کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جن کو کسی کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 32494
٣٢٤٩٤ - حدثنا سفيان بن عيينة عن أبي الزبير عن جابر (قال: جاء) (١) رجل إلى النبي ﷺ فقال: إني رأيت كأن عنقي ضربت، قال: "لم يخبو أحدكم بلعب الشيطان (به) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میری گردن اڑا دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کو کیوں بیان کرتا ہے ؟
حدیث نمبر: 32495
٣٢٤٩٥ - حدثنا وكيع قال حدثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه (رأيت في المنام) (١) كأن رأسي قطع، قال: ⦗٦٨⦘ فضحك النبي ﷺ (و) (٢) قال: "إذا لعب الشيطان بأحدكم (في منامه) (٣) فلا يحدث به الناس" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں کچھ یوں دیکھا ہے کہ میرا سر کاٹ دیا گیا، راوی فرماتے ہیں کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے اور فرمایا جب تم میں سے کسی کے ساتھ شیطان خواب میں کھیلے تو وہ اس کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے۔
حدیث نمبر: 32496
٣٢٤٩٦ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن عمر بن سعيد بن أبي (الحسين) (١) قال: حدثني عطاء بن أبي رباح عن أبي هريرة قال: جاء رجل (إلى) (٢) النبي ﷺ فقال: إني رأيت في المنام كأن رأسي (ضربت) (٣) فرأيته بيدي هذه، قال: فقال (٤) رسول اللَّه ﷺ: "يعمد الشيطان إلى أحدكم فيتهول (له) (٥) ثم يغدو فيخبر الناس" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور پھر میں نے اپنا سر اپنے اس ہاتھ میں رکھا ہوا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس خوفناک شکل میں آتا ہے اور اسے خوف میں مبتلا کرتا ہے، اور پھر وہ آدمی صبح کے وقت یہ بات لوگوں کو بتانا شروع کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 32497
٣٢٤٩٧ - حدثنا (١) معاوية بن هشام عن سفيان (عن) (٢) أبي إسحاق عن حارثة ابن مضرب أن رجلًا رأى رؤيا من صلى الليلة في المسجد دخل الجنة فخرج عبد اللَّه بن مسعود وهو يقول: اخرجوا (لا تغتروا) (٣)، فإنما هي نفخة شيطان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارثہ بن مضرّب نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ جس شخص نے آج رات مسجد میں نماز پڑھی وہ جنت میں داخل ہوگا، یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہوئے نکلے کہ نکل جاؤ، دھوکہ نہ کھاؤ، کیونکہ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