حدیث نمبر: 32194
٣٢١٩٤ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي إسحاق الشيباني عن واصل ابن (حيان) (١) عن شقيق بن سلمة عن عبد اللَّه قال: كيف أنتم (إذا) (٢) ⦗٤٧٠⦘ (أسري) (٣) على كتاب اللَّه فذهب به؟ (قال) (٤): يا أبا عبد الرحمن كيف (بما) (٥) في (أجواف) (٦) الرجال؟ قال: يبعث اللَّه ريحا طيبة (فتلفت) (٧) كل مؤمن (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کس حال میں ہو گے جب قرآن پر ایک رات ایسی آئے گی کہ قرآن کو اٹھا لیا جائے گا، راوی نے پوچھا : اے عبد الرحمن ! یہ کیسے ممکن ہوگا حالانکہ قرآن تو مردوں کے سینوں میں محفوظ ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ ایک پاکیزہ ہوا بھیجیں گے پس تمام فوت ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 32195
٣٢١٩٥ - حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن شداد بن معقل قال: قال عبد اللَّه: إن هذا القرآن الذي بين أظهركم يوشك أن ينزع منك، قال: قلت: كيف ينزع منا وقد أثبته اللَّه في قلوبنا وأثبتناه في مصاحفنا؟ قال: يسرى عليه في ليلة واحدة (فينزع) (١) ما في القلوب، ويذهب ما في المصاحف، ويصبح الناس منه فقراء، ثم قرأ: ﴿وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ﴾ (٢) [الإسراء: ٨٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شداد بن معقل فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ یہ قرآن جو تمہارے سینوں میں محفوظ ہے۔ قریب ہے کہ یہ تم سے چھین لیا جائے گا۔ راوی فرماتے ہیں ! میں نے عرض کیا : کیسے ہم سے اس کو چھین لیا جائے گا حالانکہ ہم نے اس کو اپنے دلوں میں محفوظ کیا ہے اور اپنے صحیفوں میں اس کو ضبط کیا ہے ؟ ! آپ نے فرمایا : پس اس پر ایک رات ایسی گزرے گی کہ جو کچھ دلوں میں محفوظ ہوگا اس کو چھین لیا جائے گا اور جو کچھ مصاحف میں ضبط ہوگا اے مٹا دیا جائے گا۔ اور لوگ صبح کریں گے اس حال میں کہ وہ اس سے خالی ہوں گے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : اور اگر ہم چاہیں تو چھین لے جائیں وہ سب جو ہم نے وحی کیا ہے تمہاری طرف۔