کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قرآن کو بھلا دینے کا بیان
حدیث نمبر: 31989
٣١٩٨٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن (يزيد) (١) بن أبي زياد عن (٢) عيسى بن (فائد) (٣) قال: حدثني فلان عن سعيد بن عبادة قال: حدثنيه عن رسول اللَّه ﷺ قال: " (ما) (٤) من أحد يقرأ القرآن ثم ينساه إلا لقي اللَّه وهو أجذم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن عبادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے کوئی شخص جو قرآن کو پڑھے پھر اس کو بھلا دے مگر یہ کہ وہ اللہ سے ملے گا کوڑھ کی حالت میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 31989
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31989، ترقيم محمد عوامة 30617)
حدیث نمبر: 31990
٣١٩٩٠ - حدثنا وكيع عن ابن أبي (رواد) (١) عن الضحاك قال: ما تعلم رجل القرآن ثم نسيه إلا بذنب، ثم قرأ الضحاك: ﴿(وَمَا) (٢) (أَصَابَكُمْ) (٣) مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ﴾ [الشورى: ٣٠]، ثم قال الضحاك: وأي مصيبة أعظم من نسيان القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی روّاد فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے ارشاد فرمایا؛ کسی آدمی نے قرآن سیکھا پھر اس کو بھلا دیا ایسا کسی گناہ کی وجہ سے ہوا۔ پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی اور جو پہنچتی ہے تمہیں کوئی مصیبت سو وہ کمائی ہوتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی۔ پھر حضرت ضحاک نے فرمایا : کون سی مصیبت جو قرآن بھولنے سے زیادہ بڑی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 31990
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31990، ترقيم محمد عوامة 30618)
حدیث نمبر: 31991
٣١٩٩١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم (١) أبي أمية عن طلق بن حبيب قال: من تعلم القرآن ثم نسيه من غير عذر حط عنه بكل آية درجة، وجاء يوم القيامة مخصومًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم ابو امیہ فرماتے ہیں کہ حضرت طلق بن حبیب نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے قرآن سیکھا پھر بغیر کسی عذر کے اسے بھلا دیا۔ تو ہر ایک آیت کے بدلے ایک درجہ کم کردیا جاتا ہے، اور یہ شخص قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ قرآن اس سے جھگڑا کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 31991
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31991، ترقيم محمد عوامة 30619)
حدیث نمبر: 31992
٣١٩٩٢ - حدثنا وكيع عن إبراهيم بن (يزيد) (١) عن الوليد بن عبد اللَّه بن أبي مغيث قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "عرضت علي الذنوب فلم أر فيها شيئًا أعظم من حامل القرآن وتاركه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت عبد اللہ بن ابی مغیث فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے سامنے بہت سے گناہ پیش کیے گئے لیکن میں نے ان گناہوں میں قرآن کو یاد کر کے اس کو بھلا دینے سے زیادہ کوئی بڑا گناہ نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 31992
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف جدًا؛ الوليد بن عبد اللَّه بن أبي مغيث تابعي، وإبراهيم بن يزيد متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31992، ترقيم محمد عوامة 30620)