حدیث نمبر: 32536
٣٢٥٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي جعفر الخطمي عن عمارة بن خزيمة بن ثابت عن أبيه أنه رأى في المنام كأنه (سجد) (١) على جبين رسول اللَّه ﷺ، (فذكر) (٢) ذلك (لرسول) (٣) اللَّه ﷺ فقال (٤) رسول اللَّه ﷺ: "إن الروح يلقى الروح"، أو قال: "الروح يلقى الروح"، -شك يزيد، فأقنع رسول اللَّه ⦗٩٢⦘ ﷺ رأسه ثم أمره فسجد من خلفه على جبين رسول اللَّه ﷺ (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ بن خزیمہ بن ثابت اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر سجدہ کر رہے ہیں ، چناچہ انہوں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک روح البتہ روح سے ملا کرتی ہے، یا فرمایا کہ روح روح سے ملتی ہے، یزید راوی کو شک ہے، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو جھکایا اور ان کو سجدے کا حکم دیا، پس انہوں نے آپ کے پیچھے سے آپ کی مبارک پیشانی پر سجدہ کرلیا۔
حدیث نمبر: 32537
٣٢٥٣٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا علي بن زيد وأبو عمران الجوني (١) أن سمرة بن جندب قال لأبي بكر: رأيت في المنام (كأني) (٢) (أفتل) (٣) شريطًا وأضعه إلى جنبي و (نقد) (٤) (يأكلنه) (٥)، قال: تزوج امرأة ذات ولد يأكل كسبك، قال: ورأيت ثورا خرج من جحر فلم يستطع يعود فيه، قال: هذه العظيمة تخرج من في الرجل فلا يستطيع أن يردها، قال: (ورأيت) (٦) كأنه (قيل) (٧): الدجال يخرج، فجعلت (أتقحم) (٨) (الجدر) (٩) فالتفت خلفي ففرجت لي الأرض فدخلتها، قال: يصيبك (قحم) (١٠) في دينك والدجال على أثرك قريبًا (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن زید رحمہ اللہ اور ابو عمران جونی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں رسّی بٹ رہا ہوں اور میں نے رسّی بٹ کر اپنے پہلو میں رکھ دی، اور چھوٹی بھیڑیں اسے کھا رہی ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم ایک لڑکے والی عورت سے شادی کرو گے جو تمہارا مال کھاجائے گی، انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک بیل کو دیکھا کہ ایک سوراخ سے نکلا لیکن پھر وہ اس کے اندر نہ جاسکا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ بڑا بول ہے جو آدمی کے منہ سے نکلتا ہے لیکن وہ اس کو واپس لے جانے کی طاقت نہیں رکھتا، انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ دیکھا کہ گویا کہا جا رہا ہے کہ دجال نکل رہا ہے ، میں دیواروں کے پیچھے چھپنے لگا، اچانک میں نے اپنے پیچھے دیکھا کہ میرے لیے زمین پھٹ گئی ہے، چناچہ میں اس میں داخل ہوگیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تجھے تیرے دین میں مشکلات پیش آئیں گی اور دجال تیرے بعد عنقریب آجائے گا۔
حدیث نمبر: 32538
٣٢٥٣٨ - حدثنا عبد اللَّه بن بكر قال: (حدثنا) (١) حميد عن أنس قال: رأيت فيما يرى النائم كان عبد اللَّه بن عمر يأكل تمرًا، (قال) (٢): (فكتب) (٣) إليه: إني رأيتك تأكل تمرًا، وهو حلاوة الإيمان إن شاء اللَّه (تعالى) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چھوہارے کھا رہے ہیں ، چناچہ میں نے ان کو خط لکھا کہ میں نے آپ کو چھوہارے کھاتے ہوئے دیکھا ہے ، اور اس کی تعبیر ان شاء اللہ تعالیٰ حلاوتِ ایمان ہے۔
حدیث نمبر: 32539
٣٢٥٣٩ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن (العلاء) (١) بن زياد العدوي (٢) قال: رأيت في النوم كأني أرى عجوزًا كبيرة عوراء العين والأخرى قد كادت تذهب، عليها (من الزبر جد) (٣) والحلية شيء عجب، قال: قلت: ما أنت؟ قالت: الدنيا، قلت: أعوذ باللَّه من شرك، قالت: (٤) إن (سرك) (٥) أن (تُعوّذ) (٦) من شري فأبغض الدرهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ھلال حضرت علاء بن زیاد عدوی سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک بڑھیا کو دیکھا جس کی آنکھ کانی تھی ، اور دوسری آنکھ بھی ختم ہونے کے قریب تھی۔ اس پر زبر جد اور خوبصورت ترین زیور تھا، فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا تو کون ہے ؟ کہنے لگی میں دنیا ہوں، میں نے کہا : میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، کہنے لگی کہ اگر تو چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے میرے شر سے نجات دے تو درہم سے نفرت کرو۔
حدیث نمبر: 32540
٣٢٥٤٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا فضيل بن غزوان قال: حدثنا عبد اللَّه بن القاسم قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ فسألته عن الأشربة فقال: "بين شارب وتارك".
