کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 32597
٣٢٥٩٧ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن محمد بن عمر بن علي قال: حدثني أبي قال: قال علي: والذي فلق (الحبة) (١) وبرأ النسمة لازالة الجبال من مكانها أهون من إزالة ملك مؤجل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عمر بن علی رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا اور جان دار کو پیدا کیا کہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ٹلانا آسان ہے طے شدہ بادشاہت کو ٹلانے سے۔
حدیث نمبر: 32598
٣٢٥٩٨ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن سماك بن سلمة عن عبد الرحمن بن (عصمة) (١) قال: كنت عند عائشة فأتاها رسول من معاوية بهدية فقال: أرسل بهذا أمير المؤمنين، فقبلت هديته، فلما خرج الرسول قلنا: (يا) (٢) أم المؤمنين، ألسنا مؤمنين وهو أميرنا؟ قالت: أنتم إن شاء اللَّه المؤمنون وهو أميركم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عصمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، ان کے پاس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک قاصد ہدیہ لے کر آیا اور اس نے کہا کہ یہ چیز امیر المؤمنین نے بھیجی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو قبول فرما لیا، جب قاصد نکل گیا تو ہم نے عرض کیا ! اے اُمّ المؤمنین کیا ہم مؤمنین نہیں ہیں اور وہ ہمارے امیر ہیں ؟ ّآپ نے جواب دیا کہ تم ان شاء اللہ مؤمن ہو اور وہ تمہارے امیر ہیں۔
حدیث نمبر: 32599
٣٢٥٩٩ - حدثنا جرير عن المغيرة عن عثمان بن يسار عن تميم بن (حذلم) (١) قال: إن أول يوم سلم على أمير بالكوفة بالإمرة (قال: خرج المغيرة بن شعبة من القصر فعرض له رجل من كنده، فسلم عليه بالإمرة) (٢) فقال: (ما) (٣) هذا؟ ما أنا إلا رجل منهم، فتركت زمانًا ثم أقرها بعد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن حزلم فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ کوفہ کے کسی امیر کو امیر کہہ کر سلام کرنے کا قصہ یوں پیش آیا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہاپنے محل سے نکلے تو ان کے پاس قبیلہ کندہ کا ایک آدمی آیا اس نے ان کو امیر کہہ کر سلام کیا، انہوں نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ میں تو عام لوگوں کا ایک فرد ہوں، چناچہ اس لقب کو ایک عرصے تک چھوڑا گیا ، پھر بعد میں اس کو شامل کرلیا۔
حدیث نمبر: 32600
٣٢٦٠٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن المنكدر قال: سمعت جابر بن عبد اللَّه يقول: دخلت على الحجاج فلم أسلم عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ میں حجّاج کے پاس گیا اور میں نے اس کو سلام نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 32601
٣٢٦٠١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن المنكدر قال: بلغ ابن عمر أن يزيد بن معاوية بويع له، (فقال) (١): إن كان خيرًا رضينا، وإن كان شرًا صبرنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ پیغام پہنچا کہ یزید بن معاویہ کے لئے بیعت لی جا رہی ہے آپ نے فرمایا اگر یہ خیر ہوئی تو ہم راضی ہوجائیں گے اور اگر یہ شر ہوا تو ہم صبرکریں گے۔
حدیث نمبر: 32602
٣٢٦٠٢ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: شهدت عبد اللَّه ابن مسعود جاء (يتقاضى) (١) سعدًا دراهم أسلفها إياه من بيت المال، فقال: رُدّ هذا المال، فقال سعد: أظنك لاقيًا شرًا، قال: رد هذا المال، قال: فقال سعد: هل أنت (٢) ابنَ مسعود (إلا) (٣) عبدٌ من هذيل، قال: فقال عبد اللَّه: هل أنت إلا ابن (حُمَيْنة) (٤)، قال: فقال ابن أخي سعد: (أجل) (٥)، إنكما (لصاحبا) (٦) رسول اللَّه ﷺ، ينظر الناس إليكما، فرفع سعد يديه يقول: اللهم رب السماوات والأرض، فقال ابن مسعود: ويحك، قل قولًا (و) (٧) لا تلعن، قال: (فقال) (٨) سعد: (أم) (٩) واللَّه أن لولا مخافة اللَّه لدعوت عليك دعوة لا تخطئك، قال: فانصرف عبد اللَّه كما هو (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ان دراہم کا تقاضا کر رہے ہیں جو انہوں نے ان کو بیت المال سے قرض دیے تھے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں برا ملاقاتی سمجھتا ہوں۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ مال لوٹاؤ، انہوں نے فرمایا اے ابن مسعود ! کیا تم قبیلہ ہذیل کے ایک غلام نہیں ہو ؟ راوی فرماتے ہیں کہ اس پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم حُمَینہ کے بیٹے نہیں ہو ؟ راوی کہتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بھتیجے نے فرمایا کہ بیشک تم دونوں البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو لوگ تمہیں دیکھتے ہیں، چناچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھا لیے ” اے اللہ ! جو آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے “ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے جو چاہو کہو لیکن لعنت نہ کرنا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو میں تم پر ایسی بد دعا کرتا جو تم سے خطا نہ کھاتی، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے آئے تھے ایسے چل دیے۔
حدیث نمبر: 32603
٣٢٦٠٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل عن زياد قال: لما أراد عثمان أن يجلد الوليد قال لطلحة: قم فاجلده، قال: إني لم أكن من الجلادين، فقام إليه علي فجلده، فجعل الوليد يقول لعلي: (أنا) (١) صاحب مكينة، قال: ⦗١١٦⦘ قلت لزياد: وما صاحب مكينة؟ قال: امرأة كان يتحدث (إليها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
زیاد راوی ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید کو کوڑے مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت طلحہ سے فرمایا کہ کھڑے ہو کر ان کو کوڑے مارو، وہ کہنے لگے میں کوڑے مارنے والا نہیں ہوں ، چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کو کوڑے لگائے تو ولید کہنے لگا کہ میں مکینہ کا ساتھی ہوں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے زیاد سے پوچھا کہ مکینہ کے ساتھی کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مکینہ ایک عورت تھی جس سے وہ باتیں کیا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 32604
٣٢٦٠٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: كان مروان مع طلحة يوم الجمل، فلما (اشتبكت) (١) الحرب قال مروان: لا أطلب بثاري بعد اليوم، قال: ثم رماه بسهم فأصاب ركبته فما رقا الدم حتى مات، قال: وقال طلحة: دعوه، فإنه سهم أرسله اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس روایت کرتے ہیں کہ جمل کے قصّے میں مروان حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب جنگ شعلہ پذیر ہوئی تو مروان نے کہا کہ میں اپنا خون بہا آج کے بعد طلب نہیں کروں گا، راوی کہتے ہیں کہ پھر اس نے ان کو ایک تیرمارا جو ان کے گھٹنے پر لگا، پس خون نہیں رکا ، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ تیر اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔
حدیث نمبر: 32605
٣٢٦٠٥ - حدثنا ابن علية عن (١) عيينة عن أبيه قال: لقي (أبو بكرة) (٢) المغيرة بن شعبة (يومًا) (٣) نصف النهار وهو (متقنع) (٤)، فقال: أين تريد؟ (فقال) (٥): أريد حاجة، قال: إن الأمير يزار، ولا يزور (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیینہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہایک دن نصف النھار کے وقت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو ملے جبکہ انہوں نے سر پر کپڑا ڈال رکھا تھا، حضرت ابو بکرہ نے پوچھا کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے فرمایا میں ایک ضرورت سے جار ہا ہوں، آپ نے فرمایا کہ امیر کے پاس حاضر ہوا جاتا ہے خود امیر کسی کے پاس نہیں جاتا۔
حدیث نمبر: 32606
٣٢٦٠٦ - حدثنا علي بن مسهر عن هشام بن عروة قال: بلغني أن المغيرة بن شعبة ولي الموسم فبلغه أن أميرًا (يقدم) (١) عليه فقدم يوم عرفة، فجعله يوم الأضحى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ حج کے امیر بنے، ان کو یہ پیغام ملا کہ ان کے پاس امیر تشریف لا رہے ہیں، چناچہ وہ ان کے پاس عرفہ کے دن تشریف لائے تو انہوں نے خوشی میں اس کو عید کا دن بنا لیا۔
