کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو شخص قرآن پڑھے جانے کے وقت یوں کہنا نا پسند کرے! ایسا نہیں ہے
حدیث نمبر: 32107
٣٢١٠٧ - حدثنا الثقفي عن شعيب قال: كان أبو العالية يقرئ الناس القرآن، فإذا أراد أن يغير (١) لم يقل: ليس كذا وكذا، ولكنه يقول: اقرأ آية كذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ لوگوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے : پس جب وہ کسی شخص کی غلطی درست کرنے کا ارادہ کرتے تو یوں نہیں فرماتے : ایسے اور ایسے نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس طرح فرماتے تھے : آیت کو ایسے پڑھو۔ پس میں نے یہ بات ابراہیم کے سامنے ذکر کی تو آپ نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ تمہارے ساتھی نے یہ حدیث سنی ہے : جس شخص قرآن کے ایک حرف کا انکار کیا بلاشبہ اس نے پورے قرآن کا انکار کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32107
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32107، ترقيم محمد عوامة 30733)
حدیث نمبر: 32108
٣٢١٠٨ - فذكرته لإبراهيم فقال: أظن صاحبكم قد سمع أنه من كفر بحرف منه فقد كفر به كله.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32108
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32108، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32109
٣٢١٠٩ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: أمسكت على عبد اللَّه في المصحف فقال: كيف رأيت؟ قلت: قرأتها كما هي في المصحف إلا حرف كذا قرأته كذا وكذا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو قرآن پڑھتے میں روکا تو آپ نے فرمایا : تیری رائے کے مطابق کیسے ہے ؟ میں نے کہا : آپ نے پڑھا جیسے قرآن میں موجود ہے سوائے ایک حرف کے ۔ آپ نے اس کو ایسے اور ایسے پڑھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32109
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32109، ترقيم محمد عوامة 30734)
حدیث نمبر: 32110
٣٢١١٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش قال: كنت أقرأ على إبراهيم فإذا مررت (بالحرف) (١) ينكره لم يقل لي: ليس كذا وكذا، ويقول: كان علقمة (يقرأه) (٢) كذا وكذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم پر قرآن کی تلاوت کی ۔ پس جب میں ایک حرف پر گزرا انہوں نے اس پر روک دیا۔ مجھے یوں نہیں کہا کہ ایسے اور ایسے نہیں ہے۔ بلکہ فرمایا : حضرت علقمہ اس آیت کو ایسے اور ایسے پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32110
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32110، ترقيم محمد عوامة 30735)
حدیث نمبر: 32111
٣٢١١١ - حدثنا إسحاق الأزرق عن الأعمش قال (١): قال لي إبراهيم: إن إبراهيم التيمي يزيد أن تقرئه قراءة عبد اللَّه، قلت: لا أستطيع، قال: بلى، (٢) فإنه قد أراد (ذاك) (٣)، قال: فلما رأيته (قد هَوِي ذلك) (٤) قلت: فيكون هذا بمحضر منك فنتذاكر حروف عبد اللَّه، فقال: (اكفني) (٥) هذا، قلت: وما تكره من هذا، قال: أكره أن أقول (لشيء هو كذا، وليس) (٦) هو (هكذا) (٧)، أو أقول: فيها واو (وليس) (٨) فيها واو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے مجھ سے فرمایا : بلاشبہ ابراہیم التیمی چاہ رہے ہیں کہ تم ان کو حضرت عبد اللہ کی قراءت پڑھا دو ۔ میں نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے فرمایا : کیوں نہیں، پس بیشک ان کا یہی ارادہ ہے، اعمش فرماتے ہیں : جب میں نے ان کو دیکھا کہ وہ یہی چاہ رہے ہیں تو میں نے کہا : ٹھیک ہے یہ آپ کی موجودگی میں ہوگا، تو ہم نے حضرت عبد اللہ کے حروف کا مذاکرہ کیا۔ تو آپ نے فرمایا : مجھے اتنا کافی ہے۔ میں نے کہا : آپ اس طرح ناپسند کیوں کرتے ہیں پڑھانا، آپ نے فرمایا : میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں کسی آیت کے بارے میں کہوں : کہ وہ ایسے ہے تو وہ اس طرح نہ ہو یا میں کہوں : اس میں واؤ ہے ، اور اس مں ں واؤ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32111
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32111، ترقيم محمد عوامة 30736)
حدیث نمبر: 32112
٣٢١١٢ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: سأل رجل ابن مسعود: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ﴾ [الطور: ٢١]، فجعل الرجل (يقول: ذرياتهم، فجعل الرجل) (١) يرددها ويرددها ولا يقول: ليس كذا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن مسعود سے اس آیت کا تلفظ پوچھا ! اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور چلی ان کے نقش قدم پر ان کی اولاد۔ پس اس آدمی نے ذریاتھم کہنا شروع کردیا۔ پھر وہ بار بار اس لفظ کو دوہرا رہا تھا۔ اور آپ نے بھی نہیں فرمایا : کہ ایسے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32112
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32112، ترقيم محمد عوامة 30737)
حدیث نمبر: 32113
٣٢١١٣ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم قال: إني لأكره أن أشهد عرض القرآن فأقول كذا وليس كذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں قرآن کے معاملہ میں گواہی دوں پس میں کہوں ! ایسا ہے، اور وہ ویسا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32113
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32113، ترقيم محمد عوامة 30738)