کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھنے سے متعلق روایات کا بیان
حدیث نمبر: 31903
٣١٩٠٣ - (حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة) (١) بن إدريس عن المقبري عن جده (٢) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أعربوا القرآن، والتمسوا (غرائبه) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو اور اس کے اسرار وغرائب تلاش کرو۔
حدیث نمبر: 31904
٣١٩٠٤ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن طلحة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: أعربوا القرآن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو۔
حدیث نمبر: 31905
٣١٩٠٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن ثور عن (عمر) (١) بن (زيد) (٢) قال: كتب عمر إلى أبي موسى: أما بعد فتفقهوا في السنة وتفقهوا في العربية وأعربوا ⦗٣٩٠⦘ القرآن فإنه عربي، (وتمعددوا) (٣) فإنكم معديون (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن زید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی طرف خط لکھا اور فرمایا : حمد وصلوۃ کے بعد۔ پس تم لوگ سنت میں سمجھ بوجھ پیدا کرو ، اور عربی زبان میں سمجھ بوجھ پیدا کرو، اور قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو۔ اس لیے کہ وہ عربی زبان میں ہے، اور تم قبیلہ معد کی طرف خود کو منسوب کرو اس لیے کہ تم قبیلہ معد والے ہو۔
حدیث نمبر: 31906
٣١٩٠٦ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن زيد قال: حدثنا واصل مولى (أبي) (١) عيينة عن يحيى بن عقيل عن يحيى بن يعمر عن أبي بن كعب قال: تعلموا العربية كما تعلمون حفظ القرآن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن یعمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب نے ارشاد فرمایا : تم لوگ عربی زبان کو ایسے سیکھو جیسے قرآن کو زبانی یا د کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 31907
٣١٩٠٧ - حدثنا (معتمر) (١) عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر قال: أعربوا القرآن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا؛ قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو۔
حدیث نمبر: 31908
٣١٩٠٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عقبة الأسدي عن أبي العلاء قال: قال عبد اللَّه: أعربوا القرآن فإنه عربي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العلائ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو۔ اس لیے کہ وہ عربی زبان میں ہے۔
حدیث نمبر: 31909
٣١٩٠٩ - حدثنا علي بن مسهر عن يوسف بن (صهيب) (١) عن ابن بريدة عن رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: "لأن أقرأ آية بإعراب أحب إليّ من أن أقرأ كذا وكذا آية بغير إعراب" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے ارشاد فرمایا : میرے لیے قرآن کی ایک آیت کو اعراب کی وضاحت کے ساتھ پڑھنا قرآن کی اتنی اور اتنی آیات کو اعراب کی وضاحت کے بغیر پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 31910
٣١٩١٠ - حدثنا ابن إدريس عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر أنه كان يضرب ولده على اللحن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بیٹے کو غلطی پر مارا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 31911
٣١٩١١ - حدثنا حسين بن علي عن أبي موسى قال: قال رجل للحسن: يا أبا سعيد، واللَّه ما أراك تلحن: فقال: يا ابن أخي إني سبقت اللحن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حسن سے کہا : اے ابو سعید ! اللہ کی قسم میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ غلطی کرتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا ! اے میرے بھتیجے ! سبقت لسانی کی وجہ سے غلطی کرجاتا ہوں۔
حدیث نمبر: 31912
٣١٩١٢ - حدثنا أبو أسامة عن عمر بن حمزة قال: أخبرني سالم أن زيد بن ثابت استشار عمر في جمع القرآن فأبى عليه (وقال) (١): أنتم قوم تلحنون واستشار عثمان فأذن له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت نے حضرت عمر سے قرآن جمع کرنے کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ پس آپ نے انکار فرما دیا : اور فرمایا : تم تو ایسے لوگ ہو جو غلطیاں کرتے ہو اور انہوں نے حضرت عثمان سے مشورہ مانگا۔ تو انہوں نے اجازت مرحمت فرما دی۔
حدیث نمبر: 31913
٣١٩١٣ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن شعبة عن أبي رجاء قال: سألت محمدا عن نقط المصاحف فقال: (١) أخاف أن تزيدوا في الحروف أو تنقصوا منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رجائ فرماتے ہیں کہ میں نے امام محمد سے قرآن میں نقطے لگانے کے متعلق پوچھا ؟ تو آپ نے فرمایا : مجھے خوف ہے کہ تم لوگ حروف میں کمی زیادتی کرو گے۔ اور میں نے حسن سے پوچھا ؟ تو آپ نے فرمایا : کیا تمہیں حضرت عمر کی وہ بات نہیں پہنچی جو انہوں نے خط میں لکھی تھی : کہ تم عربی سیکھو۔ اور اچھے طریقہ سے عبادت کرنا سیکھو۔ اور دین میں سمجھ بوجھ پیدا کرو۔
حدیث نمبر: 31914
٣١٩١٤ - وسألت الحسن فقال: (أما) (١) بلغك ما كتب به عمر أن تعلموا العربية وحسن (العبارة) (٢) (والتفقه) (٣) في الدين (٤).
