کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جو نبی کریمعلیہ السلام بیان فرما دیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 32498
٣٢٤٩٨ - حدثنا محمد بن بشر قال حدثنا محمد بن (عمرو عن) (١) أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "رأيت في يدي (سوارين) (٢) (من) (٣) ذهب فنفختهما (فأولتهما) (٤) هذين الكذابين: مسيلمة والعنسي" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں اپنے ہاتھوں میں سونے کے کنگن دیکھے ، پس میں نے ان پر پھونک دیا، ان کنگنوں کی تعبیر میں نے یہ لی کہ یہ دو جھوٹے ہیں۔ مسیلمہ اور عنسی۔
حدیث نمبر: 32499
٣٢٤٩٩ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "رأيت (كأن) (١) في يدي سوارين من ذهب فكرهتهما فنفختهما فذهبا: كسرى وقيصر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں، مجھے وہ کنگن برے لگے تو میں نے ان پر پھونک دیا جس سے وہ اُڑ گئے، ایک کسریٰ اور ایک قیصر۔
حدیث نمبر: 32500
٣٢٥٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم قال: (أتى) (١) رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه، رأيت رجلًا يخرج من الأرض، وعلى رأسه رجل في يده مرزبة من حديد، كلما أخرج رأسه ضرب رأسه فيدخل في الأرض ثم يخرج من مكان آخر فيأتيه فيضرب رأسه، (قال) (٢): "ذاك أبو جهل بن هشام، لا يزال (يصنع) (٣) به ذلك إلى يوم القيامة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں ایک آدمی کو زمین سے نکلتے ہوئے دیکھا، اس کے سر پر ایک آدمی نگران تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا گرز تھا، جب بھی وہ زمین سے سر نکالتا وہ آدمی اس کے سر پر گرز مارتا جس سے وہ پھر زمین میں دھنس جاتا، پھر وہ دوسری جگہ سے نکلتا تو پھر وہ آدمی اس کے پاس آ کر اس کے سر پر گُرز مارتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص ابو جھل بن ہشام ہے اس کے ساتھ قیامت تک یہی کیا جاتا رہے گا۔
حدیث نمبر: 32501
٣٢٥٠١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: قال رسول اللَّه ﷺ (لأبي بكر) (١): (إني (رأيت) (٢) يتبعني غنم سود يتبعها غنم (عفر) (٣) "، فقال أبو بكر: يا رسول اللَّه، هذه العرب تتبعك تتبعها العجم، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كذلك عبرها الملك (٤) " (٥)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پیچھے کالی بھیڑیں چل رہی ہیں اور ان کے پیچھے خاکی رنگ کی بھیڑیں ہیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یارسول اللہ ! یہ عرب ہیں جو آپ کی پیروی کریں گے اور ان کے پیچھے عجمی لوگ چلیں گے، راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے نے بھی اس خواب کی یہی تعبیر بتائی ہے۔
حدیث نمبر: 32502
٣٢٥٠٢ - حدثنا ابن إدريس عن أبيه عن (الحر) (١) بن (الصياح) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كذلك عبرها الملك (بالسحر) " (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حرّ بن صیاّح فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی تعبیر فرشتے نے بھی صبح کے وقت بتائی ہے۔
حدیث نمبر: 32503
