حدیث نمبر: 32091
٣٢٠٩١ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر كره أن يقول: المفصل ويقول: القرآن كله مفصل ولكن قولوا: قصار القرآن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ناپسند کرتے تھے : قرآن کی سورتوں کو مفصل کہنا : اور فرماتے تھے : قرآن مجید سارا مفصل و واضح ہے۔ لیکن تم یوں کہا کرو قرآن کی چھوٹی سورتیں۔
حدیث نمبر: 32092
٣٢٠٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن (عمر) (١) بن حمزة عن سالم عن ابن عمر قال: سألني عمر: كم معك من القرآن؟ قلت: عشر سور، فقال لعبيد اللَّه بن عمر: كم معك من القرآن؟ قال: سورة، قال عبد اللَّه: فلم (ينهنا ولم يأمرنا) (٢) غير أنه قال: (فإن) (٣) كنتم (متعلمين) (٤) منه بشيء، فعليكم بهذا المفصل فإنه أحفظ (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : مجھ سے حضرت عمر نے پوچھا : تمہیں کتنا قرآن یاد ہے ؟ میں نے کہا : ایک سورت، حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں : پھر نہ انہوں نے ہمیں کسی کا م کا حکم دیا اور نہ ہی کسی کام سے منع کیا سوائے اس بات کے کہ انہوں نے کہا : پس اگر تم قرآن میں سے کچھ سیکھو تو تم پر یہ مفصل سورتیں لازم ہیں ۔ اس لیے کہ یہ زیادہ محفوظ رہتی ہیں۔
حدیث نمبر: 32093
٣٢٠٩٣ - [حدثنا حفص عن عاصم عن ابن سيرين قال: لا تقل سورة قصيرة ولا سورة خفيفة، قال: فكيف أقول؟ قال: قل: سورة كبيرة فإن اللَّه ﵎ قال: ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ [القمر: ١٧]، ولا تقل: خفيفة، فإن اللَّه قال: ﴿إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا﴾] (١) [المدثر: ٥].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا : تم یوں مت کہو : چھوٹی سورت اور نہ ہی یوں کہو : ہلکی سورت۔ راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا : پھر میں کیسے کہوں ؟ آپ نے فرمایا : ایسے کہو ! آسان سورت۔ اس لیے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا : اور بلاشبہ ہم نے آسان بنادیا اس قرآن کو نصیحت کے لیے، سو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ اور ایسے بھی مت کہو ؟ ہلکی سورت : اس لیے کہ اللہ نے فرمایا ہے : ہم نازل کرنے والے ہیں تم پر ایک بھاری کلام۔
حدیث نمبر: 32094
٣٢٠٩٤ - حدثنا حفص عن عاصم عن أبي العالية ذكر نحوه، إلا أنه خالفه في بعض الكلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ نے بھی ما قبل جیسا مضمون ذکر کیا، مگر یہ کہ کلام میں کچھ اختلاف کیا ہے۔