کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان لوگوں کا بیان جن کو قرآن کا پڑھنا نفع نہیں پہنچائے گا
حدیث نمبر: 32196
٣٢١٩٦ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليقرأن القرآن أقوام من أمتي يمرقون من الإسلام ⦗٤٧١⦘ كما يمرق السهم من الرمية" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں سے کچھ لوگ ضرور قرآن پڑھیں گے اور وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسا کہ تیر شکار میں سے آر پار ہو کر نکل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 32197
٣٢١٩٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (يسير) (١) بن عمرو قال: سألت سهل بن حنيف ما سمعت النبي ﷺ يذكر هؤلاء الخوارج؟ قال: سمعته -وأشار بيده نحو المشرق: "يخرج منه قوم يقرأون القرآن بألسنتهم لا يعدو تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیر بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سھل بن حنیف سے سوال کیا : کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان خارجیوں کا ذکر کرتے ہوئے کبھی سنا تھا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کر کے فرمایا : یہاں سے ایک گروہ نکلے گا جو اپنی زبانوں سے قرآن کی تلاوت کریں گے اور قرآن ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا ، وہ دین سے ایسے نکلیں گے جیسا کہ تیر شکار سے آر پار ہو کر نکل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 32198
٣٢١٩٨ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني (قرة) (١) بن خالد السدوسي قال: حدثني أبو الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يجيئ قوم يقرأون القرآن لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية (على فوقه) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک قوم ایسی آئے گی جو قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلقوں سے کبھی تجاوز نہیں کرے گا وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسا کہ تیر کا پھل شکار سے آر پار ہو کر نکل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 32199
٣٢١٩٩ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن (عاصم عن) (١) زر عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يخرج في آخر الزمان قوم أحداث الأسنان سفهاء الأحلام يقرأون القرآن لا يجاوز حناجرهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آخری زمانے میں کچھ لوگ نکلیں گے جو نو عمر ہوں گے اور عقل کے بیوقوف ہوں گے وہ قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے نرخروں سے متجاوز نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 32200
٣٢٢٠٠ - حدثنا يونس بن محمد (١) حدثنا (حماد) (٢) بن سلمة عن الأزرق بن قيس عن شريك بن شهاب (الحارثي) (٣) عن أبي برزة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يخرج قوم من (قبل) (٤) المشرق، يقرأون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يرق السهم من الرمية، لا يرجعون إليه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مشرق کی جانب سے کچھ لوگ نکلیں گے وہ قرآن کو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے ، جیسا کہ تیر شکار سے آر پار ہو کر نکل جاتا ہے ، پھر وہ اسلام کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے۔
حدیث نمبر: 32201
٣٢٢٠١ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن سالم بن أبي الجعد عن زياد بن لبيد قال: ذكر رسول اللَّه ﷺ (شيئًا) (٢) فقال: " (وذاك) (٣) عند أوان (٤) ذهاب العلم"، قال: قلت: يا رسول اللَّه، كيف يذهب العلم ونحن نقرأ القرآن، ونقرئه أبناءنا (ويقرئه أبناؤنا) (٥) أبناءهم إلى يوم القيامة؟ قال: "ثكلتك (أمك) (٦) زياد، إن كنتُ لأراك (٧) أفقه رجل بالمدينة، أو ليس هذه اليهود والنصارى يقرأون التوراة ⦗٤٧٣⦘ والإنجيل، لا يعلمون بشيء مما (فيهما) (٨) " (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن لبید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند فتنوں کا ذکر کیا : پھر فرمایا : یہ سب علم کے اٹھ جانے کے وقت ہوگا، راوی فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! علم کیسے اٹھ جائے گا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنی اولادوں کو پڑھاتے ہیں اور آگے وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے ، یوں سلسلہ قیامت تک جاری رہے گاَ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تیری ماں تجھے گم پائے اے زیاد ! میں تو تجھے مدینہ میں سب سے سمجھ دار آدمی سمجھتا تھا ! کیا یہ یہود و نصاریٰ تورات اور انجیل نہیں پڑھتے اور یہ لوگ ان میں پائی جانے والی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ؟
حدیث نمبر: 32202
٣٢٢٠٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن (ابن) (١) سنان عن أبي (المبارك) (٢) عن عطاء عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما آمن بالقرآن من استحل محارمه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص قرآن پر ایمان ہی نہیں لایا جس نے اس کے محارم کو حلال سمجھا۔
حدیث نمبر: 32203
٣٢٢٠٣ - حدثنا وكيع عن (ابن) (١) سنان عن أبي (المبارك) (٢) عن صهيب عن النبي ﷺ بمثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صھیب فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر راوی نے ما قبل جیسی حدیث ذکر کی۔