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن غزوان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن قاسم نے مجھ سے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میں نے آپ سے شرابوں کے بارے میں دریافت کیا، آپ نے فرمایا بعض لوگ ان کے پینے والے ہیں اور بعض ان کو چھوڑنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 32541
٣٢٥٤١ - حدثنا عفان قال: حدثنا جرير بن حازم قال: قيل لمحمد بن سيرين: إن فلانًا يضحك، قال: ولم لا يضحك؟ فقد ضحك من هو خير منه، حدثت أن عائشة قالت: ضحك النبي ﷺ (١) من رؤيا قصها عليه رجل ضحكًا ما رأيت ضحك من شيء قط أشد منه، قال محمد: وقد علمت ما الرؤيا وما تأويلها، رأى كأن رأسه قطع فذهب يتبعه، فالرأس النبي ﷺ والرجل يزيد أن يلحق بعمله عمل رسول اللَّه ﷺ وهو لا يدركه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر بن حازم سے روایت ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ فلاں آدمی ہنستا ہے، آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ ہنسے ؟ جبکہ اس سے بہترین ذات ہنسی ہے، مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کا خواب سن کر اس قدر ہنسے کہ میں نے آپ کو اس سے زیادہ کسی چیز پر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے علم ہے کہ کیا خواب تھا اور اس کی کیا تعبیر ہے ؟ اس آدمی نے دیکھا کہ اس کا سر قلم کردیا گیا ، اور وہ اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے، تو سر سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آدمی چاہتا ہے کہ اپنے عمل کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پالے لیکن وہ آپ کو نہیں پاسکتا۔
حدیث نمبر: 32542
٣٢٥٤٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرني ثابت عن أنس بن مالك أن أبا موسى الأشعري أو أنسا قال: رأيت في المنام كأني أخذت (جَوادّ) (١) كثيرة فسلكتها حتى انتهيت إلى جبل، فإذا رسول اللَّه ﷺ فوق الجبل، وأبو بكر إلى جنبه وجعل يومئ بيده إلى عمر فقلت: إنا للَّه وإنا إليه راجعون، مات واللَّه عمر فقلت: ألا تكتب به إلى عمر (فقال) (٢): ما كنت (أكتب) (٣) أنعي إلى عمر نفسه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یا خود حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بہت سے راستوں پر چلا یہاں تک کہ ایک پہاڑ کے پاس پہنچا، میں نے دیکھا کہ پہاڑ کے اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے پہلو میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، میں نے کہا انا للہ وانا الیہ راجعون، واللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو فوت ہوگئے، میں نے کہا کیا آپ یہ خواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لکھ کر نہیں بھیج دیتے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو انہی کی وفات کی خبر نہیں سناتا۔
حدیث نمبر: 32543
٣٢٥٤٣ - حدثنا حسين بن محمد قال: حدثنا جرير بن حازم عن نافع أن ابن عمر (رأى) (١) رؤيا كأن ملكا انطلق به إلى النار، فلقيه ملك آخر وهو (يزعه) (٢) ⦗٩٥⦘ فقال: لم ترع، هذا نعم الرجل لو كان يصلي من الليل، قال: فكان بعد ذلك يطيل الصلاة في الليل، قال: وقد انتهى بي إلى جهنم وأنا أقول: أعوذ باللَّه من النار، فإذا هي ضيقة كالبيت أسفله واسع وأعلاه ضيق، وإذا رجال من قريش أعرفهم (منكسون) (٣) بأرجلهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ان کو دوزخ کی طرف لے کر چلا، اس کو دوسرا فرشتہ ملا اور وہ اس فرشتے کو منع کرنے لگا، اور اس نے مجھ سے کہا آپ ڈریے نہیں، یہ شخص کیا ہی بہترین آدمی ہے اگر رات کا کچھ حصہ نماز پڑھا کرے، راوی فرماتے ہیں کہ آپ اس کے بعد رات کو لمبی لمبی نمازیں پڑھتے تھے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ مجھے جہنم کے قریب لے گیا اور میں کہہ رہا تھا کہ میں آگ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں نے دیکھا کہ وہ ایک کمرے کی مانند ہے جس کا نچلا حصہ کشادہ اور اوپرکا حصّہ تنگ ہو، اور میں نے دیکھا کہ قریش کے بہت سے آدمی اوندھے منہ اس میں پڑے ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں۔