حدیث نمبر: 32607
٣٢٦٠٧ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: كان قيس بن عبادة (١) مع (علي) (٢) على مقدمته، ومعه خمسة آلاف قد حلقوا رؤوسهم بعد ما مات علي، فلما دخل الحسن في بيعة معاوية أبى قيسٌ أن يدخل، فقال لأصحابه: ما شئتم، إن شئتم جالدت بكم أبدا حتى يموت الأعجل، وإن شئتم أخذت لكم أمانًا، فقالوا (له) (٣): خذ لنا أمانا، فأخذ لهم أن لهم كذا وكذا ولا يعاقبوا بشيء، و (أني) (٤) رجل منهم، ولم يأخذ لنفسه (خاصة) (٥) شيئًا، فلما (ارتحل) (٦) نحو المدينة ومضى بأصحابه جعل ينحر لهم كل يوم جزورا حتى بلغ (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے روایت ہے کہ قیس بن سعد بن عبادہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے لشکر کے اگلے حصّے میں رہے تھے، اور ان کے ساتھ پانچ ہزار افراد تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اپنے سروں کو منڈوا لیا تھا، پس جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت میں داخل ہوگئے تو قیس نے داخل ہونے سے انکار کردیا، پھر اپنے ساتھیوں سے کہا تم کیا چاہتے ہو ؟ اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں لے کر ہمیشہ لڑتا رہوں گا یہاں تک کہ ہم میں سے پہلے مرنے والا مرجائے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے امان طلب کرلوں، وہ کہنے لگے آپ ہمارے لئے امان طلب کرلیں، چناچہ انہوں نے ان کے لئے کچھ شرائط اور معاوضے کے ساتھ صلح کرلی، اور شرط ٹھہرائی کہ ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی جائے ، اور یہ کہا کہ میں ان کا ایک فرد ہوں گا، اور اپنے لئے کوئی شرط نہیں لگائی، جب وہ مدینہ کی طرف اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس چلے تو سارے راستے میں روزانہ ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔
حدیث نمبر: 32608
٣٢٦٠٨ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن أبي جعفر أن عليًا بلغه عن المغيرة بن شعبة (شيء) (١) فقال: لئن أخذته (لأتبعته) (٢) أحجاره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوئی نامناسب بات پہنچی، آپ نے فرمایا اگر میں اس کی پکڑ کرنا چاہوں تو اس کے پتھراسی کو جا لگیں۔
حدیث نمبر: 32609
٣٢٦٠٩ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن أبي جعفر أن فلانًا شهد عند عمر فرد شهادته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گواہی دی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی گواہی کو ردّ کردیا۔
حدیث نمبر: 32610
٣٢٦١٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت أبي يحدث أنه سمع عمرو بن العاص قال لما مات عبد الرحمن بن عوف قال: أذهبْ ابنَ عوف (ببطنتك) (١) لم يتغضغض منها شيء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جس وقت حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی فرمایا : جاؤ اے ابن عوف اپنی شکم سیری کی عادت کو لے کر، تم نے اس میں کوئی کمی نہیں کی۔
حدیث نمبر: 32611
٣٢٦١١ - حدثنا أبو أسامة عن أبي جعفر قال: سمع (ابن سيرين) (١) رجلًا يسب الحجاج، فقال ابن سيرين: إن اللَّه حكم عدل يأخذ للحجاج ممن ظلمه، كما يأخذ لمن ظلم (٢) الحجاج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے کہ حضرت محمد بن سیرین نے ایک آدمی کو دیکھا کہ حجاج کو برا بھلا کہہ رہا ہے آپ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ فیصلہ کرنے والے ہیں اور عادل ہیں، حجاج کا بدلہ لیں گے ان لوگوں سے جنہوں نے اس پر ظلم کیا جیسا کہ حجاج سے جن لوگوں پر اس نے ظلم کیا ہے ان کا بدلہ لیں گے۔
حدیث نمبر: 32612
٣٢٦١٢ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (١) سفيان قال: حدثني أبو الجحاف قال: أخبرني معاوية بن ثعلبة قال: أتيت محمد بن الحنفية فقلت: إن رسول المختار أتانا يدعونا، قال: فقال لي: لا تقاتل، إني لأكره أن (أبتر) (٢) هذه الأمة أمرها، أو آتيها من غير وجهها.
