حدیث نمبر: 31993
٣١٩٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن واقد عن (زاذان) (١) قال: من قرأ القرآن ليتأكل به الناس لقي اللَّه وليس على وجهه مزعة لحم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت واقد فرماتے ہیں کہ حضرت زاذان نے ارشاد فرمایا؛ جو شخص قرآن پڑھے تاکہ اس کی وجہ سے لوگوں سے کھائے قیامت کے دن وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 31994
٣١٩٩٤ - حدثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن الحسن قال: قال عمر: اقرأوا القرآن وسلوا اللَّه به، قبل أن (يقرأه) (١) قوم (يسألون) (٢) الناس به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : قرآن پڑھو اور اس کے ذریعہ اللہ سے سوال کرو قبل اس کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے اور اس کے ذریعہ لوگوں سے سوال کریں گے۔
حدیث نمبر: 31995
٣١٩٩٥ - حدثنا إسماعيل بن علية عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي فراس قال: قال عمر: قد أتى علي زمان وأنا أحسب من قرأ القرآن يريد به (١) اللَّه، فقد ⦗٤١٣⦘ خيل لي الآن بأخرة أني أرى قوما قد قرأوه يريدون به الناس، فأريدوا اللَّه بقراءتكم، وأريدوا اللَّه بأعمالكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو فراس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : مجھ پر ایک زمانہ گزرا ہے کہ میں نے گمان کیا کہ ایک شخص نے قرآن پڑھا اللہ کی رضا مندی کے لیے تحقیق مجھے ابھی خیال آیا اخیر میں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جنہوں نے قرآن پڑھا اور اس کے ذریعہ لوگوں کا ارادہ کیا۔ پس تم لوگ اپنے پڑھنے کے ذریعہ اللہ کو راضی کرو۔ اور اپنے اعمال کے ذریعے اللہ کو راضی کرو۔
حدیث نمبر: 31996
٣١٩٩٦ - حدثنا الزبيري محمد بن عبد اللَّه عن سفيان عن الأعمش عن خيثمة عن الحسن عن عمران بن حصين قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من قرأ القرآن فليسأل اللَّه به فإنه سيجئ قوم يقرأون القرآن يسألون الناس به" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص قرآن پڑھے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کے ذریعہ اللہ سے مانگے۔ عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے اور اس کے ذریعہ لوگوں سے سوال کریں گے۔
حدیث نمبر: 31997
٣١٩٩٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن قال: قال عمر: اقرأوا القرآن واطلبوا به ما (عند اللَّه) (١) قبل أن يقرأه أقوام يطلبون به ما عند الناس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : قرآن پڑھو اور اس کے ذریعہ وہ چیز طلب کرو جو اللہ کے پاس ہے، قبل اس کہ کچھ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے اور اس کے ذریعہ وہ چیز طلب کریں گے جو لوگوں کے پاس ہوگی۔
حدیث نمبر: 31998
٣١٩٩٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن المنكدر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اقرأوا القرآن وسلوا اللَّه به فإنه سيقرأه أقوام يقيمونه إقامة القدح يتعجلونه ولا يتأجلونه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن کی تلاوت کرو اور اس کے ذریعہ اللہ سے مانگو اس لیے کہ عنقریب کچھ لوگ اس کی تلاوت کریں گے جو اس کے حروف کو جوئے کے تیر کی طرح سیدھا کرکے پڑھیں گے وہ جلدی کریں گے اور مہلت نہیں دیں گے۔
حدیث نمبر: 31999
٣١٩٩٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد اللَّه بن الوليد قال: أخبرني عمر ابن أيوب قال: أخبرني أبو إياس معاوية بن قرة قال: كنت نازلًا على عمرو بن النعمان بن مقرن، فلما حضر رمضان جاءه رجل بألفي درهم من قبل مصعب بن الزبير فقال: إن الأمير يقرئك السلام (ويقول) (١): إنا (لم) (٢) ندع قارئًا شريفًا إلا وقد وصل إليه منا معروف فاستعن (بهذين) (٣) على نفقة شهرك هذا، فقال (عمرو) (٤): اقرأ على الأمير السلام وقيل له: (إنا) (٥) واللَّه ما قرأنا القرآن نريد به الدنيا، (ورده) (٦) عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمرو بن نعمان بن مقرن کے ہاں مہمان تھا، پس جب رمضان کا مہینہ آیا تو حضرت مصعب بن زبیر کی طرف سے ایک آدمی دو ہزار درہم لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : بیشک امیر نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے : یقینا ہم نے کسی بھی نیک پڑھنے والے کو نہیں چھوڑا مگر یہ کہ اس کو ہماری طرف سے کچھ مال مل گیا۔ پس آپ ان روپوں کو اس مہینہ کے خرچ میں استعمال کیجئے۔ تو حضرت عمرو نے فرمایا : امیر کو سلام کہیے گا اور ان سے کہنا : بیشک اللہ کی قسم ہم قرآن کو دنیا کی غرض سے نہیں پڑھتے ۔ اور آپ نے یہ ہدیہ واپس بھیج دیا۔