٣٢٥٠٣ - حدثنا يزيد قال أخبرنا سفيان بن حسين عن الزهري عن (عبيد اللَّه) (١) بن عبد اللَّه بن عتبة عن ابن عباس قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: إني رأيت ظلة (تنطف) (٢) سمنًا وعسلًا، وكان الناس يأخذون منها، فبين مستكثر ⦗٧١⦘ وبين مستقل وبين ذلك، وكان (سببًا) (٣) دُلى من السماء فجئتَ (فأخذتَ) (٤) به فعلوتَ، فأعلاك اللَّه، ثم جاء رجل من بعدك فأخذ به (فعلا) (٥) فأعلاه اللَّه، ثم جاء رجل من (بعدكما) (٦) فأخذ به (٧) فعلا فأعلاه اللَّه، [ثم جاء رجل من بعدكم فأخذ به (فانقطع) (٨) به ثم وصل له فعلا (فأعلاه اللَّه) (٩)] (١٠)، فقال أبو بكر: (ائذن لي يا رسول اللَّه) (١١) فاعبرها، فاذن له فقال: أما الظلة فالإسلام وأما السمن والعسل فالقرآن، وأما السبب فما أنت عليه، تعلو فيعليك اللَّه، ثم يكون رجل من بعدك على منهاجك فيعلو فيعليه اللَّه، ثم (يكون) (١٢) رجل من بعدكما فيأخذ بأخذكما فيعلو فيعليه اللَّه، ثم يكون رجل من بعدكم على منهاجكم ثم يقطع به ثم يوصل له فيعلو فيعليه اللَّه، قال: أصبتُ يا رسول اللَّه؟ قال: " (أصبتَ) (١٣) وأخطات"، قال: أقسمت يا رسول اللَّه لتخبرني قال: " (لا) (١٤) تقسم" (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا میں نے ایک بادل دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا اور لوگ اس میں سے لے رہے ہیں، پس بعض زیادہ لے رہے ہیں اور بعض کم، اس دوران آسمان سے ایک رسّی لٹکائی گئی پس آپ تشریف لائے اور آپ نے اس رسّی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے ۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو بلندیوں پر لے گئے، پھر آپ کے بعد ایک آدمی آئے انہوں نے بھی رسّی کو پکڑا اور چڑھنے لگے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بلندیوں پر پہنچا دیا، پھر آپ دونوں کے بعد ایک اور آدمی آئے انہوں نے رسّی کو پکڑا اور چڑھنے لگے، اللہ نے ان کو بھی اوپر پہنچا دیا، پھر آپ تینوں کے بعد ایک آدمی نے اس رسّی کو پکڑا تو وہ رسّی کاٹ دی گئی، پھر اس کو جوڑا گیا تو وہ آدمی بھی اوپر چڑھنے لگے اور اللہ نے ان کو بھی اوپر پہنچا دیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس خواب کی تعبیر بیان کروں، آپ نے اس کی اجازت دے دی، انہوں نے فرمایا کہ بادل سے مراد اسلام ہے ، اور گھی اور شہد سے مراد قرآن ہے، اور رسّی سے مراد وہ راستہ ہے جس پر آپ چل رہے ہیں اور بلندیوں پر چڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آپ کو بلندیوں پر پہنچا دیں گے، پھر آپ کے بعد ایک آدمی آپ کے نقش قدم پر چلتا ہوا بلندیوں پر چڑھتا چلا جائے گا، پس اللہ تعالیٰ اس کو بھی اوپر پہنچا دیں گے، پھر ایک آدمی آپ دونوں کے بعد آپ کے نقش قدم پر چلے گا اور بلندی کی طرف جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو بھی اوپر پہنچا دیں گے، پھر آپ تینوں کے بعد ایک آدمی آپ کے نقش قدم پر چلے گا، پھر اس کے سامنے ایک رکاوٹ آئے گی، پھر وہ رکاوٹ ہٹ جائے گی، پس وہ بلندیوں کی طرف چلے گا، اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی بلندی پر پہنچا دیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں نے صحیح تعبیر بیان کی ؟ آپ نے فرمایا تم نے صحیح تعبیر بھی بیان کی اور غلطی بھی کی، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور بتلائیں، آپ نے فرمایا قسم نہ دو ۔
حدیث نمبر: 32504
٣٢٥٠٤ - حدثنا قبيصة بن عقبة عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: وفدنا مع زياد إلى معاوية فما أعجب بوفد (ما) (١) أعجب بنا (٢) فقال: يا أبا بكرة، (حدثنا) (٣) بشيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول -وكانت تعجبه الرؤبا الحسنة (يسأل) (٤) عنها (فسمعته يقول) (٥): "رأيت ميزانًا أنزل من السماء فوزنت فيه أنا وأبو بكر فرجحت بأبي بكر، ووزن أبو بكر وعمر فرجح أبو بكر، ثم وزن عمر وعثمان فرجح عمر بعثمان، ثم رفع الميزان إلى السماء"، فقال رسول اللَّه ﷺ: "خلافة نبوة ثم يؤتي اللَّه الملك من يشاء"، قال: (فزج) (٦) في (أقفيتنا) (٧) فأخرجنا (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا کہ ہم زیاد کے ساتھ ایک وفد کی شکل میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ کسی وفد سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنا ہم سے خوش ہوئے، راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : اے ابو بکرہ ! ہمیں کوئی ایسی بات بیان کیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ کو اچھے خواب پسند تھے جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جاتا تھا، آپ فرما رہے تھے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اتاری گئی، پس اس میں میرا اور ابوبکر کا وزن کیا گیا پس میں ابوبکر سے جھک گیا، پھر ابوبکر اور عمر کا وزن کیا گیا تو ابوبکر جھک گئے، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر عثمان سے جھک گئے، پھر ترازو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ خلافت اور نبوت ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے حکومت عطا فرمائیں گے، حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ پھر ہمیں گدّی سے پکڑ کر نکال دیا گیا۔
حدیث نمبر: 32505
٣٢٥٠٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا (وهيب) (١) قال: حدثني موسى بن عقبة قال: حدثني سالم عن رؤيا رسول اللَّه ﷺ في وباء المدينة عن عبد اللَّه بن عمر عن ⦗٧٣⦘ النبي ﷺ قال: "رأيت امرأة سوداء (ثائرة) (٢) الرأس خرجت من المدينة حتى قذفت (بمهيعة) (٣)، فأولت أن وباء المدينة نقل إلى مهيعة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سالم رحمہ اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے مدینہ کی وباء کے بارے میں حضور ﷺ کا خواب بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ایک کالے رنگ کی عورت کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے کہ وہ مدینہ سے نکلی یہاں تک کہ مقام مہیعہ میں پہنچ کر ٹھہر گئی، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وباء مہیعہ کی طرف منتقل کردی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 32506
٣٢٥٠٦ - حدثنا أبو داود (١) عمر بن سعد عن (بدر) (٢) (بن) (٣) (عثمان) (٤) عن (عبيد اللَّه) (٥) بن مروان عن أبي عائشة عن ابن عمر قال: خرج إلينا رسول اللَّه ﷺ ذات غداة فقال: "رأيت آنفا أني أعطيت الموازين والمقاليد، فأما المقاليد فهذه (المفاتيح) (٦) (وأما الموازين فهي التي تزنون بها) (٧)، فوضعت في كفة، ووضعت أمتي في كفة، فرجحت بهم، (ثم جيء) (٨) بأبي بكر فرجح، (ثم جيء بعمر فرجح) (٩)، ثم جيء بعثمان فرجح"، (قال: "ثم) (١٠) رفعت"، قال: فقال له رجل: فأين نحن؟ قال: "حيث جعلتم أنفسكم" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے اور فرمایا کہ میں نے ابھی دیکھا ہے کہ مجھے ترازو اور کنجیاں دی گئی ہیں، کنجیاں تو یہی چابیاں ہیں، مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو ایک پلڑے میں رکھا گیا پس میں ان سے جھک گیا، پھر ابوبکر کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا تو وہ جھک گیا پھر عمر کو لایا گیا اور ان کا وزن کیا گیا وہ بھی جھک گئے، پھر عثمان کو لایا گیا اور ان کو تولا گیا تو وہ بھی جھک گئے، آپ نے فرمایا کہ پھر ترازو کو اٹھا لیا گیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا کہ پھر ہم کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ جس جگہ تم اپنے آپ کو رکھو گے۔
حدیث نمبر: 32507