مولانا محمد اویس سرور
معاویہ بن ثعلبہ فرماتے ہیں کہ میں محمد بن حنفیہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ مختار کا قاصد ہمارے پاس آیا ہے وہ ہمیں بلاتا ہے، فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ قتال مت کرو میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس امّت کے معاملے کو چھین لوں یا ان پر ناحق حکمرانی کروں۔
حدیث نمبر: 32613
٣٢٦١٣ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن الحارث الأزدي قال: قال ابن الحنفية: رحم اللَّه امرءا أغنى نفسه وكف يده وأمسك لسانه وجلس في بيته، له ما احتسب، وهو مع من أحب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث ازدی سے روایت ہے کہ محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائیں جو اپنے نفس کو غنی رکھے اور اپنا ہاتھ روک کر رکھے، اور اپنی زبان بند رکھے، اور اپنے گھر میں بیٹھ رہے کہ اس کے لئے جو اس نے کیا اور وہ اپنے پسندیدہ لوگوں کے ساتھ ہو۔
حدیث نمبر: 32614
٣٢٦١٤ - حدثنا ابن فضيل عن رضي بن أبي عقيل عن أبيه قال: كنا على باب ابن الحنفية بالشعب فخرج ابن (له) (١) ذؤابتان فقال: يا معشر الشيعة، إن أبي ⦗١١٩⦘ يقرئكم السلام قال: فكأنما كانت على رؤوسهم الطير، قال: إن أبي يقول: إنا لا نحب اللعانين ولا المفرطين ولا (المستعجلين) (٢) بالقدر.
مولانا محمد اویس سرور
ابو عقیل فرماتے ہیں کہ ہم ایک گھاٹی میں محمد ابن حنفیہ کے دروازے پر تھے ، ان کا بیٹا گھر سے نکلا جس کے دو مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں اس نے کہا اے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی جماعت ! میرے والد صاحب آپ کو سلام کہتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ وہ اس طرح مؤدّب ہوگئے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، پھر اس نے کہا میرے والد صاحب فرماتے ہیں کہ ہم لعنت کرنے والوں ، حد سے تجاوز کرنے والوں اور تقدیر کے فیصلے میں جلدی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 32615
٣٢٦١٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبيه عن منذر عن ابن الحنفية قال: لو أن عليًا أدرك أمرنا هذا كان هذا موضع (رحله) (١) -يعني الشعب.
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہماری اس حالت کو دیکھتے تو ان کے کجاوے کی جگہ یہ گھاٹی ہوتی۔
حدیث نمبر: 32616
٣٢٦١٦ - حدثنا محمد بن الحسن الأسدي عن شريك عن أبي إسحاق عن ابن الزبير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا منهم: العنسي ومسيلمة (و) (١) المختار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تیس جھوٹے ظاہر نہ ہوجائیں، انہی میں سے ہیں اسود عنسی، مسیلمہ اور مختار۔
حدیث نمبر: 32617
٣٢٦١٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سفيان بن سعيد عن أبي الجحاف عن (١) موسى بن عمير عن أبيه قال: أمر الحسين مناديًا فنادى، فقال: لا (يقبلن) (٢) رجل معي عليه دين، فقال رجل: ضمنت امرأتي ديني، فقال: ما ضمان امرأة؟ قال: ونادى في الموالي: فإنه بلغني أنه لا يقتل رجل لم يترك وفاء إلا دخل النار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر سے روایت ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک منادی کو حکم دیا کہ یہ اعلان کر دے : کہ میرے ساتھ وہ آدمی نہ آئے جس پر قرضہ ہو، ایک آدمی نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو اپنے قرض کا ضامن بناتا ہوں، آپ نے فرمایا عورت کے ضمان کا کیا حاصل ہے ؟ راوی فرماتے ہیں کہ آپ نے آزاد شدہ غلاموں میں یہ منادی کروائی کہ مجھے روایت پہنچی ہے کہ جو آدمی ایسی حالت میں قتل کیا جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال چھوڑا ہو جس سے قرضہ ادا کیا جاسکے وہ آدمی جہنم میں جائے گا۔
حدیث نمبر: 32618
٣٢٦١٨ - حدثنا محمد بن بشر قال حدثنا سفيان عن (الزبير) (١) (بن) (٢) عدي قال: قال لي إبراهيم: إياك أن تقتل مع (قتيبة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عدی فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابراہیم نے فرمایا کہ تم اس بات سے بچو کہ تم فتنے کے ساتھ قتل کیے جاؤ۔
حدیث نمبر: 32619
٣٢٦١٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: سمعت مسعرًا يذكر عن إبراهيم بن محمد ابن المنتشر أن مسروقًا كان يركب كل جمعة بغلة له، ويجعلني خلفه، فيأتي كناسة بالحيرة قديمة، فيحمل عليها بغلته ثم يقول: الدنيا تحتنا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم بن محمد بن منتشر سے روایت ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ ہر جمعے اپنے خچر پر سوار ہوتے اور مجھے اپنے پیچھے بٹھاتے پھر مقام حیرہ کے گندگی کے ڈھیر پر آتے اور اس پر اپنے گدھے کو کھڑا فرماتے اور پھر کہتے ہیں کہ دنیا ہمارے نیچے ہے۔
