کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 32557
٣٢٥٥٧ - (١) (حدثنا) (٢) حسين بن علي قال: قال عبد الملك: دخل (شقيق) (٣) على الحجاج فقال: ما اسمك؟ قال: ما بعث إلي الأمير حتى علم اسمي، قال: أريد أن أستعين بك على بعض عملي، قال: فقال: (أما) (٤) إني (٥) أخاف (عليك) (٦) نفسي، (قال) (٧): فاستعفاه فأعفاه، قال: فلما خرج من عنده قام وهو يقول: هكذا (فتعاشى) (٨)، قال: فقال الحجاج: سددوا الشيخ، سددوا الشيخ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبد الملک نے فرمایا کہ شقیق رحمہ اللہ حجاج کے پاس تشریف لائے ، حجاج نے کہا آپ کا نام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ امیر نے میرا نام جاننے سے پہلے مجھے نہیں بلایا، حجاج نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ سے اپنے بعض کاموں میں مدد لوں، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے تیرے پاس اپنی جان کا خوف ہے، چناچہ انہوں نے اس کے کام سے معذرت چاہی اور حجاج نے ان کی معذرت قبول کرلی، راوی فرماتے ہیں کہ جب وہ اس کے پاس سے نکلے تو کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ یہ اسی طرح بتکلف اندھا بنتا رہے گا، راوی کہتے ہیں کہ حجاج نے کہا : شیخ کو سیدھا کرو، شیخ کو سیدھا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32557
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32557، ترقيم محمد عوامة 31174)
حدیث نمبر: 32558
٣٢٥٥٨ - حدثنا حسين بن علي عن (عبد الملك) (١) بن أبجر قال: بعث ابن ⦗١٠٠⦘ أوسط بالشعبي إلى الحجاج وكان عاملًا على الري، قال: فأدخل على ابن أبي مسلم وكان الذي بينه وبينه لطيفًا، قال: (فعذله) (٢) ابن أبي مسلم وقال: إني مدخلك على الأمير فإن ضحك في وجهك فلا تضحكن، قال: فأدخل عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابجر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن اوسط نے شعبی رحمہ اللہ کو حجاج کے پاس بھیجا جبکہ وہ ریّ کا گورنر تھا راوی فرماتے ہیں کہ ان کو ابن ابی مسلم کے پاس پہنچا یا گیا ، ان دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات تھے، ابن ابی مسلم نے ان کو ملامت کی اور کہا کہ میں آپ کو امیر کے پاس پہنچاتا ہوں اگر امیر تیرے سامنے ہنسے تو تم مت ہنسنا، راوی کہتے ہیں اس کے بعد ان کو حجاج کے پاس پہنچایا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32558
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32558، ترقيم محمد عوامة 31175)
حدیث نمبر: 32559
٣٢٥٥٩ - حدثنا حسين بن علي عن شيخ من النخع عن (جدته) (١) (قالت) (٢): كان سعيد بن جبير (مستخفي) (٣) عند أبيك زمن الحجاج، فأخرجه أبوك في صندوق إلى مكة.
مولانا محمد اویس سرور
قبیلہ نخع کے ایک بزرگ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے فرمایا کہ حجاج کے زمانے میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ تیرے باپ کے پاس روپوش تھے، آپ کے والد ان کو ایک صندوق میں ڈال کر مکہ مکرمہ لے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32559
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32559، ترقيم محمد عوامة 31176)
حدیث نمبر: 32560
٣٢٥٦٠ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد قال: قال الوليد بن عقبة وهو يخطب: يا أهل الكوفة أعزم على من (سماني) (١) (أشعر بركًا) (٢) لما قام، (فتحرج) (٣) عدي من (عزمته) (٤) فقام فقال له: إنه (لذو ندبة) (٥) الذي يقوم فيقول: أنا الذي سميتك.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ولید بن عقبہ نے خطبے کے دوران کہا اے اہل کوفہ ! میں لازم کرتا ہوں اس شخص پر جس نے مجھے ” سینے کے گھنے بالوں والا “ کا نام دیا ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے، چناچہ اس کے اس لازم کرنے سے پریشان ہوگئے، اور اس کو کہا کہ جو آدمی کھڑا ہو کر یہ اقرار کرے گا کہ میں نے آپ کو یہ نام دیا ہے وہ قتل کردیا جائے گا، ابن عون فرماتے ہیں کہ عدی نے ہی اس کو یہ نام دیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32560
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32560، ترقيم محمد عوامة 31177)
حدیث نمبر: 32561
٣٢٥٦١ - قال (ابن) (١) عون: وكان هو الذي سماه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32561
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32561، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32562
٣٢٥٦٢ - حدثنا حسين (بن علي) (١) عن عبد الملك بن أبجر قال: كانوا يتكلمون، قال: فخرج عليٌ مرة ومعه عقيل، (قال) (٢): (ومع عقيل) (٣) كبش قال: (فقال) (٤) علي: (يعض) (٥) أحدنا بذكره، قال: قال عقيل: أما أنا وكبشي فلا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
