون زانيًا، (فقال) (٤): لأحرمنك عطاءك، قال: فقال طلحة: إن اللَّه سيرزقه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ بہت سے لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمہ کے پاس تھے کہ ادھر سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، میرا خیال ہے کہ یہ مکہ کا واقعہ ہے، ابو سعید فرماتے ہیں کہ میرے علاوہ ان تمام آدمیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر لعنت کی اور ان کو برا بھلا کہا، ان میں ایک آدمی اہل کوفہ میں سے تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دوسروں کے مقابلے میں اس کوفی پر زیادہ جرأت دکھائی اور کہا اے کوفہ والے ! کیا تم مجھے گالیاں دیتے ہو ؟ ذرا مدینہ آؤ، یہ بات آپ نے دھمکی کے انداز میں فرمائی، وہ آدمی مدینہ آیا ، اس کو کہا گیا کہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہو، کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بخدا میں تمہیں سو کوڑے لگاؤں گا، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم تم اس کو صرف زانی ہونے کی صورت میں ہی سو کوڑے لگا سکتے ہو، آپ نے اس سے فرمایا میں تجھ کو تیرے وظیفے سے محروم کروں گا، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کو روزی دے دیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32656
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32656، ترقيم محمد عوامة 31270)
حدیث نمبر: 32657
٣٢٦٥٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن عمر بن جاوان عن الأحنف ابن قيس قال: قدمنا المدينة ونحن نريد الحج، قال الأحنف: فانطلقت فأتيت طلحة والزبير فقلت: (ما) (١) تأمرانني به وترضيانه لي، فإني ما أرى هذا إلا مقتولا -يعني عثمان، قالا: نأمرك بعلي، قلت: تأمرانني به وترضيانه لي؟ قالا: نعم، ثم انطلقت حاجًا حتى قدمت مكة، فبينا نحن بها إذ أتانا قتل عثمان، وبها عائشة أم المؤمنين، فلقيتها فقلت: (من) (٢) (تأمرينني) (٣) به أن أبايع، قالت: علي، ⦗١٣٦⦘ قلت: (أتأمريني) (٤) به (وترضينه) (٥) قالت: نعم، فمررت على علي بالمدينة فبايعته، ثم رجعت إلى البصرة وأنا أرى أن الأمر قد استقام، فبينا أنا كذلك (إذ) (٦) أتاني آت فقال: هذه عائشة أم المؤمنين وطلحة والزبير قد نزلوا جانب (الخريبة) (٧) قال: فقلت: ما جاء بهم؟ قالوا: أرسلوا إليك يستنصرونك على دم عثمان، قتل مظلومًا، قال: فأتاني أفظع أمر (٨) أتاني قط، قال: قلت: إن خذلان هؤلاء ومعهم أم المؤمنين وحواري رسول اللَّه ﷺ لشديد، وإن (قتالي) (٩) ابن عم رسول اللَّه ﷺ (وأمروني ببيعته) (١٠) - لشديد، قال: فلما أتيتهم قالوا: جئنا نستنصرك على دم عثمان، قتل مظلومًا، قال: قلت: يا أم المؤمنين أنشدك (اللَّه) (١١) أقلت (لك) (١٢): (من) (١٣) تأمريني؟ فقلت: علي، (فقلت) (١٤): (١٥) (تأمريني) (١٦) به وترضينه لي؟ قالت: نعم، ولكنه بدل، فقلت: يا زبير يا حواري رسول اللَّه ﷺ، يا ⦗١٣٧⦘ طلحة نشدتكما باللَّه أقلت لكما: من (تأمراني) (١٧) به، فقلتما: عليًا، فقلت: تأمراني به وترضيانه لي، فقلتما: نعم، فقالا: نعم، ولكنه بدل، قال: قلت: لا أقاتلكم ومعكم أم المؤمنين وحواري رسول اللَّه ﷺ، ولا أقاتل ابن عم رسول اللَّه ﷺ أمرتموني ببيعته، اختاروا مني (إحدى) (١٨) ثلاث خصال: إما أن تفتحوا لي باب الجسر فألحق بأرض الأعاجم حتى يقضي اللَّه من أمره ما قضى، أو ألحق بمكة فأكون بها حتى يقضي اللَّه من أمره ما قضى، (أو أعتزل) (١٩) فأكون قريبًا، فقالوا: نرسل إليك، فائتمروا فقالوا: نفتح له باب الجسر فليلحق به (المفارق) (٢٠) والخاذل، أو يلحق بمكة (فيتعجسكم) (٢١) في قريش (ويخبرهم) (٢٢) بأخباركم، ليس ذلك برأي، اجعلوه هاهنا (قريبًا) (٢٣) حيث تطؤن صماخه وينظرون إليه، فاعتزل بالجلحاء (من) (٢٤) البصرة، واعتزل معه زهاء ستة آلاف، ثم التقى القوم فكان أول قتيل طلحة وكعب بن سور معه المصحف، يذكر هؤلاء (و) (٢٥) هؤلاء حتى قتل بينهم، وبلغ الزبير (سفوان) (٢٦) من البصرة بمكان (القادسية) (٢٧) منكم، فلقيه ⦗١٣٨⦘ (النعر) (٢٨): رجل من مجاشع، فقال: أين تذهب يا حواري رسول اللَّه ﷺ، إلي فانت في ذمتي، لا يوصل إليك، فأقبل معه فأتى إنسان الأحنف فقال: هذا الزبير (قد) (٢٩) (لحق) (٣٠) (سفوان) (٣١)، قال: فما (يأمنّ؟) (٣٢) جمع بين المسلمين حتى ضرب بعضهم حواجب بعض بالسيوف، ثم لحق (ببيته) (٣٣) وأهله، قال: فسمعه عمير بن (جرموز) (٣٤) وغواة من غواة بني تميم وفضالة بن حابس ونفيع، فركبوا في طلبه فلقوه مع (النعر) (٣٥) فأتاه عمير بن (جرموز) (٣٦) من خلفه وهو على فرس له (ضعيفة) (٣٧) فطعنه طعنة خفيفة، وحمل عليه الزبير وهو على فرس له (ذو الخمار) (٣٨) حتى إذا ظن أنه (نائله) (٣٩) (نادى) (٤٠) (صاحبيه) (٤١) يا نفيع يا فضالة ⦗١٣٩⦘ فحملوا عليه حتى قتلوه (٤٢).
مولانا محمد اویس سرور
احنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور ہم حج کے لئے جانا چاہتے تھے، کہتے ہیں میں چل کر طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ تم مجھے کس کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہو اور کس کو میرے لیے پسند کرتے ہو ؟ کیونکہ میرے خیال میں تو یہ صاحب یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قتل ہوجائیں گے، فرمانے لگے کہ ہم تمہیں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہیں، میں نے کہا کیا تم مجھے ان کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہو اور ان کو میرے لیے پسند کرتے ہو ؟ فرمانے لگے جی ہاں ! کہتے ہیں کہ پھر میں حج کو چلا گیا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گیا ، ہم وہیں تھے کہ ہمیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر پہنچی، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہیں تھیں میں ان سے ملا اور پوچھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم فرماتی ہیں ؟ فرمانے لگیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کا ، میں نے کہا کیا آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم کرتی ہیں اور ان کو میرے لیے پسند کرتی ہیں ؟ فرمانے لگیں جی ہاں ! اس کے بعد میں مدینہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی، پھر میں بصرہ چلا گیا اور میرا خیال تھا کہ معاملہ صاف ہوگیا ہے۔ اس دوران ایک آنے والا میرے پاس آیا اور کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ خُریبہ کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں میں نے کہا وہ کس لیے تشریف لائے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ وہ آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے بارے میں مدد لیں، کیونکہ ان کو ظلماً قتل کیا گیا ہے، کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں اتنا گھبرا گیا کہ اس سے پہلے اتنی گھبراہٹ مجھ پر نہیں آئی تھی، اور میں نے سوچا کہ میرا ان حضرات کو چھوڑ دینا جن کے ساتھ ام المؤمنین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ہیں نہایت سخت بات ہے، اور اسی طرح میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد سے قتال کرنا بعد ازاں