کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قرآن اور بادشاہت کا بیان
حدیث نمبر: 32302
٣٢٣٠٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن سليمان بن ميسرة عن طارق ابن شهاب قال: قال: سلمان لزيد بن صوحان: كيف أنت إذا اقتتل القرآن والسلطان؟ قال: إذا أكون مع القرآن، قال: نعم (الزييد) (١) إذا أنت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان نے زید بن صوحان سے پوچھا : تیرا کیا حال ہوگا جب قرآن والوں اور بادشاہت والوں کے درمیان قتال ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : تب تو میں قرآن کے ساتھ ہوں گا۔ آپ نے فرمایا : چھوٹے سے زید تب تو تو بہت اچھا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32302
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32302، ترقيم محمد عوامة 30926)
حدیث نمبر: 32303
٣٢٣٠٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (شمر) (١) عن شهر بن حوشب عن كعب قال: يقتتل القرآن والسلطان، (قال) (٢): فيطأ السلطان على صماخ القرآن (فلأيًا بلأي، ولأيًا بالأي، ما تنفلتن منه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حوشب فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے فرمایا : اہل قرآن اور بادشاہت والے قتال کریں گے۔ پس بادشاہت والے قرآن کے سوراخ کو روند ڈالیں گے۔ پس پھر نہ وہ ان کی پروا کریں اور نہ یہ ان کی پروا کریں گے۔ تو ہرگز جان مت چھڑانا ان سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32303
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32303، ترقيم محمد عوامة 30927)
حدیث نمبر: 32304
٣٢٣٠٤ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: حدثنا شريك عن عبد الملك بن عمير عن عبد الرحمن بن عبد اللَّه (بن مسعود) (٢) قال: (أتى رجل ابن مسعود) (٣) فقال: يا أبا عبد الرحمن، علمني كلمات جوامع نوافع، قال: تعبد اللَّه ولا تشرك به شيئًا، (وتزول مع القرآن حيث زال) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : اے ابو عبد الرحمن ! آپ مجھے ایسے کلمات سکھا دیجیے جو جامع بھی ہوں اور نافع بھی۔ آپ نے فرمایا : تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ اور قرآن کی ہمیشہ تلاوت کیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32304
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32304، ترقيم محمد عوامة 30928)
حدیث نمبر: 32305
٣٢٣٠٥ - (حدثنا معاوية بن هشام) (١) (قال: حدثنا سفيان عن (جبلة)) (٢) (٣) ابن سحيم عن عامر بن مطر قال: كنت مع حذيفة فقال: (كيف) (٤) أنت يا عامر بن مطر إذا أخذ الناس طريقًا، والقرآن طريقًا، مع أيهما تكون؟ فقلت: مع القرآن أحيا معه (و) (٥) أموت، قال: فأنت إذن (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن مطر فرماتے ہیں کہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو آپ نے فرمایا : اے عامر بن مطر تیرا کیا حال ہوگا جب لوگ ایک راستہ بنالیں گے اور قرآن کا راستہ الگ ہوگا ؟ تو ان دونوں میں سے کس کے ساتھ ہوگا ؟ پس میں نے کہا : قرآن کے ساتھ ہی میں زندہ رہوں گا اور یا اس کے ساتھ ہی مروں گا۔ آپ نے فرمایا : تب تو بہت اچھا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32305
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32305، ترقيم محمد عوامة 30929)
حدیث نمبر: 32306
٣٢٣٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر قال: حدثنا معن قال: أتى رجل ابن مسعود فقال: علمني كلمات جوامع نوافع فقال: تعبد اللَّه، ولا تشرك به شيئا، وتزول مع القرآن حيث (زال) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معن فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کہنے لگا : مجھے ایسے کلمات سکھا دیجئے جو جامع بھی ہوں اور نافع بھی۔ آپ نے فرمایا : تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور قرآن کی ہمیشہ تلاوت کرتے رہا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32306
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32306، ترقيم محمد عوامة 30930)