حدیث نمبر: 32287
٣٢٢٨٧ - حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه عن النبي ﷺ قال: "لا حسد إلا في اثنتين: رجل أتاه اللَّه مالًا، فهو ينفقه آناء الليل وآناء النهار، ورجل علمه اللَّه القرآن فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسد جائز نہیں ہے سوائے دو شخصوں میں ، ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا ہو پس وہ صبح و شام اسے اللہ کی رضا میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے قرآن سکھلایا پس وہ صبح و شام اس کی تلاوت کرتا ہو۔
حدیث نمبر: 32288
٣٢٢٨٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا يزيد بن عبد العزيز عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا حسد إلا في اثنتين: رجل أتاه اللَّه القرآن فهو يتلوه آناء الليل وآناء النهار، فيقول الرجل: لو آتاني اللَّه مثل ما أتى (فلانًا) (١) فعلت مثل ما يفعل، ورجل أتاه اللَّه مالًا فهو ينفقه في حقه فيقول الرجل: لو آتاني اللَّه مثل ما أتى (فلانًا) (٢) فعلت مثل ما يفعل" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسد جائز نہیں ہے مگر دو آدمیوں میں، ایک وہ شخص جسے اللہ نے قرآن کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائی پس وہ دن رات اس کی تلاوت کرتا ہو۔ پھر آدمی کہے : اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی قرآن کی تلاوت عطا فرماتا جیسا کہ فلاں کو عطا کی ہے تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسا کہ فلاں شخص تلاوت کرتا ہے۔ اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال دیا پس وہ اس مال کو اس کے حق میں خرچ کرتا ہو، پھر کوئی آدمی کہے : اگر اللہ مجھے بھی مال دیتا جیسا کہ فلاں کو دیا ہے ، تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسا کہ فلاں آدمی خرچ کرتا ہے۔