حدیث نمبر: 31984
٣١٩٨٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مثل القرآن مثل الإبل (المعقلة) (١) إن عقلها صاحبها أمسكها وإن تركها ذهبت" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جس کی اگلی ٹانگ کو گردن سے باندھ دیا گیا ہو۔ اگر اس کا مالک اس کی ٹانگ کو گردن سے باندھ دے گا تو وہ رکا رہے گا اور اگر خالی چھوڑ دے گا تو وہ چلا جائے گا۔
حدیث نمبر: 31985
٣١٩٨٥ - حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عُلي قال: سمعت أبي يقول: (١) سمعت عقبة بن عامر يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "تعلموا (القرآن) (٢) و (اقتنوه) (٣) والذي نفسي بيده لهو أشد (تفصيا) (٤) ⦗٤١٠⦘ من المخاض من عقلها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن کو سیکھو اور اس کی خبر گیری کیا کرو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ قرآن پاک جلد نکل جانے والا ہے سینوں سے بہ نسبت اونٹ کے اپنی رسیوں سے۔
حدیث نمبر: 31986
٣١٩٨٦ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن (١) بريد بن (عبد اللَّه) (٢) عن أبي بردة عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "تعاهدوا القرآن، فو الذي نفسي بيده لهو أشد تفصيًا من قلوب الرجال من الإبل من عقلها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن کی خبر گیری کیا کرو ۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ قرآن جلد نکل جانے والا ہے مردوں کے دلوں سے بہ نسبت اونٹ کے اپنی رسیوں سے۔
حدیث نمبر: 31987
٣١٩٨٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: قال عبد اللَّه: تعاهدوا هذه المصاحف -وربما قال: القرآن- فلهو أشد (تفصيا) (١) من قلوب الرجال من النعم من عقلها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ان مصاحف کی دیکھ بھال کیا کرو۔ اور کبھی فرماتے : قرآن کی دیکھ بھال کیا کرو۔ اس لیے کہ وہ جلد نکل جانے والا ہے سینوں سے بہ نسبت اونٹ کے اپنی رسیوں سے۔
حدیث نمبر: 31988
٣١٩٨٨ - حدثنا ابن عيينة عن منصور عن أبي وائل قال: قال عبد اللَّه: تعاهدوا هذا القرآن فلهو أشد (تفصيا) (١) من النعم من عقله، قال: وقال رسول اللَّه ﷺ: "بئس ما لأحدهم أن يقول: نسيت آية كيت وكيت، بل هو نُسي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبدا للہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : اس قرآن کی خبر گیری کیا کرو اس لیے کہ یہ جلد نکل جانے والا ہے سونعں سے بہ نسبت اونٹ کے اپنی رسیوں سے ۔ اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : برائی اس شخص کے لیے ہے جو یوں کہے : میں فلاں فلاں آیت بھول گیا۔ وہ بھولا نہیں بلکہ اسے بھلا دیا گیا۔