حدیث نمبر: 32151
٣٢١٥١ - حدثنا وكيع عن جرير بن حازم عن قتادة قال: سألت أنسا عن قراءة النبي ﷺ فقال: (كان) (١) يمد بها صوته مدا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں پوچھا ؟ تو آپ نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آواز کو لمباکر کے پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 32152
٣٢١٥٢ - حدثنا حفص عن ابن (جريج) (١) عن ابن أبي مليكة عن أم سلمة قالت: كان قراءة النبي ﷺ: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ فذكرت حرفًا حرفًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ نے ارشاد فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پڑھنا ایسے تھا : سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ پس آپ نے ایک ایک حرف ذکر فرمایا :
حدیث نمبر: 32153
٣٢١٥٣ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان علقمة يقرأ على عبد اللَّه فقال: رتل فداك أبي وأمي فإنه زين القرآن (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر پڑھا کرتے تھے تو آپ فرماتے ! ٹھہر کر پڑھ۔ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔ پس یہی تو قرآن کی زیب وزینت ہے۔
حدیث نمبر: 32154
٣٢١٥٤ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب قال: كان ابن سيرين إذا قرأ يمضي في قراءته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین جب پڑھتے تو اپنی قراءت میں جلدی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 32155
٣٢١٥٥ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن عثمان بن الأسود عن مجاهد وعطاء أنهما كانا يَهُذَانِ القراءة هذًّا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن الاسود فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اور حضرت عطاء جلدی جلدی قرآن پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 32156
٣٢١٥٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن (كهيل) (١) عن حجر بن (عنبس) (٢) عن وائل بن حجر قال: سمعت النبي ﷺ قرأ: ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ فقال: آمين -يمد بها صوته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھا : ولا الضالین اور نہ ہی بھٹکنے والے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا : آمین اور اپنی آواز کو لمبا کیا۔
حدیث نمبر: 32157
٣٢١٥٧ - حدثنا وكيع عن عيسى عن الشعبي قال: قال عبد اللَّه: لا تهذوا القرآن كهذ الشعر ولا تنثروه نثر (الدقل) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قرآن کو جلدی جلدی مت پڑھو ، شعر کے جلدی پڑھنے کی طرح، اور نہ ہی غیر منظوم انداز میں پڑھو ردی کھجور بکھیرنے کی طرح۔
حدیث نمبر: 32158
٣٢١٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد: ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾ [المزمل: ٤]، قال: بعضه على إثر بعض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ یعنی اس کے بعض حصہ کو بعض کے پیچھے پیچھے پڑھو۔
حدیث نمبر: 32159
٣٢١٥٩ - حدثنا وكيع (١) قال: حدثنا ابن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس: ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾ قال: بينه تبيينا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مقسم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ یعنی اس کو واضح انداز میں پڑھو۔
حدیث نمبر: 32160
٣٢١٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبيد المكتب قال: سئل مجاهد عن رجلين قرأ أحدهما البقرة وقرأ (الآخر) (١) البقرة وآل عمران، (فكان) (٢) ركوعهما (وسجودهما) (٣) وجلوسهما سواء، أيهما أفضل؟ قال: الذي قرأ البقرة، ثم قرأ مجاهد: ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ [الإسراء: ١٠٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید مکتب فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد سے ایسے دو آدمیوں کے بارے میں پوچھا گیا جن میں سے ایک نے سورة بقرہ پڑھی اور دوسرے نے سورة بقرہ اور سورة آل عمران پڑھی، اور ان دونوں کے رکوع اور سجدے اور ان دونوں کا بیٹھنا برابر تھا۔ ان دونوں میں سے کون افضل ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جس نے سورة بقرہ پڑھی، پھر مجاہد نے تائید میں یہ آیت پڑھی : اور نازل کیا ہے ہم نے اس قرآن کو واضح مضامین کے ساتھ تاکہ پڑھ کر سناؤ تم اسے انسانوں کو ٹھہر ٹھہر کر اور نازل کیا ہے ہم نے اس کو بتدریج ( حسب موقع) ۔
حدیث نمبر: 32161
٣٢١٦١ - حدثنا وكيع (قال) (١): حدثنا عبيد اللَّه بن عبد الرحمن بن (موهب) (٢) قال: سمعت محمد بن كعب القرظي يقول: لأن أقرأ: ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ و ﴿الْقَارِعَةُ﴾ أرددهما وأتفكر فيهما، أحب إلي من أن (أهذ) (٣) القرآن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبد الرحمن بن موھب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن کعب القرظی کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ! میں ان سورتوں کو پڑھوں : اذا زلزلت الارض اور سورة القارعۃ کو۔ میں ان دونوں کو بار بار پڑھوں اور ان دونوں میں غور و فکر کروں یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں قرآن کو جلدی جلدی پڑھوں۔
حدیث نمبر: 32162
٣٢١٦٢ - حدثنا معن بن عيسى عن ثابت بن قيس قال: سمعت عمر بن عبد العزيز إذا قرأ ترسل في قراءته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا : وہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے۔