کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو ناپسند کرے اس بات کو کہ قرآن کی تفسیر بیان کی جائے
حدیث نمبر: 32096
٣٢٠٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة عن آية (في) (١) كتاب اللَّه، فقال: عليك بتقوى اللَّه والسداد فقد ذهب ⦗٤٤٦⦘ الذين كانوا (يعلمون) (٢) فيم أنزل القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے متعلق پوچھا ؟ تو آپ نے فرمایا : تجھ پر لازم ہے اللہ سے ڈرنا اور راست روی، بلاشبہ چلے گئے وہ لوگ جو جانتے تھے کہ کس بارے میں قرآن نازل ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32096
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32096، ترقيم محمد عوامة 30723)
حدیث نمبر: 32097
٣٢٠٩٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سأل رجل سعيد بن المسيب عن آية من القرآن فقال: لا تسألني عن القرآن وسل عنه من يزعم أنه لا يخفى عليه منه شيء -يعني عكرمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعید بن المسیب سے قرآن کی ایک آیت کے متعلق سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : مجھ سے قرآن کے بارے میں سوال نہ کرو بلکہ اس سے پوچھو جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر قرآن کی کوئی چیز مخفی نہیں ہے ۔ یعنی حضرت عکرمہ سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32097
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32097، ترقيم محمد عوامة 30724)
حدیث نمبر: 32098
٣٢٠٩٨ - حدثنا وكيع عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: من قال في القرآن بغير علم فليتبوأ مقعده من النار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جو شخص قرآن کے بارے میں بغیر علم کے رائے زنی کرے پس اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32098
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الأعلى، وقد ورد مرفوعًا أخرجه أحمد (٢٠٦٩) من طريق وكيع عن سفيان عن عبد الأعلى، وأخرجه الترمذي (٢٩٥٠)، والنسائي (٨٠٨٤)، وأبو يعلى (٢٣٣٨)، والقضاعي في مسند الشهاب (٥٥٤)، وابن جرير في التفسير ١/ ٣٤، والبغوي في شرح السنة (١١٨)، والطحاوي في شرح المشكل ١/ ٣٥٨، والطبراني (١٢٣٩٢)، والخطيب في الجامع (١٥٨٤)، وابن عساكر ٥١/ ٩٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32098، ترقيم محمد عوامة 30725)
حدیث نمبر: 32099
٣٢٠٩٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة قال: كان إبراهيم يكره أن يتكلم في القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم ناپسند کرتے تھے کہ وہ قرآن کے بارے میں کچھ رائے زنی کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32099
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32099، ترقيم محمد عوامة 30726)
حدیث نمبر: 32100
٣٢١٠٠ - حدثنا علي بن (مسهر) (١) عن الحسن بن عمرو عن الشعبي قال: أدركت أصحاب (عبد اللَّه) (٢) وأصحاب (علي) (٣) وليس هم لشيء من العلم أكره منهم (لتفسير) (٤) القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کو پایا اس حال میں کہ ان کے نزدیک علم میں قرآن کی تفسیر بیان کرنا سب سے زیادہ ناپسندیدہ تھا۔ شعبی نے فرمایا : اور حضرت ابوبکر فرمایا کرتے تھے : کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا ، اور کون سی زمین مجھے پناہ دے گی۔ جب میں قرآن کے بارے میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں ؟ !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32100
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32100، ترقيم محمد عوامة 30727)
حدیث نمبر: 32101
٣٢١٠١ - قال: وكان أبو بكر يقول: أي سماء تظلني وأي أرض تقلني إذا قلت في كتاب اللَّه ما لا أعلم (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32101
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32101، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32102
٣٢١٠٢ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثني عبد اللَّه بن حبيب بن أبي ثابت قال: سألت طاوسا عن تفسير هذه الآية: ﴿شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ﴾ [المائدة: ١٠٦]: فأراد أن يبطش حتى قيل هذا ابن حبيب - (كراهية) (١) لتفسير القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں : میں نے حضرت طاو وس سے اس آیت : گواہی کا (ضابطہ) تمہارے درمیان جب تم میں سے کسی کی موت آپہنچے، ؟ کی تفسیر کے متعلق پوچھا ؟ سو انہوں نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا یہاں تک کہ انہیں کہا گیا : یہ ابن حبیب ہیں۔ قرآن کی تفسیر بیان کرنے کو ناپسند کرنے کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32102
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32102، ترقيم محمد عوامة 30728)
حدیث نمبر: 32103
٣٢١٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حميد عن أنس أن عمر قال: على المنبر: ﴿(وَفَاكِهَةً) (٢) وَأَبًّا﴾ [عبس: ٣١]، ثم (قال) (٣): هذه الفاكهة قد عرفناها فما الأب؟ ثم رجع إلى نفسه فقال: إن هذا لهو التكلف، يا عمر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے منبر پر آیت تلاوت فرمائی۔ ( اور پھل اور چارے) ۔ پھر فرمایا : یہ پھل تو ہم پہچانتے ہیں۔ پس اَبًّا کیا ہے ؟ پھر اپنے نفس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اے عمر ! یقینا یہ تو تکلف ہے !۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32103
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32103، ترقيم محمد عوامة 30729)
حدیث نمبر: 32104
٣٢١٠٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: كتب رجل مصحفًا وكتب عند كل آية تفسيرها، فدعا به عمر فقرضه بالمقراضين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی نے قرآن لکھا اور ہر آیت کے ساتھ اس کی تفسیر بھی لکھی۔ پس حضرت عمر نے اس کو منگوایا ۔ پھر اس کو قینچی کے ساتھ کاٹ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32104
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32104، ترقيم محمد عوامة 30730)
حدیث نمبر: 32105
٣٢١٠٥ - حدثنا محمد بن عبيد عن العوام بن حوشب عن إبراهيم التيمي أن أبا بكر سئل عن: ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ فقال: أي سماء تظلني وأي أرض تقلني، إذا قلت في كتاب اللَّه ما لا أعلم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہم التیمی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر سے اس آیت ( اور پھل اور چارے) کے متعلق سوال کیا گیا ؟ تو آپ نے فرمایا : کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا ؟ اور کون سی زمین مجھے پناہ دے گی۔ جب میں کتاب اللہ کے بارے میں وہ بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں ؟ !۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32105
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32105، ترقيم محمد عوامة 30731)
حدیث نمبر: 32106
٣٢١٠٦ - حدثنا محمد بن (عبيد اللَّه) (١) الزبيدي عن سفيان عن الأعمش عن أبي وائل قال: كان إذا سئل عن شيء من القرآن قال: قد أصاب اللَّه ما أراد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابو وائل سے جب قرآن کی کسی آیت کے متعلق سوال کیا جاتا۔ فرماتے : اللہ حق بجانب ہے جس کا بھی اس نے ارادہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32106
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32106، ترقيم محمد عوامة 30732)