کہ یہ حضرات مجھے ان کی بیعت کا حکم بھی فرما چکے ہیں بہت ہی مشکل کام ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس پہنچا تو وہ فرمانے لگے کہ ہم آپ کے پاس آئے ہیں اور ہم آپ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے خلاف مدد لینا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین ! میں آپ کو اللہ عزوجل کی قسم دیتا ہوں آپ بتائیں کہ کیا میں نے آپ سے یہ پوچھا تھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ علی رضی اللہ عنہ کی ، اور پھر میں نے آپ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا واقعی آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم دیتی اور ان کو میرے لیے پسند کرتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا جی ہاں ! فرمانے لگیں ایسا ہی ہوا ہے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ بدل گئے ہیں ، پھر میں نے کہا اے زبیر ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ! اے طلحہ ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کیا میں نے تمہیں کہا تھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا : علی رضی اللہ عنہ کی، میں نے پوچھا تھا کہ کیا واقعی آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم دیتے اور ان کو میرے لیے پسند کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا جی ہاں ! کہنے لگے کیوں نہیں، ایسا ہی ہے ، لیکن وہ بدل گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں تمہارے ساتھ قتال نہیں کروں گا کیونکہ تمہارے ساتھ ام المؤمنین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ہیں، اور نہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد ہی سے لڑوں گا جن کی بیعت کا تم نے مجھے حکم دیا ہے۔ میری تین باتوں میں سے ایک قبول کرلو ! یا تو میرے لیے پل کا راستہ کھول دو ، میں عجمیوں کے علاقے میں چلا جاتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جو چاہیں فیصلہ فرمائیں، یا میں مکہ مکرمہ چلا جاؤں اور وہیں رہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرما دیں، یا میں علیحدگی اختیار کر کے قریب ہی کہیں رہنے لگوں، فرمانے لگے کہ ہم مشورہ کرتے ہیں، پھر ہم آپ کے پاس پیغام بھیج دیں گے، چناچہ انہوں نے مشورہ کیا ، اور فرمایا کہ اگر ہم اس کے لئے پل کا راستہ کھول دیتے ہیں تو جو شخص لشکر سے جدا ہونا چاہے گا یا ناکام اور پسپا ہوجائے گا وہ اس کے پاس چلا جائے گا ، اور اگر اس کو مکہ مکرمہ بھیج دیا جائے تو قریش مکہ سے تمہاری خبریں لیتا رہے گا اور تمہاری خبریں انہیں پہنچاتا رہے گا، یہ کوئی درست فیصلہ نہیں ہے، اس کو یہیں قریب ہی رکھو جہاں تم اس کو اپنے لئے نرم گوش بھی رکھو گے اور اس کی نگرانی بھی کرسکو گے۔ چناچہ وہ بصرہ سے مقام ” جلحائ “ میں علیحدہ ہوگئے اور ان کے ساتھ چھ ہزار کے لگ بھگ آدمی بھی مل گئے، پھر ان کی مڈبھیڑ ہوئی تو سب سے پہلے قتل ہونے والے حضرت طلحہ اور کعب بن مسور تھے جن کے پاس قرآن کریم کا نسخہ تھا جو دونوں جماعتوں کو نصیحت کر رہے تھے یہاں تک کہ انہی جماعتوں کے درمیان شہید ہوگئے، اور حضرت زبیر بصرہ کے مقام پر سفوان میں پہنچ گئے، اتنا دور جتنا کہ تم سے مقام قادسیہ ہے، چناچہ ان کو قبیلہ مجاشع کا ایک نعر نامی آدمی ملا اور پوچھا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ! آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ میرے ساتھ آئیے آپ میرے ضمان
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32657