عبد الملک بن ابجر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگ باتیں کر رہے تھے کہ اس دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ نکلے، ان کے ساتھ عقیل تھے اور عقیل کے ساتھ دنبہ تھا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم میں سے کسی کی برائی کی جا رہی ہے، حضرت عقیل نے فرمایا کہ میری اور میرے دنبہ کی تو بہرحال نہیں کی جا رہی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32562
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32562، ترقيم محمد عوامة 31178)
حدیث نمبر: 32563
٣٢٥٦٣ - حدثنا (١) حسين بن علي عن مجمع قال: دخل عبد الرحمن بن أبي ليلى على الحجاج فقال لجلسائه: إذا أردتم أن تنظروا إلى رجل يسب أمير المؤمنين عثمان فهذا عندكم -يعني عبد الرحمن (بن أبي ليلى قال) (٢): فقال (عبد الرحمن) (٣): معاذ اللَّه أيها الأمير أن أكون أسب عثمان، إنه ليحجزني عن ذلك (٤) آيات في كتاب اللَّه، قال اللَّه: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾ قال: فكان عثمان منهم، قال: ثم قال: ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ فكان أبي منهم، ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [الحشر: ٨، ٩، ١٠]، فكنت منهم، قال: صدقت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجمع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن ابی لیلی رحمہ اللہ حجّاج کے پاس تشریف لائے تو حجاج نے اپنے ہم نشینوں سے کہا کہ اگر تم چاہو کہ اس آدمی کو دیکھ لو جو حضرت امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو گالی دیتا ہے تو یہ عبد الرحمن تمہارے پاس ہیں ان کو دیکھ لو، حضرت عبد الرحمن رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اے امیر ! میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہوں، مجھے اس بات سے کتاب اللہ کی تین آیتیں روکتی ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَیَنْصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُولَئِکَ ہُمَ الصَّادِقُونَ } (ان ہجرت کرنے والے فقراء کے لیے جن کو ان کے شہروں اور اموال سے بےدخل کردیا گیا، وہ تلاش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضاء ، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، وہی لوگ سچے ہیں) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں سے تھے، پھر آپ نے پڑھا { وَالَّذِینَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ( اور وہ لوگ جنہوں نے ان سے پہلے جگہ پکڑی گھر میں اور ایمان میں) میرے والد ان لوگوں میں سے تھے۔ { وَالَّذِینَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلاِِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ } (اور ان لوگوں کے لیے جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری بخشش فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان لائے) میں ان لوگوں میں سے ہوں، حجاج نے کہا : آپ نے سچ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32563
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32563، ترقيم محمد عوامة 31179)
حدیث نمبر: 32564
٣٢٥٦٤ - حدثنا حسين بن علي عن ابن وهب عن عطاء بن السائب قال: قال لي أبو جعفر (١) محمد بن علي: ممن أنت؟ قال: قلت: من قوم يبغضهم الناس، من ثقيف.
مولانا محمد اویس سرور
عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو جعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم کن لوگوں میں سے ہو ؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : ان لوگوں میں سے جن سے لوگ نفرت کرتے ہیں، یعنی ثقیف سے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32564
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32564، ترقيم محمد عوامة 31180)
حدیث نمبر: 32565
٣٢٥٦٥ - حدثنا حسين بن علي عن أبي موسى قال: قال المغيرة بن شعبة لعلي: اكتب إلى هذين الرجلين بعهدهما إلى الكوفة والبصرة -يعني الزبير وطلحة، (واكتب) (١) إلى معاوية بعهده إلى الشام فإنه سيرضى منك بذلك، قال: قال علي: لم أكن (لأعطي) (٢) (الدنية) (٣) في ديني، قال: فلما (٤) كان بعدُ لقي المغيرة معاوية فقال له معاوية: أنت صاحب الكلمة؟ قال: نعم، (قال) (٥): أم واللَّه ما وقى شرها إلا اللَّه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ان دو آدمیوں یعنی زبیر رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ اور بصرہ کی ولایت لکھ دو اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کی ولایت لکھ دو ، اس طرح وہ آپ سے راضی ہوجائیں گے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنے دین میں گھٹیا کام کرنے والا نہیں ہوں، راوی کہتے ہیں کہ بعد میں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بات کہنے والے آپ ہیں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا بخدا اس بات کے شر سے اللہ کے سوا کوئی نہیں بچا سکا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32565