حدیث نمبر: 31915
٣١٩١٥ - حدثنا إسحاق بن (سليمان) (١) عن معاوية (بن) (٢) يحيى عن يونس بن ميسرة (الجبلاني) (٣) عن أم الدرداء قالت: إني لأحب أن أقرأه كما أنزل -يعني إعراب القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یونس بن میسرہ الجبلانی فرماتے ہیں کہ حضرت ام الدرداء نے ارشاد فرمایا : میں پسند کرتی ہوں کہ میں قرآن کو ایسے پڑھوں جیسے وہ اترا ہے۔ یعنی : قرآن کے اعراب کو واضح کر کے پڑھو۔
حدیث نمبر: 31916
٣١٩١٦ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن زيد عن يزيد بن حازم عن (سليمان) (١) بن يسار قال: انتهى عمر إلى قوم يقرئ بعضهم بعضًا، فلما رأوا عمر سكتوا فقال: ما كنتم تراجعون؟ قلنا: (كنا) (٢) (نقرئ) (٣) بعضنا بعضًا، فقال: إقرءوا ولا تلحنوا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ایسے لوگوں کے پاس گئے جن میں سے بعض بعض کو قرآن پڑھا رہے تھے۔ پس جب ان لوگوں نے حضرت عمر کو دیکھا تو وہ خاموش ہوگئے۔ تو حضرت عمر نے فرمایا : تم لوگ کس چیز کا مذاکرہ کر رہے تھے ؟ ہم نے عرض کیا : ہم میں سے بعض بعض کو قرآن پڑھا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : پڑھو اور غلطی مت کرنا۔
حدیث نمبر: 31917
٣١٩١٧ - حدثنا جرير عن ثعلبة عن مقاتل بن حيان قال: كلام أهل السماء العربية ثم قرأ: ﴿حم (١) وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (٢) إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (٣) وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾ [الزخرف: ١ - ٤].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثعلبہ فرماتے ہیں کہ حضرت مقاتل بن حیان نے ارشاد فرمایا : آسمان والوں کی زبان عربی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی : حم۔ قسم ہے کتاب کی جو ہر بات کھول کر بیان کرنے والی ہے، ہم نے ہی اسے بنایا قرآن عربی تاکہ تم سمجھو۔ اور یہ قرآن لوح محفوظ میں ہمارے پاس بہت بلند مرتبہ ہے اور حکمت سے بھرا ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 31918
٣١٩١٨ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن مورق قال: قال عمر: تعلموا اللحن والفرائض، فإنه من دينكم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مورّق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : قرآن کا صحیح تلفظ اور فرائض سیکھو۔ پس یہ بھی تمہارے دین میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 31919
٣١٩١٩ - حدثنا مالك بن إسماعيل قال: حدثنا جعفر الأحمر عن مطرف عن سوادة بن الجعد عن أبي جعفر قال: من فقه الرجل (عرفانه) (١) (اللحن) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوادہ بن الجعد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر نے ارشاد فرمایا : آدمی کا غلطی کو پہچاننا اس کے فقیہ ہونے کی علامت ہے۔
حدیث نمبر: 31920
٣١٩٢٠ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن خليد العصري قال: لما قدم علينا سلمان أتيناه (ليستقرئنا) (١) القرآن، فقال: القرآن عربي فاستقرؤه رجلًا عربيًا، فاستقرأنا زيد بن صوحان فكان إذا أخطأ أخذ عليه سلمان، فإذا أصاب قال: أيم اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلید العصری فرماتے ہیں کہ جب حضرت سلمان ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ وہ ہمیں قرآن پڑھائیں۔ پس وہ فرمانے لگے : قرآن تو عربی زبان میں ہے۔ پس تم کسی عربی آدمی سے پڑھو۔ تو ہم نے حضرت زید بن صوحان سے پڑھوایا۔ پس جب بھی وہ غلط پڑھتے تو حضرت سلمان ان کو پکڑ لیتے۔ اور جب وہ درست پڑھتے تو فرماتے : اللہ کی قسم ایسے ہی ہے۔