حدیث نمبر: 31928
٣١٩٢٨ - حدثنا (حفص) (١) بن غياث ووكيع عن الأعمش عن طلحة عن عبد الرحمن بن عوسجة عن البراء بن عازب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "زينوا القرآن بأصواتكم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعہ مزین کرو۔
حدیث نمبر: 31929
٣١٩٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: دخل رسول اللَّه ﷺ المسجد فسمع قراءة رجل (فقال) (١): "من هذا؟ " (فقيل) (٢): عبد اللَّه بن قيس فقال: "لقد أوتي هذا (من) (٣) مزامير آل داود" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی تو فرمایا : یہ شخص کون ہے ؟ بتلایا گیا : حضرت عبد اللہ بن قیس ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : البتہ اس شخص کو آل داؤد کی بانسریوں میں سے حصہ دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 31930
٣١٩٣٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن مالك (بن) (١) مغول عن ابن بريدة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لقد أوتي الأشعري مزمارا من مزامير آل داود" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تحقیق قبیلہ اشعر والوں کو آل داؤد کی بانسریوں میں سے ایک حصہ دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 31931
٣١٩٣١ - حدثنا شبابة عن ليث بن سعد عن ابن شهاب عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك أن النبي ﷺ قال لأبي موسى وسمعه يقرأ القرآن: "لقد أوتي أخوكم من مزامير آل داود" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کا قرآن سنا تو ان سے ارشاد فرمایا : تحقیق تمہارے بھائیوں کو مزامیر آل داؤد میں سے حصہ دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 31932
٣١٩٣٢ - (حدثنا) (١) أبو بكر قال: بلغني عن ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي ﷺ بمثله أو نحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 31933
٣١٩٣٣ - حدثنا أبو أسامة عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم قال: قال عمر: حسنوا أصواتكم بالقرآن (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعہ خوبصورت بناؤ۔
حدیث نمبر: 31934
٣١٩٣٤ - حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن ابن أبي مليكة عن عبد ⦗٣٩٨⦘ اللَّه بن أبي نهيك عن سعد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس منا من لم يتغن بالقرآن" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص قرآن کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں۔
حدیث نمبر: 31935
٣١٩٣٥ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن أبي سلمة روايةً قال: " (ما) (١) أذن اللَّه لشيء كإذنه لعبده يترنم بالقرآن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سلمہ نے ارشاد فرمایا : اللہ اتنا کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جتنا کہ اس بندے کی آواز کو توجہ سے سنتے ہیں جو کلام الٰہی خوش الحانی سے پڑھتا ہو۔
حدیث نمبر: 31936
٣١٩٣٦ - (حدثنا) (١) حفص عن ليث عن طاوس قال: كان يقال: أحسن الناس صوتًا بالقرآن أخشاهم للَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاو وس فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ لوگوں میں خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے والے وہ لوگ ہیں جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 31937
٣١٩٣٧ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن عبد الكريم عن طاوس سئل (١) من أقرأ الناس؟ قال: (من) (٢) إذا قرأ رأيته يخشى اللَّه، قال: وكان طلق من أولئك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم فرماتے ہیں کہ حضرت طاو وس سے پوچھا گیا؛ لوگوں میں سے سب سے اچھا قرآن پڑھنے والا کون شخص ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جس کو تو دیکھے کہ وہ قرآن پڑھتے ہوئے اللہ سے خوف کھاتا ہے، اور فرمایا : حضرت طلق ان میں سے ہیں۔
حدیث نمبر: 31938
٣١٩٣٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق قال: كنا مع أبي موسى (فجننا) (١) الليل إلى بستان خرب قال: فقام من الليل فقرأ قراءة حسنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ تھے۔ پس جب رات ہوگئی تو ہم نے ایک ویران باغ مں م پناہ لی۔ آپ فرماتے ہیں ! آپ نے رات کو قیام کیا اور بہت ہی اچھی تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 31939
٣١٩٣٩ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس أن أبا موسى كان يقرأ ذات ليلة ونساء النبي ﷺ يستمعن فقيل له فقال: لو علمت لحبرت تحبيرا أو (لشوفت) (٢) (تشويقًا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رات کو قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات بہت شوق سے سنتی تھیں۔ پس جب انہیں بتلایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں مزید خوش نما آواز میں پڑھتا یایوں فرمایا : میں اور زیادہ شوق سے پڑھتا۔