حدیث نمبر: 32140
٣٢١٤٠ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن مجاهد عن أبي هريرة قال: أنزلت فاتحة الكتاب بالمدينة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا؛ سورة فاتحہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 32141
٣٢١٤١ - حدثنا أبو معاوية عن هشام عن أبيه قال: ما كان من حج أو فريضة فإنه نزل بالمدينة، وما كان من ذكر الأمم والقرون والعذاب فإنه أنزل بمكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : قرآن کے جس حصہ میں حج کے مسائل یا کسی فریضہ کو بیان کیا گیا ہے پس بلاشبہ وہ حصہ مدینہ میں نازل ہوا اور قرآن کے جس حصہ میں سابقہ امتوں اور صدیوں اور عذاب کا ذکر ہے پس بلاشبہ وہ حصہ مکہ میں نازل ہوا۔
حدیث نمبر: 32142
٣٢١٤٢ - حدثنا وكيع عن سلمة عن الضحاك ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ في المدينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے ارشاد فرمایا : (اے ایمان والو ! ) یہ آیات مدینہ میں نازل ہوئیں۔
حدیث نمبر: 32143
٣٢١٤٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم (عن علقمة) (١) قال: كل شيء في القرآن ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ أنزل (بالمدينة) (٢)، وكل شيء في القرآن ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ﴾ (أنزل) (٣) بمكة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ارشاد فرمایا : قرآن میں ہر وہ آیت جس میں ( اے ایمان والو ! ) کے ذریعہ خطاب ہے مدینہ میں نازل ہوئی، اور قرآن میں ہر وہ آیت جس میں ( اے لوگو ! ) کے ذریعہ خطاب ہے وہ مکہ میں نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 32144
٣٢١٤٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد اللَّه قال: قرأنا المفصل حججًا، ونحن بمكة ليس (فيها) (١): ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم نے چھوٹی سورتیں بطور دلائل کے مکہ میں پڑھیں، ان سورتوں میں ( اے ایمان والو) نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 32145
٣٢١٤٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن أيوب عن عكرمة قال: كل سورة فيها: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ فهي مدنية.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : ہر وہ سورت جس میں ( اے ایمان والو) موجود ہے وہ مدنی ہے۔
حدیث نمبر: 32146
٣٢١٤٦ - حدثنا أبو أسامة عن زائدة عن منصور عن مجاهد قال: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ أنزلت بالمدينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ یہ مدینہ میں نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 32147
٣٢١٤٧ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن ليث عن شهر قال: الأنعام مكية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت شھر نے ارشاد فرمایا؛ سورة الانعام مکی سورت ہے۔
حدیث نمبر: 32148
٣٢١٤٨ - حدثنا أبو أحمد (عن) (١) مسعر عن النضر بن قيس عن عروة (قال) (٢): ما كان ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ﴾ بمكة، وما كان ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ بالمدينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نضر بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : ہر وہ آیت جس میں ( اے لوگو ! ) کے ذریعہ خطاب ہے وہ مکہ میں نازل ہوئی اور ہر وہ آیت جس میں ( اے ایمان والو ! ) کے ذریعہ خطاب ہے وہ مدینہ میں نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 32149
٣٢١٤٩ - حدثنا وكيع عن ابن عون قال: ذكروا عند الشعبي قوله: ﴿وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ (عَلَى مِثْلِهِ) (١)﴾ [الأحقاف: ١٠]، فقيل عبد اللَّه بن سلام فقال: كيف يكون ابن سلام وهذه السورة مكية؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے امام شعبی کے پاس آیت پڑھی : جبکہ گواہی دے چکا ہے ایک گواہ بنی اسرائیل میں سے اسی جیسے کلام پر۔ پس کہا گیا : گواہ سے مراد حضرت عبد اللہ بن سلام ہیں تو آپ نے فرمایا : یہ ابن سلام کیسے ہوسکتے ہیں حالانکہ یہ سورت تو مکی ہے ؟ !۔
حدیث نمبر: 32150
٣٢١٥٠ - حدثنا علي بن مسهر عن هشام عن أبيه قال: إني لأعلم ما نزل من القرآن بمكة وما أنزل بالمدينة، فأما ما نزل بمكة فضرب الأمثال وذكر القرون، وأما ما نزل بالمدينة فالفرائض والحدود والجهاد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ میں بہت اچھے طریقہ سے جانتا ہوں قرآن کا جو حصہ مکہ میں نازل ہوا اور جو حصہ مدینہ میں نازل ہوا۔ بہرحال جو حصہ مکہ میں نازل ہوا اس میں مثالوں کا بیان اور پچھلے واقعات کا ذکر ہے، اور باقی جو حصہ مدینہ میں نازل ہوا اس میں فرائض ، حدود اور جہاد کا بیان ہے۔