کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ روایات جو مجھے فقہاء کے خوابوں کی تعبیر دینے کے بارے میں یاد ہیں
حدیث نمبر: 32544
٣٢٥٤٤ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن أبيه قال: سمعت إبراهيم التيمي يقول: إنما حملني على مجلسي هذا أني رأيت كأني (أقسم) (١) ريحانًا بين الناس، فذكرت ذلك لإبراهيم النخعي، فقال: (إن) (٢) الريحان له (منظر) (٣) وطعمه مر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم تیمی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے میری اس مجلس پر اس بات نے مجبور کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں لوگوں میں ” ریحان “ پھول تقسیم کر رہا ہوں، میں نے یہ خواب ابراہیم نخعی سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ریحان کی صورت بہت خوشنما ہوتی ہے لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 32545
٣٢٥٤٥ - حدثنا أبو أسامة عن (شبل) (١) عن ابن أبي نجيح عن مجاهد: ﴿وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾ [يوسف: ١٠١]، قال: (عبارة) (٢) الرؤيا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ { وَعَلَّمْتَنِی مِنْ تَأْوِیلِ الأَحَادِیثِ } سے مراد خوابوں کی تعبیر ہے۔
حدیث نمبر: 32546
٣٢٥٤٦ - حدثنا ابن فضيل عن أبي سنان عن عبد اللَّه بن شداد أنه سمع قومًا يذكرون رؤيا وهو يصلي فلما انصرف سألهم عنها فكتموه فقال: أما إنه جاء تأويل رؤيا يوسف بعد أربعين -يعني سنة-.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز پڑھتے ہوئے کچھ لوگوں کو خواب بیان کرتے ہوئے سنا ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے اس خواب کے بارے میں پوچھا، انہوں نے چھپالیا، آپ نے فرمایا : خبرد ار یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر چالیس سال بعد ظاہر ہوئی۔
حدیث نمبر: 32547
٣٢٥٤٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: سأل رجل محمدًا قال: رأيت كأني آكل خبيصًا في الصلاة، فقال: الخبيص حلال، ولا يحل لك الأكل في الصلاة، فقال له: (تقبل) (١) امرأتك وأنت صائم؟ قال: نعم، قال: فلا تفعل.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے محمد بن سیرین سے سوال کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں نماز میں ” خبیص “ نامی حلوا کھا رہا ہوں، آپ نے فرمایا خبیص حلال ہے، لیکن تمہارے لیے نماز میں کھانا حلال نہیں ہے، آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم روزے میں اپنی بیوی کا بوسہ لیتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو۔
حدیث نمبر: 32548
٣٢٥٤٨ - حدثنا أسباط بن محمد عن التيمي عن أبي عثمان عن سلمان قال: كان بين رؤيا يوسف وتأويلها (أربعون) (١) سنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے۔
حدیث نمبر: 32549
٣٢٥٤٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا عبد اللَّه بن (عون) (١) عن إبراهيم قال: كانوا إذا رأى أحدهم ما يكره قال: أعوذ بما عاذت به ملائكةُ اللَّهِ ورسولهُ من شر ما رأيت في منامي أن يصيبني منه شيء أكرهه في الدنيا والآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عون ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ جب سلف صالحین خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ میں پناہ چاہتا ہوں اس ذات کی جس کی پناہ میں ہے اللہ کے فرشتے اور اس کے رسول اور اس خواب کے شر سے جو میں نے دیکھا ہے، اس بات سے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں کوئی ایسا نقصان پہنچے جس کو میں ناپسند کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 32550
٣٢٥٥٠ - حدثنا أسود بن عامر قال حدثنا بكير بن أبي (السميط) (١) قال: سمعت محمد بن سيرين (و) (٢) سئل عن رجل رأى في المنام كأن معه سيفا مخترطة، فقال: ولد ذكر، قال: اندق السيف، قال: يموت.
مولانا محمد اویس سرور
بکییر بن ابی السُّمیط رحمہ اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ ان سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ اس کے پاس تلوار ہے جس کو وہ نیام سے باہر نکال رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مذکر اولاد ہے، اس آدمی نے کہا کہ پھر وہ تلوار ٹوٹ گئی، آپ نے فرمایا کہ وہ بچہ مرجائے گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے خواب میں پتھر دیکھنے کی تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ سخت دلی ہے، اور ان سے خواب میں لکڑی دیکھنے کی تعبیر پوچھی گئی تو فرمایا کہ نفاق ہے۔
حدیث نمبر: 32551
٣٢٥٥١ - قال: وسئل ابن سيرين عن الحجارة في النوم، فقال: قسوة.