٣٢٥٠٧ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (٢) بن عمر قال: حدثني أبو بكر بن سالم عن سالم بن عبد اللَّه عن أبيه (أن) (٣) رسول اللَّه (صلى اللَّه) (٤) عليه وسلم قال: "رأيت في النوم كأني أنزع بدلو بكرة على قليب فجاء أبو بكر فنزع دلوًا أو دلوين فنزع نزعًا ضعيفًا واللَّه يغفر له، ثم جاء عمر بن الخطاب (فاستقى) (٥) فاستحالت غربًا، فلم أر عبقريا (من الناس) (٦) (يفري) (٧) (فريه) (٨) حتى روى الناس وضربوا (بعطن) (٩) " (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم اپنے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں پر لگی چرخی کے ڈول کو کھینچ رہا ہوں، پس ابوبکر آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے، پس انہوں نے کمزوری کے ساتھ کھینچا اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دیں گے، پھر عمر بن خطاب آئے اور انہوں نے پانی نکالنا شروع کیا تو وہ ڈول بہت بڑے ڈول کی شکل اختیار کر گیا، میں نے کوئی ایسا زور آور شخص نہیں دیکھا جو ان جیسا عمدہ کام کرنے والا ہو، یہاں تک کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو پانی کے قریب ٹھہرانے لگے۔
حدیث نمبر: 32508
٣٢٥٠٨ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا (عوف) (١) عن أبي رجاء قال: حدثنا سمرة بن جندب قال: كان رسول اللَّه ﷺ (مما) (٢) يقول لأصحابه: "هل رأى أحد منكم رؤيا" فيقص عليه ما شاء اللَّه أن يقص، فقال لنا ذات غداة: "إني أتاني الليلة آتيان أو اثنان -الشك من هوذة- (فقالا) (٣) لي: انطلق، فانطلقت معهما، ⦗٧٥⦘ وإنا أتينا على رجل مضطجع وإذا آخر قائم عليه بصخرة (وإذا هو يهوي بالصخرة) (٤) لرأسه فيثلغ (٥) رأسه فيتدهده الحجر هاهنا فيأخذه ولا يرجع إليه [حتى (يصح) (٦) رأسه] (٧) كما كان، ثم يعود عليه فيفعل به مثل المرة الأولى، قال: قلت لهما: سبحان اللَّه ما هذا؟ فقالا لي: انطلق (٨)، فانطلقنا حتى أتينا على رجل مستلق لقفاه فإذا آخر قائم عليه بكلوب من حديد وإذا هو يأتي أحد شقي وجهه فيشرشر (شدقه إلى) (٩) قفاه وعينه إلى قفاه ومنخره إلى قفاه، ثم يتحول إلى الجانب الآخر فيفعل به مثل ذلك فما يفرغ منه حتى (يصبح) (١٠) ذلك الجانب كما كان، ثم يعود عليه فيفعل به كما (فعل) (١١) في المرة الأولى، فقلت لهما: سبحان اللَّه ما هذا؟ قال: (قالا) (١٢) لي: انطلق انطلق، فانطلقنا حتى أتينا على مثل بناء التنور، قال: فأحسب أنه قال: سمعنا فيه لغطًا وأصواتًا، (فانطلقنا) (١٣) فإذا فيه رجال ونساء عراة، وإذا هم يأتيهم (لهب) (١٤) من أسفل منهم، فإذا أتاهم ذلك (اللهب) (١٥) ⦗٧٦⦘ ضوضوا، قال: قلت لهما: ما هؤلاء؟ قال: قالا لي: انطلق انطلق، قال: فانطلقنا حتى أتينا على نهر حسبت أنه قال: أحمر مثل الدم، فإذا في النهر رجل يسبح، وإذا على شاطئ النهر رجل قد جمع عنده حجارة كثيرة، وإذا ذلك السابح يسبح ما (سبح) (١٦) ثم يأتي ذلك الذي قد جمع (١٧) الحجارة فيفغر له فاه فيلقمه حجرًا فيذهب فيسبح ما (سبح) (١٨)، ثم يأتي ذلك الذي كلما رجع فغر له فاه فألقمه الحجر، قال: قلت: ما هذا؟ (قال) (١٩): (قالا) (٢٠) لي: انطلق انطلق، قال: فانطلقنا فأتينا على رجل كريه المرآة كأكره ما أنت راء رجلًا مرآة وإذا هو عند نار يحثها ويسعى حولها، قال: قلت لهما: ما هذا؟ (قال) (٢١): (قالا) (٢٢) لي: انطلق انطلق، فانطلقنا حتى أتينا على روضة (معتمة) (٢٣) فيها (من) (٢٤) كل نور الربيع، وإذا بين ظهراني الروضة رجل طويل لا أكاد أرى رأسه طولًا في السماء، وإذا حول الرجل (من أكثر) (٢٥) ولدان رأيتهم قط، (وأحسنه) (٢٦) قال: قلت لهما: ما هذا وما هولاء؟ قال: ⦗٧٧⦘ (قالا) (٢٧) لي: انطلق (انطلق) (٢٨)، فانطلقنا فانتهينا إلى (درجة) (٢٩) عظيمة لم أر قط درجة أعظم منها ولا أحسن، قال: (قالا) (٣٠) لي: أرق فيها، فارتقيتها فانتهينا إلى مدينة مبنية بلبن ذهب ولبن فضة، قال: فأتينا باب المدينة فاستفتحناها ففتح لنا فدخلناها، فتلقانا فيها رجال شطر من خلقهم كأحسن ما أنت راء، وشطر كأقبح ما أنت راء، قال: (قالا) (٣١) لهم: اذهبوا فقعوا في ذلك النهر، قال: فإذا نهر معترض يجري كان ماءه (المَحْضُ) (٣٢) بالبياض قال: فذهبوا فوقعوا فيه ثم رجعوا إلينا وقد ذهب السوء عنهم وصاروا في أحسن صورة، قال: (قالا) (٣٣) (لي) (٣٤): هذه جنة عدن، وها هو ذاك منزلك، قال: [(فسما) (٣٥) بصري صعدًا فإذا قصر مثل الربابة البيضاء، قالا لي: هذاك منزلك، قال] (٣٦): قلت لهما: بارك اللَّه فيكما ذراني (فلأدخله) (٣٧)، قال: قالا لي: أما الآن فلا وأنت داخله، قال: قلت لهما: إني قد رأيت هذه الليلة عجبًا فما هذا الذي رأيت؟ قال: قالا: أما إنا سنخبرك، أما الرجل الأول الذي أتيت عليه يثلغ رأسه بالحجر فإنه رجل يأخذ القرآن وينام عن الصلاة ⦗٧٨⦘ المكتوبة، وأما الرجل الذي أتيت (عليه) (٣٨) يشرشر شدقه وعينه (٣٩) ومنخره إلى قفاه فإنه رجل يغدو من بيته فيكذب الكذبة تبلغ الآفاق، وأما الرجال والنساء العراة الذين في مثل التنور فإنهم الزناة والزواني، وأما الرجل الذي يسبح في النهر ويلقم الحجارة فإنه آكل الربا، وأما الرجل الذي عند النار كريه المرآة فإنه مالك خازن جهنم، وأما الرجل الطويل الذي في الروضة فإنه إبراهيم، وأما الولدان الذين حوله فكل مولود مات على الفطرة"، قال: فقال بعض المسلمين: يا رسول اللَّه وأولاد المشركين؟ قال [رسول اللَّه ﷺ: "وأولاد المشركين] (٤٠) وأما القوم الذين شطر منهم كأقبح ما رأيت وشطر كأحسن ما رأيت فإنهم قوم خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا فتجاوز اللَّه عنهم" (٤١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ پس آپ پر جو اللہ تعالیٰ چاہتا بیان کیا جاتا، ایک صبح آپ نے ہم سے فرمایا : بیشک میرے پاس آج رات دو آدمی آئے، ” راوی نے ” آتیان “ کا لفظ بیان کیا یا ” اثنان “ کا، “ ان دو آدمیوں نے مجھ سے کہا چلو، میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ ہم ایک آدمی کے پاس پہنچے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا آدمی اس کے سرہانے ایک چٹان اٹھائے کھڑا تھا، اچانک اس نے اس کے سر پر چٹان پھینک کر اس کا سر کچل دیا، پس پتھر لڑھک کر کچھ دور چلا گیا، وہ آدمی جا کر اس پتھر کو اٹھاتا ہے اور ابھی اس لیٹے ہوئے آدمی کے پاس نہیں پہنچتا کہ اس کا سر پہلے کی طرح صحیح سلامت ہوجاتا ہے، پھر وہ اس کے ساتھ پہلے والا عمل دہراتا ہے، آپ فرماتے ہیں میں نے کہا سبحان اللہ ! یہ کیا ہے ؟ وہ کہنے لگے چلو۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ایک آدمی کے پاس پہنچے جو گدّی کے بل لیٹا ہوا ہے، اور دوسرا آدمی اس کے قریب لوہے کا آنکڑا اٹھائے کھڑا ہے اور وہ اس لیٹے ہوئے آدمی کے ایک کلّے کے قریب آ کر اس کے کلّے کو گدّی تک چیر دیتا ہے اور اس کی آنکھ کو بھی گدّی تک چیردیتا ہے اور گلے کو بھی گدّی تک چیر دیتا ہے، پھر دوسری جانب آتا ہے اور اس کے ساتھ بھی یہی فعل کرتا ہے، وہ اس دوسرے سے کلّے سے فارغ نہیں ہوتا کہ پہلی جانب پہلے کی طرح صحیح و تندرست ہوجاتی ہے، پھر وہ دوسری مرتبہ وہی عمل کرتا ہے جو اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا، میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا : سبحان اللہ ! یہ کیا ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ وہ مجھ سے کہنے لگے کہ آپ چلے چلیے۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک تنور جیسی عمارت کے پاس پہنچے ، راوی فرماتے ہیں کہ غالباً آپ نے یہ فرمایا کہ ہم نے اس تنور میں شوروغل کی آوازیں سنیں، ہم نے اس عمارت میں جھانکا تو اس میں ننگے مرد اور ننگی عورتیں تھیں، اور نیچے سے آگ کے شعلے آتے ہیں ، پس جب ان کے پاس آگ کے شعلے آتے ہیں تو وہ چیخ و پکار کرتے ہیں، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ان دونوں سے کہا یہ کون لوگ ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ آپ چلے چلیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک نہر پر پہنچے ، راوی کہتے ہیں کہ غالباً آپ نے فرمایا : کہ وہ سرخ رنگ کی نہر تھی، خون جیسے رنگ کی، وہاں یہ دیکھا کہ نہر کے اندر ایک آدمی تیر رہا ہے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہے جس نے اپنے ارد گرد بہت سے پتھر اکٹھے کر رکھے ہیں وہ تیرنے والا اپنی بساط کے مطابق تیرتا ہوا اس آدمی کے پاس پہنچتا ہے جس نے اپنے گرد پتھر اکٹھے کر رکھے ہیں اور اس کے سامنے پہنچ کر اپنا منہ کھولتا ہے چناچہ وہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا ہے، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ وہ مجھ سے کہنے لگے آپ چلے چلیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک نہایت بد صورت شخص کے پاس پہنچے، ایسا بد صورت کہ کسی نے اس جیسا بدصورت نہیں دیکھا ہوگا، اور ہم نے دیکھا کہ اس کے پاس آگ ہے جس کو وہ بھڑکا رہا ہے اور اس کے گرد چکّر لگا رہا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے مجھ سے کہا : چلے چلیے۔ چنانچہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم پہنچے ایک باغ میں ، جس کے اندر موسم بہار کے ہمہ اقسام کے پھول نکل رہے تھے، اور ہم نے باغ کے درمیان ایک لمبے قد کے آدمی کو دیکھا، میں آسمان کی طرف اس کے سر کی اونچائی کو ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں پا رہا تھا ، اور میں نے دیکھا کہ اس آدمی کے گرد بہت زیادہ تعداد میں اور بہت خوب رو بچے تھے، آپ نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے کہا کہ یہ شخص کون ہے ؟ اور یہ بچے کون ہیں ؟ آپ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ چلیے۔ الغرض ہم چلے اور ایک بڑی سیڑھی کے پاس پہنچے، میں نے اس سے پہلے اس سے بڑی اور اس سے اچھی سیڑھی نہیں دیکھی، آپ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس پر چڑھیے، میں اس پر چڑھا اور ہم ایک شہر میں پہنچے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا، آپ فرماتے ہیں کہ ہم شہر کے دروازے پر آئے، اور ہم نے دورازہ کھلوانا چاہا تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، چناچہ ہم اس میں داخل ہوئے تو ہمیں کچھ لوگ ملے جن کے جسم کا ایک حصّہ نہایت خوبصورت اور دوسرا حصّہ نہایت بدصورت ، آپ فرماتے ہیں کہ میرے دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں غوطہ لگاؤ میں نے دیکھا تو ایک نہر چل رہی تھی جس کا پانی انتہائی سفید تھا، آپ فرماتے ہیں کہ وہ گئے اور اس نہر میں کود گئے، پھر وہ ہمارے پاس ایسی حالت میں لوٹے کہ ان سے برائی جاتی رہی ، اور وہ خوب صورت شکل میں بدل گئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں کہنے لگے یہ جنّتِ عدن ہے، اور یہ دیکھیے یہ آپ کا گھر ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میری نظر اوپر کی طرف پڑی تو میں نے دیکھا کہ سفید بادل جیسا ایک
حدیث نمبر: 32509