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32565، ترقيم محمد عوامة 31181)
حدیث نمبر: 32566
٣٢٥٦٦ - حدثنا حسين بن علي عن أبي موسى قال: كتب زياد إلى عائشة أم المؤمنين: من زياد بن أبي سفيان، رجاء أن تكتب إليه ابن أبي سفيان قال: فكتبت من عائشة أم المؤمنين إلى زياد ابنها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زیاد نے حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اس طرح خط لکھا : ” زیاد بن ابی سفیان کی طرف سے …“ ، اس امید پر کہ وہ بھی اس کو ” ابن ابی سفیان “ لکھیں گے، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے جواب میں لکھا، ” ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اس کے بیٹے زیاد کی طرف “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32566
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32566، ترقيم محمد عوامة 31182)
حدیث نمبر: 32567
٣٢٥٦٧ - حدثنا حسين بن علي عن الوليد بن علي عن زيد بن أسلم قال: ما ⦗١٠٣⦘ جالست في أهل بيته مثله -يعني (علي بن الحسين) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن اسلم سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں علی رضی اللہ عنہ بن حسین جیسے کسی شخص کے پاس نہیں بیٹھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32567
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32567، ترقيم محمد عوامة 31183)
حدیث نمبر: 32568
٣٢٥٦٨ - حدثنا حسين بن علي عن أبي موسى قال: قال رجل للحسن: يا أبا سعيد، واللَّه ما أراك تلحن، قال: (١) ابن أخي قد سبقت اللحن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حسن سے کہا کہ اے ابو سعید ! خدا کی قسم میں آپ کو کلام میں غلطی کرتا ہوا نہیں دیکھتا، انہوں نے فرمایا کہ اے میرے بھتیجے ! میں کلام کی غلطی سے آگے گزر گیا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32568
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32568، ترقيم محمد عوامة 31184)
حدیث نمبر: 32569
٣٢٥٦٩ - حدثنا حسين بن علي عن (زائدة) (١) عن عبد الرحمن بن الأصبهاني قال: حدثني عبد اللَّه بن شداد قال: قال لي ابن عباس: ألا أعجّبك، قال: إني يومًا في المنزل وقد أخذت مضجعي للقائلة (إذ) (٢) قيل رجل (بالباب) (٣)، قال: [قلت: ما جاء هذا هذه الساعة إلا لحاجة، أدخلوه، قال: فدخل، قال: قلت: لك حاجة؟ قال: متى (يبعث) (٤) ذلك الرجل؟] (٥) قلت: أي رجل؟ قال: علي، قال: قلت: لا يبعث حتى يبعث اللَّه من في القبور، قال: فقال: تقول ما يقول هؤلاء الحمقاء، قال: قلت: أخرجوا هذا عني (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا میں تمہیں تعجب میں ڈالنے والی بات نہ بتاؤں ؟ پھر فرمانے لگے کہ میں ایک دن اپنے گھر میں تھا اور قیلولے کے لیے بستر پر لیٹ چکا تھا ، مجھے کہا گیا کہ دروازے پر ایک آدمی ہے، میں نے کہا یہ شخص اس وقت کسی ضرورت سے ہی آیا ہوگا ، اس کو اندر بھیج دو ، کہتے ہیں کہ وہ اندر داخل ہوا ، فرماتے ہیں کہ میں نے کہا آپ کس ضرورت سے آئے ہیں ؟ وہ کہنے لگا آپ ان صاحب کو قبر سے کب نکالیں گے ؟ میں نے کہا : کون سے آدمی کو ؟ کہنے لگا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو، میں نے کہا ان کو قبر سے اسی وقت اٹھایا جائے گا جب اللہ تعالیٰ قبر والوں کو اٹھائیں گے، فرماتے ہیں کہ وہ کہنے لگا کیا آپ بھی ایسی بات کہتے ہیں جو یہ بیوقوف لوگ کہتے ہیں ؟ میں نے کہا اس آدمی کو میرے پاس سے نکال دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32569
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32569، ترقيم محمد عوامة 31185)
حدیث نمبر: 32570
٣٢٥٧٠ - [حدثنا حسين عن علي عن عبد الملك بن أبجر قال: انتهى الشعبي إلى رجلين وهما (يغتابانه) (١) ويقعان فيه، فقال: هنيئًا مرئيًا غير داء مخامر لعزة أعراضنا ما استحلت] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن ابجر بیان فرماتے ہیں کہ شعبی دو آدمیوں کے پاس پہنچے جو ان کی غیبت میں مصروف تھے اور ان کی برائیاں کر رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا عَزّہ کے لیے خوش ذائقہ اور خوشگوار ہیں ہماری عزتیں اور آبروئیں جو اس نے حلال سمجھ لی ہیں بغیر کسی بیماری کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32570
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32570، ترقيم محمد عوامة 31186)
حدیث نمبر: 32571
٣٢٥٧١ - حدثنا حسين بن علي عن عبد الملك بن أبجر قال: لما دخل سعيد بن جبير على الحجاج قال: أنت الشقي بن (كسير) (١) قال: لا، أنا سعيد بن جبير قال: إني قاتلك، قال: لئن قتلتني لقد أصابت أمي اسمي.