حدیث نمبر: 32552
٣٢٥٥٢ - وسئل عن الخشب في النوم فقال: نفاق.
حدیث نمبر: 32553
٣٢٥٥٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: سئل عن رجل رأى ⦗٩٧⦘ (ضوءًا) (١) في جوف الليل فقال: لو كان هذا خيرًا نظر (إليه) (٢) (أصحاب) (٣) محمد ﷺ.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے درمیانی شب میں روشنی دیکھی، آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بھلائی کی چیز ہوتی تو اس کو محمد ﷺ کے صحابہ ضرور دیکھتے۔
حدیث نمبر: 32554
٣٢٥٥٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: (قال) (١) صلة بن أشيم: رأيت في النوم كأني في رهط، (وكان رجلًا) (٢) خلفي معه السيف شاهره، قال: كلما أتى على أحد منا ضراب رأسه فوقع، ثم يقعد فيعود كما كان، قال: فجعلت أنظر (متى) (٣) يأتي علي فيصنع بي (ذاك) (٤)، قال: فأتى علي فضرب رأسي فوقع، فكأني أنظر إلى رأسي حين أخذته (أنفض) (٥) عن (شفتي) (٦) التواب، ثم أخذته فأعدته كما كان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ھلال صلہ بن أشیم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک جماعت کے درمیان ہوں اور میرے پیچھے ایک آدمی تلوار سونتے کھڑا ہے، جب بھی وہ ہم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اس کا سر قلم کردیتا ہے تو وہ سر گِر جاتا ہے، پھر وہ مقتول بیٹھ جاتا ہے اور پہلے کی طرح دوبارہ درست ہوجاتا ہے ، فرماتے ہیں کہ میں انتظار کرنے لگا کہ میرے پاس کب آتا ہے اور میرے ساتھ کیا کرتا ہے ؟ چناچہ وہ میرے پاس آیا اور میرے سر پر مارا تو میرا سر گرپڑا، گویا کہ میں اب بھی اپنے سر کو دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اپنا سر پکڑا اور میں اپنے ہونٹوں سے مٹی جھاڑ رہا تھا، پھر میں نے اپنا سر پکڑ کر پہلے کی طرح دوبارہ اس کی جگہ رکھ کر درست کرلیا۔
حدیث نمبر: 32555
٣٢٥٥٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان عن حميد بن هلال قال: (قال) (١) صلة: رأيت أبا رفاعة -بعد ما أصيب- في النوم على ناقة سريعة، وأنا على جمل ثقال قطوف (٢) وأنا آخذ على إثره قال: فيعوجها علي، فأقول: الآن أسمعه ⦗٩٨⦘ الصوت، (فسرحها) (٣) وأنا أتبع أثره، قال: فأولت رؤياي أخذ طريق أبي رفاعة وأنا أكد العمل بعده كدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ھلال سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے حضرت رفاعہ کو ان کے قتل ہونے کے بعد خواب میں دیکھا کہ ایک تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہیں اور میں ایک سست رفتار چھوٹے چھوٹے قدم رکھنے والے اونٹ پر سوار ہوں اور ان کے پیچھے پیچھے چلا جا رہا ہوں وہ میری طرف اونٹنی کو موڑ لیتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ اب میں ان کو آواز سنا سکتا ہوں، پھر انہوں نے اونٹنی کو چلا دیا ہے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں، فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے خواب کی یہ تعبیر لی کہ ابو رفاعہ کے راستہ پر چلوں گا اور میں ان کے بعد کام کرنے میں خوب کوشش کروں گا۔
حدیث نمبر: 32556
٣٢٥٥٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت أن أبا (ثامر) (١) رأى فيما يرى النائم: ويل (للمتسمنات) (٢) من قترة في العظام يوم القيامة. [تم كتاب الرؤيا والحمد للَّه رب العالمين وصلى اللَّه على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم] (٣)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے کہ ابوثامر نے خواب میں دیکھا کہ ہلاکت ہے اپنے جسم کو موٹا کرنے والی عورتوں کے لیے قیامت کے بڑے بڑے کاموں میں کمزوری کی۔ تم کتاب الرؤیا والحمد للہ رب العالمین (و صلی اللہ علی رضی اللہ عنہ سیدنا محمد وآلہ وسلم) (کتاب الرؤیا مکمل ہوئی) (والحمد للہ رب العلمین)