٣٢٥٠٩ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن (سلمة) (١) عن عاصم ابن بهدلة عن المسيب بن رافع عن خرشة بن الحر قال: قدمت المدينة فجلست إلى مشيخة في المسجد أصحاب رسول اللَّه ﷺ، قال: فجاء شيخ متوكئ على عصى له، فقال: القوم من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا، قال: فقام خلف سارية فصلى ركعتين، فقمت إليه فقلت له: قال بعض القوم: كذا وكذا، فقال: (٢) الجنة للَّه يدخلها من يشاء، (و) (٣) إني رأيت على عهد ⦗٧٩⦘ رسول اللَّه ﷺ رؤيا، رأيت كأن رجلا (يأتي) (٤) فقال لي: انطلق فذهبت معه فسلك (بي) (٥) في (منهج) (٦) عظيم، (فعرضت) (٧) (لي) (٨) طريق عن يساري فأردت أن أسلكها فقيل: إنك (لست) (٩) من أهلها، ثم عرضت لي طريق عن يميني فسلكتها حتى (١٠) انتهيت إلى (جبل) (١١) (مزلق) (١٢)، فأخذ بيدي [(فأدخلني) (١٣) فإذا أنا على ذروته فلم أتقار ولم أتماسك، وإذا عمود من حديد في ذروته حلقة من ذهب، فأخذ بيدي] (١٤) (فزجل بي) (١٥) (حتى) (١٦) (أخذت) (١٧) بالعروة فقال: استمسك، فقلت: نعم، فضرب العمود برجله (فاستمسكت) (١٨) بالعروة، فقصصتها على رسول اللَّه ﷺ فقال: "رأيت خيرًا، أما (المنهج) (١٩) العظيم فالمحشر، وأما ⦗٨٠⦘ (الطريق) (٢٠) التي (عرض) (٢١) عن يسارك فطريق (أهل) (٢٢) النار ولست من أهلها، وأما (الطريق) (٢٣) التي عرضت عن يمينك فطريق أهل الجنة، وأما (الجبل) (٢٤) الزلق فمنزل الشهداء، وأما العروة التي استمسكت بها فعروة الإسلام، فاستمسك بها حتى تموت" قال: فأنا ارجو أن أكون من أهل الجنة، (قال) (٢٥): فإذا (هو) (٢٦) عبد اللَّه بن سلام (٢٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خرشہ بن حرّ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا اور میں مسجد میں کچھ عمر رسیدہ لوگوں کے پاس بیٹھ گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے، فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ لاٹھی ٹیکتے ہوئے تشریف لائے، لوگوں نے کہا جس کو خواہش ہو کہ کسی جنتی آدمی کو دیکھے وہ ان کو دیکھ لے، راوی فرماتے ہیں کہ وہ ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور دو رکعتیں پڑھیں، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ بعض لوگ اس طرح کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ جنت میں تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے داخل فرمائیں گے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک خواب دیکھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ چلیے، میں اس کے ساتھ چل دیا، وہ مجھے ایک بڑے راستہ کی طرف لے گیا ، میرے بائیں جانب ایک اور راستہ پھیل گیا، میں نے چاہا کہ اس راستے پر چلوں تو کہا گیا کہ تو اس راستے والوں میں سے نہیں ہے، پھر میرے دائیں جانب ایک راستہ پھیل گیا، میں اس راستے پر چل پڑا یہاں تک کہ میں ایک چکنے پہاڑ پر پہنچا ، اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے چڑھایا، یہاں تک کہ میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا لیکن میں ٹھہر نہیں پا رہا تھا اور میرے پاؤں نہیں جم رہے تھے، اس اثناء میں میں نے لوہے کا ایک ستون دیکھا جس کے بالائی حصّے پر سونے کا ایک دائرہ تھا، اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دھکیلا یہاں تک کہ میں نے کڑے کو پکڑ لیا، اس نے کہا مضبوطی سے اس کو تھام لو، میں نے کہا ٹھیک ہے، اس نے ستون کو پاؤں سے ٹھوکر دی اور میں نے کڑے کو مضبوطی سے تھام لیا، میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا ، آپ نے فرمایا تم نے بھلائی کی چیز دیکھی ہے، بڑا راستہ تو میدانِ حشر ہے، اور وہ راستہ جو تمہارے بائیں جانب پھیلا وہ اہل جہنم کا راستہ ہے اور تم ان میں سے نہیں ہو، اور وہ راستہ جو تمہارے دائیں جانب پھیلا وہ اہل جنت کا راستہ ہے ، اور چکنا پہاڑ شہداء کا مقام ہے ، اور وہ کڑا جس کو تم نے تھاما تھا وہ اسلام کا کڑا ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے، وہ بزرگ صحابی فرمانے لگے مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں سے ہوں گا ، راوی فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ وہ صحابی عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔