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32657، ترقيم محمد عوامة 31271)
حدیث نمبر: 32658
٣٢٦٥٨ - حدثنا ابن إدريس عن يحيى بن عبد اللَّه بن أبي قتادة قال: مازح النبي ﷺ أبا قتادة فقال: " (لأجزنّ) (١) (جمتك) " (٢)، فقال له: (لك مكانها) (٣): (أسير) (٤)، فقال له بعد ذلك: أكرمها، فكان يتخذ لها (السك) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن عبد اللہ بن ابی قتادہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو قتادہ کے ساتھ مزاح فرمایا کہ میں تمہاری زلفیں کاٹ دوں گا انہوں نے فرمایا کہ ان کے بدلے میں آپ کو ایک غلام دیتا ہوں۔ آپ نے بعد میں ان سے فرمایا ان کا خوب خیال رکھو، چناچہ وہ ان پر خوشبو لگا کر رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32658
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ يحيى بن عبد اللَّه بن أبي قتادة ليس صحابيًا، أخرجه ابن عبد البر في الاستذكار ٨/ ٤٣٥، وذكره في الوافي ١١/ ٨٦، وتاريخ دمشق ٦٧/ ١٥٣ من طريق يحيى عن أبي قتادة، كما ورد من حديث أبي قتادة، أخرجه ابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ١٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32658، ترقيم محمد عوامة 31272)
حدیث نمبر: 32659
٣٢٦٥٩ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي بكر بن حفص عن الحسن بن (١) الحسن أن عبد اللَّه بن جعفر زوج ابنته فخلا بها فقال لها: إذا نزل بك الموت أو أمر من (أمور) (٢) الدنيا فظيع فاستقبليه بأن تقولي: لا إله إلا اللَّه (الحليم) (٣) الكريم، سبحان اللَّه رب العرش العظيم، الحمد للَّه رب العالمين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن حسن روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کا نکاح کیا اور تنہائی میں اس کو نصیحت فرمائی کہ جب تمہیں موت آنے لگے یا دنیا کی کوئی گھبراہٹ میں ڈالنے والی حالت پیش آجائے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ان الفاظ میں دعا کرنا : لاَ إلَہَ إلاَّ اللَّہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ۔ حسن بن حسن فرماتے ہیں کہ حجاج نے میرے پاس پیغام بھیجا تو میں نے یہ الفاظ پڑھ لیے، جب میں اس کے سامنے پیش کیا گیا تو کہنے لگا کہ میں نے آپ کو اس لیے بلایا تھا کہ آپ کو قتل کروں، لیکن میرے اوپر آپ کے اہل بیت میں سے آپ کو قتل کرنا سخت دشوار ہو رہا ہے، اس لئے آپ اپنی کوئی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہیں تو بتائیے میں آپ کو دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32659
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32659، ترقيم محمد عوامة 31273)
حدیث نمبر: 32660
٣٢٦٦٠ - قال الحسن بن (١) الحسن: فبعث إلي الحجاج فقلتهن، فلما مثلت بين يديه قال: لقد بعثت (إليك) (٢) وأنا أريد أن أضرب عنقك، ولقد صرت (و) (٣) ما من أحد (أكرم علي منك) (٤)، سلني حاجتك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32660
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32660، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32661
٣٢٦٦١ - حدثنا أبو أسامة عن نافع (١) بن عمر عن ابن أبي مليكة قال: قال (ابن) (٢) الزبير لعبيد بن عمير: كلم هؤلاء -لأهل الشام- رجاء أن يردهم ذاك، فسمع ذلك الحجاج فأرسل إليهم: ارفعوا أصواتكم، (٣) فلا تسمعوا منه شيئًا فقال عبيد: ويحكم لا تكونوا كالذين قالوا: ﴿لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ﴾ (٤) [فصلت: ٢٦].
