حدیث نمبر: 32358
٣٢٣٥٨ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مثل المؤمن مثل الزرع لا (تزال) (١) الريح (تميله) (٢) ولا يزال المؤمن (يصيبه) (٣) (البلاء) (٤)، ومثل الكافر كمثل شجرة (الأرزة) (٥) لا تهتز حتى تستحصد" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جس کو ہوا مسلسل جھکاتی رہتی ہے ، اور اسی طرح مومن بھی ہمیشہ بلاؤں اور مصیبتوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے وہ نشو ونما نہیں پاتا یہاں تک کہ اس کے کٹنے کا وقت آجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 32359
٣٢٣٥٩ - حدثنا ابن نمير قال: (حدثنا) (١) زكريا عن (سعد) (٢) بن إبراهيم (قال) (٣): (أخبرني) (٤) (ابن) (٥) كعب بن مالك عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "المؤمن كمثل (الخامة من) (٦) الزرع، (تفيئها) (٧) الريح تصرعها مرة، وتعدلها أخرى حتى تهيج، ومثل الكافر كمثل الأرزة (المجذية) (٨) على أصولها (٩) لا (يغلبها) (١٠) شيء حتى يكون أنجعافها مرة واحدة" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن کی مثال اس ناپختہ کمزور کھیتی کی سی ہے جس کو ہوا حرکت دیتی رہتی ہے ۔ ایک مرتبہ اس کو پچھاڑتی ہے اور پھر دوسری مرتبہ اس کو سیدھا کھڑا کردیتی ہے یہاں تک کہ وہ خشک ہوجاتی ہے، اور کافر کی مثال اس صنوبر کے درخت کی سی ہے جو اپنی جڑوں پر مضبوط کھڑا ہوتا ہے اس کو کوئی چیز بھی نہیں ہلا سکتی یہاں تک کہ وہ ایک مرتبہ ہی اکھڑ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 32360
٣٢٣٦٠ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن يحيى (بن سعيد) (١) عن بَشير بن نَهيك عن أبي هريرة قال: مثل المؤمن الضعيف كمثل الخامة من الزرع، تميلها الريح مرة وتقيمها مرة (٢)، قال: (أخرى) (٣) قلت: فالمؤمن القوي؟ قال: مثل ⦗٢٨⦘ النخلة تؤتي أكلها (كل) (٤) حين في ظلها ذلك (ولا) (٥) (تميلها) (٦) الريح (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن نہیک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کمزور مومن کی مثال ناپختہ کھیتی کی سی ہے۔ ہوا کبھی اس کو جھکا دیتی ہے ۔ اور کبھی اس کو سیدھا کھڑا کردیتی ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا : اور قوی مومن کی مثال ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے جو اپنا پھل دیتا ہے جب بھی کوئی اس کے سائے میں ہوتا ہے اور ہوا اس کو کبھی نہیں جھکاتی۔
حدیث نمبر: 32361
٣٢٣٦١ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن أبيه عن عبد اللَّه بن عمرو قال: مثل المؤمن (كمثل) (١) (النحلة) (٢) (تأكل) (٣) طيبًا وتضع طيبًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مومن کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے۔ جو پاک چیز کھاتی ہے اور پاک چیز دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 32362
٣٢٣٦٢ - حدثنا ابن إدريس عن (بريد) (١) بن عبد اللَّه عن أبي بردة عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا بعض حصہ بعض کو مضبوط بناتا ہے۔
حدیث نمبر: 32363
٣٢٣٦٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش عن أبي عمار عن عمرو ابن شرحبيل قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أن عمارا مُلِئَ إيمانا إلى مشاشه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے جوڑوں تک ایمان بھرا ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 32364
٣٢٣٦٤ - حدثنا (عثام) (١) بن علي عن الأعمش عن أبي إسحاق عن هانئ ⦗٢٩⦘ ابن هانئ قال: كنا جلوسًا عند علي فدخل عمار (فقال) (٢): مرحبا بالطيب المطيب، سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن عمارا مُلءَ إيمانا إلى مشاشه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھانی بن ھانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خوش آمدید پاکیزہ اور خوشبودار کو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے : یقینا عمار رضی اللہ عنہ کے جوڑوں تک میں ایمان بھرا ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 32365
٣٢٣٦٥ - حدثنا (عفان قال: حدثنا) (١) جعفر بن سليمان قال: حدثنا زكريا قال: سمعت الحسن يقول: إن الإيمان ليس بالتحلي ولا بالتمني، إنما الإيمان ما وقر في القلب وصدقه العمل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زکریا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : ایمان مزین ہونے اور خواہش کرنے کا نام نہیں۔ بیشک ایمان تو وہ ہے جو دل میں راسخ ہو اور عمل اس کی تصدیق کرے۔