حدیث نمبر: 32620
٣٢٦٢٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: سمعت حميد بن (عبد اللَّه) (١) الأصم يذكر عن أم راشد جدته قالت: كنت عند أم هانئ فأتاها علي (فدعت) (٢) له بطعام، (قال) (٣): ونزلت فلقيت رجلين في الرحبة فسمعت أحدهما يقول لصاحبه: بايعته أيدينا ولم تبايعه قلوبنا، قالت: فقلت: من هذان الرجلان؟ قالوا: طلحة والزبير، (قلت) (٤): (فإني) (٥) سمعت أحدهما يقول لصاحبه: بايعته (أيدينا ولم تبايعه) (٦) قلوبنا، فقال علي: ﴿فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ (فَسَيُؤْتِيهِ) (٧) أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [الفتح: ١٠] (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام راشد سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں امّ ہانی رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کہ ان کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے ان کو کھانے کی دعوت دی اور فرمانے لگیں کہ میں میدان کی طرف اتری اور میں نے دو آدمی دیکھے تو میں نے ان میں سے ایک کو سنا کہ دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا کہ اس آدمی سے ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے دلوں نے بیعت نہیں کی، فرماتے ہیں کہ میں نے کہا وہ دو آدمی کون ہیں ؟ لوگ کہنے لگے طلحہ اور زبیر، فرماتی ہیں کہ میں نے ان کو یہی کہتے ہوئے سنا کہ اس آدمی سے ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے دلوں نے بیعت نہیں کی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس شخص نے عہد شکنی کی ا س کی عہد شکنی کا نقصان اسی کو ہوگا اور جس نے اس وعدے کو پورا کیا جس کو اس نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا تو عنقریب وہ اس کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔
حدیث نمبر: 32621
٣٢٦٢١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (جعفر) (١) عن أبيه عن علي بن حسين قال: حدثني ابن (عباس) (٢) قال: أرسلني عليٌ إلى طلحة والزبير يوم الجمل، قال: فقلت لهما: إن أخاكم،، ايقرئكما السلام، ويقول لكما: هل وجدتما علي في حيف (في حكم) (٣) أو في (استئثار في فيء) (٤) أو في كذا؟ (أو في كذا) (٥) (قال: فقال الزبير) (٦): لا، ولا في واحدة منهما، ولكن مع الخوف شدة المطامع (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف جنگ جمل کے دن قاصد بنا کر بھیجا، میں نے ان دونوں سے کہا ، آپ کے بھائی آپ کو سلام کہتے ہیں اور آپ سے فرماتے ہیں کہ کیا آپ کو مجھ پر کسی معاملے کے فیصلے میں ظلم کرنے پر ناراضگی ہے یا کسی مال غنیمت پر اپنا قبضہ کرنے کے بارے میں یا فلاں فلاں بات میں ؟ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے، بلکہ کچھ ایسا خوف ہے جس کے ساتھ سخت نوع کی طمع جمع ہوگئی ہے۔
حدیث نمبر: 32622
٣٢٦٢٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة عن أبي (صادق) (١) عن (حنش) (٢) الكناني عن (عُلَيْم) (٣) الكندي عن سلمان قال: (ليحرقن) (٤) هذا البيت على يد رجل من آل الزبير (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علیم کندی حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ یہ بیت اللہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی آل میں سے ایک آدمی کے ہاتھوں جلے گا۔
حدیث نمبر: 32623
٣٢٦٢٣ - [حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين قال: ما أريت رجلًا هو (أسب) (١) منه يعني ابن الزبير] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین فرماتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص برا بھلا کہنے والا نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 32624
٣٢٦٢٤ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن الأجلح قال: قلت لعامر: إن الناس يزعمون أن الحجاج مؤمن، فقال: وأنا (أشهد) (١) أنه مؤمن بالطاغوت كافر باللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
اجلح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے عرض کیا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ حجّاج مؤمن ہے ؟ فرمایا کہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ وہ طاغوت و شیطان پر ایمان لانے والا ہے اور اللہ کے احکام کا انکار کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 32625