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں کہ ابن زبیر نے عبید بن عمیر سے فرمایا کہ ان شامیوں سے بات کرو تاکہ وہ واپس لوٹ جائیں، حجاج نے یہ سن کر لوگوں کے پاس پیغام بھیجا کہ اپنی آوازیں بلند کرلو تمہیں ان کی بات سنائی نہ دے، تو عبید نے فرمایا تمہاری ہلاکت ہو ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کہا ” اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں شوروغل کرو تاکہ تم غالب ہو جاؤ۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32661
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32661، ترقيم محمد عوامة 31274)
حدیث نمبر: 32662
٣٢٦٦٢ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: قال أبو جعفر محمد بن علي: اللهم إنك تعلم أني لست لهم بإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابو جعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! بیشک آپ جانتے ہیں کہ میں ان لوگوں کا امام نہیں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32662
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32662، ترقيم محمد عوامة 31275)
حدیث نمبر: 32663
٣٢٦٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) جرير بن حازم قال: حدثني شيخ من أهل الكوفة قال: رأيت ابن عمر في أيام ابن الزبير فدخل ⦗١٤١⦘ المسجد (فإذا بالسلاح) (٢) فجعل يقول: لقد أعظمتم الدنيا حتى (استلم) (٣) الحجر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
جریر بن حازم اہل کوفہ کے ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے عبد اللہ بن زبیر کے زمانے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ مسجد میں داخل ہوئے تو اسلحہ دکھائی دیا، فرمانے لگے کہ تم نے دنیا کی تعظیم شروع کردی ہے، یہاں تک کہ آپ نے حجر اسود کا استلام کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32663
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32663، ترقيم محمد عوامة 31276)
حدیث نمبر: 32664
٣٢٦٦٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن طلحة قال: حدثنا إبراهيم بن عبد الأعلى الجعفي قال: أرسل الحجاج إلى سويد بن غفلة (فقال) (١): ألا (تؤم) (٢) (قومك) (٣)، وإذا رجعت (فاسبب) (٤) (عليًا) (٥) قال: قلت: سمع وطاعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن عبد اعلیٰ فرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف نے سوید بن غفلہ کو پیغام بھجوایا کہ لوگوں کو نماز نہ پڑھاؤ۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ حکم کی تعمیل ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32664
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32664، ترقيم محمد عوامة 31277)
حدیث نمبر: 32665
٣٢٦٦٥ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: حدثنا ابن عون قال: ذكر إبراهيم أنه أُرسل إليه زمن المختار بن أبي عبيد (فطلا) (١) وجهه بطلاء، وشرب دواء، فلم يأتهم فتركوه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میرے پاس مختار کے زمانے میں بلاوا آیا تو میں نے اپنے چہرے پر روغن مل لیا اور کوئی دوا پی لی اور ان کے پاس نہیں گیا، چناچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32665
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32665، ترقيم محمد عوامة 31278)
حدیث نمبر: 32666
٣٢٦٦٦ - حدثنا ابن نمير عن زكريا عن العباس بن ذريح عن الشعبي قال: كتبت عائشة إلى معاوية: أما بعد فإنه من يعمل (بسخط) (١) اللَّه يعد حامده من ⦗١٤٢⦘ الناس ذامًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضی والے اعمال کرتا ہے اس کی تعریف کرنے والے لوگ بھی مذمت کرنے والے شمار کیے جانے لگتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32666
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٩٦٨)، وأبو القاسم البغوي في مسند ابن الجعد (١٥٩٣)، واللالكائي (٢٧٨٧)، وابن المبارك في الزهد (٢٠٠)، ووكيع في أخبار القضاة ١/ ٣٨، وورد مرفوعًا أخرجه الترمذي (٢٤١٤)، وابن حبان (٢٧٧)، وعبد بن حميد (١٥٢٤)، والقضاعي في مسند الشهاب (٤٩٩)، وإسحاق (١١٧٥)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١٨٨، وابن عدي ٦/ ٥٣، والبيهقي في الزهد (٨٨٩)، وابن أبي خيثمة في أخبار المكيين (٤٢٠)، والجوزجاني في أحوال الرجال ص ٣١، وابن عساكر ٥٤/ ٢٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32666، ترقيم محمد عوامة 31279)
حدیث نمبر: 32667
٣٢٦٦٧ - حدثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن أبي إسحاق قال: رأيت حجر ابن عدي وهو يقول: (هاه) (١) بيعتي لا أقيلها ولا أستقيلها، سماع اللَّه والناس -يعني بقوله: المغيرة.