مولانا محمد اویس سرور
عبد الملک ابن ابجر رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ حجاج کے پاس تشریف لائے، تو حجاج نے کہا تم بدبخت ہو اور ٹوٹے ہوئے شخص کے بیٹے ہو، وہ فرمانے لگے کہ میں خوش بخت ہوں اور جڑے ہوئے کا بیٹا ہوں، حجاج نے کہا میں تمہیں قتل کر دوں گا، انہوں نے فرمایا اگر تو مجھے قتل کرتا ہے تو میری ماں نے پھر میرا نام درست ہی رکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32571
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32571، ترقيم محمد عوامة 31187)
حدیث نمبر: 32572
٣٢٥٧٢ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن الأسود قال: قلت لعائشة: إن رجلًا من الطلقاء يبايع له -يعني معاوية، قالت: يا بني، لا تعجب هو ملك (اللَّه) (٢) يؤتيه من يشاء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ فتح مکّہ میں آزاد کیے جانے والے ایک آدمی کی بیعت کی جارہی ہے، یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم تعجب نہ کرو، یہ اللہ تعالیٰ کا ملک ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32572
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32572، ترقيم محمد عوامة 31188)
حدیث نمبر: 32573
٣٢٥٧٣ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن حارثة عن الوليد بن عقبة أنه قال: لم تكن نبوة إلا كان بعدها ملك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن عقبہ فرماتے ہیں کہ کوئی نبوت ایسی نہیں گزری جس کے بعد بادشاہت نہ ہوئی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32573
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32573، ترقيم محمد عوامة 31189)
حدیث نمبر: 32574
٣٢٥٧٤ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة أن رجلًا من قريش يقال له ثمامة كان على صنعاء، فلما جاء قتل عثمان بكى فأطال البكاء فلما أفاق قال: اليوم انتزعت النبوة (و) (١) خلافة النبوة من أمة محمد ﷺ وصارت ملكًا (وجبرية) (٢)، من غلب على شيء أكله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قریش کا ایک آدمی جس کو ثمامہ کہا جاتا تھا صنعاء کا حاکم تھا، جب اس کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو وہ رونے لگا اور بہت رویا، جب اس کو افاقہ ہوا تو اس نے کہا : آج کے دن نبوت چھین لی گئی یا کہا کہ نبوت کی خلافت چھین لی گئی، محمد ﷺ کی امت سے، اور یہ خلافت بادشاہت اور جبری حکومت میں تبدیل ہوگئی جو جس چیز پر غالب ہوجائے گا اس کو ہڑپ کر جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32574
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٩٦٨)، والطبراني (١٤٠٤)، وابن سعد ٣/ ٨٠، وابن قانع ١/ ١٣١، وابن أبي عمر كما في المطالب العالية (٤٣٨٩)، والبخاري في التاريخ ٢/ ١٧٦، وفي الأوسط ١/ ٨٩، وابن عساكر ١١/ ٥٨١، وابن شبه (٢٢٩٧)، وابن الأثير ١/ ٣٦٦، والخلال في السنة ٢/ ٣٣٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32574، ترقيم محمد عوامة 31190)
حدیث نمبر: 32575
٣٢٥٧٥ - حدثنا ابن علية (عن أيوب) (١) قال: قال لي الحسن: ألا تعجب من سعيد بن جبير، دخل علي فسألني عن قتال الحجاج ومعه بعض الرؤساء يعني أصحاب ابن الأشعث.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب رحمہ اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھ سے حسن نے کہا کیا تمہیں سعید بن جبیر رحمہ اللہ پر تعجب نہیں ہوتا اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے حجاج کے ساتھ قتال کے بارے میں پوچھنے لگے اور ان کے ساتھ بعض رؤساء بھی تھے یعنی ابن الأشعث کے ساتھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32575
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32575، ترقيم محمد عوامة 31191)
حدیث نمبر: 32576
٣٢٥٧٦ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال: سمعت معاوية في مرضه الذي مات فيه حسر عن ذراعيه كأنهما عسيبا نخل، وهو يقول: واللَّه لوددت أني (أغبر فيكم) (١) فوق ثلاث، فقالوا: إلى رحمة اللَّه ومغفرته، فقال: ما شاء اللَّه أن يفعل ولو كره أمرًا غيره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مرض الموت میں سنا اور اس وقت انہوں نے اپنے بازو چڑھا رکھے تھے اور وہ ایسے لگ رہے تھے جیسے کھجور کی شاخیں ہوتی ہیں اور فرما رہے تھے کہ میں تمہارے درمیان تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہوں گا، لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کی رحمت اور مغفرت کی طرف جائیں گے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ، اور اگر کسی بات کو ناپسند کرتے ہیں تو اس کو تبدیل فرما دیتے ہیں، ابن بشر نے اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ ” دنیا وہی تو ہے جس کو ہم نے پہچانا اور جس کا ہم نے تجربہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32576
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وأخرجه النسائي (٧٧٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32576، ترقيم محمد عوامة 31192)
حدیث نمبر: 32577
٣٢٥٧٧ - وزاد فيه ابن بشر هل الدنيا إلا ما عرفنا (و) (١) جربنا (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32577
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32577، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32578
٣٢٥٧٨ - حدثنا وكيع عن موسى (بن) (١) قيس (قال: حدثني قيس) (٢) بن رمانة عن أبي بردة قال: قال معاوية: ما قاتلت عليا (إلا) (٣) في أمر عثمان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ رحمہ اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی وجہ سے لڑا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32578
