حدیث نمبر: 32284
٣٢٢٨٤ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عبد الكريم عن عمرو بن شعيب (١) قال: كان الغلام إذا أفصح من بني عبد المطلب علمه النبي ﷺ هذه الآية سبعًا: ﴿وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا﴾ (٢) [الإسراء: ١١١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن شعیب نے ارشاد فرمایا : جب بنو عبد المطلب قبیلہ کا کوئی بچہ صاف بولنے لگتا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بچے کو یہ آیت سات بار سکھاتے : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہرگز نہیں بنایا کسی کو بیٹا اور ہرگز نہیں ہے اس کا کوئی شریک ، بادشاہی میں اور ہرگز نہیں اس کا کوئی مدد گار کمزوری کی بناء پر اور بڑائی بیان کرو اس کی کمال درجے کی بڑائی۔
حدیث نمبر: 32285
٣٢٢٨٥ - [حدثنا عمر بن سعد أبو داود عن سفيان عن الحسن بن عمرو جاء بي أبي إلى سعيد بن جبير وأنا صغير، فقال: (علم) (١) هذا القرآن] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن عمرو نے ارشاد فرمایا : میرے والد مجھے حضرت سعید بن جبیر کے پاس لے گئے اس حال میں کہ میں بہت چھوٹا تھا، تو آپ نے فرمایا؛ کیا تم اس کو قرآن سکھاؤ گے ؟ !۔
حدیث نمبر: 32286
٣٢٢٨٦ - حدثنا عمر بن سعد (أبو داود) (١) عن سفيان عن الحسن بن عمرو (٢) عن فضيل عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون أن يعلموا (أولادهم) (٣) القرآن حتى يعقلوا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : صحابہ ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنی اولاد کو عقلمند ہونے سے پہلے قرآن سکھائیں۔