کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قرآن مجید کی ایک سورت کا کچھ حصہ اور دوسری سورت کا کچھ حصہ تلاوت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 32263
٣٢٢٦٣ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة عن سعيد بن المسيب قال: مر رسول اللَّه ﷺ على بلال وهو يقرأ من هذه السورة و (من) (١) هذه السورة فقال: " (مررت بك يا بلال، وأنت تقرأ من هذه السورة ومن هذه السورة" ⦗٤٨٨⦘ فقال) (٢): بأبي أنت يا رسول اللَّه (إني) (٣) (أردتُ) (٤) أن أخلط الطيب بالطيب، فقال: "اقرأ السورة على نحوها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت بلال کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ قرآن کی ایک سورت سے کچھ حصہ اور دوسری سورت سے کچھ حصہ پڑھ رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! میں تیرے پاس سے گزرا اس حال میں کہ تو یہ سورت اور یہ سورت ملا کر پڑھ رہا تھا ! تو حضرت بلال نے فرمایا : میرا باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہو اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے چاہا کہ پاکیزہ حصہ کو پاکیزہ حصہ کے ساتھ ملاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سورت کو ایسے طریقہ سے پڑھو۔
حدیث نمبر: 32264
٣٢٢٦٤ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق قال: كان معاذ يخلط من هذه السورة ومن هذه السورة فقيل له، فقال: أتروني أخلط فيه ما ليس منه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ ایک سورت کے کچھ حصے کو دوسری سورت کے کچھ حصے کے ساتھ ملا کر پڑھ رہے تھے پس ان کو اس کے بارے میں کہا گیا۔ تو آپ نے فرمایا : تم میرے بارے میں یہ کیوں سمجھ رہے ہو کہ میں قرآن کو غیر قرآن کے ساتھ ملا رہا ہوں ؟ !
حدیث نمبر: 32265
٣٢٢٦٥ - حدثنا عبيد اللَّه عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن زيد بن (يثيع) (١) أن النبي ﷺ مر ببلال ثم ذكر نحوا من حديث حاتم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن یثیع فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت بلال کے پاس سے گزرے ، پھر راوی نے حضرت حاتم کی حدیث کی مانندروایت نقل کی۔
حدیث نمبر: 32266
٣٢٢٦٦ - [حدثنا ابن أبي عدي عن ابن عوف قال سئل محمد عن الذي يقرأ القرآن من هاهنا (ومن هاهنا) (١)، فقال: ليتق الآثام، إثم عظيم وهو لا يشعر] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو قرآن میں یہاں سے وہاں سے ملا کر پڑھتا ہو ؟ تو آپ نے فرمایا : اس کو چاہیے کہ وہ ایسا کرنے سے بچے، وہ زیادہ گناہگار نہیں ہوگا اس حال میں کہ وہ نہ جانتا ہو۔
حدیث نمبر: 32267
٣٢٢٦٧ - حدثنا ابن أبي عدي عن (أشعث) (١) عن الحسن أنه كان يكره أن يقرأ في سورتين، حتى يختم آخرتها، ثم يأخذ في الأخرى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن ناپسند کرتے تھے کہ دو سورتوں کو اکٹھا پڑھا جائے یہاں تک کہ پہلے ایک کے آخر کو مکمل کرے پھر وہ دوسری پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 32268
٣٢٢٦٨ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثني الوليد بن جميع قال: حدثني رجل أنه أم الناس بالحيرة خالد بن الوليد ثم قرأ من سور شتى ثم التفت إلينا حين انصرف فقال: شغلنا الجهاد عن (تعلم) (١) القرآن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن جمیع فرماتے ہیں کہ مجھے ایک آدمی نے بیان کیا کہ حضرت خالد بن ولید نے حیرہ مقام پر لوگوں کی امامت کر وائی اور مختلف سورتوں میں سے تلاوت کی پھر نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : جہاد نے ہمیں قرآن سیکھنے سے مشغول کردیا۔