کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان لوگوں کا بیان جن سے قرآن لیا گیا ہے
حدیث نمبر: 32128
٣٢١٢٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن مسروق عن عبد اللَّه بن ⦗٤٥٤⦘ عمرو قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "خذوا القرأن من أربعة: من عبد اللَّه بن مسعود ومعاذ بن جبل وأُبيّ بن كعب وسالم مولى أبي حذيفة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن چار لوگوں سے پڑھو، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور معاذ بن جبل سے اور ابی بن کعب سے اور سالم سے جو کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32128
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٤٦٤)، وأحمد (٦٧٨٦)، وأصله في البخاري (٣٧٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32128، ترقيم محمد عوامة 30753)
حدیث نمبر: 32129
٣٢١٢٩ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: قرأت على رسول اللَّه ﷺ فقال لي: "أحسنت" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تلاوت فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تو نے خوبصورت پڑھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32129
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٠٠١)، ومسلم (٨٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32129، ترقيم محمد عوامة 30754)
حدیث نمبر: 32130
٣٢١٣٠ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا الأعمش عن حبيب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: خطبنا عمر فقال عليٌّ أقضانا وأبيٌّ أقرؤنا، وإنا (نترك) (١) أشياء مما (يقرأ) (٢) أُبيّ وإن (أبيا) (٣) يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ ولا أترك قول رسول اللَّه ﷺ (٤) (لشيء) (٥)، وقد (نزل) (٦) بعد أبي كتاب (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمانے لگے : علی رضی اللہ عنہ ہم میں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، اور ابی ّ ہم میں سب سے اچھا پڑھنے والا ہے، اور ہم نے کچھ چیزیں چھوڑ دی ہیں جن کو ابی ّ پڑھتے ہیں ۔ اور حضرت ابی ّ فرماتے تھے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سنا ہے، اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑوں گا۔ اور تحقیق کتاب تو ابی ّ کے بعد نازل ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32130
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤٨١)، وأحمد (٢١٠٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32130، ترقيم محمد عوامة 30755)
حدیث نمبر: 32131
٣٢١٣١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن قبيصة (ابن) (١) جابر قال: ما رأيت أحدًا كان أقرأ لكتاب اللَّه ولا أفقه في دين اللَّه ولا أعلم باللَّه من عمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت قبیصہ بن جابر نے ارشاد فرمایا : میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جو کتاب کو زیادہ اچھا پڑھنے والا ہو، اور اللہ کے دین میں زیادہ سمجھ رکھنے والا ہو۔ اور اللہ کو زیادہ جاننے والا ہو حضرت عمر سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32131
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الملك بن عمير صدوق، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٥٦، ووكيع في أخبار القضاة ١/ ٨٨، وابن عساكر ٤٢/ ٤٠٢، والذهبي في سير أعلام النبلاء ١٥/ ٦٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32131، ترقيم محمد عوامة 30756)
حدیث نمبر: 32132
٣٢١٣٢ - حدثنا ابن عيينة عن داود بن (شابور) (١) عن مجاهد قال: كنا نفخر على الناس بقارئنا: عبد اللَّه بن السائب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن شابور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے فرمایا : ہم لوگ لوگوں کے سامنے اپنے قاری حضرت عبد اللہ بن سائب کی وجہ سے فخر کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32132
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32132، ترقيم محمد عوامة 30757)
حدیث نمبر: 32133
٣٢١٣٣ - حدثنا حسين بن علي عن ابن عيينة عن داود بن (شابور) (١) عن مجاهد قال: كنت (اتحدى) (٢) الناس بالحفظ للقرآن، حتى صليت خلف مسلمة بن مخلد فافتتح البقرة فما أخطأ فيها واوا ولا ألفًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن شابور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے فرمایا : میں لوگوں میں قرآن کا پکا حافظ ہونے کی وجہ سے فخر کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے حضرت مسلمہ بن مخلد کے پیچھے نماز پڑھی۔ پس انہوں نے سورة بقرہ شروع کی اور اس میں الف اور واؤ تک کی غلطی بھی نہیں کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32133
