حدیث نمبر: 32349
٣٢٣٤٩ - حدثنا مصعب بن المقدام قال حدثنا عكرمة بن عمار (قال) (١): حدثني أبو زميل عن مالك بن مرثد الزماني عن أبيه قال: قال أبو ذر: سألت رسول اللَّه ﷺ: ماذا ينجي العبد من النار؟ (فقال) (٢): "الإيمان باللَّه"، قال: قلت: (يا ⦗٢٣⦘ نبي) (٣) اللَّه (أو) (٤) مع الإيمان عمل؟ فقال: "ترضخ مما رزقك اللَّه، أو يرضخ مما رزقه اللَّه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا : وہ کون سا عمل ہے جو بندے کو جہنم سے نجات دلاتا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ پر ایمان لانا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ﷺ! کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو دے اس رزق میں سے جو اللہ نے تجھے دیا۔ یا یوں فرمایا : وہ دے اس رزق میں سے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔
حدیث نمبر: 32350
٣٢٣٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد عن علي بن زيد عن أم محمد أن رجلا قال لعائشة: ما الإيمان؟ (قالت) (١): أفسر أم أجمل؟ قال: (لا بل) (٢) أجملي، (قالت) (٣): من سرته حسنته، وساءته، سيئته فهو مؤمن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام محمد رحمہ اللہ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : ایمان کی علامت کیا ہیـ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تفصیل سے بیان کروں یا مختصر طور پر بیان کروں ؟ اس نے کہا : نہیں بلکہ اجمالاً بیان کریں۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس کو اس کی نیکی اچھی لگے اور اس کی برائی کھٹکے تو وہ مومن ہے۔
حدیث نمبر: 32351
٣٢٣٥١ - حدثنا محمد بن (سابق) (١) قال: حدثنا إسرائيل عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس (المرء) (٢) المؤمن بالطعان ولا (باللعان) (٣) ولا بالفاحش ولا بالبذي" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن طعن وتشنیع کرنے والا، لعن طعن کرنے والا، اور فحش کلامی اور بد کلامی کرنے والا نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 32352
٣٢٣٥٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن مصعب بن سعد (عن سعد) (١) قال: طبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مومن تمام چیزوں کا عادی ہوسکتا ہے مگر خیانت کا اور جھوٹ کا نہیں۔
حدیث نمبر: 32353
٣٢٣٥٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن منصور عن مالك بن الحارث عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد اللَّه قال: المؤمن (يطوى) (١) على الخلال كلها (غير) (٢) الخيانة والكذب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مومن تمام عادات کو اپنا سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔
حدیث نمبر: 32354
٣٢٣٥٤ - [حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يطوى المؤمن على كل شيء إلا الخيانة والكذب] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن تمام عادات کو اپنا سکتا ہے مگر خیانت اور جھوٹ کو نہیں۔
حدیث نمبر: 32355
٣٢٣٥٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن عن أبى موسى (أن) (١) النبي ﷺ قال: " (تكون) (٢) في آخر الزمان فتن كقطع الليل المظلم، ⦗٢٥⦘ يصبح الرجل مؤمنًا ويمسي كافرًا، ويمسي مؤمنًا ويصبح كافرًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ آخری زمانہ میں اتنے فتنہ ہوں گے جیسا کہ اندھیری رات کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ آدمی صبح کرے گا مومن ہونے کی حالت میں۔ اور شام کرے گا کافر ہونے کی حالت میں ۔ اور شام کرے گا مومن ہونے کی حالت میں اور صبح کرے گا کافر ہونے کی حالت میں۔
حدیث نمبر: 32356
٣٢٣٥٦ - حدثنا ابن علية عن حجاج (بن) (١) أبي عثمان عن يحيى بن أبي كثير عن هلال بن أبي ميمونة عن عطاء (بن يسار) (٢) عن معاوية بن الحكم السلمي قال: كانت لي جارية ترعى غنما لي في قبل أحد (والجوانية) (٣)، (فاطلعتها) (٤) ذات يوم وإذا الذئب قد ذهب بشاة من غنمها، قال: وأنا رجل من بني آدم، آسف كما (يأسفون) (٥) لكني صككتها صكة، فأتيت (٦) رسول اللَّه ﷺ فعظم ذلك (علي) (٧) (فقلت) (٨): يا رسول اللَّه أفلا أعتقها، قال: "ائتني بها" (٩) فقال لها: "أين اللَّه؟ " قالت: في السماء، قال: "من أنا؟ " قالت: (أنت) (١٠) رسول اللَّه، قال: " (اعتقها) (١١) فإنها مؤمنة" (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میری ایک باندی تھی جو احد اور جوانیہ مقام پر میری بکریاں چراتی تھی۔ پس ایک دن میں اس کے پاس گیا تو اچانک ایک بھیڑیا ریوڑ میں سے ایک بکری لے گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آدم کے بیٹوں میں سے ایک آدمی ہوں میں نے افسوس کیا جیسا کہ وہ افسوس کرتے ہیں ۔ لیکن میں نے اس کے چہرے پر زور سے تھپڑ دے مارا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے یہ بہت ناگوار گزرا تھا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں اسے آزاد کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے پاس لاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا : آسمان میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : میں کون ہوں ؟ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو آزاد کردو بیشک یہ مومن ہے۔
حدیث نمبر: 32357
٣٢٣٥٧ - حدثنا علي بن هاشم عن (ابن) (١) أبي ليلى (عن المنهال) (٢) عن سعيد بن جبير عن ابن عباس (عن الحكم يرفعه) (٣) أن رجلًا أتى النبي ﷺ وقال: إن على أمي رقبة مؤمنة وعندي رقبة سوداء أعجمية فقال: "ائت بها"، فقال: "أتشهدين أن لا إله إلا اللَّه وأني رسول اللَّه"، قالت: نعم، قال: "فاعتقها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت حکم رحمہ اللہ نے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا : میری والدہ کے ذمہ ایک مومنہ باندی تھی۔ اور میرے پاس ایک عجمی سیاہ رنگ کی باندی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو میرے پاس لاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تم گواہی دیتی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا، جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو آزاد کردو۔