حدیث نمبر: 32315
٣٢٣١٥ - حدثنا أبو الأحوص عن هارون بن عنترة عن أبيه قال: سألت ابن عباس أي العمل أفضل؟ قال: ذكر اللَّه (أكبر) (١)، وما جلس قوم في بيت يتعاطون فيه كتاب اللَّه فيما بينهم ويتدارسونه، إلا أظلتهم الملائكة بأجنحتها، وكانوا أضياف اللَّه ما داموا فيه، حتى يفيضوا في حديث غيره (٢). ﴿[٧٦] في نقط المصاحف
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عنترہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا : کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کا ذکر کرنا بہت بڑا عمل ہے۔ اور کوئی قوم کسی گھر میں بیٹھ کر کتاب اللہ کے پڑھنے پڑھانے میں مشغول نہیں ہوتی اور اس کا دور نہیں کرتی مگر یہ کہ ملائکہ ان پر اپنے پروں سے سایہ کرتے ہیں اور وہ جب تک اس جگہ میں ہوتے ہیں وہ اللہ کے مہمان ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 32316
٣٢٣١٦ - [حدثنا أبو داود الطيالسي عن شعبة عن أبي رجاء قال: سألت محمدًا عن نقط المصاحف، فقال: أني أخاف أن يزيدوا في الحروف أو ينقصوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رجاء فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد سے مصاحف میں نقطے لگانے کے متعلق پوچھا ؟ تو آپ نے فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ وہ کسی حرف کا اضافہ کردیں گے یا کوئی حرف کم کردیں گے۔
حدیث نمبر: 32317
٣٢٣١٧ - حدثنا وكيع عن خارجة عن خالد قال: رأيت ابن سيرين يقرأ في مصحف منقوط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو نقطے لگے ہوئے مصحف میں پڑھتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 32318
٣٢٣١٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره النقط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغر ہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نقطے لگانے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 32319
٣٢٣١٩ - حدثنا وكيع عن الهذلي عن الحسن قال: لا بأس بنقطها بالأحمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھذلی فرماتے ہیں کہ حسن نے ارشاد فرمایا : سرخ نقطے لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 32320
٣٢٣٢٠ - حدثنا ابن علية عن خالد أو غيره قال: رأيت ابن سيرين يقرأ في مصحف منقوط﴾ (١). (تم كتاب فضائل القرآن والحمد للَّه وحده وصلى اللَّه على سيدنا محمد وصحبه وسلم تسليمًا كثيرًا) (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو دیکھا کہ وہ نقطے لگے ہوئے مصحف میں سے تلاوت فرما رہے تھے۔