٣٢٦٢٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم قال: ما رأيت أبا وائل (سب) (١) دابة قط إلا الحجاج مرة واحدة، فإنه ذكر بعض صنيعه فقال: اللهم أطعم الحجاج (طعامًا) (٢) من ضريع لا يسمن ولا يغني من جوع، قال: ثم تداركها بعد فقال: إن كان ذلك أب إليك، فقلت: أتشك في الحجاج؟ قال: و (نعد) (٣) ذلك ذنبا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے ابو وائل رحمہ اللہ کو کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے زمین پر چلنے والے کسی ذی روح کو برا بھلا کہا ہو سوائے حجاج کے کہ انہوں نے ایک مرتبہ اس کی بدعملیوں کا ذکر کر کے فرمایا اے اللہ ! حجاج کو ضریع نامی جھاڑ میں سے کھلا ایسا کھانا جو نہ فربہ کرے اور نہ بھوک مٹائے، فرماتے ہیں کہ پھر انہوں نے بطور تدارک کے فرمایا : اگر آپ اس بات کو پسند فرمائیں، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ کو حجاج کے بارے میں ابھی تک شک ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم اس بات کے اضافے کو گناہ سمجھتے ہو۔
حدیث نمبر: 32626
٣٢٦٢٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت أبي (يقول) (١): قال: بلغ علي بن أبي طالب أن طلحة يقول: إنما بايعت واللج (٢) على قفاي، فأرسل ابن عباس فسأله، قال: فقال أسامة: أما اللج على قفاه فلا، ولكن (قد) (٣) بايع وهو كاره، قال: فوثب الناس إليه حتى كادوا أن يقتلوه، قال: ⦗١٢٣⦘ فخرج صهيب وأنا إلى جنبه (فالتفت) (٤) إلي فقال: قد علمت أن أم عوف (حائنة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایسی حالت میں بیعت کی ہے کہ میری گدّی پر تلوار رکھی ہوئی تھی، آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کے پاس بھیجا انہوں نے ان سے اس بات کی حقیقت پوچھی تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گدّی پر تلوار تو نہیں تھی لیکن دراصل بات یہ ہے کہ انہوں ایسی حالت میں بیعت کی ہے کہ وہ مجبور کیے گئے تھے، چناچہ لوگ ان پر پل پڑے قریب تھا کہ ان کو جان سے مار ڈالتے، فرماتے ہیں کہ پھر حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نکلے اور میں ان کے پہلو میں تھا، انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا تم جانتے ہو کہ ٹڈّی ہلاک ہو کر ہی رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 32627
٣٢٦٢٧ - (١) حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش قال: دخلنا على ابن أبي الهذيل فقال: قتلوا عثمان ثم (جاؤني) (٢)، فقلت له: أتريبك نفسك؟.
مولانا محمد اویس سرور
اعمش فرماتے ہیں کہ ہم ابن ابی ہذیل کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا کہ لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا پھر میرے پاس آئے تو میں نے کہا آپ کا دل آپ کو کچھ پریشان کر رہا ہے ؟
حدیث نمبر: 32628
٣٢٦٢٨ - حدثنا ابن إدريس عن هارون بن عنترة قال: سمعت أبا عبيدة يقول: كيف أرجو الشهادة بعد قولي: أرأيت (أباك) (١) (يُزجر) (٢) زجر الأعراب.
مولانا محمد اویس سرور
ہارون بن عنترہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو عبیدہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں شہادت کی تمنا کیسے کروں میرے اس بات کے کہنے کے بعد کہ کیا تم نے اپنے باپ کو دیکھا ہے کہ اسے اعرابیوں کی طرح ڈانٹ پلائی جا رہی تھی ؟
حدیث نمبر: 32629
٣٢٦٢٩ - حدثنا ابن إدريس عن هارون بن عنترة عن سليم بن حنظلة قال: أتينا أبي بن كعب لنتحدث معه فلما قام يمشي (قمنا لنمشي) (١) معه، فلحقه عمر فرفع عليه الدِّرة، فقال: يا أمير المؤمنين اعلم ما تصنع؟ قال: ما ترى: فتنة للمتبوع (مذلة) (٢) للتابع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیم بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابی ّ بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تاکہ ان سے بات چیت کریں، جب آپ چلنے کے لئے کھڑے ہوئے ہم بھی ان کے ساتھ چلنے کے لئے کھڑے ہوگئے، چناچہ ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملے تو انہوں نے ان پر درّہ اٹھا لیا انہوں نے عرض کیا اے امیر المؤمنین یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا تم یہ دیکھ نہیں رہے ؟ یہ چیز آگے چلنے والے کے لئے فتنہ ہے اور پیچھے چلنے والے کے لئے ذلّت کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 32630
