کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: گانے کے انداز میں پڑھنے کا بیان ، جو لوگ اس کو ناپسند سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 31940
٣١٩٤٠ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا عمران بن عبد اللَّه بن طلحة أن رجلًا قرأ في مسجد النبي ﷺ في رمضان فطرب فأنكر ذلك القاسم وقال: يقول: اللَّه (تعالى) (٢): ﴿وَإِنَّهُ (لَكِتَابٌ) (٣) عَزِيزٌ (٤١) لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ﴾ [فصلت: ٤١ - ٤٢].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن عبد اللہ بن طلحہ فرماتے ہیں ایک آدمی رمضان میں مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں قرآن مجید کی تلاوت گنگنانے کے آواز میں کر رہا تھا : تو حضرت قاسم نے اس کا انکار کیا اور فرمایا : اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : حالانکہ وہ زبردست کتاب ہے۔ نہیں آسکتا ہے اس کے پاس باطل نہ سامنے سے اور نہ پیچھے سے، یہ نازل کردہ ہے اس ہستی کی طرف سے جو بڑی حکمت والی اور قابل تعریف ہے۔
حدیث نمبر: 31941
٣١٩٤١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن الأعمش أن رجلًا قرأ عند أنس فطرب فكره ذلك أنس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت انس کے پاس گنگنا کر قرآن کی تلاوت کی۔ تو حضرت انس نے اس کو ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 31942
٣١٩٤٢ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا (عبيد اللَّه) (٢) بن أبي بكر أن زياد (النميري) (٣) جاء مع (القراء) (٤) إلى أنس بن مالك (فقيل) (٥) له: إقرأ، فرفع صوته، وكان رفيع الصوت، فكشف أنس عن وجهه الخرقة، وكان على وجهه خرقة سوداء، فقال: ما هذا؟ ما هكذا كانوا يفعلون، وكان إذا رأى شيئًا ينكره كشف الخرقة عن وجهه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ حضرت زیاد النمیری چند قرّاء کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو ان کو کہا گیا : تلاوت کیجیے۔ تو انہوں نے اونچی آواز کی اور وہ بلند آواز کے مالک تھے۔ تو حضرت انس نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ اور ان کے چہرے پر ایک کالے رنگ کا کپڑا تھا۔ پھر فرمایا : یہ کیا ہے ؟ صحابہ ایسے تو نہیں کرتے تھے۔ اور جب آپ کسی چیز کو برا سمجھتے تھے تو اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 31943
٣١٩٤٣ - حدثنا جرير عن ليث (عن) (١) عبد الرحمن بن الأسود قال: كان أحدهم يمد بالآية في جوف الليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن الاسود نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک آدھی رات کو آیات بلند آواز سے پڑھتے تھے۔