حدیث نمبر: 32522
٣٢٥٢٢ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن سعيد بن أبي عروبة عن سالم بن أبي الجعد الغطفاني عن (معدان) (١) (بن) (٢) أبي طلحة اليعمري أن عمر بن الخطاب قال يوم (جمعة) (٣) (أو) (٤) خطب يوم (جمعة) (٥) فحمد اللَّه وأثنى عليه ⦗٨٦⦘ ثم قال: أيها الناس، إني (٦) رأيت (كأن) (٧) ديكا أحمر نقرني نقرتين، ولا أرى ذلك إلا حضور أجلي (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معدان بن طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یا راوی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعے کے دن خطبہ دیا اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا اے لوگو ! میں نے ایک سرخ مرغ خواب میں دیکھا ہے کہ اس نے مجھے دو مرتبہ چونچ ماری ہے، اور مجھے اس کی تعبیر یہی سمجھ میں آتیے کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے۔
حدیث نمبر: 32523
٣٢٥٢٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن شعبة عن أبي (جمرة) (١) عن (جارية) (٢) ابن قدامة السعدي قال: حججت العام الذي أصيب فيه عمر قال: فخطب فقال: إني رأيت (كأن) (٣) ديكا نقرني نقرتين أو ثلاثًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جاریہ بن قدامہ سعدی روایت کرتے ہیں فرمایا کہ جس سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا اس سال میں نے حج کیا، فرماتے ہیں کہ آپ نے خطبے میں فرمایا تھا کہ میں نے ایک مرغ دیکھا ہے جس نے مجھے دو یا تین مرتبہ چونچ ماری ہے۔
حدیث نمبر: 32524
٣٢٥٢٤ - حدثنا ابن نمير عن سفيان عن الأسود بن قيس عن عبد اللَّه بن الحارث الخزاعي قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول في خطبته: إني رأيت البارحة ديكًا نقرني ورأيته (يجليه) (١) الناس عني، فلم يلبث إلا (ثلاثًا) (٢) حتى قتله عبد المغيرة: أبو لؤلؤة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث خزاعی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا کہ آپ اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے کہ میں نے گزشتہ رات ایک مرغ کو دیکھا کہ اس نے مجھے ٹھونگ ماری ہے اور میں نے دیکھا کہ لوگ اس کو مجھ سے دور کر رہے ہیں، آپ اس کے بعد تین روز نہیں ٹھہرے کہ آپ کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو لؤلؤ نے شہید کردیا۔
حدیث نمبر: 32525
٣٢٥٢٥ - حدثنا أبو أسامة عن (عمر) (١) بن حمزة قال: أخبرني سالم عن ابن عمر قال: قال عمر: رأيت رسول اللَّه ﷺ في المنام فرأيته لا ينظرني، فقلت: يا ⦗٨٧⦘ رسول اللَّه ما شأني؟ قال: ألست الذي تقبل وأنت صائم، (قلت) (٢): (فوالذي) (٣) بعثك بالحق لا أقبل بعدها وأنا صائم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، میں نے دیکھا کہ آپ مجھے دیکھ نہیں رہے تھے، ، میں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری یہ کیسی حالت ہے ؟ آپ نے فرمایا کیا تم وہی نہیں ہو جو روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لیتا ہے ؟ میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں آج کے بعد روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ نہیں لوں گا۔
حدیث نمبر: 32526
٣٢٥٢٦ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: حدثني غير واحد أن قاضيًا من قضاة أهل الشام أتى عمر بن الخطاب فقال: يا أمير المؤمنين رأيت رؤيا أفظعتني، قال: ما هي؟ قال: رأيت الشمس والقمر يقتتلان والنجوم معهما نصفين، قال: فمع أيهما كنت؟ قال: مع القمر على الشمس، (قال) (١) عمر: ﴿وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً﴾ قال: فانطلق فواللَّه لا تعمل لي عملا أبدا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ مجھ سے بہت سے لوگوں نے بیان کیا کہ شام کے قاضیوں میں سے ایک قاضی حضٗرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور عرض کیا اے امیر المومنین ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، آپ نے فرمایا کیا خواب ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے سورج اور چاند کو آپس میں جنگ کرتے ہوئے دیکھا جبکہ ستارے بھی آدھے آدھے ان کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا کہ تم کس کے ساتھ تھے ؟ اس نے کہا چاند کے ساتھ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً “ ( اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے پس ہم نے رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنادیا) آپ نے فرمایا : چلے جاؤ، خدا کی قسم تم کبھی میرے لیے کام نہ کرو گے !۔
حدیث نمبر: 32527
٣٢٥٢٧ - حدثنا (سريج) (١) بن النعمان قال: حدثني عبد العزيز بن أبي سلمة عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: خطب عمر بن الخطاب الناس فقال: إني رأيت في منامي ديكا أحمر نقرني على مقعد إزاري ثلاث نقرات، فاستعبرتها أسماء بنت (عميس) (٢) فقالت: إن صدقت رؤياك قتلك رجل من العجم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک سرخ مرغ کو دیکھا ہے کہ اس نے میرے ازار باندھنے کی جگہ میں تین ٹھونگیں ماری ہیں، میں نے اسماء بنت عمیس سے اس کی تعبیر پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر آپ کا خواب سچا ہوا تو ایک عجمی آدمی آپ کو قتل کرے گا۔