حدیث نمبر: 32510
٣٢٥١٠ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ وقال: "رأيت كأني في دار عقبة بن رافع وأتينا برطب (من رطب) (٢) (ابن طاب) (٣)، فأولت أن الرفعة لنا في الدنيا، والعاقبة في (الأخرى) (٤)، وأن ديننا قد طاب" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں اور ہمارے پاس ابن طاب نامی شخص کی تازہ کھجوریں لائی گئیں، میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی کہ ہمارے لیے دنیا میں بلندی و رفعت ہے اور آخرت میں اچھا انجام ہے اور ہمارا دین پاکیزہ دین ہے۔
حدیث نمبر: 32511
٣٢٥١١ - حدثنا عفان قال حدثنا حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "رأيت كأني في درع حصينة ورأيت بقرة منحورة فأولت أن الدرع المدينة والبقر بقر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میں ایک مضبوط زرہ میں ہوں اور میں نے ایک ذبح شدہ گائے دیکھی، میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی کہ زرہ سے مراد مدینہ منورہ ہے اور گائے سے مراد آدمی ہیں۔
حدیث نمبر: 32512
٣٢٥١٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "رأيت فيما يرى النائم كأني مردف كبشا وكأن ضبة سيفي انكسرت، فأولت (أني) (١) أقتل صاحب الكتيبة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب کی حالت میں دیکھا کہ میں ایک مینڈھے پر سوارہوں اور گویا کہ میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے، میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی کہ میں علمبردار کو قتل کروں گا۔ عفان راوی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس جملے کے بعد بھی کچھ تھا لیکن مجھے بھول گیا ہے۔
حدیث نمبر: 32513
٣٢٥١٣ - قال عفان: كان بعد هذا شيء لم أدر ما هو.
حدیث نمبر: 32514
٣٢٥١٤ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة قال: (أخبرنا) (٢) الأشعث بن عبد الرحمن (الجرمي) (٣) عن أبيه عن سمرة بن جندب أن رجلًا قال لرسول اللَّه ﷺ: رأيت كأن دلوا أدليت من السماء فجاء أبو بكر فأخذ (بعراقيها) (٤) فشرب (شربًا) (٥) وفيه ضعف، [ثم جاء عمر فأخذ (بعراقيها) (٦) فشرب] (٧) حتى ⦗٨٢⦘ تضلع، (ثم جاء عثمان فأخذ بعراقيها فشرب حتى تضلع) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ڈول اتارا گیا، حضرت ابوبکر آئے ، انہوں نے اس ڈول کی رسّی کو پکڑا اور کچھ پانی پی لیا، لیکن ان میں کچھ کمزوری تھی، پھر حضرت عمر آئے ، انہوں نے اس کی رسّی کو پکڑا اور پینے لگے یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر حضرت عثمان آئے اور انہوں نے بھی ڈول کی رسّی پکڑ کر پانی کھینچا اور پی لیا یہاں تک کہ وہ بھی سیر ہوگئے۔
حدیث نمبر: 32515
٣٢٥١٥ - حدثنا أبو أسامة عن ابن مبارك عن يونس عن الزهري عن حمزة ابن عبد اللَّه عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "رأيت في المنام كان الري يجري بين ظفري أو أظفاري" (١) (قالوا) (٢): ما أولته؟ قال: العلم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ناخنوں کے درمیان تری چل رہی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا کہ آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اس سے علم مراد لیا۔