کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس گھر کا بیان جس میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہو
حدیث نمبر: 32017
٣٢٠١٧ - حدثنا أبو معاوية (١) عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي (الأحوص) (٢) عن عبد اللَّه قال: البيت الذي لا يقرأ فيه القرآن كمثل البيت الخرب الذي لا عامر له (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت نہیں کی جاتی اس ویران گھر کی مانند ہے جس کو آباد کرنے والا کوئی نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32017
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32017، ترقيم محمد عوامة 30645)
حدیث نمبر: 32018
٣٢٠١٨ - حدثنا هشيم عن عباد عن ابن سيرين قال: البيت الذي يقرأ فيه القرآن تحضره الملائكة وتخرج منه الشياطين، ويتسع بأهله، ويكثر خيره، والبيت ⦗٤٢٠⦘ الذي لا يقرأ فيه القرآن تحضره الشياطين، وتخرج منه الملائكة، ويضيق بأهله، ويقل خيره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا : جس گھر میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے فرشتے وہاں حاضر ہوتے ہیں اور شیاطین اس گھر سے نکل جاتے ہیں۔ اور اس کے گھر والوں میں کشادگی ہوتی اور خیر کی کثرت ہوجاتی ہے، اور جس گھر میں قرآن کی تلاوت نہیں کی جاتی، شیاطین وہاں موجود ہوتے ہیں اور فرشتے اس گھر سے نکل جاتے ہیں اور گھر والوں میں تنگی ہوتی ہے اور خیر کی قلت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32018
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبيدة بن حميد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32018، ترقيم محمد عوامة 30646)
حدیث نمبر: 32019
٣٢٠١٩ - حدثنا (عبيدة) (١) عن أبي الزعراء عن أبي الأحوص قال: سمعت ابن مسعود يقول: إن أصفر البيوت (لبيت) (٢) الذي أصفر من كتاب اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : بیشک گھروں میں سے خالی گھر تو وہ ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت سے خالی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32019
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32019، ترقيم محمد عوامة 30647)
حدیث نمبر: 32020
٣٢٠٢٠ - حدثنا أبو معاوية عن ليث عن ابن سابط قال: إن البيوت التي يقرأ فيها القرآن لتضيء لأهل السماء كما تضيء (النجوم) (١) لأهل الأرض، قال: وإن البيت الذي لا يقرأ فيه القرآن ليضيق على أهله، وتحضره الشياطين، وتنفر منه الملائكة، وإن أصفر البيوت لبيت صفر من كتاب اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سابط نے ارشاد فرمایا : بیشک وہ گھر جن میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے وہ آسمان والوں کے لیے ستاروں جیسے چمکتے ہیں، اور فرمایا اور بیشک وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت نہیں ہوتی تو اس کے رہنے والوں پر تنگی کردی جاتی ہے۔ اور شیاطین وہاں حاضر ہوجاتے ہیں اور فرشتے اس گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔ اور بیشک گھروں میں سے خالی گھر تو وہ ہے جو کتاب اللہ سے خالی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32020
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32020، ترقيم محمد عوامة 30648)
حدیث نمبر: 32021
٣٢٠٢١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد العزيز بن رفيع عن عبد اللَّه ابن عبيد بن عمير قال: كان عبد الرحمن بن عوف إذا دخل (منزله) (١) قرأ في زواياه آية الكرسي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف جب گھر میں داخل ہوتے اس کے کونوں میں آیت الکرسی کی تلاوت فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32021
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32021، ترقيم محمد عوامة 30649)
حدیث نمبر: 32022
٣٢٠٢٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: حدثنا ثابت قال: كان أبو هريرة يقول: (١) البيت (٢) إذا تلي فيه كتاب اللَّه اتسع بأهله وكثر خيره ⦗٤٢١⦘ وحضرته الملائكة وخرجت منه الشياطين، والبيت الذي (٣) لم يتل فيه كتاب اللَّه ضاق بأهله وقيل خيره (٤) وحضره الشياطين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ فرمایا کرتے تھے : جس گھر میں کتاب اللہ کی تلاوت کی جاتی ہے اس گھر کے رہنے والوں پر وسعت کردی جاتی ہے ، اور خیر کی کثرت ہوتی ہے۔ اور فرشتے وہاں حاضر ہوجاتے ہیں اور شیاطین اس گھر سے نکل جاتے ہیں۔ اور وہ گھر جس میں کتاب اللہ کی تلاوت نہیں کی جاتی اس کے گھر والوں پر تنگی کردی جاتی ہے۔ اور خیر کی قلت ہوجاتی ہے۔ اور شیاطین وہاں حاضر ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32022
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32022، ترقيم محمد عوامة 30650)