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32578، ترقيم محمد عوامة 31193)
حدیث نمبر: 32579
٣٢٥٧٩ - حدثنا حفص عن مجالد عن الشعبي قال: دخل شاب من قريش على معاوية فأغلظ له فقال له: يا ابن أخي أنهاك عن السلطان، إن السلطان يغضب ⦗١٠٦⦘ غضب الصبي ويأخذ أخذ الأسد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قریش کا ایک جوان حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے سخت کلامی کی، حضرت رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اے بھتیجے ! میں تجھے بادشاہ کے پاس جانے سے منع کرتا ہوں، بیشک بادشاہ بچے کی طرح غصّے میں آتا ہے اور شیر کی طرح پکڑ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32579
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32579، ترقيم محمد عوامة 31194)
حدیث نمبر: 32580
٣٢٥٨٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن (مجالد) (١) عن الشعبي قال: قال زياد: ما غلبني أمير المؤمنين بشيء من السياسة إلا بباب واحد، استعملت فلانا (فكسر) (٢) خراجه فخشي أن أعاقبه، ففر (إلى) (٣) أمير المؤمنين (فكتبت) (٤) إليه: أن هذا أدب سوء لمن (قبلي) (٥)، فكتب إليَّ: أنه ليس ينبغي لي و (٦) لك أن (نسوس) (٧) الناس سياسة واحدة، أن نلين جميعًا (فيمرج) (٨) الناس في المعصية، ولا أن (نشتدَّ) (٩) جميعًا فنحمل الناس على المهالك، ولكن تكون للشدة (والفظاظة) (١٠) (والغلظة) (١١) وأكون (أنا) (١٢) (اللين) (١٣) والرأفة والرحمة (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زیاد نے کہا کہ امیر المؤمنین سیاست کے کسی باب میں مجھ پر غالب نہیں ہوئے سوائے ایک باب کے، میں نے ایک آدمی کو ایک علاقے کا عامل بنایا اس نے اس کی آمدنی کم کردی، اس کو میری سرزنش کا خوف ہوا تو وہ امیر المؤمنین کی طرف بھاگا، میں نے ان کی طرف لکھا کہ یہ کام پہلے لوگوں کے طرز عمل کے خلاف ہے ، انہوں نے میری طرف لکھا کہ میرے اور تمہارے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم لوگوں سے ایک جیسی سیاست روا رکھیں، اگر ہم سب کے لئے نرم پڑجائیں گے تو سب گناہوں میں پڑجائیں گے، اور اگر ہم سب کے لئے سخت طبیعت ہوجائیں گے تو یہ ہلاکت کے راستوں پر لوگوں کو چلانا ہوگا، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم سختی و درشتی اور سخت طبعی کے لئے مناسب ہو اور میں نرمی ، محبت اور رحمت کے لیے مناسب ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32580
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32580، ترقيم محمد عوامة 31195)
حدیث نمبر: 32581
٣٢٥٨١ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا مجالد قال: أخبرنا عامر قال: سمعت معاوية يقول: ما تفرقت أمة قط إلا (أظهر اللَّه) (١) أهل الباطل على أهل الحق، إلا هذه الأمة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ کسی بھی امت کی تفرقہ بازی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل باطل اہل حق پر غالب آگئے، سوائے اس امت کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32581
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32581، ترقيم محمد عوامة 31196)
حدیث نمبر: 32582
٣٢٥٨٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سعيد بن سويد قال: صلى بنا معاوية الجمعة بالنخيلة في الضحى، ثم خطبنا فقال: ما قاتلتكم لتصلوا ولا لتصوموا ولا لتحجوا ولا لتزكوا، وقد أعرف أنكم (تفعلون) (١) ذلك، ولكن إنما قاتلتكم (لأتأمر) (٢) عليكم، (وقد) (٣) أعطاني اللَّه ذلك وأنتم (له) (٤) كارهون (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نخیلہ کے مقام پر زوال کے وقت جمعہ پڑھایا پھر ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ میں نے تم سے اس لیے قتال نہیں کیا کہ تم نماز پڑھنے لگو نہ اس لئے کہ تم روزے رکھنے لگو، نہ اس لئے کہ تم حج کرنے لگو، اور نہ اس لئے کہ تم زکوٰۃ ادا کرنے لگو، میں خوب جانتا ہوں کہ تم یہ سب کام کرتے ہو، میں نے تم سے اس لئے قتال کیا تاکہ میں تم پر حکومت کروں، پس اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اختیاردے دیا ہے اور تم اس کو ناپسند کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32582
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف سعيد بن سويد، قال البخاري في التاريخ ٣/ ٤٧٧ عن سعيد بن سويد: "لا يتابع عليه".
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32582، ترقيم محمد عوامة 31197)
حدیث نمبر: 32583
٣٢٥٨٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب عن (هزيل) (١) بن شرحبيل قال: خطبهم معاوية فقال: أيها الناس إنكم (جئتم فبايعتموني) (٢) طائعين، ولو بايعتم عبدًا حبشيًا مجدعًا لجئت حتى أبايعه معكم، قال: فلما نزل ⦗١٠٨⦘ عن المنبر قال له عمرو بن العاص: تدري أي شيء جئت به اليوم؟ زعمت أن الناس (بايعوك) (٣) طائعين، ولو بايعوا عبدًا حبشيًا مجدعًا لجئت حتى تبايعه معهم، قال: (فقام) (٤) (فعاد) (٥) إلى المنبر (٦) فقال: أيها الناس وهل كان أحد أحق بهذا الأمر مني (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھزیل بن شرحبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! تم لوگ آئے اور تم نے میرے ہاتھ پر خوش دلی کے ساتھ بیعت کرلی، اور اگر تم کسی کان ناک کٹے ہوئے حبشی غلام کے ہاتھ پر بھی بیعت کرلیتے تو میں بھی تمہارے ساتھ اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے جاتا، راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ منبر سے اترے تو ان سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ تم نے آج کیا کام کیا ہے ؟ تم یہ گمان کرتے ہو کہ لوگوں نے تمہارے ہاتھ پر خوش دلی کے ساتھ بیعت کی ہے، اور اگر وہ کسی کان ناک کٹے ہوئے حبشی غلام کے ہاتھ بیعت کرلیتے تو تم بھی ان کے ساتھ بیعت کرنے کے لئے جاتے، راوی فرماتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ اے لوگو ! کیا اس کام کا مجھ سے زیادہ حق دار بھی کوئی اور شخص ہے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32583