مولانا محمد اویس سرور
ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حجر بن عدی کو یہ کہتے ہوئے سنا : ہائے میری بیعت ! جس کو میں ختم کرسکتا ہوں نہ اس سے سبکدوشی طلب کرسکتا ہوں، کہ وہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں کی سنی ہوئی ہے، لوگوں سے ان کی مراد حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32667
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32667، ترقيم محمد عوامة 31280)
حدیث نمبر: 32668
٣٢٦٦٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال حدثنا قطبة بن عبد العزيز عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد قال: كتب أصحاب محمد ﷺ عيب عثمان، فقالوا: من يذهب به إليه؟ فقال عمار: أنا، فذهب به إليه، فلما قرأه قال: أرغم اللَّه (بأنفك) (١)، فقال عمار: وبأنف أبي بكر وعمر، قال: فقام (ووطئه) (٢) حتى غشي عليه، قال: وكان عليه (تبان) (٣) قال: ثم بعث (إليه) (٤) الزبير وطلحة، فقالا له: اختر إحدى ثلاث: إما أن تعفو، وإما أن تأخذ (الأرش) (٥)، وإما أن تقتص، ⦗١٤٣⦘ قال: فقال عمار: لا أقبل منهن شيئًا حتى ألقى اللَّه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی الجعد روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کوئی عیب لکھا، اس کے بعد وہ پوچھنے لگے یہ تحریر ان کے پاس کون لے کر جائے گا ؟ حضرت عمار نے فرمایا میں لے کر جاؤں گا، وہ لے کر گئے، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر پڑھی تو فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کی ناک خاک آلود کرے، حضرت عمار نے اس پر فرمایا : تو پھر حضرت ابوبکر و عمر کی ناک کو بھی، کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور ان کو گرا لیا اور پاؤں سے روندنے لگے یہاں تک کہ وہ بےہوش ہوگئے، اس وقت انہوں نے جان گیا پہن رکھا تھا، پھر حضرت عثمان نے ان کے پاس حضرت زبیر اور طلحہ کو بھیجا اور انہوں نے ان سے کہا کہ تین باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلو ، یا تو معاف کردو یا تاوان لے لو یا بدلہ لے لو، حضرت عمار نے فرمایا میں ان میں سے کچھ قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔ ابو بکر فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن آدم کو یہ فرماتے سنا کہ میں نے حسن بن صالح کے سامنے یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان پر ان کے اس فعل سے زیادہ کوئی الزام نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32668
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32668، ترقيم محمد عوامة 31281)
حدیث نمبر: 32669
٣٢٦٦٩ - قال أبو بكر: سمعت يحيى بن آدم قال: ذكرت هذا الحديث (لحسن) (١) بن صالح فقال: ما كان على عثمان (أكبر) (٢) مما صنع.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32669
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32669، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32670
٣٢٦٧٠ - حدثنا ابن فضيل عن أبي (حيان) (١) عن حماد قال: قلت لإبراهيم: إن (الكتب تجيء) (٢) من قبل قتيبة (فيها) (٣) الباطل والكذب، فإذا أردت أن أحدث جليسي أفعل؟ قال: لا، بل أنصت.
مولانا محمد اویس سرور
حماد فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کہا کہ قتیبہ کی طرف سے خط آتے ہیں جن میں باطل اور جھوٹی باتیں بھی ہوتی ہیں، جب میں اپنے کسی ہمنشین کو اس کے بارے میں بیان کرنا چاہوں تو کر دوں ؟ فرمایا نہیں ! بلکہ خاموش رہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32670
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32670، ترقيم محمد عوامة 31282)
حدیث نمبر: 32671
٣٢٦٧١ - حدثنا حسين بن علي عن إسرائيل قال: قال رجل لعثمان بن أبي العاص: ذهبتم بالدنيا والآخرة، قال: وما ذاك؛ قال: لكم أموال تصدقون منها وتصلون منها وليست لنا أموال، قال: لدرهم (يأخذه) (١) أحدكم فيضعه في حق أفضل من عشرة آلاف (يأخذها) (٢) أحدنا (غيضًا) (٣) من قبض (فلا) (٤) يجد لها مسا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
اسرائیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عثمان بن ابی العاص سے کہا کہ تم دنیا اور آخرت دونوں ہی لے گئے، انہوں نے پوچھا کیسے ؟ کہنے لگا آپ کے پاس مال ہیں جن میں سے آپ صدقہ کرتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں، اور ہمارے پاس مال نہیں ہیں، آپ نے فرمایا ایک درہم جس کو تم میں سے کوئی شخص لے کر حق طریقے سے خرچ کرتا ہے ان دس ہزار دراہم سے افضل ہے جو ہم میں سے کوئی بہت زیادہ میں سے لیتا ہے لیکن اس میں اس کو تصرف کا کوئی حق نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32671
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32671، ترقيم محمد عوامة 31283)
حدیث نمبر: 32672
٣٢٦٧٢ - حدثنا وكيع عن شعبة عن يحيى بن الحصين عن طارق بن شهاب قال: كان بين خالد بن الوليد وبين سعد كلام، قال: فتناول رجل خالدًا عند سعد قال سعد: (مه) (١) إن ما بيننا لم يبلغ ديننا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور سعد بن ابی وقاص کے درمیان کچھ تکرار ہوگئی تھی، ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت خالد کی برائی کی تو آپ نے فرمایا خاموش ہو جاؤ، ہمارا جھگڑا اتنا زیادہ نہیں کہ ہمارے دین تک پہنچ جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32672
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32672، ترقيم محمد عوامة 31284)
حدیث نمبر: 32673
٣٢٦٧٣ - حدثنا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر قال: حدثني من سمع سالمًا قال: كان عمر إذا نهى الناس عن شيء جمع أهل بيته فقال: إني نهيت الناس (عن) (٢) كذا وكذا، (و) (٣) إن الناس (لينظرون) (٤) إليكم نظر الطير إلى اللحم، وأيم اللَّه لا (أجد) (٥) أحدًا منكم فعله إلا أضعفت له العقوبة ضعفين (٦).
مولانا محمد اویس سرور
عبید اللہ بن عمر سالم کے ایک شاگرد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب لوگوں کو کسی چیز سے منع فرماتے تو اپنے گھر والوں کو جمع کر کے فرماتے کہ میں نے لوگوں کو فلاں فلاں کام سے منع کردیا ہے اور لوگ تمہاری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے پرندہ گوشت کی طرف دیکھتا ہے، اور خدا کی قسم ! تم میں سے جس کو بھی میں یہ کام کرتے دیکھوں گا اس کو دوسروں سے دوگنی سزا دوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32673
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32673، ترقيم محمد عوامة 31285)
حدیث نمبر: 32674
٣٢٦٧٤ - حدثنا ابن نمير عن الصباح بن ثابت قال: كان أبي يسمع الخادم يسب الشاة، فيقول: تسبين شاة تشربين من لبنها.
مولانا محمد اویس سرور
صباح بن ثابت فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد خادمہ کو سنتے کہ بکری کو برا بھلا کہتی ہے تو فرماتے کہ تم اسی بکری کو برا بھلا کہتی ہو جس کا دودھ پیتی ہو !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32674
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32674، ترقيم محمد عوامة 31286)
حدیث نمبر: 32675
٣٢٦٧٥ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن مالك بن دينار سمعه يقول: قال سالم بن عبد اللَّه: قال لي عمر بن عبد العزيز: اكتب (إلي) (١) بسنة عمر، قال: ⦗١٤٥⦘ قلت: إنك إن عملت بما عمل عمر فأنت أفضل من عمر، إنه ليس لك مثل زمان عمر، ولا رجال مثل رجال عمر.
مولانا محمد اویس سرور
سالم بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ میرے پاس لکھ بھیجو، میں نے کہا : اگر آپ اس طرح عمل کرلیں جس طرح حضرت عمر نے عمل کیا تو آپ حضرت عمر سے افضل ٹھہریں گے، کیونکہ نہ تو آپ کا زمانہ ہی حضرت عمر والا زمانہ ہے اور نہ آپ کیساتھ حضرت عمر کے ساتھیوں جیسے آدمی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32675
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32675، ترقيم محمد عوامة 31287)
حدیث نمبر: 32676
٣٢٦٧٦ - حدثنا حفص بن غياث عن عثمان بن واقد عمن حدثه قال: سمعت ابن عمر يقول وهو ساجد في الكعبة نحو الحجر وهو يقول: إني أعوذ بك من شر ما (يسوط) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عثمان بن واقد ایک بیان کرنے والے کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حطیم کعبہ میں حجر اسود کے قریب سجدے میں یہ دعا کر رہے تھے اے اللہ ! میں ان فتنوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں جو قریش برپا کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32676
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32676، ترقيم محمد عوامة 31288)