حدیث نمبر: 32528
٣٢٥٢٨ - حدثنا (المعلى) (١) بن منصور قال: حدثني يحيى بن حمزة عن يزيد ابن عبيدة عن أبي (عبيد) (٢) اللَّه عن عوف بن مالك الأشجعي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الرؤيا على ثلاثة: منها تخويف من الشيطان ليحزن (به) (٣) ابن آدم، و (منه) (٤) الأمر يحدث به نفسه في اليقظة (فيراه) (٥) في المنام، و (منه) (٦) جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں ، بعض خواب شیطان کی طرف سے ڈرانے کے لیے ہوتے ہیں، اور بعض وہ معاملات ہوتے ہیں جن کو آدمی بیداری میں سوچتا ہے تو وہ خواب میں نظر آجاتے ہیں ، اور بعض خوا ب نبوت کا چھیالیسواں حصّہ ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 32529
٣٢٥٢٩ - حدثنا هوذة بن خليفة عن عوف عن محمد عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "الرويا ثلاث: (فالبشرى) (١) من اللَّه، وحديث النفس، وتخويف من الشيطان، فإذا رأى أحدكم رؤيا تعجبه فليقصها (أن) (٢) شاء، وإذا رأى شيئًا يكرهه فلا يقصه على أحد وليقم يصلي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں ، بعض خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں، اور بعض خواب دل کی باتیں ہوتی ہیں، اور بعض خواب شیطان کی طرف سے ڈرانے کے لیے ہوتے ہیں، جب تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھے تو اس کو چاہیے کہ بیان کر دے اگر اس کا جی چاہے، اور جب کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کو نہ بتائے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 32530
٣٢٥٣٠ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن (أبي) (١) ظبيان عن علقمة قال: قال عبد اللَّه: الرؤيا ثلاثة: حضور الشيطان، والرجل يحدث نفسه بالنهار فيراه بالليل، والرؤيا التي هي الرؤيا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خواب تین طرح کے ہیں، بعض خواب شیطان کے آنے کی وجہ سے ہوتے ہیں، اور بعض اوقات آدمی دن کے دقت اپنے دل سے باتیں کرتا ہے تو اسی کو رات میں دیکھتا ہے، اور بعض حقیقی خواب ہوتے ہیں۔