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32583، ترقيم محمد عوامة 31198)
حدیث نمبر: 32584
٣٢٥٨٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن هشام بن عروة عن أبيه قال: قال معاوية: لا حلم إلا التجارب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حلم تجربوں ہی کا نام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32584
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32584، ترقيم محمد عوامة 31199)
حدیث نمبر: 32585
٣٢٥٨٥ - حدثنا (زيد) (١) بن الحباب عن حسين بن واقد قال: حدثني عبد اللَّه بن بريدة أن (حسن) (٢) بن علي دخل علي معاوية فقال: لأجيزنك يحائزة لم أجز بها أحدا قبلك، ولا أجيز بها أحدًا بعدك من العرب فأجازه بأربعمائة (ألف) (٣) فقبلها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں آج آپ کو ایسا تحفہ دیتا ہوں جو میں نے آپ سے پہلے کسی کو نہیں دیا اور عرب میں سے آپ کے بعد میں کسی کو ایسا تحفہ نہیں دوں گا، چناچہ یہ کہہ کر آپ نے ان کو چار لاکھ عطا فرمائے، اور انہوں نے ان کو قبول فرما لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32585
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الحسين بن واقد صدوق، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٤٩٩)، وفيه الحسن، وقد نسبت إلى الحسن في مرقاة المفاتيح ١١/ ٣٠٠، وسير أعلام النبلاء ٣/ ٢٦٩، وذخائر العقبى ص ١٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32585، ترقيم محمد عوامة 31200)
حدیث نمبر: 32586
٣٢٥٨٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن حسين بن واقد قال: حدثنا عبد اللَّه بن بريدة (قال) (١): (دخلت) (٢) أنا وأبي على معاوية فأجلس أبي على السرير وأتى بالطعام (فأطعمنا) (٣) وأتى بشراب فشرب، فقال معاوية: ما شيء كنت أستلذه وأنا شاب فآخذه اليوم إلا اللبن، فإني آخذه كما كنت (آخذه) (٤) قبل اليوم، والحديث الحسن (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد ماجد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے میرے والد کو تخت پر بٹھا لیا، پھر کھانا لایا گیا اور ہم نے کھالیا پھر مشروب لایا گیا ، ہم نے پی لیا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو جوانی میں مجھے لذیذ لگتی تھی اور اب میں اس کو لے لیتا ہوں سوائے دودھ اور اچھی بات کے ، کہ میں اب بھی انہیں لیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32586
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حسين صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٩٤١)، وابن عساكر ٢٧/ ١٢٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32586، ترقيم محمد عوامة 31201)
حدیث نمبر: 32587
٣٢٥٨٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا أبو (محلم) (١) الهمداني عن عامر قال: أتى رجل معاوية فقال: يا أمير المؤمنين عدتك التي وعدتني؟ (قال) (٢): وما وعدتك؟ قال: أن تزيدني مئة في عطائي، قال: ما فعلت؛ قال: بلى، قال: من يعلم ذلك؟ قال: الأسود أو ابن الأسود، قال: ما يقول هذا يا ابن الأسود؟ قال: نعم، قد زدته فأمر له بها، ثم إن معاوية ضرب بيديه إحداهما على الأخرى، فقال: ما بي، مئة زدتها رجلا، ولكن بي غفلتي: أن أزيد رجلا من المهاجرين مئة ثم أنساها، فقال له ابن الأسود: يا أمير المؤمنين فهو (آمنٌ) (٣) عليها، قال: نعم، (قال) (٤): فواللَّه ما زدته شيئًا، ولكنه لا يدعوني رجل إلى خير يصيبه من ذي ⦗١١٠⦘ سلطان إلا شهدت له به، ولا شر أصرفه عنه من ذي سلطان إلا شهدت له به (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے امیرالمؤمنین ! میرے ساتھ کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میں نے تجھ سے کیا وعدہ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے وظیفے میں سو درہم کا اضافہ فرمائیں گے، آپ نے فرمایا کہ کیا تو نے کوئی کام کیا تھا ؟ اس نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا اس بات کو کون جانتا ہے ؟ اس نے کہا اسود، یا کہا ابن الأسود، آپ نے فرمایا اے ابن الاسود یہ کیا کہتا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! اے امیرالمؤمنین آپ نے اس کے وظیفے میں اضافہ فرمایا تھا، آپ نے اس اضافے کے دینے کا حکم فرما دیا، پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا مجھے اس بات کا غم نہیں کہ میں نے کسی آدمی کے لئے سو دراہم کے اضافے کا حکم دے دیا، بلکہ مجھے اپنی غفلت کا افسوس ہے کہ میں نے مہاجرین کے ایک آدمی کے وظیفے میں سو دراہم کا اضافہ کیا اور پھر میں ان کو بھول گیا ، اس پر ابن الأسود نے فرمایا : اے امیرالمؤمنین ! کیا ان دراہم کے بارے میں وہ بےخوف رہے گا ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں ! انہوں نے کہا اللہ کی قسم آپ نے اس کے لئے کوئی اضافہ نہیں فرمایا ، لیکن جو شخص مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اس کے لئے ان پیسوں کے بارے میں گواہی دوں جو اس کو کسی رئیس سے ملیں گے تو میں اس کے لئے گواہی دیتا ہوں، اسی طرح جو شخص مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ میں اس کے لئے کسی شر کے دور کرنے کے بارے میں گواہی دوں جو اس کو کسی صاحب منزلت آدمی سے پہنچنے کا خوف ہو تو میں اس کے لئے گواہی دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32587