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32133، ترقيم محمد عوامة 30758)
حدیث نمبر: 32134
٣٢١٣٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من سره أن يقرأ القرآن رطبًا كما أنزل، (فليقرأه) (١) على قراءة ابن أم (عبد) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص چاہتا ہے کہ وہ قرآن کو ویسے ہی تروتازہ پڑھے جیسا کہ وہ اترا تھا۔ پس اسے چاہیے کہ وہ ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32134
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٥)، والترمذي (١٦٩)، وابن حبان (٢٠٣٤)، وابن خزيمة (١١٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32134، ترقيم محمد عوامة 30759)
حدیث نمبر: 32135
٣٢١٣٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا عيسى بن (دينار) (١) مولى عمرو ابن الحارث قال: حدثنا أبي قال: سمعت عمرو بن الحارث يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "من سره أن يقرأ القرآن (عضا كما أنزل) (٢) فليقرأه ⦗٤٥٦⦘ على قراءة بن أم (عبد) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن الحارث فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص چاہتا ہے کہ وہ قرآن پڑھے جیسے وہ تروتازہ اترا تھا پس اس کو چاہیے کہ وہ ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32135
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32135، ترقيم محمد عوامة 30760)
حدیث نمبر: 32136
٣٢١٣٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن عمار ابن أبي عمار قال: سمع أبا (حبة) (١) (البدري) (٢) قال: لما نزلت: ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ﴾ [البينة: ١]، إلى آخرها قال: جبريل يا رسول اللَّه إن ربك (يأمرك) (٣) أن تقرئها أبيًا فقال النبي ﷺ لأبي: "إن جبريل أمرني أن أقرئك هذه السورة"، قال أبيٌ: (أذكرني) (٤) يا رسول اللَّه، قال: "نعم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار بن ابی عمار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو حبہ بدری کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے : جب آیت : ہرگز نہ تھے وہ لوگ جو کافر ہیں اہل کتا ب میں ، آخر تک نازل ہوئی۔ تو جبرائیل نے فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ یہ سورت ابی ّ کو پڑھا دیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابی ّ سے فرمایا : جبرائیل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں یہ سورت پڑھا دوں، حضرت ابی ّ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا انہوں نے میرا نام ذکر کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32136
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن جدعان، أخرجه أحمد (١٦٠٠)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٩٦٥)، والطبراني ٢٢/ (٨٢٣)، وابن الأثير ٦/ ٦٦، والدولابي ١/ ٢٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32136، ترقيم محمد عوامة 30761)
حدیث نمبر: 32137
٣٢١٣٧ - (حدثنا أبو بكر) (١) حدثنا معاوية بن (عمرو) (٢) عن زائدة عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه عن النبي ﷺ قال: "من أحب أن يقرأ القرآن غضًا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم (عبد) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ جو شخص پسند کرتا ہے کہ قرآن کو ویسے ہی تروتازہ پڑھے جیسے وہ اترا تھا۔ پس اس کو چاہیے کہ وہ ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32137
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية عاصم عن زر ضعيفة، أخرجه أحمد (٤٢٥٥)، وابن ماجه (١٣٨)، وابن حبان (٧٠٦٧)، وأبو يعلى (٥٠٥٨)، والبزار (٢٦٨١)، والطيالسي (٣٣٤)، والطبراني (٨٤١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32137، ترقيم محمد عوامة 30762)
حدیث نمبر: 32138
٣٢١٣٨ - حدثنا مصعب بن المقدام عن إسرائيل عن مغيرة أنه سمع إبراهيم يقول: قد قرأ عبد اللَّه (القرآن) (١) على ظهر لسانه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے پڑھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32138
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32138، ترقيم محمد عوامة 30763)
حدیث نمبر: 32139
٣٢١٣٩ - حدثنا ابن علية عن منصور بن عبد الرحمن عن الشعبي قال: مات أبو بكر وعمر وعلي ولم يجمعوا القرآن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہانتقال فرما گئے اس حال میں کہ انہوں نے قرآن جمع نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32139
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32139، ترقيم محمد عوامة 30764)