٣٢٦٣٠ - حدثنا ابن إدريس عن مسعر عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: جاء رجل إلى كعب بن عجرة فجعل يذكر عبد اللَّه بن أبي وما نزل فيه ⦗١٢٤⦘ من القرآن (ويعيبه) (١)، وكان بينه وبينه حرمة (وقرابة) (٢)، وكعب ساكت، قال: فانطلق الرجل إلى عمر فقال: يا أمير المؤمنين، ألم تر أني ذكرت ما نزل في عبد اللَّه بن أبي، فلم يكن من كعب، فالتقى عمر كعبا فقال: ألم أخبر أن عبد اللَّه بن أبي ذكر عندك فلم يكن منك، قال كعب: قد سمعت مقالته، فلما رأيته (كأنه) (٣) يعمد (مساءتي) (٤) (كرهت أن أعينه على مساءتي) (٥)، قال: فقال عمر: وددت (أن) (٦) لو ضربت أنفه، أو وردت (أن) (٧) لو كسرت أنفه (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عبد اللہ بن اُبیّ کے بارے میں قرآن میں جو کچھ نازل ہوا بیان کرنے لگا اور اس کی عیب گوئی کرنے لگا، ان دونوں کے درمیان احترام اور قرابت داری کا معاملہ بھی تھا، حضرت کعب رضی اللہ عنہ خاموشی سے سنتے رہے، اس کے بعد وہ آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پاس گیا اور کہا اے امیر المومنین میں آپ کو بتاؤں کہ میں نے حضرت کعب کے سامنے عبد اللہ بن ابی ّ کے بارے میں جو قرآن میں نازل ہوا ہے بیان کیا لیکن انہوں نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا کہ مجھے خبردی گئی ہے کہ آپ کے پاس عبد اللہ بن ابی ّ کا ذکر کیا گیا آپ نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا ؟ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے اس کی بات سن لی تھی جب میں نے دیکھا کہ وہ جان بوجھ کر میری عیب جوئی کرنا چاہ رہا ہے کہ تو میں نے نامناسب سمجھا کہ اپنے عیب پر اس کی مدد کروں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا ہوتا اگر تم اس کی ناک پر مار دیتے، یا فرمایا کہ اچھا ہوتا کہ تم اس کی ناک توڑ ڈالتے۔
حدیث نمبر: 32631
٣٢٦٣١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هارون بن أبي إبراهيم عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير أن الأشتر وابن الزبير التقيا فقال ابن الزبير: ما ضربته (إلا) (١) ضربة حتى ضربني خمسًا أو ستًا، ثم قال: فألقاني (برجلي) (٢)، ثم قال: (أما واللَّه) (٣) لولا قرابتك من رسول اللَّه ﷺ ما تركت منك عضوًا مع صاحبه، قال: وقالت عائشة: (واثكل) (٤) أسماء، قال: فلما كان بعد أعطت الذي بشرها أنه حي عشرة آلاف (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ اشتر اور ابن زبیر کی ملاقات ہوئی، ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اس کو ایک ہی ضرب لگائی تھی کہ اس نے مجھے پانچ یا چھ ضربیں لگائیں پھر مجھے میرے پاؤں کی طرف گرا دیا اور پھر کہا بخدا اگر تمہاری رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رشتہ داری نہ ہوتی تو میں تیرا جوڑ جوڑ علیحدہ کردیتا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ نے یہاں تک فرما دیا تھا کہ ہائے اسماء کی بربادیِ ! فرماتے ہیں کہ بعد میں جس آدمی نے انہیں میرے زندہ ہونے کی خبر دی انہوں نے اس کو دس ہزار درہم انعام میں عنایت فرمائے۔
حدیث نمبر: 32632
٣٢٦٣٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن عبد اللَّه بن أبي السفر عن الشعبي قال: ما علمت (أن) (١) أحدا انتصف من شريح إلا أعرابي، قال له شريح: إن لسانك أطول من يدك، فقال الأعرابي: أسامري أنت فلا تمس؟ قال له شريح: أقبل قبل أمرك، قال: ذاك (أعملني) (٢) إليك، (قال) (٣): فلما أراد أن يقوم قال له شريح: إني لم أردك بقولي، (قال) (٤): ولا (اجترمت) (٥) عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا کہ اس نے حضرت شریح سے انتقام لیا ہو سوائے ایک اعرابی کے، شریح نے اس سے فرمایا کہ تمہاری زبان تمہارے ہاتھ سے زیادہ لمبی ہے تو اعرابی نے کہا : کیا تم سامری ہو کہ تمہیں ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا ؟ حضرت شریح نے فرمایا : اپنے معاملے کی ہوش لو، اس نے جواب دیا کہ میرا معاملہ ہی مجھے آپ کے پاس لایا ہے جب حضرت شریح رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے لگے تو فرمایا میں نے اپنی بات سے تمہیں مراد نہیں لیا تھا، اس اعرابی نے کہا کہ میں نے بھی آپ کا کوئی گناہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 32633
٣٢٦٣٣ - حدثنا ابن إدريس عن الأعمش عن (شمر) (١) بن عطية أن ابن مخنف الأزدي جلس إلى علي قال: فقال له (علي) (٢): اقرأ، فقرأ سورة البقرة (فما) (٣) فرغ منها حتى (شق) (٤) علي، قال: فبعثه إلى (أصبهان) (٥)، قال: فأخذ ما أخذ وحمل بقية المال إلى معاوية (٦).