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32587، ترقيم محمد عوامة 31202)
حدیث نمبر: 32588
٣٢٥٨٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني الوليد بن كثير عن وهب بن كيسان قال: سمعت جابر بن عبد اللَّه يقول: لما كان عام الجماعة بعث معاوية إلى المدينة (بسر) (١) بن أرطأة ليبايع أهلها على راياتهم وقبائلهم، فلما كان يومٌ جاءتْه الأنصار جاءته بنو (سَلِمة) (٢) فقال: أفيهم جابر؟ قالوا: لا، قال: فليرجعوا، فإني لست مبايعهم حتى يحضر جابر، قال: فأتاني، فقال: ناشدتك اللَّه إلا ما انطلقت معنا فبايعت فحقنت دمك ودماء قومك، فإنك إن لم تفعل قتلت مقاتلتنا وسبيت ذرارينا، قال: (فاستنظرتهم) (٣) إلى الليل، فلما أمسيت دخلت على أم سلمة زوج النبي ﷺ فأخبرتها الخبر، فقالت: يا ابن (أخي) (٤) انطلق فبايع واحقن دمك ودماء قومك، فإني قد أمرت ابن أخي يذهب فيبايع (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وھب بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جماعت کے سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت بسر بن ارطاۃ رحمہ اللہ کو مدینہ منورہ بھیجا تاکہ وہ اہل مدینہ سے ان کے جھنڈوں اور قبیلوں کے اعتبار سے بیعت کرلیں، سو جس دن ان کے پاس انصار کے آنے کا دن تھا اس روز ان کے پاس بنو سلمہ آئے ، انہوں نے کہا کیا ان لوگوں میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں ، انہوں نے کہا چلو واپس چلے جاؤ، میں اس وقت تک ان سے بیعت نہیں لوں گا جب تک ان کے اندر حضرت جابر نہیں ہوں گے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہ لوگ میرے پاس آئے اور کہا ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ چل کر بیعت کریں تاکہ آپ کا اور ہمارے خون محفوظ ہوجائیں، اور کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ہمارے لڑ سکنے والے لوگ قتل کردیئے جائیں گے اور ہمارے بچے قید ہوجائیں گے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے رات تک مہلت مانگی، جب رات ہوئی تو میں حضرت ام اسلمہ زوجہ النبی ﷺ کے پاس گیا اور ان کو ساری بات بتائی، انہوں نے فرمایا اے میرے بھتیجے ! جاؤ اور بیعت کرلو اور اپنا اور اپنی قوم کے خون کا تحفظ کرو، کیونکہ میں نے بھی اپنے بھتیجے کو بیعت کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32588
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32588، ترقيم محمد عوامة 31203)
حدیث نمبر: 32589
٣٢٥٨٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان قال: كتب رجل من أهل العراق إلى ابن الزبير حين بويع: سلام عليك، فإني أحمد إليك اللَّه الذي لا إله إلا هو، أما بعد فإن لأهل طاعة اللَّه ولأهل (الخير) (١) علامة يعرفون بها (ويعرف) (٢) فيهم من: الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والعمل بطاعة اللَّه، واعلم ⦗١١١⦘ أنما مثل الإمام مثل السوق يأتيه (من) (٣) زكا فيه، فإن كان برًا (جاءه) (٤) أهل البر ببرهم، وإن كان فاجرا جاءه أهل الفجور بفجورهم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ جب عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تو عراق کے ایک آدمی نے ان کی طرف خط لکھا : ” السلام علیکم ! میں آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔ اما بعد ! اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار بندوں اور اہل خیر کی کچھ علامتیں ہیں جن کے ذریعے وہ پہچانے جاتے ہیں اور وہ چیزیں ان میں نظر آتی ہیں، امر بالمعروف ، نھی عن المنکر، اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بجا لانا، اور جان لو کہ امام کی مثال بازار کی سی ہے ، کہ اس میں اسی طرح کے لوگ آتے ہیں جس طرح کی اس کے اندر چیزیں ہوتی ہیں، اگر وہ اہل خیر ہو تو اس کے پاس بھی نیک لوگ آتے ہیں اور اگر وہ فاجر ہو تو اس کے پاس بھی فاسق و فاجر لوگ اپنے فسق و فجور کے ساتھ آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32589
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32589، ترقيم محمد عوامة 31204)
حدیث نمبر: 32590
٣٢٥٩٠ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن سعيد بن وهب قال: كنت عند عبد اللَّه بن الزبير فقيل له: إن المختار يزعم أنه يوحى إليه فقال صدق ثم تلى: ﴿(هَلْ) (١) أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ (الشَّيَاطِينُ) (٢) (٢٢١) تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ﴾ (٣) [الشعراء: ٢٢١ - ٢٢٢].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ان سے کہا گیا کہ مختار یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر وحی آتی ہے، آپ نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا، پھر آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں : { ہَلْ أُنَبِّئُکُمْ عَلَی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِینُ تَنَزَّلُ عَلَی کُلِّ أَفَّاکٍ أَثِیمٍ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32590
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32590، ترقيم محمد عوامة 31205)
حدیث نمبر: 32591
٣٢٥٩١ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن الأعمش عن (شمر) (١) عن أنس قال: إنها ستكون ملوك ثم الجبابرة ثم الطواغيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شمر، حضرت انس رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ پہلے بہت سے بادشاہ ہوں گے، پھر جابر حکمران ہوں گے پھر سرکش سلاطین آئیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32591
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32591، ترقيم محمد عوامة 31206)
حدیث نمبر: 32592
٣٢٥٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن ليث عن أبي نضرة قال: كنا (نحدث) (١) أن بني (فلان) (٢) يصيبهم قتل شديد، فإذا كان ذلك هرب منهم أربعة رهط إلى الروم، فجلبوا الروم على المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں سے یہ بیان کیا جاتا تھا کہ فلاں قبیلے کے لوگوں مین سخت ترین خون ریزی کی جائے گی، چناچہ جب ایسا ہوا تو ان میں سے چار آدمی روم کی طرف بھاگ گئے اور رومیوں کو مسلمانوں پر چڑھائی کرنے پر آمادہ کر لائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32592
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32592، ترقيم محمد عوامة 31207)
حدیث نمبر: 32593
٣٢٥٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن عمر بن حمزة قال: خبرني (سالم) (١) قال: لما أرادوا أن يبايعوا ليزيد بن معاوية قام مروان فقال: سنة أبي بكر الراشدة المهدية، فقام عبد الرحمن بن أبي بكر فقال: ليس بسنة أبي بكر (٢) قد ترك أبو بكر الأهل والعشيرة و (الأصل) (٣) وعمد إلى رجل من بني عدي بن كعب (إذ) (٤) رأى أنه لذلك أهل، فبايعه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب لوگوں سے یزید بن معاویہ کے لئے بیعت لی جا رہی تھی اس دوران مروان کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مثالی طریقہ ہے، حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طریقہ نہیں، اور انہوں نے تو اپنے اہل و عیال اور قبیلے کے لوگ چھوڑ دیے تھے، اور بنی عدی بن کعب کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اس کام کا سب سے زیادہ اہل ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32593
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عمر بن حمزة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32593، ترقيم محمد عوامة 31208)
حدیث نمبر: 32594
٣٢٥٩٤ - [حدثنا أبو أسامة عن المجالد عن عامر قال: قال محمد بن الأشعث: إن لكل شيء دولة، حتى أن للحمق (على الحلم) (١) دولة] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ ، حضرت محمد بن أشعث رحمہ اللہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ ہر چیز کا باری باری غلبہ آتا ہے یہاں تک کہ حماقت کو بھی عقل مندی پر غلبہ آیا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32594
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32594، ترقيم محمد عوامة 31209)
حدیث نمبر: 32595
٣٢٥٩٥ - حدثنا أبو أسامة عن عمر بن حمزة قال: أخبرني سالم عن أبيه أن عمر لما نزع شرحبيل بن حسنة قال: (يا) (١) عمر عن سخطة (نزعتني) (٢)، قال: لا، ولكنا رأينا من هو أقوى منك فتحرجنا من اللَّه أن (نتركك) (٣)، وقد رأينا من هو أقوى منك، فقال له شرحبيل: فأعذرني، فقام عمر على المنبر فقال: (إنا) (٤) كنا ⦗١١٣⦘ استعملنا شرحبيل (بن) (٥) حسنة، ثم (نزعناه) (٦) (من) (٧) غير سخطة وجدتها عليه، ولكنا رأينا من هو أقوى منه، (فتحرجنا) (٨) من اللَّه أن نقره وقد رأينا من هو أقوى منه، فنظر عمر من العشي إلى الناس وهم يلوذون (بالعامل) (٩) الذي استعمل، (و) (١٠) شرحبيل (محتبٍ) (١١) وحده، فقال عمر: (أما) (١٢) الدنيا فإنها لكاع (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو معزول کردیا تو انہوں نے عرض کیا اے عمر رضی اللہ عنہ ! کیا آپ نے مجھے کسی ناراضی کے سبب معزول کردیا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں، لیکن ہم نے آپ سے زیادہ قوت والا ایک آدمی دیکھا ہے، حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ پھر مجھے معذور رکھو، چناچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ہم نے شرحبیل بن حسنہ کو عامل بنایا تھا پھر ہم نے بغیر کسی ناراضی کے ان کو معزول کردیا جس کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں ان سے قوی شخص مل گیا، ہمیں اللہ تعالیٰ سے خوف آیا کہ ہم ان کو ان کے عہدے پر برقرار رکھیں جب کہ ہمیں ان سے زیادہ قوی شخص مل گیا ہے، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کے وقت دیکھا کہ وہ جا رہے ہیں اس عامل کے پاس جس کو عامل بنایا گیا تھا اور حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہاکیلے ہاتھ باندھے بیٹھے ہیں ، آپ نے فرمایا دنیا تو کمینی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32595
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عمر بن حمزة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32595، ترقيم محمد عوامة 31210)
حدیث نمبر: 32596
٣٢٥٩٦ - حدثنا أبو أسامة عن عمر بن حمزة عن محمد الكاتب أن عمر كان يقول: لا يُصلح هذا الأمر إلا شدة في غير تجبر (ولين) (١) في غير وهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ کاتب کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کام کی اصلاح سختی کرسکتی ہے مگر بغیر جبر کے، اور نرمی کرسکتی ہے مگر بغیر کمزوری کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأمراء / حدیث: 32596
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32596، ترقيم محمد عوامة 31211)