مولانا محمد اویس سرور
شمر بن عطیہ فرماتے ہیں کہ ابن مخنف ازدی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے آپ نے اس سے فرمایا پڑھو ، اس نے سورة بقرہ شروع کردی، ان کے فارغ ہونے سے پہلے میں مشقت محسوس کرنے لگا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اصفہان کی طرف بھیجا، انہوں جتنا مال چاہا لے لیا اور باقی حضرت معاویہ کے پاس بھیج دیا۔
حدیث نمبر: 32634
٣٢٦٣٤ - حدثنا ابن إدريس عن عبد العزيز بن سياه عن حبيب بن أبي ثابت عن ثعلبة بن يزيد الحماني قال: سمعت عليًا على هذا المنبر يقول: (١) أيها الناس ⦗١٢٦⦘ (أعينوني) (٢) على أنفسكم، فإن كانت القرية ليصلحها السبعة، وإن كنتم لا بد منتهبيه (فهلم) (٣) حتى أقسمه بينكم، فإن القوم متى نزلوا بالقوم (يضربوا) (٤) وجوههم (عن) (٥) قريتهم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثعلبہ بن یزید حمّانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس منبر سے یہ فرماتے سنا ! اے لوگو ! اپنی جانوں پر میری مدد کرو تو پوری بستی کی اصلاح کے لئے سات آدمی کافی ہیں، اور اگر تم ضرور اس میں لوٹ مار مچانا ہی چاہتے ہو تو آؤ میں اس کو تمہارے درمیان تقسیم کردیتا ہوں، کیونکہ جب کوئی قوم کسی قوم کے پاس آ کر ٹھہرتی ہے تو ان کے چہروں کو ان کی بستی سے پھیر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 32635
٣٢٦٣٥ - حدثنا ابن إدريس عن ليث قال: مر (ابن) (١) عمر بحذيفة فقال حذيفة: لقد جلس أصحاب رسول اللَّه ﷺ مجلسًا ما منهم من أحد إلا أعطى من دينه إلا هذا الرجل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایک مجلس میں بیٹھے ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس نے اپنا دین کچھ نہ کچھ دے نہ دیا ہو سوائے اس آدمی کے۔
حدیث نمبر: 32636
٣٢٦٣٦ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم عن ابن ميناء عن المسور بن مخرمة قال: سمعت عمر وإن (أحد) (٢) أصابعي في جرحه -هذه (أو هذه) (٣) - وهو يقول: يا معشر قريش إني لا أخاف الناس عليكم، إنما (أخافكم) (٤) على الناس، وإني قد تركت فيكم اثنتين لم تبرحوا بخيرٍ ما لزمتموها: العدل في الحكم، والعدل في القسم، وإني قد تركتكم على مثل ⦗١٢٧⦘ (مخرفة) (٥) (الغنم) (٦) إلا أن يعوج قوم فيعوج بهم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان سنا جبکہ میری ایک انگلی پر یا یہ ان کے زخم پر تھی : کہ اے قریش کی جماعت ! مجھے تم پر لوگوں کا خوف نہیں بلکہ مجھے لوگوں پر تمہارا خوف ہے، اور میں تمہارے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ رہا ہوں کہ جب تک تم ان دونوں پر مضبوطی سے عمل پیرا رہو گے بھلائی میں رہو گے ، ایک فیصلے میں انصاف کرنا، دوسرے تقسیم میں انصاف کرنا اور میں تمہیں چوپایوں کے راستوں جیسے ایک وسیع اور نرم راستے پر چھوڑ رہا ہوں الّا یہ کہ کوئی قوم خود ہی ٹیڑھی ہوجائے تو ان کو ٹیڑھا کردیا جائے۔
…